بکری جو مارے گی

92

نون۔الف
آپ سبھی نے یہ محاورہ یا شعر سن رکھا ہے جو کہ درحقیقت نہ تو محاورہ ہے نہ ہی مستعمل بحر میں مستند شعر۔ لیکن ہمارے ہاں بطور تشبیہ استعمال ضرور ہوتا ہے،
بکری جو مارے گی بکرے کے سینگ
تو بکرا بھی مارے گا بکری کے سینگ
ایسا ہی معاملہ کراچی کے سیاسی منظر نامے مینن گزشتہ دنوں دیکھنے میں آیا۔ جب کراچی میں ایک بکری نے بہ ہوش و حواس بکرے کے سینگ مارا ، جس کے جواب میں ظاہر ہے سیاسی بکرا اب اتنا بھی گیا گزرا نہیں کہ جواب میں کچھ نہ کرے، لہٰذا ” بکرے ” کے جذبات بھی مشتعل ہوئے اور اس نے بھی جوابی حملہ کیا۔
جس سیا سی “سینگ لڑانے ” کی بات ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ کراچی میں زمانہ طالبعلمی سے سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر اور سیاسی خانوادے سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے صدر جناب سعید غنی صاحب نے بالآخر اچانک لالو کھیت سے متصل ایف سی ایریا میں خاصی ریاضت اور تپسیا کے بعد ایک ” ٹنکی گراونڈ ” دریافت کیا اور ” بلاول بھٹو صاحب کے تاریخی خطاب کا اعلان فرما یا۔ اس اعلان کے بعد جلسہ بھی ہوا اور اس جلسے کی کامیابی کے دعوے بھی خوب کی? گئے۔ گویا یہ ” نودریافت شدہ المعروف ٹنکی گراؤنڈ نہ ہوا کراچی کا نشتر پارک یا ککری گراونڈ ہوگیا۔ لالو کھیت یا ایف سی ایریا میں رہنے والے اس ٹنکی گراونڈ کے جغرافئیے سے بخوبی واقف ہیں۔ اس کے ایک جانب بنگالیوں کی برس ہا برس سے آباد سب سے بڑی کچی آبادی ” موسی کالونی ” ہے اور دوسری جانب ایف سی ایریا کے فلیٹ اورمکین ! یہ بنگالی آبادی پیپلز پارٹی یا کوئی بھی حکومتی پارٹی کے جلسے بھرنے کے لیے با آسانی دستیاب ہوتی ہے۔
پیپلز پارٹی کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ اس جلسے میں حاضری کرکے اسے ہزاروں کا جلسہ آرام کے ساتھ دکھا یا جاسکتا ہے۔ اسی طرح سعید غنی صاحب کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ اس سینگ مارنے کے نتیجے میں ما بعد الجلسہ کیا اثراترونما ہوں گے ؟۔
اب آئیے اس جانب کہ پیپلز پارٹی کو اس باریکی کا کام کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ اس نے اس جگہ کا انتخاب کیا۔
پہلی بات جو بات پیش نظر تھی اسے اس طرح سمجھنے کی کوشش کریں کہ کراچی کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں اور کراچی میں گرم ہواؤں کے طفیل یہاں کا موسم جو خاصی حد تک ” ڈرائی ” چل رہا تھا اور پھر ایسے گرم مرطوب موسم میں سیاسی ڈرائی کلینگ کا عمل بھی روز آنہ کی بنیاد پر ہنگامی بنیادوں پر جاری تھا۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کوئی نہ کوئی “وزیر نما میل خورہ ” “با کمال واشنگ مشین ” اور “صاف شفاف واشنگ پوڈر ” سے دھل کر نیا نویلا چمکدار ” لٹھا ” بن کر نہیں نکل رہا تھا۔ اس” ون سا ئڈڈ ” ڈرائی کلینگ سے کوئی اور خائف ہو یا نہ ہو پاکستان پیپلز پارٹی بہر حال ضرور خائف دکھائی دی۔
خوف کی سب سے بڑی وجہ تو ظاہر ہے ایک طرف تو سندھ میں متحدہ مجلس عمل ، تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کا بڑھتا ہوا اثر تھا تو دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی کراچی کی سیاست میں کھینچا تانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کمزور ترین صورتحال تھی۔
اور آئندہ آنے والے انتخابات میں متحدہ قومی موو منٹ کے کراچی میں شید ترین باہمی اختلافات سے ان کا ووٹ بنک شدید متا ثر ہونے کی تلوار صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اور کراچی سے متحدہ قومی موومنٹ کی انتخابی شکست اور سیا سی بالاستی کے خاتمے سے پیپلز پارٹی کے مستقبل میں ممکنہ مخلوط اتحادی عمل کو شد ید ترین دھچکا پہنچ سکتا تھا۔ اور گزشتہ تیس سالوں سے یہی دونوں پارٹیوں کا اتحاد سندھ میں اپنی حکومت بنانے اور چلانے کے لیے کراچی کے عوام کا مینڈیٹ استعمال کرتا تھا۔ لہذا فطری طور پر کراچی سے پیپلز پڑتی کی خواہش یہی ہے کہ مجلس عمل کے مقابلے پر متحدہ کو نشستیں ملنی چاہیئیں۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو سندھ اور کراچی میں پیپلز پارٹی کے لیے کسی حد تک مشکل ہوسکتی ہے۔
چانچہ نہایت باریک بینی سے متحدہ قومی موومنٹ کو ان کے گڑھ میں گھس کر چیلنج کیا گیا۔ تخ ایک جذباتی فضاء￿ بن سکے ، جس کے نتیجے میں باہمی خلفشار کا شکار ایم کیو ایم کو مجتمع ہونے کا معقول جواز فراہم کیا جاسکے۔ یہی سوچ کے “بکری نے بکرے ” کو سینگ گھونپ دیا !
