بے حساب

55

صبیحہ اقبال
انابیہ نے اپنے وارڈروب کا ناقدانہ جائزہ لیا، پورے چوبیس نئے جوڑے، میچنگ کی جوتیاں، جیولری، پرفیومز، پرس سب کچھ درست، اس کے حسبِ منشا۔ بس اب ایک عبایا اور رہتا ہے تو وہ بھی لے لوں گی، آج کل سبھی لڑکیاں مسجد جاتے ہوئے عبایا پہنتی ہیں اور اندر جاکر اتارکر نماز پڑھتی ہیں۔ گرمی بھی تو ہوجاتی ہے اتنے بڑے مجمع میں، اگرچہ اے سی بھی چل رہا ہوتا ہے، اور شاید اپنے اپنے لباس دکھانے بھی مقصود ہوتے ہوں… مجھے کیا میرے روز کے نئے جوڑے سے لوگ جلیں یا رشک کریں۔ مجھے یاد ہے نانی اماں کہتی تھیں کہ ماہِ رمضان میں جو کچھ بھی نیا استعمال کرو اُس کا حساب نہیں دینا پڑتا، تو کیوں ناں سال بھر کے جوڑے اور ضروری سامان رمضان ہی میں استعمال کرلیا جائے۔ اس نے سرشاری میں چٹکی بجائی، گویا وہ بے حساب ہی تو ہوگئی ہو۔
بیگم فیاض بھی کوئی مہینہ بھر سے گھر کو خوب صورت اور آرام دہ بنانے میں ہمہ تن مصروف… محض دو، تین دن تو رہ گئے ہیں ماہِ مبارک کے آنے میں۔ انہوں نے ڈرائنگ روم اور کامن روم کی سیٹنگ یکسر تبدیل کرکے اسے نیا لُک دیا تھا۔ بھاری پردے، نئے ڈیکوریشن پیس، قالین کی دھلائی اور فرنیچر کی پالش… وہ واقعی اچھی خاصی تھک گئی تھیں، لیکن یہ سب کچھ ضروری بھی تو تھا ناں کہ ماہِ مبارک کی آمد آمد تھی۔ اور ابھی تو کچن کے لیے نئی کراکری لینا باقی رہتی تھی۔ یہ ان کا ریکارڈ تھا کہ ہر سال رمضان میں ایک افطار پارٹی ضرور کرتیں اور اس میں نئی کراکری استعمال کرتی تھیں۔ آخر کو اسے بے حساب بھی تو کرانا ہوتا تھا، لہٰذا اس نئی قیمتی کراکری کے لیے فیاض صاحب سے رقم لینے کا دردِ سر باقی تھا۔ ہمت تو کرنی ہی پڑے گی۔ نہ تو اپنا بائیس سالہ ریکارڈ توڑنا تھا اور نہ ہی معاشرے اور خاندان میں اپنی ناک کٹوانی تھی۔
’’سنیے فیاض! مجھے کچھ رقم درکار ہے‘‘۔ انہوں نے ناشتے کی میز پر موقع دیکھ کر شوہر کو متوجہ کیا۔
’’ارے بھئی! ابھی تو دی تھی تمہیں رمضان کے نام پر ایک معقول رقم، کیا وہ سب خرچ کردی؟‘‘ فیاض صاحب کو حیرت ہوئی۔
’’تو آپ خود دیکھیں ناں کہ ڈرائنگ روم اور کامن روم میں، مَیں نے کتنا ڈھیر سا کام کرایا ہے۔ آخر کو رمضان آنے کو ہے اور مجھے ابھی کچن کراکری اور گروسری کا بھی بندوسبت کرنا ہے‘‘۔ بیگم فیاض نے وضاحت دی۔
’’بھئی رمضان کا ماہِ مبارک آخر کس لیے آتا ہے، کیا اس لیے آتا ہے یہ ماہِ مبارک کہ ہم…‘‘
’’میں تو ہمیشہ ہی سے ہر رمضان نئی کراکری لے کر آتی ہوں تاکہ بے حساب ہوجائے‘‘۔ انہوں نے فیاض صاحب کی بات کاٹ دی۔
