سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

104

مولانا سید ابوالاعلیٰ جیسی ہستیاں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ شاید مولانا کو دیکھ کر ہی علامہ محمد اقبالؒ نے کہا تھا کہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
مجھ جیسا فرد جو اپنے ہی متعلق اچھی طرح واقف نہ ہو وہ مولانا جیسی کسی بھی شخصیت کے متعلق جاننے کا کیا دعویٰ کر سکتا ہے۔ بہت چاہا کہ ایسی عظیم المرتبت فرد کے لیے چند سطور تحریر کروں لیکن عملی کم مائیگی مانع رہی۔ ایک دو بار قلم بھی اٹھایا اور چند سطور لکھنے میں کامیاب بھی ہو گیا لیکن جب ان کو درستگی کے لیے ودبارہ پڑھا تو درست کرتے کرتے ساری تحریر ہی کو بدلنا پڑگیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ نہ تو میری معلومات ہی کافی ہیں اور نہ ہی میری سوچ وہاں تک پہنچ پائی ہے کہ میں اپنی تحریر کو آپ کی شخصیت کا پاسنگ بنا سکوں لیکن دل نے ایک تہیہ کیا ہوا تھا کہ ایک دن ایسا ضرور کرکے رہوں گا۔ عزم اپنی جگہ لیکن غم روز گار ہر غم پر حاوی ہو جایا کرتا ہے اور یہی کچھ میرے ساتھ ہوا۔ میں اس رب کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے حلال رزق کا ایسا موقع فراہم کیا کہ 33 برس تک مجھے سکھ ہی سکھ ملے اگر کوئی دکھ ملا تو وہ یہ ملا کہ مجھے ایسا ماحول کبھی نہ مل سکا جہاں میں اللہ کی عنایت کردہ صلاحیتوں کو اجاگر کر سکوں، کچھ لکھ سکوں اور بھرپور انداز میں کتابوں کا مطالعہ کر سکوں۔ لکھنے لکھانے اور پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ گوکہ مکمل منطقطع تو نہیں ہوا لیکن اتنا بھی نہ مل سکا جس میں مجھے مکمل یکسوئی حاصل ہو سکتی۔ کبھی کبھی کسی موضوع پر لکھ بھی لیا لیکن جس کو تحقیق کہتے ہیں ایسا کام کبھی نہ ہو سکاالبتہ اشعار ضرور موضوع ہوتے رہے جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
مطالعے کے فقدان نے کبھی اس بات کی اجازت ہی نہیں دی کہ مولانا پر کوئی مناسب تحریر موزوں ہو سکے۔ اب نیٹ پر اچھا خاصہ مواد دیکھ کر اس بات کی خوشی ہوتی ہے کہ اس ناگفتہ بہ حالات میں بھی لوگ دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور پڑھنے کے اور معلومات کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ ایک وہ فرد جو اپنی زندگی کے ایک بہت بڑے حصے میں کچھ مطالعہ نہ کر سکا، اس کو بھی یہ موقعہ نصیب ہوا کہ وہ اپنی معلومات میں کماحقہ‘ اضافہ کر سکے۔ میں بھی اسی جدید دور کے فراہم کردہ موقع سے فائدہ اٹھا کر مولانا کے سلسلے میں کچھ معلومات اکھٹی کرنے میں کامیاب ہوا ہوں اور اب مجھے یہ لگتا ہے کہ مولانا کے متعلق میں لوگوں تک کچھ حقائق پہنچانے میں کامیاب ضرور ہو جاؤنگا۔
ابتدائی زندگی
سید ابوالاعلٰی مودودی 25ستمبر 1903 ء بمطابق 1321ھ میں اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباؤ اجداد میں ایک مشہور بزرگ خواجہ قطب الدین مودود چشتی گذرے تھے جو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے شیخ الشیوخ تھے۔ سید مودودی کا خاندان انہی خواجہ مودود چشتی کے نام سے منسوب ہوکر ہی مودودی کہلاتا ہے۔
آپ کا گھرانہ ایک مکمل مذہبی گھرانہ تھا۔ مولانا ابتدائی دور کے پورے گیارہ برس اپنے والد کی نگرانی میں رہے اور گھر پر تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں مدرسہ فرقانیہ اورنگ آباد کی آٹھویں جماعت میں براہِ راست داخل کیا گیا۔
1914ء میں انہوں نے مولوی کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئے۔ اس وقت ان کے والدین اورنگ آباد سے حیدرآباد منتقل ہو گئے جہاں سید مودودی کو مولوی عالم کی جماعت میں داخل کرایا گیا۔ اس زمانے میں دارالعلوم کے صدر مولانا حمید الدین فراہی تھے جو مولانا امین احسن اصلاحی کے بھی استاد تھے۔ تاہم والد کے انتقال کے باعث وہ دارالعلوم میں صرف چھ ماہ ہی تعلیم حاصل کر سکے۔
