کان سنتے ہیں ہم نہیں!

88

قاضی مظہر الدین طارق
واہ کیا بات ہے کہ ہم نہیں سنتے!
جو کان سنتے ہیں،ہم نہیں سنتے!
آواز ہمارے کانوں میں جاتی ضرور ہے لیکن،ہم وہ آواز سنتے ہی نہیں۔
اس کے لئے ہم کو کان کی ساخت اور کام کے بارے میں جاننا ہوگا،خَلاقِ اعلیٰ نے ہمیں قدرتِ ’سماعت‘ عطا کرنے کے لئے کیا کیا انتظامات سے نوازہ ہے۔
کان کے تین حصے ہیں،
ایک؛ بیرونی جو نظر آتا ہے،
دوسرا؛ درمیانی اور
تیسرا؛اندرونی۔
بیرونی کان کسی بھی قسم کے ’وائیبریشن‘ اِرتعاش کو سمیٹ کر کان کے اندرونی حصوں تک پہنچانا ہے۔
درمیانی کان میں آواز سب سے پہلے کان کے پردے سے ٹکراتی ہے اور پردے میں وہی اِرتعاش پیدا کرتی ہے جو اس آواز میں ہے،توجہ کریں یہ اِرتعاش ؛فی سیکنڈ ’وائیبریشن‘ہے ، یعنی کوئی بھی شے ایک سیکنڈ میں کتنی مرتبہ ہلتی ہے۔
اگر یہ پردے کا اِرتعاش دوسو مرتبہ فی سیکنڈ ہے تویہ آگے چند ہڈیوں میںاتنی ہی مرتبہ حرکت پیدا کرتا ہے،ان ہڈیوں کو ’اَوسیکلز‘ کہتے ہیں۔
درمیانی کان میں ہوا ہے، خالق نے اس درمیانی حصہ سے ایک نالی دی ہے جو ناک کے خلاء میںکھلتی ہے ،اسی وجہ سے دونوں طرف ہوا کا دبائو ایک جیسا ہوتاہے ،اگر نہ ہوتا توپردہ اور ہڈیاں آزادی سے حرکت نہیں کرسکتی تھیں۔
یہی اِرتعاش ایک بیضوی کھڑکی کے ذریعہ کان کے اندرونی حصے میں جاتا ہے،مگراس حصے میں ہوا نہیں بلکہ یہ ایک مائع بھرا ہوا ہے جس میں ہی یہ ارتعاش منتقل ہوتا ہے۔
سبحٰن اللہ !خالق نے ہم کو شور کے نقصان سے بچانے کے لئے یہاں بھی بیضوی کھڑکی کے نیچے ایک اور کھڑکی دی ہے جس پر بھی ایک پردہ لگا ہے جواِرتعاش کے دبائو کو برداشت کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہاں سے یہ اِتعاش ہڈی میں پیوست ایک آلے میں منتقل ہوتا ہے،یہ آلہ گھونگے کی شکل کا ہے،اس کے اندر بھی مائع ہے،اِس کو ’کوچلیا‘کہتے ہیں۔
اس’کوچلیا‘ کے اندر ہی وہ خاص قسم کے’ سَیلز‘ بیٹھے ہیں جن کو اللہ نے ایک خاص صلاحیت دی ہے کہ وہ اِس اِرتعاش کو بجلی کے اشاروںیا ’کوڈز‘میں تبدیل کرتے ہیں،پھر یہ کوڈِڈ ’سگنلز‘ ’آڈٹری نَروو‘کے ذریعہ دماغ کے خاص حصے تک پہنچاتے ہیں۔
پھر یہ دماغ ہے جواپنے خاص حصے میں اس ’کوڈ‘ کو وصول کر کے ’ڈیکوڈ‘ کرتا ہے۔پھر اللہ کے عطا کردہ علم اورپچھلی یاد داشتوں کو کھنگال کر ہم کو بتاتا ہے کہ ہم کیا سُن رہے ہیں، کیسی آواز ہے،بلند ہے کہ پست ہے،کس کی آواز ہے، کتنی دور اور کس طرف سے آرہی ہے،قریب ہوتی جارہی ہے کہ دور۔
توجہ کیجیے! دماغ ہمیں سناتا نہیں ’بتاتا‘ ہے کہ ہم یہ سُن رہے ہیں،نغمے سُن رہے ہیں کہ قرآن سُن رہے ہیں۔
تو کیا ہم کچھ سُن رہے ہیں؟نہیں! ہم کوتو صرف بتایا جاتا کہ ہم یہ سُن رہے ہیں یا وہ سُن رہے ہیں۔

سُننے سنانے کی بات تو ایک طرف رہی،ہمارے کانوں میں کچھ اور آلے بھی ہیں ،جو کچھ اور اہم کام کرتے ہیں۔
اِن آلوں کو نیم دائری نہریں’سیمی سرکیولر کنال‘ اور ’یوٹری کیولس‘ کہتے ہیں،اِن کے اندر بھی وہی خاص ’سیلز‘ موجود ہیں جو یہاں سے معلومات لے کر بجلی کے ’کوڈز ‘ میں تبدیل کرتی ہیں۔
اِن کا ایک خاص کام یہ ہے کہ اِن ’کوڈِڈسگنلز‘ کودماغ کے دوسرے خاص حصے میں پہنچاتی ہیں،دماغ اس کو ’ڈیکوڈ‘کر کے بتاتا ہے کہ ہم لیٹے ہیں کہ بیٹھے ہیں کہ کھڑے ہیں، کھڑے ہیں توکیسے کھڑے ہیں،سیدھے یاتیڑے،دائیں بائیں،آگے پیچھے جُھکے ہوئے ہیں۔
ہم غور کریں گے تو محسوس کریں گے کہ جب ہم اونچی نیچی زمین پر چل رہے ہوتے ہیں اور کسی طرف گرنے لگتے ہیں تو ہم غیر اِرادی طور پراپنا وزن دوسری طرف کر کے اپنے آپ کو گرنے سے بچالیے جاتے ہیں ،یعنی چلتے وقت ہم کو
’ بیلینس‘کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ اوپربار بار کہا گیا،کہ’ ہم‘ نہیں سُنتے ،’ہم‘ نہیں دیکھتے،یہ دماغ ہے جو بجلی کے اشاروں کا تجزیہ کر کے ’ہم‘ کو بتاتا ہے کہ ’ہم ‘کیا سُن رہے ہیں،کیا دیکھ رہے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ’ہم ‘کون ہیں؟ہمارا یہ جسم دماغ سمیت سب اعضاء اِس زمین سے اُگے ہیں پھر اِسی میں گم ہو جائیں گے،تو یہ ’ہم‘ کون ہیں؟
ہم ہیں ’روح‘ !یہ جسم اور اس کے اعضاء تو اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہماری مدد کے لئے عارضی طور پر اس زمین کی حد تک عطا کی ہیں۔
ہم روز میّتیں دیکھتے ہیں،روح نکل جاتی ہے ، جسم وہی ہوتا ہے مگرلاش نہ سُن سکتی ہے نہ دیکھ سکتی ہے، نہ ہی بول سکتی ہے،ایک انگلی بھی ہلا نہیں سکتی۔
ان معلومات کے حصول کے بعد،ہم دیکھ سکتے ہیں کہ صرف ایک کان کو بنانے کے لئے،کتنی کیمیا،طبیعات،ایلکٹروانکس اورریاضی کے مکمل علم کی ضرورت ہے۔کیا مکمل علم اور قدرت والی ہستی کے بنا یہ کام خود بخود اپنے آپ بن سکتا تھا؟ ؟

حصہ