جس کا فطری نتیجہ یہ نکلا کہ ” بکرا ” فورا مشتعل ہوا اور اس نے اسی ٹنکی گراؤنڈ میں ان سے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کردیا۔ مگر یہ اعلان صرف بہادر آباد گروپ کی جانب سے تھا۔ اس کے مقابلے پر پی آء بی گروپ ( فاروق ستار ) نے اپنا الگ پروگرام طے کر رکھا تھا۔ مگر فورا ہی ایک اسٹیج سے خطا ب کرنے کا فیصلہ سامنے آگیا اور ” جاگ مہاجر جاگ ” کا وہی نعرہ مارکیٹ میں پھیلایا گیا جو متحدہ ایسے جانکنی کے لمحات میں ہمیشہ استعمال کرتی چلی آئی ہے۔
اب تک سب کچھ پیپلز پارٹی حساب سے ٹھیک چل رہا تھا۔ فاروق ستار اور عامر خان کی ایک ساتھ پریس کانفرنس بھی ہو گئی اور ایک ساتھ مل کر مہاجروں کے لیے جدوجہد کرنے کے عزم و ارادے با ندھے گئے۔ جلسہ بھی جیسے تیسے میڈیا رپورٹنگ کی حد تک کا میاب ہوگیا۔ ( قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے۔ خالی کرسیاں کارکنان کی راہ تکتے تکتے ادھ موئی ہوئی جاتیں تھیں۔ شام سات بجے تک تو بہادر اور پی آ ئی بی گروپ کی دوڑیں لگی ہوئیں تھیں۔ بالشت بھر کا ٹنکی گراؤنڈ “صحرائے گوبی ” جتنا بڑا لگ رہا تھا۔ ایک وقت تھا کہ یہی متحدہ تھی کہ جب نشتر پارک یا ایم اے جناح روڈ پر جلسے کی کال دی جاتی تو پورا کراچی عملا جام کردیا جاتا تھا۔ ہر طرف صرف ان ہی کی ریلی ، ان ہی کا جلوس دکھائی دیتا اور اب یہ عالم تھا کہ شہر بھر میں عوام کو لانے والی بسیں خالی دوڑتی پھر رہی تھیں اور کوئی بھی ان میں بیٹھنے کو تیار نہ تھا۔ کارکنان تھے کہ تاریخی خطاب سننے کے لیے ” جاگ کر ہی نہیں دیتے تھے ) مگر اللے تللے کرنے کے بعد رات آٹھ بجے جلسی گاہ کسی حد تک ” چہرہ کرانے ” کے قا بل ہوئی اور جلسی شروع کی جسکی۔ اسطرح جہاں متحدہ کی ڈوبتی نیا کو کچھ سہارا ملا وہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی یہ امید بندھی کہ ان کا اسطرح سینگ مارنا فائدہ مند ہوا۔
مگر لیاقت آبادیوں نے بھی “رائٹ کا انڈیکیٹر ” دے کر ” لیفٹ ٹرن ” مارنے میں کمال پھرتی دکھائی۔ کہ میڈیا حیران رہ گیا۔
ہوا یوں کہ راتوں رات لیاقت آباد سپر مارکیٹ۔ نیرنگ سنیما۔ سندھی ہوٹل اور دیگر مقامات پر مہاجر قیادت کے خلاف بڑے بڑے بینرز آویزاں ہوگئے۔ جن پر مہاجر قیادت سے مکمل طور پربیزاری اور لا تعلقی نعرے درج تھے۔ اور رات ہی رات لالو کھیت کے درمیان خواتین ،مرد اور نوجونوں کی ٹولیاں نکل آئیں جنھوں نے مہاجر قیادت کو خوب کھری کھری سنائیں اور میڈیا چینلز نے یہ نظارے براہ راست عوام تک پہنچائے۔
لیاقت آباد کے مقامی لوگ کہہ رہی تھے کہ “ہمیں جلسے نہیں پانی دو ، نعرے نہیں بجلی دو۔ ہر انتخاب کے موقع پر ” جاگ مہاجر جاگ ” کا منجن اب نہیں بکنے وا لا۔ ہم تیس سالوں سے بیوقوف بنانے والوں اب ہم تمہارے جلسوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں” وغیرہ وغیرہ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک مہاجر نوجوان کی وڈیو بھی نظر سے گزری ، جس میں اس نوجوان نے مہاجر قیادت پر الزام لگایا کہ” مہاجروں کو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر پنجابی ، پختون ، بلوچ اور سندھی سب سے لڑوایا گیا۔ اور پھر سب کو نائن زیرو بلوا کر بریف کیس لیتے رہے۔ پہلے نعرہ لگتا تھا کہ” چریا ہے مہاجر چر یا ہے”۔۔ مگر اب مہاجرچریا نہیں ہے۔ اس کو عقل آچکی ہے”
