تعلیم، شعور اور آگہی کا دروازہ

92

ارم فاطمہ
ایک نئے اور روشن مستقبل کی جانب بڑھنے اور ایک عزم لیے زندگی کے ساتھ قدم بہ قدم بڑھنے کا بنیادی راستہ ہے۔جن معاشرے یا اقوام کے قدم اس راستے پر پڑ جاتے ہیں وہ اپنے حوصلوں اور پختہ ارادے سے اپنا جہاں حاصل کر لیتے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کا حق ہے مگر اس تک رسائی ہونا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ خصوصا لوئر مڈل کلاس طبقہ اس بند دروازے کو بڑی حسرت بھری نگاہوں سے تکتا ہے۔اس زمانے میں جب جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے انتھک محنت کرنی پڑتی ہے وہاں ایک غریب محنت کش اتنے مہنگے خواب کیسے خرید سکتا ہے؟
مگر وہ اپنی ان آنکھوں کو اس خواب کو دیکھنے سے کیسے روک سکتے ہیں جو زندگی کے ہر گزرتے لمحے میں ان کی آنکھوں میں آن بستے ہیں۔اس کی نگاہیں اکیڈمی کے دروازے پر تھیں۔اس کے لہجے میں ایک درد تھا۔ایک باپ کی حسرت بول رہی تھی! میری بیٹی ہر سال کلاس میں اول آتی ہے۔میری خواہش ہے وہ اچھے کالج میں تعلیم حاصل کرے مگر یہ زندگی کی سختیاں۔۔۔ شاید یہ خواب ادھورے ہی رہیں گے۔ کیونکہ ! تعلیم اب فریضہ نہیں تجارت ہے ” لاہور شہر کالجوں کا شہر ہے مگر اب اگر اسے اکیڈمیز کا شہر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔۔ہر محلے اور ہر گلی میں کھلی اکیڈمیاں نہ صرف تعلیم کو تجارت بناے میں اور اس کو فروغ دینے میں معاون ہیں بلکہ والدین پر ایک اضافی بوجھ ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اساتذہ نے تعلیم کو احسن طریقے سے نبھانے کا فریضہ سمجھنے کی بجائے اسے تجارت کا درجہ دے دیا ہے کالجز میں لیکچرز ٹھوس اور مکمل انداز میں نہیں دیے جاتے۔ وہی لیکچرز اکیڈمیز میں معاوضہ وصول کر کے پوری ایمانداری سے پڑھائے جاتے ہیں۔
ہمارے اپنے خاندان مین دو ایسی بچیوں کی مثالیں موجود ہیں۔ جن میں ایک طالبہ کے محض کالج کی تعلیم پر اکتفا کرنے پر اس کے مارکس اور گریڈ اکیڈمی میں پڑھنے والی طالبہ سے کم ہیں۔ اس کے والدین یہ بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔2016 دور جدید اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔آج کی نوجوان نسل کو اور ہماری آنے والی نسل کو اس سے ہم آہنگ کرنے اور ہر طبقہ کے افراد تک اس کی رسائی کو آسان بنانے میں حکومت کو اپنا بنیادی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں تعلیم کی مد میں مختص کیے گئے فنڈز میں ہر سال اضافہ کیا جاتا ہے وہاں ہمارے اپنے ملک میں اس اہم شعبہ کی طرف حکومت کی کوئی ذمہ داری پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔۔آخر کب حکومت تعلیم کے شعبے میں سنجیدگی سے لائحہ عمل ترتیب دے گی؟کب ایسے قوانین وضع کیے جائیں گے اور کالجز کو ان کا پابند کیا جائے گا کہ وہاں اساتذہ اپنے فرائض منصبی دیانتداری سے پورے کریں ؟
کب ان غریب والدین کے لئے کوئی راستہ تلاش کیا جائے گا کہ ان کے بچے بھی تعلیم حاصل کر کے ایک باوقار زندگی گذار سکیں ؟کیا کبھی یہ خواب پورے ہو سکیں گے ؟ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے ثمرات ہر طبقہ زندگی تک پہنچائے جائیں اس کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔ تعلیم سب کے لئے یکساں اوران کی دسترس میں ہو ورنہ طبقاتی خلیج بڑھتی جائے گی۔ معاشرے کو متوازن راستے پر چلانے کے لئے یہ بہت ضروری ہے اور اسی میں اس کی بقا ہے۔

حصہ