بطور صحافی
کیونکہ سید مودودی لکھنے کی خداداد قابلیت کے حامل تھے اس لیے انہوں نے قلم کے ذریعے اپنے خیالات کو لوگوں تک پہنچانے اور اسی کو ذریعہ معاش بنانے کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ ایک صحافی کی حیثیت سے انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور متعدد اخبارات میں مدیر کی حیثیت سے کام کیا جن میں اخبار “مدینہ” بجنور (اتر پردیش)، “تاج” جبل پور اور جمعیت علمائے ہند کا روزنامہ “الجمعیت” دہلی ،خصوصی طور پر شامل ہیں۔مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بڑی صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ وہ ایک حق گو ، بیباک اورمجاہد انسان تھے اسے لیے وہ اس بات کو گوارہ نہ کر سکے کہ وہ کسی ایسے گروہ یا جماعت کاساتھ دیں جو کسی ایسی جماعت کے لیے ہمدردیاں رکھتی ہو جس کا دین دھرم ہی بتوں کی پوجاپاٹ ہو ۔ جب آپ نے یہ دیکھا کہ مسلمانوں کی یہ جماعت کانگریس سے اشتراک کرنے کے لیے تیار ہو رہی ہے تو یہ مولانا کی طبعیت کو گوارہ نہیں ہوا اس لیے کہ ایک جانب کانگریس میں ہندو غالب تھے اور دوسری جانب وہ فرنگیوں کے زیر تسلط تھی اور انھی کی پالیسیوں پر عمل پیرا تھی۔ چنانچہ 1925ء میں جب جمعیت علمائے ہند نے کانگریس کے ساتھ اشتراک کا فیصلہ کیا تو سید مودودی نے بطور احتجاج اخبار’’الجمعیت‘‘ کی ادارت چھوڑ دی۔
پہلی تصنیف
جس زمانے میں سید مودودی”الجمعیت “کے مدیر تھے۔ ایک شخص سوامی شردھانند نے شدھی کی تحریک شروع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔ چونکہ اس تحریک کی بنیاد نفرت، دشمنی اور تعصب پر تھی اور اس نے اپنی کتاب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کی جس پر کسی مسلمان نے غیرت ایمانی میں آکر سوامی شردھانند کو قتل کردیا۔ اس پر پورے ہندوستان میں ایک شور برپا ہوگیا۔ ہندو دین اسلام پر حملے کرنے لگے اور علانیہ یہ کہا جانے لگا کہ اسلام تلوار اور تشدد کا مذہب ہے۔ انہی دنوں مولانا محمد علی جوہر نے جامع مسجد دہلی میں تقریر کی جس میں بڑی دردمندی کے ساتھ انہوں نے اس ضرورت کا اظہار کیا کہ کاش کوئی شخص اسلام کے مسئلہ جہاد کی پوری وضاحت کرے تاکہ اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں آج پھیلائی جارہی ہیں وہ ختم ہوجائیں۔ شاید یہ تمنا اس لمحہ کی گئی جب قبولیت کا وقت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تمنا کو فوراً قبول فرمایا اورمونا پر خصوصی نظر کرم کی۔ آپ نے الجہاد فی الاسلام کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس وقت آپ کی عمر صرف 24 برس تھی۔اس کتاب کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا: “اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے”یہ کتاب جس کسی کے بھی زیر مطالعہ رہی اس کے دل میں یہ خواہش ضرور پیدا ہوتی کہ وہ کتاب کے مصنف کو ضرور دیکھے چنانچہ دور دور سے لوگ اپنے دل میں اس خواہش کو لیے آپ کے پاس آتے لیکن جب اپنے سامنے ایک نوجوان کو بیٹھا دیکھتے تو حیران رہ جاتے اس لیے کہ یہ کتاب اتنی مدلل اور تحقیق شدہ تھی کہ ہر فرد یہ خیال کرتا تھا کہ اس کا مصنف کوئی کہنہ مشق لکھا ری ہوگا۔ کسی کے گمان میں بھی یہ بات نہیں آتی تھی کہ ایک نو عمر بھی کسی مشاق انسان کی طرح اتنی گہرائی کے ساتھ کوئی کتاب لکھ سکتا ہے۔
ترجمان القرآن
لکھنے والے کا ہاتھ رک جائے اور اس کی سوچ کے پر کٹ جائیں یہ بات کسی طور ممکن نہیں چنانچہ”الجمعیت” کی ادارت اور اخبار نویسی چھوڑکر سید مودودی حیدرآباد دکن چلے گئے۔ جہاں اپنے قیام کے زمانے میں انہوں نے مختلف کتابیں لکھیں اور 1932ء میں حیدرآباد سے رسالہ”ترجمان القرآن” جاری کیا۔ 1935ء میں آپ نے “پردہ” کے نام سے اسلامی پردے کی حمایت میں ایک کتاب تحریر کی جس کا مقصد یورپ سے مرعوب ہوکر اسلامی پردے پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دینا تھا۔ اس کے علاوہ “تنقیحات” اورتفہیمات” کے مضامین لکھے جن کے ذریعے انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں میں سے فرنگی تہذیب کی مرعوبیت ختم کردی۔
