علامہ اقبال: فکری اور عصری تناظر

82

محمد طارق خان
اچھی کانفرنسز کے تو ہم ہمیشہ سے دلدادہ رہے ہیں، جہاں کسی کانفرنس کا پتا چلا، فوراً پہنچے… اور پھر اس کانفرنس میں ہم بھلا کیوں موجود نہ ہوتے، جو ہمارے شعبے نے منعقد کی تھی۔ رفیع الدین ہاشمی، محمود شام، حمزہ فاروقی کی زیر صدارت اس کانفرنس کا مقصد اقبال کی فکر کو عصری تناظر میں سمجھا جائے۔ شعبۂ اردو ڈاکٹر تنظیم الفردوس اور محترم ڈاکٹر رئوف پاریکھ سمیت تمام اساتذہ کرام اس کانفرنس کی میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
جب ہم کانفرنس ہال میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہم تھوڑا لیٹ ہوچکے ہیں لیکن ابھی پہلے مقالہ نگار کا موضوع چل رہا تھا۔
ہال کے اندر جب ہم نے ایک طائرانہ نظر ڈالی تو یہ دیکھ کر جی خوش ہوا کہ چلو اقبال کے بارے میں جاننے کے لیے طلبہ کی ایک بڑی تعداد شریک ہے۔ ہلکی ہلکی گرمی کی وجہ سے کچھ حساس لڑکے، لڑکیاں خود کو ہوا جھل رہے تھے۔ ہال میں اے سی لگے ہوئے تھے لیکن شاید ان کی ٹھنڈک ان کے لیے کافی نہیں تھی۔ اس لیے عقل مندی کا تقاضا یہ تھا کہ اے سی کے قریب بیٹھا جائے۔ اسٹیج پر جناح کیپ پہنے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب پر نظر پڑی۔ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب نے ماہ اپریل میں کراچی آنے کا ذکر کیا تھا۔ہم نے اُنھیں اپنے دفتر آنے کی بھی دعوت دی تھی۔ اس کانفرنس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے ساتھ ایک تفصیلی نشست کا اہتمام ہوا۔
کانفرنس کے آغاز ہی میں کلیدی خطبہ ڈاکٹر صاحب نے پیش کیا۔ اُنھوں نے اقبال کی زندگی کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور اقبال شناسی اور اقبال فہمی کے کئی نکات بیان کیے، اُس کے بعد باری باری مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کیے۔ جب ہم اپنی نشست پر قبضہ جما کر بیٹھ گئے تو معلوم ہوا کہ ڈائس اس وقت میم سہیلا فاروقی کے قبضے میں تھا۔ رنگین کی کلیات کی مدوّن محترمہ سہیلا فاروقی اپنا مقالہ پیش کررہی تھیں۔
اُن کے مقالے کا عنوان تھا ’’ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی بطور اقبال شناس۔‘‘ اُنھوں نے کہا: ’’اقبال کو سمجھنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی، اقبال خوش قسمت تھے کہ ان کو سمجھنے کا کام ان کی زندگی ہی میں شروع ہوگیا تھا، طاہر فاروقی کی اقبال کے حوالے سے پہلی کتاب’’سیرت اقبال‘‘اقبال شناسی کے حوالے سے اولین محرک ٹھہرا۔‘‘
اُن کے فوراً بعد دوسرا مقالہ شعبۂ اردو کے نوجوان استاد ڈاکٹر خالد امین نے پیش کیا اُنھوں نے ’’علامہ اقبال اور علامہ محمد اسد(لیوپولڈ) کے فکری ارتباط‘‘ پر روشنی ڈالی، ڈاکٹر خالد امین چوں کہ ایک اچھے مقرر رہ چکے ہیں اس لیے ان کے مقالہ پڑھنے کا انداز بھی کسی مقرر کی طرح تھا،جو لوگ ذرا سست پڑگئے تھے وہ ہمہ تن گوش ہوگئے۔ اُنھوں نے بتایا: ’’علامہ اقبال نے نہ صرف یہ کہ قانونِ اسلامی کی تشکیل کا غلغلہ بلند کیا اور اس کے اصولوں کی نشاندہی کی بلکہ مختلف اہل علم کو اس کام کی تحریک بھی دی۔ان میں ایک نام علامہ محمد اسد کا بھی ہے۔علامہ محمد اقبال محمد اسد کے فہمِ تصور اسلام کے معترف ومداح تھے۔محمد اسد کے قیامِ برصغیر میں پاک وہند کے دنوں میں دونوں کے مابین گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہوگئے تھے۔ دونوں کے مابین ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل ومعاملات بالخصوص فقہ واجتہاد کے موضوع پر بحث وتبادلہ خیال ہوتا تھا۔ علامہ اقبال کی تحریک پر علامہ محمد اسد نے بخاری شریف کے ترجمہ وشرح کا بیڑا اُٹھایا اور انہی کی تحریک پر دورِ جدید کی اسلامی ریاست کے دستوری اُصول کی توضیح وتشریح بھی کی۔‘‘
تیسرا مقالہ ڈاکٹر انصار احمد نے بعنوان ’’اقبال کا تصور حقیقت اور عصری تقاضے‘‘پڑھ کر سنایا۔جبکہ چوتھا مقالہ شعبہ فارسی کی صدر ڈاکٹر شہلا سلیم نوری نے پیش کیا جس کا عنوان تھا:’’عصرِ حاضر اور اقبال کی فارسی شاعری‘‘۔ڈاکٹر شہلا سلیم نوری کمال کی خاتون ہیں، اُن کے پڑھانے کا انداز بہت عمدہ ہے، اپنے طالب علموں کو جب وہ فارسی پڑھاتی ہیں تو فارسی سمجھ میں نہیں بلکہ دل میں سماتی ہے۔اپنے مقالے میں اُنھوں نے اقبال کی فارسی شاعری کا احاطہ کیا۔
پانچواں مقالہ پیش کرنے کے لیے شعبۂ انگریزی کے صدر اور استاد ڈاکٹر افتخار شفیع کو بلایا گیا۔ اُنھوں نے آتے ہی اعتراف کیا کہ وہ اپنا مقالہ مکمل نہ کرسکے لیکن اس موضوع پر کہنے کے لیے اُن کے پاس بہت کچھ ہے۔اُن کے مقالے کا عنوان ’’اقبال انگریزی اور ہم‘‘تھا۔اُنھوں نے بڑے دلچسپ انداز میں انگریزی تہذیب کی خبر لی، ہمارے معاشرے میں انگریزی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اُس کے مضر اثرات سے بھی آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ انگریزی ہمارے لیے ایک پورے کلچر اور پوری ثقافت کا نام ہے۔جس میں تمام چیزیں آجاتی ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ اقبال شعبۂ انگریزی میں بھی پڑھائے جاتے ہیں، جس کے لیے اُنھوں نے طلبہ کے لیے خصوصی طور پر نوٹس بھی تیار کیے ہیں۔
چھٹا مقالہ شعبۂ فلسفہ کے استاد ڈاکٹر عبدالوہاب سوری نے ’’مابعد نو آبادیاتی فکر، خیال کی جمالیات اور مطالعہ اقبال‘‘کے عنوان سے پیش کیا۔اُنھوں نے اپنی گفتگو میں فلسفے کا سہارا لیتے ہوئے کچھ فلسفیانہ گفتگو کی۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمارے ہاں یہ روایت چل پڑی ہے کہ ہم بڑے لوگوں کو عقیدت کے سنگھاسن پر براجمان کردیتے ہیں، اُس کے بعد اُس کی پوجا تو ہوتی ہے، لیکن اس کے خیالات اُس کے نظریات کو سمجھنا اور سمجھ کر عمل پیرا ہونے کی عملی کوشش ہی نہیں کرتے۔
