شریکِ مطالعہ

165

نعیم الرحمٰن
محمداقبال دیوان کی عمربیوروکریسی میں کٹی۔لیکن وہ اس کانِ نمک میں نمک نہیں ہوئے۔وہ خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’ایک عمرسرکاری ملازمت کی تہمت اٹھانے کے بعدحال ہی میں رہاہواہوں۔والدِمحترم کے کاروبارکوٹھکراکرملازمت اختیارکرتے وقت والدہ ماجدہ سے وعدہ کیاتھاکہ عمربھرایساکام نہیں کروں گاجس سے اسلام یاکسی غریب یاپاکستان کوہزیمت اٹھانی پڑے۔اللہ کاشکرہے کہ یہ وعدہ وفاہوا۔
ریٹائرمنٹ کے بعدمحمداقبال دیوان نے تحریرسے رشتہ جوڑا۔انہیں ادبی منظرپرنمودارہوئے چند برس ہی گزرے ہیں۔اس دوران انہوں نے دوناول اورایک ناولٹ اورافسانوں پرمبنی مجموعہ لکھ ڈالے۔ایسالگتاہے کہ ان کاقلم رکنے والا نہیں اوران کے تخیل کی اُڑان دورتک ہے۔ کیا خوب طرز تحریر ہے۔ ایک منفرد اسلوب جسے قلم کی جادو نگاری بھی کہاجا سکتا ہے۔ ان کی تین کتابیں ایک بیوروکریٹ کے تجربات کا نچوڑ ہیں۔حقیقی کرداروں پرمشتمل سچے واقعات کو افسانوی رنگ اوراپنے بے مثال اسلوب میں اس طرح پیش کیاہے کہ قاری تحریرکے سحر کا شکار ہوئے بغیر نہیں رہتا۔محمداقبال دیوان نے آپ بیتی کے رنگ میں جانے پہنچانے اورحقیقی کرداروں کوافسانوی انداز میں اپنے دوناولوں میں پیش کیا۔پہلا ناول ’’جسے رات لے اُڑی ہوا‘‘ اور دوسرا ’’وہ ورق تھادل کی کتاب کا‘‘ ہے۔اورکچھ اس انداز میں کہ حقیقت کوافسانے سے جداکرنا ممکن نہیں ۔دونوں ناولوں کی سب سے بڑی خوبی ریڈایبل ہونا ہے۔اسی وجہ سے دونوں کتابوں کے دوسے زیادہ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔وہ روایتی قسم کے فکشن نگار نہیں ہیں ۔ان کی تمام تحریروں میںقدیم اورجدیدکاعجیب امتزاج پایا جاتا ہے۔ قدرے الف لیلوی اندازبیان ،قصہ درقصہ ،رنگ ڈھنگ اور ساتھ تھوڑی سے دورِحاضر کی سنسنی خیزی کے ساتھ انوکھی نثرقاری کو کتاب شروع کرنے کے بعد ختم کئے بغیرنہ چھوڑنے پرمجبورکردیتی ہے ۔ ان کی تحریرمیں بہت کچھ ہے ۔سنسنی،تحیر،کشت وخون، دل فریب حسینائیں،دل پھینک عاشق، اہلِ دل، اہلِ بصیرت،اہل ِ معرفت،لائق اور نالائق بیورو کریٹ، اونچی فضاؤں میں اُڑنے والے ارب پتی،اسمگلر،دربدرپھرنے والے کنگلے،ان پڑھ مگرچالاک لوگ،جاسوس،دہشت گرد،کرائے کے قاتل،جان لینے والے،جان دینے والے۔یہ ناول اورافسانے کیاہیں،ناول کا بہروپ ہیں اورافسانے پاکستان کاحیرت کدہ اوربھول بھلیاں ہیں۔
