پابندی لگ جائے تو بہتر ہے

36

مہر النساء
کچھ بچے کھانے پینے کے معاملے میں بہت نخریلے ہوتے ہیں، مگر کچھ کی خوراک ضرورت سے زیادہ بھی ہوتی ہے۔ مائوں کی چاہت لٹانے والی وارفتگی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ میٹھا ہو یا روغنی، پروا نہیں کرتیں اور بے دھڑک کھلائے چلی جاتی ہیں۔ مشرقی گھرانوں میں اوسط درجے کی تعلیم یافتہ مائیں محبت کے اس اظہار میں بھول جاتی ہیں کہ موٹاپا، ذیابیطس اور دل کے امراض کا شکار ہونے سے کہیں بہتر ہے کہ ان بچوں کو متوازن خوراک کا عادی بنایا جائے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہر سال بچوں کا مکمل طبی معائنہ ہونا چاہیے۔ ماہرینِ غذائیت اسی وقت جائزہ لے کر بتادیتے ہیں کہ آپ کے بچے کا وزن اپنی طبعی اور ذہنی عمر کے تناسب سے کس قدر زیادہ یا کم ہے۔
فربہ بچوں کے کیسے کھانوں پر پابندی عائد کی جانی چاہیے؟
تمام پروسیسڈ اسنیکس جنہیں نمکیات اور مختلف اضافی حیاتین کے ساتھ بنایا جاتا ہے۔ لہٰذا کوشش کی جانی چاہیے کہ ایسے تیار اور خوش نما پیکنگ میں محفوظ پنیر خریدتے وقت اجزائے ترکیبی ضرور پڑھ لیے جائیں۔ معروف شیف مینڈی فرانسس (جس نے بچوں کی صحت بخش غذائوں کے عنوان سے کتاب تصنیف کی تھی) نے یہ مشورہ دیا ہے کہ ’’تیار کھانوں میں سوائے سہولت کے، کوئی اور خرابی اگر ہے تو کھانے کی طلب میں اضافہ، اس کے سوا کچھ نہیں۔ اگر آپ کا بچہ معمول سے زیادہ وزن رکھتا ہے تو یہ غذا اس کے لیے مفید نہیں۔ پنیر سے بنی ہوئی خوراک کے بجائے سبزیوں، دلیوں اور ڈبل روٹی سے رغبت دلائی جائے۔‘‘
نوکولڈ ڈرنکس پلیز…
تحقیق بتاتی ہے کہ 40 فیصد بچوں کو دانتوں کے امراض تیار مشروبات پینے سے لاحق ہونے لگے ہیں۔ برٹش ڈینٹل فائونڈیشن کے ماہرین بچوں کی توجہ تیار مشروبات سے ہٹانے کے لیے مشورہ دیتے ہیں کہ ایسے بچوں کو مشاورت سے سمجھایا جائے کہ سادہ پانی ہی ان کے لیے بہتر ہے۔
دبلے پتلے بچوں کے لیے بھی چیونگم کا استعمال ممنوع ہونا چاہیے
’’ونڈر فوڈز فار کڈز‘‘ بچوں کی غذا سے متعلق شائع ہونے والی ایک تصنیف میں ماہرِ غذائیت نتالی سیوونا نے رقم کیا ہے کہ ’’چیونگم صرف آپ کے منہ کی مہک کو تبدیل کرتی ہے، باقی اس میں شکر کا جز سوائے معدہ بھرنے کے کچھ غذائیت نہیں رکھتا۔ چیونگم آپ کی بھوک کے اعلان کو بے اثر کردیتی ہے۔ شکر کی مقدار سے معدہ کچھ دیر بھرا رہتا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ بہت کچھ کھایا پیا ہے۔
اگر بچوں کے بسکٹس بھی بند کرادیے جائیں تو…
آج کل بازار میں میٹھے اور چاکلیٹ کے ذائقوں سے بنے بسکٹوں کے شیلف بھرے نظر آتے ہیں۔ آپ طلب کرکے تھک جائیں اور ذائقے ختم نہ ہوں۔ ان سب کے استعمال پر پابندی اس صورت میں لگنی چاہیے جب آپ کے بچے کا وزن حیرت انگیز طور پر قابو سے باہر جانے لگے اور وہ کھانے کے وقت بھی بسکٹ طلب کرے۔
فربہ بچے کے لیے لازم ہے کہ وہ گندم اور جَو کے بنے ہوئے بسکٹ کھائے جس میں نمک اور شکر کی مقدار بہت کم ہو۔ غذائیت اور توانائی کے حصول کے لیے بسکٹ کھانا دل بہلانے والا معاملہ ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

خوشخبری

روزنامہ جسارت خواتین کے لیے انٹرن شپ کا آغاز کررہا ہے، جو خواتین دلچسپی رکھتی ہوں وہ اپنا سی وی مندرجہ ذیل آئی ڈی پر بھیج سکتی ہیں۔ تعلیمی قابلیت گریجویشن اور لکھنے کا ذوق رکھنا لازم ہے۔
ای میل: jasaratwomenpage@gmail.com
فون: 0300-2658405

حصہ