نیکی کے طلب گار آگے بڑھ

59

عافیہ رحمت
وہ ماہِ مبارک جب ایک نیکی کا اجر بڑھ کر ستّر نیکیوں کے برابر ہوجائے گا، شروع ہونے کو ہے۔ وہ لمحات جب گرمی اور لو کی تپش سے زبان خشک ہوگی مگر دل محبت، اطمینان اور ایمان سے بھرپور ہوگا، ان شاء اللہ۔
آپ نے کبھی مجنون کو دیکھا ہے، کیا حالت ہوتی ہے اس کی! نہ دن کی خبر، نہ رات کی… بھوک اڑ جاتی ہے، نیند اس کو نہیں آتی… حلیہ کیسا ہورہا ہے، خبر نہیٍں ہوتی… بس محبوب کا ذکر ہو، محبوب کا خیال ہو… رمضان میں روزے دار کا حال بھی کچھ ایسا ہوجاتا ہے۔
آدھی رات کو اٹھ کر کھانا کھانے لگ جاتا ہے۔ بھوک لگ رہی ہے، پیاس سے جان نکل رہی ہے، انتڑیاں قل ہواللہ پڑھ رہی ہیں مگر وہ اپنے محبوب کو خوش کرنے کے نشے میں اس قدر ڈوبا ہوتا ہے کہ کوئی چیز اہم نہیں ہے۔ خود بھی اپنی زبان کو محبوب کے ذکر سے تر کرنے کے بعد، دوسروں سے بھی اس کا ذکر سن کر خوش ہورہا ہے، تھکن سے چور جسم کو اطاعت کی لذت سے روشناس کروا رہا ہے، ہاتھ باندھے کھڑا ہے تو کھڑا ہے، اپنے رب سے امید اور آس لگائے۔راتوں کو رو رہا ہے، گڑگڑا رہا ہے، اپنا پسندیدہ مال جو اپنے زورِ بازو سے جمع کیا، محبوب کی رضا میں اوروں میں بانٹ رہا ہے۔
یہ کیسا عجیب عاشق ہے… یہ کیسا عجیب موسم ہے… دلوں کی کیسی بے خودی ہے… یہ کیسا نشہ ہے… جتنا چڑھتا ہے اتنا ہی مزا دیتا ہے۔
عزیز بہنو! اس ماہِ مبارک میں اپنے آپ کو روزہ کی بھٹی میں جلا کر پاک صاف کرلیجیے۔ ایک نئی زندگی کا آغاز کیجیے۔ اپنی تمام تر اخلاقی خامیوں کی لسٹ بنایئے جو آپ کو تکلیف دیتی ہیں، اللہ سے مدد طلب کرکے ان کو ختم کرنے کا آغاز کیجیے۔ اخلاقی خوبیوں کو حاصل کرنا جو آپ کا خواب رہا ہے، ان کی بھی فہرست بنایئے اور عمل کا آغاز کردیجیے۔ انجام رب ہی بہتر کرے گا اور ضرور کرے گا، ان شاء اللہ۔

حصہ