اقبال دیوان نے ڈاکٹرکاشف مصطفٰے کے اسرائیل کے سفرنامے ’’دیوارِگریہ کے آس پاس ‘‘ کا بھی اپنے اسی سحرطرازانداز میں ترجمہ کیا ۔ اور سفرنامے کوچارچاند لگادیئے۔ محمداقبال دیوان کی تیسری کتاب ’’پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ‘‘القاپبلیکیشنزنے تین سال قبل شائع کی تھی ۔بڑے سائز کے دوسو چھیاسی صفحات کی کتاب کی قیمت چھ سوپچیانوے روپے بھی بہت مناسب ہے۔کتاب کے بارے میں مشہورشاعر وادیب امجد اسلام امجد کہتے ہیں کہ ’’مجھے اس کتاب کی جس خوبی نے سب سے پہلے اورسب سے زیادہ متاثرکیاوہ اس کی اپنے آپ کوپڑھوانے کی غیرمعمولی قوت اورصلاحیت ہے۔ کتاب دوناولٹوں اور دوافسانوں پرمشتمل ہے۔کتاب کانام جس ناولٹ ’’پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ ‘‘ پررکھاگیاہے وہ ایک ایسی محبت کی روداد ہے ۔جس میں ایک طرف آہستہ آہستہ سلگتاہوالگاؤ ہے تودوسری طرف جھوٹ تہ درتہ جمع ہوکر اس لگاؤ کوسہارادیتا رہتاہے۔حیرت اورحسرت بھری اس کہانی میں دکھ بہت ہے لیکن محبت اپنا جواز اورمداوا آپ بن گئی ہے۔’طویل ناولٹ’شہرکوسیلاب لے گیا ‘‘ کاتعلق جنوبی پنجاب کے دیہی علاقے سے ہے جہاں دہشت گردی قدم جمارہی ہے۔اس میں آنے والے دنوں کی چاپ سنی جاسکتی ہے۔
افسانہ ’’رات بھی نیند بھی کہانی بھی‘‘میں ایک ڈاکٹراوررات بھر کے لئے دست یاب لڑکی کاقصہ ہے۔دوسرا افسانہ ’’وہ جومایاتھی‘‘ میں محبت سراسر فریب آمیز اورالم ناک ہے۔ اس فکشن میں ہمارا گردوپیش اپنے تمام خدشات، حادثات اور توقعات کے ساتھ سانس لیتا نظر آتا ہے۔ ’’شہر کو سیلاب لے گیا‘‘ کا پہلا باب دُھر کوٹ کا ماسٹربرکت کچھ یوں شروع ہوتاہے۔’’دُھرکوٹ،ضلع مظفرگڑھ ،پنجاب کے پرائمری اسکول میں اسلامیات کا استادبرکت اس رات جیل میں تھا،جب چھاجوں مینہ برس رہاتھا۔چارسوسیلاب کا غلغلہ تھااورنہر میں ایک کمینے منصوبے کے تحت زبردستی ڈالے گئے بے رحمانہ شگاف کی وجہ سے اس کاہنستابستادُھرکوٹ ڈوب رہاتھا۔ دُھرکوٹ کے ڈوب کربرباد ہونے کی پیش گوئیاں ایک عرصے سے علاقے کے بڑے بوڑھے کرتے تھے جنہیں ماسٹربرکت اکثرہنس کرٹال دیتاتھا۔ وہ انہیں مزے لینے کے لئے یہ کہہ کرمزید چھیڑتاتھاکہ نوانوں بھاگنے سے اوربوڑھوں کادوسروںکواپنی موت سے ڈرانامحبوب حربہ ہے۔یوں بھی بوڑھوںکو سمندروں،دریاؤں اورطوفانوں کی ریشہ دوانیوں کاکوئی مخصوص علم حاصل نہ تھاکہ وہ ان پیش گوئیوں پرسنجیدگی سے کان دھرتا۔اس کے نزدیک یہ سب اندازے ہی اندازے تھے،محض خدشات جوعمررسیدگی کی ایک چیختی چنگھاڑتی علامت مانے جاتے ہیں۔‘‘