اسلامی قومیت
1938ء میں کانگریس کی سیاسی تحریک اس قدر زور پکڑ گئی کہ بہت سے مسلمان اور خود علمائے کرام کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ مل گئی۔ کانگریس کے اس نظریہ کو “متحدہ قومیت” یا “ایک قومی نظریہ” کانام دیا جاتا تھا۔ سید مودودی نے اس نظریے کے خلاف بہت سے مضامین لکھے جو کتابوں کی صورت میں “مسئلہ قومیت” اور ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش” حصہ اول و دوم کے ناموں سے شائع ہوئے۔ مولانا مودودی صاحب پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ قیام پاکستان کے خلاف تھے۔ اپنے ایک کتابچے میں لکھتے ہیں کہ:۔ “پس جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ مسلم اکثریت کے علاقے ہندو اکثریت کے تسلط سے آزاد ہو جائیں۔۔۔ اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہوگا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہوگی” حالانکہ ان کی تحریروں کو اگر کاٹ چھانٹ کر پیش کرنے کے بجائے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ اور پورے جملے کو پڑھا جائے تو اصل صورتحال واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ چونکہ تحریک پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ پر تھی۔ اس تصور کو پیش کرنے، اسے نکھارنے اور فروغ دینے میں سید مودودی کی تحریرات کا حصہ تھا، اسے اس شخص کی زبان سے سنیے جو محمد علی جناح اور خان لیاقت علی خان کا دست ِ راست تھا۔۔۔یعنی آل انڈیا مسلم لیگ کے جائنٹ سیکریٹری، اس کی مجلس ِ عمل اور مرکزی پارلیمانی بورڈ کے سیکریٹری ظفر احمد انصاری لکھتے ہیں۔”اس موضوع پر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے مسئلہ قومیت کے عنوان سے ایک سلسلہ مضامین لکھا جو اپنے دلائل کی محکم ہونے، زور ِ استدلال اور زور ِ بیان کے باعث مسلمانوں میں بہت مقبول ہوا اور جس کا چرچا بہت تھوڑے عرصے میں اور بڑی تیزی کے ساتھ مسلمانوں میں ہوگیا۔ اس اہم بحث کی ضرب متحدہ قومیت کے نظریہ پر پڑی اور مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کا احساس بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔ قومیت کے مسئلہ پر یہ بحث محض ایک نظری بحث نہ تھی بلکہ اس کی ضرب کانگریس اور جمعیت علمائے ہند کے پورے موقف پر پڑتی تھی۔ ہندوؤں کی سب سے خطرناک چال یہی تھی کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کی جدا گانہ قومیت کا احساس کسی طرح ختم کرکے ان کے ملی وجود کی جڑیں کھوکھلی کردی جائیں۔ خود مسلم لیگ نے اس بات کی کوشش کی کہ اس بحث کا مذہبی پہلو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا جائے تاکہ عوام کانگریس کے کھیل کو سمجھ سکیں اور اپنے دین و ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوں”۔
مسلم لیگی رہنما مزید لکھتے ہیں۔”دراصل پاکستان کی قرار داد سے پہلے ہی مختلف گوشوں سے حکومت الہٰیہ، مسلم ہندوستان اور خلافت ربانی‘وغیرہ کی آوازیں اٹھنے لگی تھیں۔ علامہ اقبال نے ایک مسلم ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا۔۔۔ مودودی صاحب کے لٹریچر نے حکومت الہٰیہ کی آواز بلند کی تھی۔ چوہدری فضل حق نے اسلامی حکومت کا نعرہ بلند کیا تھا۔ مولانا آزاد سبحانی نے خلافتِ ربانی کا تصور پیش کیا تھا۔ جگہ جگہ سے اس آواز کا اٹھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان اپنے مخصوص طرز فکر کی حکومت قائم کرنے کی ضرورت پوری شدت سے محسوس کررہے تھے اور حالات کے تقاضے کے طور پر ان کے عزائمِ خفتہ ابھر کر سامنے آرہے تھے”۔
(جاری ہے)

حصہ