ہر زمانے میں ادبی منظر نامہ تبدیل ہوتا رہتا ہے‘ پروفیسر جاذب قریشی

42

ڈاکٹر نثار احمد نثار
راقم الحروف اپنام کالم لکھ رہا تھا کہ پروفیسر جاذب قریشی میرے دفتر میں تشریف لائے اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہر زمانے میں ادبی منظر نامہ تبدیل ہوتا رہتا ہے‘ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ لفظیات بدلتی رہتی ہیں‘ نئے نئے استعارے وضع کیے جاتے ہیں ‘ نئی ترکیب‘ نئے ڈکشن سامنے آتے ہیں۔ ہر زمانے کے معاشی‘ سماجی اور سیاسی تقاضے الگ الگ ہوتے ہیں ادب چونکہ زندگی سے جڑا ہوا ہے لہٰذا ہر شاعر اپنا عہد لکھتا ہے جو شعر زمینی حقائق نظر انداز کرتے ہیں وہ پسِ پردہ چلے جاتے ہیں آج کے قارئین چاہتے ہیں کہ آپ انہیں حالاتِ حاضرہ سے باخبر رکھیں اور آنے والے زمانوں کے مسائل سے بھی آگاہ کریں۔ آج کا زمانہ گل و بلبل کے افسانوں کا نہیں ہے اب غزل میں جدیدیت ہونی چاہیے اشعار میں کوئی پیغام ہونا چاہیے۔ ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو بے شمار وموضوعات دیتے ہیںاساتذہ کا کلام پڑھنے سے بھی آپ کی ذہنی نشوونما ہوتی ہے۔ میرے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ادبی تنظیمیں اردو ادب کے فروغ میں اہمیت کی حامل ہیں۔ کراچی میں اس وقت کئی ادبی انجمنیں ہر ماہ مشاعرے و مذاکرے ترتیب دے رہی ہیں جن میں سامعین بھی موجود ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ادب نواز شخصیات موجود ہیں۔ راقم الحروف اپنے قارئین کو یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہے کہ جاذب قریشی کے لیے امریکا کی کئی بڑی ادبی تنظیموں نے امریکا کے 60 سے زیادہ شہروں میں انہیں مدعو کیا گیا ہر مشاعرے میں ان کو بھرپور داد ملی نیز شمالی امریکا کی ادبی تنظیم اردو رائٹرز سوسائٹی نے لاس اینجلس کے ایک بڑے ہوٹل میں جشنِ جاذب قریشی کا اہتمام کیا جس کی صدارت پاکستان کے قونصلر جبار میمن نے کی جنہوں نے اپنے صدارتی تقریر میں کہا کہ جاذب قریشی کی ادبی خدمات 60 برسوں پر محیط ہیں وہ جدید علامتی شاعر اور ممتاز نقاد ہیں وہ ہندوستان‘ پاکستان‘ دبئی‘ ابوظہبی‘ بحرین‘ دوحہ‘ قطر‘ امریکا‘ برطانیہ اور کینیڈا کے ادبی حلقوں میں آسمانِ شعر و سخن کے تابندہ مہتاب ہیں انہوں نے نئی نسل کے شعرا کی حوصلہ افزائی کے لیے بالخصوص بہت کام کیا ہے۔ ممتاز شاعرہ آصفہ زیاطر نے کہا کہ جاذب قریشی کی شاعری حالات حاضرہ کا آئینہ ہے انہوں نے تیسری دنیا کے معاشرتی‘ سیاسی اور سماجی مسائل کی نوحہ گری کی ہے لیکن ان کی غزلیں عشق و محبت کا اظہار بھی ہیں ان کی شاعری جسم و روح کی فطری امیجزیز اور جدید لفظیات کے ساتھ زندگی کے مناظر پیش کرتی ہے مثلاً وہ کہتے ہیں:

وہ روشنی و رنگ و چہرہ نہیں رہا
پرچھائیں اُڑ رہی ہے پرندہ نہیں رہا
کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں
تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو
عداوتوں کا جنوں ہے تو ساتھ ہیں ہم تم
محبتوں کے سفر میں بچھڑ بھی سکتے ہیں

ممتاز شاعر عرفان مرتضیٰ نے جاذب قریشی کے بارے میں کہا کہ ان کے کلام میں کلاسیکیت‘ رومانیت‘ غم جاناں اور غم دوراں نظر آتا ہے وہ ادبی دنیا میں رول ماڈل ہیں انہوں نے ایک زمانہ دیکھا ہے وہ زندگی کی تلخیوں اور حادثاتِ زندگی سے گزرے ہیں وہ ہمیں مشکلاتِ زمانہ سے آگاہ کر رہے ہیں وہ اپنے عہد کے سچے اور کھرے قلم کار ہیں ان کی شاعری تروتازہ جذبوں اور توانائیوں سے عبارت ہے اس موقع پر صاحبِ صدر نے یہ اعلان بھی کیا کہ جاذب قریشی جب بھی شمالی امریکا آئیں تو مجھے ضرور اطلاع دیں میں ان کی پزیرائی کو حاضر ہوں اس تقریب میں اردو رائٹرز سوسائٹی کی جانب سے جاذب قریشی کو شیلڈ پیش کی گئی۔ صاحبِ اعزاز پروفیسر جاذب قریشی نے کہا کہ وہ آج کی تقریب کے منتظمین کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان کے اعزاز میں یہ تقریب سجائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی زندگی کا مقصد شعر و ادب کی ترویج و ترقی ہے اس سلسلے میں میری خدمات آپ سب کے سامنے ہیں میری ترقی کا سفر جاری ہے۔

حصہ