یہ دلچسپ ابتدا ناولٹ کے اختتام تک قائم رہتی ہے۔
٭
معروف شاعراورنقادقاسم یعقوب کی زیرادارت فیصل آباد سے ادبی کتابی سلسلہ ’’نقاط‘‘اشاعت پذیرہورہاہے۔نئے ادب کے ترجمان نقاط کے شمارہ نمبرچودہ اس بارزیرتبصرہ ہے۔پرچے کی اشاعت عدم تسلسل کاشکاررہی ہے۔لیکن اس کے یکے بعددیگرے دوشمارے شائع ہونے سے کچھ باقاعدگی آگئی ہے۔نقاط انتہائی معیاری اورسنجیدہ ادبی جریدہ ہے۔کچھ عرصہ قبل ’’جدیدنظم نمبر‘‘ شائع ہواتھا۔جواپنے موضوع کے اعتبارسے بہترین تھا۔اردونظم اوراس کی مختلف اصناف کے بارے میں ایسا مکمل نمبرشائد اس سے قبل کبھی کسی جریدے نے شائع نہیں کیا۔غزل اورنثرکی مختلف اصناف پرنمبر تو شائع ہوتے ہی رہتے ہیں۔
تازہ شمارے میں مضامین کا پلڑا بھاری ہے۔اداریے میں قاسم یعقوب تحریرکرتے ہیں کہ پہلے ارادہ تھاکہ ’’کتاب نمبر‘‘ شائع کیاجائے۔ بہت ساکام ہوچکاتھامگردیگرمصروفیات کی وجہ سے نقاط کا کتاب نمبرتاخیرکا شکارہوتارہا۔پھرریگولرشمارہ لانے کافیصلہ ہواتوبہت سے مضامین یک دم اکٹھے ہوگئے۔پرچے میں شائع ہونے والی تحریروں کاتعارف بھی اداریے کاحصہ ہے۔جس کے ذریعے شمارے کے مشمولات کا بخوبی جائزہ لیاگیاہے۔
ناصرعباس نیرنے مابعدجدید فکریات کونئے زاویوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔فرخ ندیم نے ماحولیاتی تانیثیت پراپنامضمون خاص طور پرنقاط کودیاہے۔یہ اس موضوع پراردومیں پہلا مضمون ہے۔ خرم شہزاد ملتان کی مٹی سے نکلنے والا تازہ دم پودہ ہے جودرخت بننے کے قریب ہے۔نقاط میں پہلی باران کاایک تجزیاتی مضمون شائع کیاجارہاہے۔پرویزانجم اورعمرفرحت نے بابِ منٹوپرپھر دستک دی ہے۔غلام شبیر اسد کا مضمون ترقی پسند فکر کی اغلاط کا احاطہ کررہاہے۔جومابعدجدیدفکر پراعتراض کی صورت میں سامنے لارہی ہے۔مطالعہ خصوصی میں اس دفعہ ڈاکٹرفاخرہ کا مضمون شامل ہے جواردوزبان میں سلینگ کوزیرِبحث لاتاہے۔سلینگ زبان کی اہمیت اورافادیت پرکم لکھاگیاہے۔گو یہ مضمون اردومیں سلینگ لغات کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ ہے مگربہت سے اہم نکات بھی اس میں اٹھائے گئے ہیں۔
