گھوڑا، ایک خوبصورت اور وفادار جانور

208

محمد جاوید بروہی
گھوڑا انسان کا دوست اور ایک وفادار جانور ہے عربی گھوڑا دنیا میں بہترین سمجھا جاتا ہے عربی گھوڑے تیز رفتاری اور خوبصورتی میں بہت مشہور ہیں یہ مختلف رنگ کے اور قد میں چھوٹے ہوتے ہیں یورپین گھوڑے عربی گھوڑوں سے تیز دوڑتے ہیں قدیم زمانے سے گھوڑا انسان کی بڑی خدمت کررہا ہے گھوڑا بوجھ اٹھانے اور سواری کے کام آتا ہے آج کل بوجھ اٹھانے اور سواری کے لیے کم استعمال ہوتا ہے مگر ہر دور میں گھوڑے کی بڑی اہمیت رہی ہے یہ ایک خوبصورت جانور ہے اس کے چالیس چانت ہوتے ہیں گھوڑا کینیڈا اور آذربائیجان کا قومی جانور ہے پالتو جانوروں میں سب سے ذہین جانور کتا پھر گھوڑا ہے اس کی اوسط عمر پچاس سال ہے گھوڑے سب سے زیادہ امریکہ، میکسیکو، چین برازیل اور ارجنٹائن میں پائے جاتے ہیں گھوڑا تقریباً پچیس دن گھائے بغیر زندہ رہ سکتا ہے ماضی میں سپہ گری کے لیے گھوڑے کو استعمال کیا جاتا رہا ہے گھوڑا اپنے جسم کے وزن سے پانچ گناہ زیادہ بوجھ اٹھا سکتا ہے یہ کھڑے کھڑے سو جاتا ہے کھیلوں میں بھی گھوڑوں کا استعمال کیا جاتا ہے مثلاً پولو، بزکشی اور گھڑ دوڑ، برطانیہ میں گھڑ دوڑ کو بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے جنوبی انگلستان کے گھوڑوں کی مشہور ریس ہے زمینی جانوروں میں سب سے بڑی آنکھ گھوڑے کی ہوتی ہے بجلی کی اکائی ہارس پاور گھوڑے کی طاقت سے ناپی جاتی ہے گھوڑا اگلی ٹانگوں سے کھڑا ہوتا ہے جبکہ گائے پچھلی ٹانگوں سے کھڑی ہوتی ہے گھوڑے کی آواز کو ہنہنانا کہتے ہیں گھوڑوں کے باندھنے کی جگہ کو اسطبل اور گھوڑً کی خدمت اور دیکھ بھال کرنے والے کو سائیس کہتے ہیں گھوڑوں پر بہت سارے گانے بھی بنائے گئے ہیں شعراء نے بھی اپنے اشعار میں لفظ گھوڑا استعمال کیا ہے۔ اس کی وفا داری پر کئی فلمیں بھی بنائی گئی ہیں محاوروں اور کہاوتوں میں بھی لفظ گھوڑا استعمال ہوا ہے مثلاً تمعل کے گھوڑے دوڑانا، گھوڑے بیچ کر سونا۔ گھوڑا ملا تو کوڑا بھی مل جائے گا، گھوڑا گھاس سے آشنائی کرے تو بھوکا مرے، گھوڑے کو لات اور آدمی کو بات وغیرہ۔

حصہ