’’اماں بی تو محض کپڑوں کے چند جوڑوں کی ہی بے حسابی کی قائل تھیں لیکن آپ تو تعیشات کو بھی بے حساب کرانا چاہتی ہیں‘‘۔ فیاض صاحب ان کی حماقت پر ہنس دیے۔‘‘
’’مجھے کچھ نہیں پتا…‘‘ وہ جزبز ہوئیں۔
’’نہیں پتا تو پتا کرلو رمضان کس لیے آتا ہے، مقصود کیا ہے؟‘‘
’’تو کیا گھر کی صفائی ستھرائی، آرائش سب غلط ہے؟‘‘
’’میں نے کب کہا؟ لیکن اسے رمضان کے مقدس مہینے کے ساتھ نتھی کیوں کرتی ہو؟‘‘ وہ سمجھانے والے انداز میں بولے۔
’’جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے وہی ہوگا اب بھی‘‘۔ وہ بے باکی سے جارحانہ انداز میں بولیں۔
فیاض صاحب جانتے تھے نادان بات کو سمجھنے کے بجائے الجھتے ہیں، لہٰذا انہوں نے رمضان کی تیاری کے نام پر ایک معقول رقم انہیں تھمائی اور آمدِ رمضان کے مقاصد کو دل میں دہراتے دفتر کی راہ لی۔ ہمیں کیا ہوگیا ہے، ہم اصل نیکی کو سمجھنے سے بھی کتراتے ہیں اور فضولیات کی طرف تواتر سے رغبت پالتے ہیں۔
آج انابیہ اپنی تمام تیاری کو آخری ٹچ دے رہی تھی۔ کپڑوں کو دنوں کے حساب سے ترتیب دے رہی تھی۔ جمعۃ المبارک کے لیے یہ چاروں جوڑے موزوں رہیں گے کیونکہ وہ عیدالمومنین ہے ناں! اس دن ہمیں بہتر سے بہتر کپڑے پہننے چاہئیں۔ وہ اپنے انتخاب پر مطمئن ہوگئی۔
بیگم فیاض باورچی خانے کی الماریوں سے پرانے برتن ہٹاکر نئے برتن رکھوا رہی تھیں۔
’’ماما میں جائوں؟‘‘ چھوٹی بیٹی روحابہ نے ماں کو مخاطب کیا۔
’’تم اتنی شدید گرمی میں باہر جائو گی؟‘‘ بیگم فیاض متعجب ہوئیں۔
’’جی ماما آج کا لیکچر بہت اہم ہے۔‘‘
’’لیکن میری اطلاع کے مطابق تو یونیورسٹی میں تمہارے ڈپارٹمنٹ کی کلاسز آف ہوچکی ہیں، امتحانات کی تیاری کے لیے آپ کو فری کردیا گیا ہے!‘‘
اپنے کمرے سے آتی انابیہ نے آگے آکر روحابہ کو عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
’’ہاں کلاسز تو آف ہوچکی ہیں لیکن وہ جو رمضان آرہے ہیں ناں ان کے استقبال کے لیے ہم نے ایک پروگرام ترتیب دیا تاکہ رمضان کو بہتر انداز میں گزارا جا سکے اور بہتر نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ تم بھی ساتھ چلو۔‘‘ روحابہ نے انابیہ کو بھی دعوت دی۔
’’نہیں بھئی مجھے تو آج بہت کام ہے، اپنی وارڈروب ترتیب دینی ہے کہ رمضان میں تراویح پڑھنے جائوں تو سلیقے اور ترتیب سے کپڑے نکال کر پہنوں۔ مزا آتا ہے جب ہم تراویح پڑھنے مسجد جاتے ہیں۔ مسجد کا ٹھنڈا اور پُرسکون ماحول اور امام صاحب کی خوب صورت تلاوت… دل کرتا ہے بس سنتے ہی جائو۔‘‘