عنبرین حسیب عنبرپہلی مرتبہ نقاط کا حصہ بنی ہیں۔اُ ن کا مضمون تانیثی نظم کواہم حوالوں کے ساتھ زیرِبحث لاتا ہے۔’’شعورکی عمر‘‘ طویل ترجمہ ، یونس خان نے خاص طور پرنقاط کوبھیجا ہے۔یونس خان کی اردو کے ساتھ انگریزی ادب پر بھی گہری نظر ہے۔ان کا ترجمہ اس شمارے کی خاص چیز ہے۔نجم الدین احمد،منیرفیاض اورعارف بخاری نے خصوصی فرمائش پراپنے ترجمے ادارے کوبھجوائے ہیں۔
اس شمارے میں اصغربشیر اورفیاض ندیم سے دوانٹرویوزخاص طور پرکرائے گئے ہیں۔ہیمنگ وے اورگائتری چکرورتی کی دنیاؤں میں داخل ہونے کے لئے ان انٹرویوز کا مطالعہ اہم ثابت ہوگا۔صفدررشید نے احمدجاوید کا طویل انٹرویوکررکھا ہے جوجلد کتابی شکل میں شائع ہوگا۔اس انٹرویوکے چند مخصوص سوالات کوبھی پیش کیاگیاہے۔شہرفنون میں داخل ہونے کے لئے سید کاشف رضااوریاسراقبال کے مضامین پرچے کااہم حصہ ہیں۔
غزلوں میں بھرتی کے نام شامل کرنے کے بجائے انتخاب پرتوجہ دی گئی ہے۔انجم سلیمی اورعمیرنجمی کوشمارے کے اہم شعراء قرار دیاگیاہے۔ عمیرپہلی دفعہ نقاط کاحصہ بنے ہیں۔نظموں میں نسرین انجم بھٹی کی نظمیں زاہد نبی کی وساطت سے موصول ہوئیں۔ نسرین بھٹی نے اپنی وفات سے قبل غیرمطبوعہ نظموں کی اشاعت کی ذمہ داری انہیں سونپی تھی۔اس کے علاوہ مقصود وفا،شاہد اشرف ،عماد اظہر،منیرفیاض،ارشد معراج،عنبرین صلاح الدین اوراورنگ زیب نیازی کی نظمیں بھی اس شمارے میں شامل ہیں۔اہم نظم نگارسعیداحمد کی جلدشائع ہونے والی طویل نظم ’’ناوقت سمندرکنارے‘‘ کا پہلا منتخب حصہ بھی شمارے میں شائع کیاگیاہے۔
افسانوی تحریروں میںمنفرد اسلوب کے ذریعے ادبی حلقوں میں اپنی پہنچان بنانے والی منزہ احتشام گوندل پہلی بارنقاط کے اس شمارے کا حصہ بنی ہیں۔محمدالیاس،سولفظوں کی کہانی کے شہرت یافتہ مبشرعلی زیدی،علی اکبرناطق اورعلی عادل اعوان کے افسانے بھی یادگار ہیں۔آخر میں ایک مذاکرہ کی روداد شائع کی گئی ہے جواپنی جگہ الگ سے اہم دستاویز ہے۔میراماننا ہے کہ ادبی پرچہ شائع کرنا کسی جہاد سے کم نہیں ۔ قاسم یعقوب نقاط کی باقاعدہ اشاعت پرمبارکباد کے مستحق ہیں۔
٭
دنیابھر کے ادب میں خواتین کااہم حصہ ہوتاہے۔اردوادب میں بھی قرۃ العین حیدر،عصمت چغتائی،بانوقدسیہ،حجاب اسمٰعیل ،اداجعفری، پروین شاکر،کشورناہید،فہمیدہ ریاض،زاہدحنا،سلمٰی اعوان اوربے شمارشاعرات اورمصنفین کی کہکشاں جگمگارہی ہے۔جنہوں نے اردوادب کادامن مالامال کیاہے۔لیکن ڈائجسٹ کی لکھاریوں نے ادبی تحریروں کوگہوادیاہے۔ان گنت تفریحی چینلز پربھی یہی ڈائجسٹ رائٹرز نے ٹی وی ڈرامہ کوزوال پذیر کیاہے۔ایسے میں خواتین کے ایک ادبی جریدے کی سخت ضرورت ہے۔