حسد کا انجام

18

یمنیٰ ایمان
ابراہیم صاحب ایک قابل ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان اور بہترین مسلمان بھی تھے۔ وہ ایک فلاحی ادارہ چلاتے تھے اور اپنا زیادہ وقت غریبوں کی مدد میں صرف کرتے تھے وہ بھی مستحق افراد کا مفت علاج کرتے اگر کبھی کوئی ان سے سوال کرتا کہ آپ غریبوں کا علاج مفت کیوں کرتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے کہتے وہ یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں یعنی وہ رضا الٰہی کے لیے کسی غریب مریض کو مایوس نہیں کرتے اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا بھی بہت دی تھی جو مریض آتا جلد صحب یاب ہو جاتا ان کی طبیعت میں بہت زیادہ سادگی تھی۔
ان کی ملاقات ایک اور ڈاکٹر اصغر سے ہوئی وہ بھی فلاحی کام کرتے تھے مگر مالی طور پر بہت زیادہ مستحکم نہیں تھے ان کی طبیعت میں نرمی کے بجائے بہت زیادہ سختی تھی دونوں کا میدان ایک تھا لہٰذا جلد گہری دوستی ہو گئی۔
ایک دن ڈاکٹر اصغر ڈاکٹر ابراہیم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ملازم نے آکر اطلاع دی کہ ملیشیا میں زلزلہ آگیا ہے ابراہیم صاحب نے کہا کہ فوری طور پر تین لاکھ روپے ان کی امداد کے لیے بھیج دیئے جائیں اصغر صاحب نے پانچ لاکھ روپے کا وعدہ کر لیا اصغر صاحب ویسے تو اچھے آدمی تھے لیکن حسد اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا جذبہ ان میں بہت زیادہ تھا وہ دوسروں سے مقابلہ کرتے خواہ اس کا نتیجہ کچھ ہی نکلے وہ اب ڈاکٹر ابرہیم سے مقابلہ کر رہے تھے اگر کسی کام کے لیے ابراہیم صاحب کچھ رقم دیتے تو وہ بڑھ کر زیادہ کا اعلان کر دیتے ابراہیم صاحب اصغر صاحب کی اس عادت کو سمجھ چکے تھے اور انہوں نے سمجھانے کی کوشش بھی کی لیکن اصغر صاحب اپنی حسد اور مقابلے کی عادت سے باز آنے والے نہیں تھے جبکہ ابراہیم صاحب ایک حد میں رہتے ہوئے امدادی کام کیا کرتے تھے ان کا مقصد اللہ کی رضا تھی نہ کہ دکھاوا۔
دیکھتے ہی دیکھتے اصغر صاحب کا ادارہ دیوالیہ ہو گیا اور وہ مالی مشکلات کا شکار ہو گئے جب ابراہیم صاحب کو علم ہوا تو فوری طور پر ان کی طرف گئے اور ناکامی کا سبب پوچھا اصغر صاحب نے کہا کہ وہ حسد، دکھاوے اور مقابلے کے شوق میں اپنا سب کچھ لٹا چکے ہیں۔ ابراہیم صاحب نے انہیں حوصلہ دیا اور اپنے ساتھ شریک کر لیا اور دوبارہ ان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد کی اصغر صاحب نے حسد، دکھاوے سے توبہ کر لی اور اپنا مقصد رضا الٰہی کو بنا لیا۔

لڑائی سے توبہ

ملک الحرم صدیقی
ایک جنگل میں دو چھوٹے شیر رہتے تھے وہ اپنے امی ابو کا کہنا نہیں مانتے تھے ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے ایک دن ان دونوں کے درمیان سخت لڑائی ہوئی جس سے دونوں شدید زخمی ہو گئے ان کو بہت زیادہ چوٹیں آئیں وہ دونوں تکلیف کے عالم میں رات بھر روتے رہے ان کے امی ابو نے ان کو سمجھایا تم لڑتے کیوں ہو محبت و اتفاق سے نہیں رہ سکتے دیکھ لو لڑنے کا انجام تمہارے سامنے ہے پھر دونوں چھوٹے شیروں نے پہلے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی پھر اپنے امی ابو سے معافی مانگ کر وعدہ کیا کہ وہ آئندہ نہیں لڑیں گے پھر دونوں نے مل کر ایک گانا گایا:
لڑنا بڑھنا کام برا ہے
لڑنے کا انجام برا ہے

چالاک بلی

حسن علی صدیقی
ایک بلی گہری نیند میں سو رہی تھی قریب آکر مرغے نے ککڑوں کروں کا شور مچایا بلی نیند سے بیدار ہوئی اسے مرغے پر بہت غصہ آیا اس نے مرغے کی گردن دبوچ لی اور اسے کھانے لگی اچانک ایک شیر آگیا شیر بلی پر حملہ کرنے ہی والا تھا کہ چالاکی دکھائی اور قریب ہی ایک درخت پر چڑھ گئی شیر دیکھتا رہ گیا کیونکہ اسے درخت پر چڑھنا نہیں آتا اس طرح بلی اپنی ہوشیاری اور چالاکی سے اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئی۔

انجام

مدیحہ صدیقی

ببلو پھلوں کے
شیدائی
درخت پر چڑھ گئے کھانے آم
پتھر ماریں کیری
توڑیں
گرمی کا ہے پکا کام
شاخ پر لٹکے آم کو ترسے
زور سے گرگئے وہ ایک شام
ماتھا چومیں امی بولیں
چوری ہے اک گندہ کام
اِس دنْیا میں اسْ دنیا میں
چور تو ہوتا ہے بدنام
جو بھی کھائیں پوچھ کر کھائیں
چیکو,کینو یا ہو جام
ڈانٹے ڈپٹے ذور سے گرجے
ابو لائے پھر دس آم
پٹی باندھے آ,او کرتے
روتے دھوتے کھائے آم
دھوکہ, چوری,جھوٹ اور جھگڑا
انِ سب کا ہے بد انجام

حصہ