’’ہوں…‘‘ ایک معنی خیز مسکراہٹ روحابہ کے ہونٹوں پر چلی آئی۔
…٭…
’’باجی میں تو اسے استری کررہی تھی، نہ جانے کیوں جل گئی، استری تو ہلکی ہی تھی‘‘۔ نگہت ہاتھ میں انابیہ کی قمیص اٹھائے اُس کے سامنے سر جھکائے منمنا رہی تھی۔
’’ارے نگہت کی بچی تُو نے یہ کیا کردیا! میرے اتنے قیمتی سوٹ کو اپنی لاپروائی سے جلا ڈالا‘‘۔ انابیہ نے نگہت کی چوٹی اس زور سے کھینچی کہ وہ بے چاری بلبلا اٹھی۔
’’باجی معاف کردیں‘‘۔ وہ گڑگڑائی۔
’’کیسے معاف کردوں؟ میرا اتنا قیمتی اور پسندیدہ سوٹ اور پھر میری ساری سیٹنگ آئوٹ کردی تم نے‘‘۔ انابیہ نے دو تھپڑ کس کے نگہت کے گالوں پر جڑ دیے، تو بے آواز روتی ہوئی نگہت کی چیخ اس کے گلے سے آزاد ہوگئی۔
’’کیا ہوا بھئی، کیا ہوا؟‘‘ راہداری سے گزرتے فیاض صاحب بیٹیوں کے کمرے میں در آئے۔
’’وہ بابا! دیکھیں نگہت نے میری کتنی قیمتی اور خوب صورت قمیص جلا ڈالی‘‘۔ انابیہ نے ہاتھ میں پکڑی قمیص باپ کی نظروں کے سامنے کردی۔
’’بیٹا جل گئی ہوگی، اس نے خود سے تو نہیں جلائی ہوگی ناں؟‘‘
’’لیکن بابا اب میں مسجد کیا پہن کر جائوں گی؟‘‘ کپڑوں کے کریز میں مبتلا انابیہ نے اپنی فکر ظاہر کی۔
’’ارے بھئی الماریاں بھری پڑی ہیں، کوئی بھی پہن جائو۔ اور جو پہنی ہوئی ہو یہ کیا برے ہیں! اچھے تو ہیں۔‘‘
’’اوہ بابا آپ بھی ناں بس… پچھلے سال کا پرنٹ ہے، یہ پہن کرجائوں؟‘‘
’’ہاں تو کیا حرج ہے اس میں؟‘‘
’’نہیں بابا، میں اتنی گئی گزری نہیں کہ پچھلے سال کا پرنٹ پہن کر سب کے سامنے جائوں۔‘‘
’’مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جا رہی ہو ناں، اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو دیکھتے ہیں، پرنٹوں کو نہیں۔‘‘
’’لیکن پھر بھی دل نہیں مانتا۔‘‘
’’اچھا یہ بتائو تم نے آج روزہ رکھا تھا…‘‘
’’جی بابا!‘‘
’’تو بیٹا روزہ تو تزکیۂ نفس یعنی اپنی خواہشات کو کنٹرول کرنے کا درس دیتا ہے۔‘‘
’’کنٹرول… کیا مقصد بابا…؟‘‘
’’یعنی اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع رکھنا۔ اس کو اس طرح سمجھو کہ بعض اوقات ہمیں بھوک پیاس ہونے کے باوجود سحری کا وقت ختم ہوجانے پر کھانا پینا چھوڑ دینا ہوتا ہے، کیوں؟‘‘ فیاض صاحب نے بیٹی کو سوچنے کی طرف مائل کیا۔ ’’اسی لیے ناں کہ اللہ کی تابعداری میں ہم ایسا کررہے ہوتے ہیں۔‘‘
’’تو بابا وہ تو اللہ کا حکم ہوتا ہے کہ اب کھانا پینا غروبِ آفتاب تک بند ہے۔‘‘