ادبی اصلاحی انجمن خواتین پاکستان کے زیرِ اہتمام سالانہ ادبی مجلہ ’’حریم ادب ‘‘ کادوسراشمارہ حال ہی میں منظرعام پرآیاہے۔جس کی مدیرہ عالیہ شمیم اورسرپرست دردانہ صدیقی ہیں۔ بڑے سائز کے ایک سوچھتیس صفحات کا’’حریم ادب‘ صوری اورمعنوی خوبیوں سے آراستہ ہے۔ اورعمدہ کاغذپر شائع کیاگیاہے۔ لیکن اس کی قیمت درج نہیں ہے۔
مضامین میں ڈاکٹرسامیہ احسن کا’’ممتازشیریں کے افسانوں میں نسوانی کردار‘‘ اپنے موضوع کی اعتبار سے اہم مضمون ہے۔نگہت فرمان نے’’ادب اورزندگی‘‘ رفعت حمید نے ’’بانوقدسیہ کی افسانہ نگاری ‘‘ کوموضوع بنایاہے۔ڈاکٹراسماء قیصر نے ’’پاکستان میں ادبی رسائل وجرائد ‘‘ پرمختصر اورجامع مضمون لکھاہے۔ غزلوں میں حمیراراحت اورحجاب عباسی کی غزلیں خوبصورت ہیں۔نجمہ یاسمین یوسف کی نظم نے متاثر کیا۔
بلقیس کشفی کاانٹرویوکچھ تشنہ محسوس ہوا۔بڑی شخصیت سے انٹرویوکچھ مزید طویل ہونا چاہئے تھا۔افسانوں میں سعیداحسن’’فرخ باجی‘‘ صبیحہ شاہ ’’کہی ان کہی‘‘ اورمنزہ سہام مرزا کا افسانہ ’’ٹھنڈک ‘‘ عمدہ ہیں۔دیگرافسانے بھی اچھے ہیں۔عالمی ادب سے عربی افسانے’’خارج از موضوع‘‘ کاترجمہ رمشہ شاہد نے بہت اچھا کیاہے۔سلمٰی صدیقی کاافسانہ ’’پھٹی پرانی نشانی‘‘اردو ادب سے عمدہ انتخاب ہے۔سندھی ادب سے نسیم کھرل کے افسانے کا ترجمہ ذروہ احسن نے ’’السلام وعلیکم ‘‘کے نام سے کیاہے۔
سعدیہ نعمان اور ذروہ احسن کے خاکے بھی شاملِ اشاعت ہیں۔ طنز و مزاح میں غزالہ ارشد نزہت وسیم کو جگہ ملی ہے۔ خاکے اورطنز و مزاح میں خواتین کا نام کم دیکھنے میں آتاہے۔اس لئے یہ تحریریں اچھی کاوش کہلائیں گی۔ مجموعی طورپرحریم ادب کایہ شمارہ قابلِ تحسین ہے۔لیکن اسے سالانہ مجلے کے بجائے ماہانہ شائع ہونا چاہئے۔تاکہ خواتین لکھاریوں کوڈائجسٹ سے ہٹ کراپنی تخلیقات کے لئے ایک پلیٹ فارم میسرآسکے۔سفرنامہ ،آپ بیتی اوردیگراصناف کوبھی جگہ ملنی چاہئے تاکہ ان اصناف میں بھی خواتین کی صلاحیتیں سامنے آئیں۔

غزل

زاہد عباس

اٹھائے منہ وہ ڈولے ہے مسلسل
غضب کا جھوٹ بولے ہے مسلسل
اسے میں اپنے دل کی کیا بتاؤں
جو دل کے راز کھولے ہے مسلسل
کسی کو فکر ہے اپنے چمن کی
کوئی گلشن کو رولے ہے مسلسل
نگاہوں ہی نگاہوں میں وہ ظالم
مرے دل کو ٹٹولے ہے مسلسل
زبانوں پر یہاں تالے پڑے ہیں
مگر ہر آنکھ بولے ہے مسلسل
تری آواز وہ نغمہ ہے زاہدؔ
جو رس کانوں میں گھولے ہے مسلسل

حصہ