ڈاکٹر عبدالوہاب سوری کا یہ خیال اپنی جگہ بالکل صحیح ہے اور بحیثیت مسلمان یا پاکستانی ہم اپنی زندگیوں کا عملی جائزہ لیں تو ہمیں خوب اندازہ ہوجائے گا کہ ہم اپنے اسلاف کے ساتھ کیا کھلواڑ کررہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور اُن کے معجزات کا صرف ذکر ہی کرتے رہیں گے… نبی کی اچھائیوں کا تو خوب ذکر…لیکن اُسی نبی نے کہا کہ جھوٹ مت بولو تو جھوٹ بولنے کے لیے طرح طرح کی تاویلیں گھڑ لیں۔ اُس نبی نے کہا کہ سود مت کھائو…تو سود کو حلال کرنے یا اُسے حرام سمجھتے ہوئے بھی اپنی زندگیوں سے نہیں نکال سکے اور نہ نکالنا چاہتے ہیں۔اُس نبی نے کہا کہ ظالم حکمرانوں کے خلاف سینہ سپر ہوجائو تو ہم خود اقتدار کی کرسی اُن ظالموں کے حوالے کردیتے ہیں۔اُ ن کا یہ کہنا ٹھیک تھا کہ ہم نے بڑے بڑے لوگوں کے خیال کو خوب صورتی کے ہتھیار کے ذریعے ختم کیا ہے۔
ساتویں مقالے کے لیے محمد حمزہ فاروقی کو دعوت دی گئی، اُن کا موضوع ’’اقبال کا عہد اور عصرِ حاضر‘‘ تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ اقبال وہ واحد فلسفی ہیں جن کا خیال مجرد نہیں۔ان کے خیال کی مجسم صورت آج پاکستان کی شکل میں موجود ہے۔
آٹھواں مقالہ پیش کرنے والے محمود شام تھے، بچوں کے ادب سے وابستگی کے باعث محمود شام سے بہت پرانا تعلق ہے، اُنھوں نے بچوں کے لیے نا صرف خود اچھی اچھی کہانیاں لکھیں بلکہ قلمکاروں کی ایک فوج تیار کی، جنھوں نے اپنی مقدور بھر خدمات بچوں کے ادب کے لیے پیش کیں۔ ’’ اقبال کی فکری روایت اور دین ملا‘‘ اُن کا موضوع تھا، محمود شام کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے موضوع سے ہمیشہ انصاف کرتے ہیں، ہر نشست میں مکمل تیاری کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔
نویں مقالے کے لیے جس شخصیت کو بلایا گیا غلطی سے شاہد حمید کا نام لیا گیا، ہم ’سوفی کی دنیا‘ کے ترجمے والے شاہد حمید سمجھ بیٹھے، جن کے ہم پرستار یا فین ہیں لیکن اکادمی ادبیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید نے ’’اقبال اور عصر حاضر‘‘کے حوالے سے اپنا اظہار خیال کیا۔ڈاکٹر راشد حمید نے کہا کہ میری مادری زبان تو اُردو نہیں ہے لیکن میں نے کوشش کی ہے کہ میرے بچوں کی مادری زبان اُردو ہو۔
اس کانفرنس کو بین الاقوامی کا درجہ دلانے کے لیے امریکا سے صدف اکبانی تشریف لائی تھیں۔ مشہور سماجی کارکن اور محقق محترمہ صدف اکبانی نے ’’آئیڈیالوجی اینڈ کن ٹیمپرری پرسپیکٹیو‘‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’مجھے امریکا میں رہتے ہوئے اکثر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہمیں اقبال کی فکر سے استفادہ کرنا چاہیے۔اگر ہم اقبال کی فکر سے استفادہ کریں گے تو کوئی ہماری میراث کو نئی پیڑھی میں منتقل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘
نجانے کیوں ان کی گفتگو کو سنتے ہوئے اُستاد محترم ڈاکٹر رئوف پاریکھ بار بار پہلو بدل رہے تھے۔
کانفرنس کے آخر میں شعبۂ اردو کی صدر نشین محترمہ ڈاکٹر تنظیم الفردوس صاحبہ نے اظہار تشکر پیش کیا۔ اُنھوں نے کانفرنس میں شامل، طلبہ ،اساتذہ، مندوبین، مہمانان اور علما کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ طلبہ اور اساتذہ کے تعاون کے بنا اس کانفرنس کا کامیاب ہونا ممکن نہ تھا۔

حصہ