’’ہاں ہاں بیٹا، بالکل اسی طرح روزہ رکھ کر اللہ کے احکامات کی بجاآوری اللہ کے حکم کی فرماں برداری ہی تو ہے۔‘‘
’’جی بابا…‘‘ انابیہ باپ کی بات بہت غور سے سن رہی تھی۔
’’تو پھر بیٹا اپنے زیرِدست لوگوں سے نرمی کا برتائو بھی تو اللہ ہی کا حکم ہے ناں۔‘‘
’’جی جی بابا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے۔‘‘
’’ہاں تو پھر ہم روزے تو پابندی سے رکھیں لیکن اس روزے کے ذریعے اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کی جو غرض ہے اسے ترک کردیں تو پھر بھوکے پیاسے رہنے کا فائدہ؟ جس مقصد اور تربیت کے لیے روزہ رکھوایا جارہا ہے وہ فوت ہوجائے تو اللہ کو ہمارے بھوکے پیاسے رہنے سے کوئی غرض نہیں ہے۔‘‘
’’تو کیا بابا ہم روزے میں کسی پر غصہ بھی نہیں کرسکتے، چاہے اس نے ہمارا کتنا ہی نقصان کردیا ہو؟‘‘ انابیہ ابھی تک اپنی جلی ہوئی قمیص نہیں بھولی تھی۔
’’قرآن نے روزے کا مقصود تقویٰ کا حصول بتایا ہے، جس کے معنی ’’بچنے‘‘ کے ہیں۔‘‘
’’کس چیز سے بچنا بابا؟‘‘
’’دیکھو بیٹا جس طرح ہم دھوپ سے بچتے ہیں تو چھائوں میں ہوتے ہیں، اندھیروں سے بچتے ہیں تو روشنی میں ہوتے ہیں، اسی طرح جب ہم برائیوں سے بچتے ہیں تو بھلائیوں کی طرف سفر کررہے ہوتے ہیں۔ تمہیں علم ہوگا کہ سختی و غصہ اللہ کو پسند نہیں، اگر ہم اس سے بچیں گے تو لازماً عفو و درگزر کی چھتری تلے آئیں گے۔‘‘
’’جی بابا! بالکل ایسا ہی ہے۔‘‘
’’اب تم بتائو یہ جو نگہت کے اوپر تم نے غصہ کیا تو کیا تمہیں آج کے روزے سے اس کا مقصد حاصل ہوا؟‘‘
انابیہ نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
’’چلو بھئی، جو ہوا سو ہوا، ہمیں اب آگے کی فکر کرنی چاہیے‘‘۔ روحابہ نے آگے بڑھ کر بہن کو حوصلہ دیا، ’’دیکھو ماہِ رمضان ہر سال اسی لیے تو آتا ہے کہ بندہ بشر ہونے کے ناتے ہم سے جو گناہ سرزد ہوگئے ہوں، اللہ سے رحمت و مغففرت کے اس ماہِ مبارک میں اپنے گناہوں پر شرمند ہوکر معافی طلب کرلیں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد بھی کرلیں۔‘‘
’’جی جی…‘‘ انابیہ جیسے کسی محویت کے عالم میں تھی۔ اس قسم کی گفتگو حالانکہ فیاض صاحب پہلے بھی کرتے رہے تھے لیکن شاید یہ روحابہ کی دعائوں اور تمنائوں کی قبولیت تھی کہ آج انابیہ کے ذہن و دل پر پڑی گرد یوں جھڑی تھی جیسے وہاں کوئی گرد پڑی ہی نہیں تھی۔ نماز سے پہلے وہ نگہت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے اس سے اپنے کیے پر معافی مانگ رہی تھی، کیونکہ اسے اپنے روزوں سے اپنے لیے تقویٰ کشید کرنا تھا۔

حصہ