اسی طرح سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر ایک اور مہاجر نوجوان جو کہ عزیز آباد کا رہائشی ہے اس کا ایک خط بھی وائرل ہوا ہے۔ جس میں عبدالسبحان نامی نوجوان نے نہایت دکھ اور کرب کے ساتھ مہاجروں کا مسئلہ پیش کیا ہے۔
عزیز آباد کے نوجوان کا کھلا خط۔بنام مہاجر قوم
تیس پینتیس سالوں کی کہانی ھے۔۔جس میں ہم مہاجر ہونے کی پاداش میں اور مہاجر ازم کے نام پر گھروں سے بے گھر ہوئے۔مفروریاں کاٹیں۔۔ عدالتی پیشیاں بھگت بھگت کر کنگال ہوگئے۔
ہمارے اپنے کئی ساتھی ، دوست رشتہ دار پارٹی کے ہی ہاتھوں جان سے مار دئے گئے۔
ہمارے گھروں میں ہماری بہنوں کے رشتے آنے بند ہوگئے۔جانتے ہو کیوں؟ صرف اس لیے کہ ہمارا تعلق دہشت گردوں سے ملا دیا گیا تھا۔۔ حالانکہ ہم سچے محب وطن اور پیدائشی پاکستانی ہیں۔
مہاجر قیادت نے ہمارے نام تھانوں میں لکھوا کر پہلے ہمیں گرفتار کروایا۔۔۔ ہمارے خلاف ہی مقدمے بنوائے اور پھر ہم میں سے کچھ کو رہاء دلوا کر ناجائز کام کروائے۔۔ان ناجائز کاموں کے تفصیلات جاننے کی ضرورت نہیں۔آپ سب جانتے ہیں۔
ہم کو کوٹے کے نام پر بیوقوف بنا یا جاتا رہا۔۔تیس سال سے ہم حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود کوٹہ سسٹم ختم نہیں کراسکے۔ پورے ملک میں ہماری عزت ختم کروادی گئی۔۔
ہم گٹکہ مارکہ اور روڈ چھاپ بن گئے۔ حالانکہ پہلے ہماری عزت تھی۔قدر تھی۔۔۔ مگر ہماری پارٹی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔۔ ہم صولت مرزا بھاء اور ولید بھاء۔عظیم طارق بھاء بانی تحریک۔ عمران فاروق بھاء سب کو اپنی پارٹی کے ہاتھوں قتل کروا کر ڈرامے رچاتے رہے۔۔ کارکن کو سب معلوم ہوتا تھا۔۔ مگر قیادت کہتی تھی کہ پبلک میں بولنا ھے کہ فوج نے مارا ہے۔۔۔ہم جانتے بوجھتے جھوٹ بولتے رہے۔۔۔
مہاجرو۔۔۔خدا کے لیے۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔ اب تو جاگ جاؤ۔۔۔ اور محب وطن پاکستانی جماعتوں کا ساتھ دو۔۔۔پاکستان کا ساتھ دو۔۔ اپنی ماؤں بہنوں کی عزتوں اور عصمتوں کی خاطر اور اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر۔۔۔ تعصب سے پاک جماعتوں کا ساتھ دو۔۔
فقط آپ کا مہاجر بھاء۔۔سچا پاکستانی۔۔عبدالسبحان۔ عزیز آباد۔ کراچی بلاک سات ”
رات کے گیارہ بڑھ بجے جب میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں تازہ ترین اطلا ع یہ ملی ہے کہ گلشن اقبال میں یونیورسٹی رود بیت المکرم مسجد کے ساتھ حکیم سعید شہید گراؤنڈ میں دو سیاسی جماعتوں نے بھی آپس میں اپنے سینگ لڑائے ہیں ، جس کے نتیجے میں دو گاڑیاں نذر آتش ہوئیں۔ متعدد کارکنان زخمی ہوئے اور بیشمار عام افراد پریشن ہوئے۔ کاروبار بند ہوا۔
معلوم ہوا ہے کہ اس مقام پر پیپلز پارٹی نے اپنے جلسے کے لیے حکومتی اجازت نامہ حاصل کیا ہوا تھا۔ مگر اس کے جواب میں تحریک انصاف نے عمران خان کے جلسے کے لیے بھی اسی مقام کا انتخاب کیا اور اجازت لیے بغیر جلسے کے لیے کیمپ لگا کر تیاری شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے کارکنان میں نعرے بازی بڑھتے بڑھتے نوبت سر پھٹول تک آگئی۔ اور یوں پر امن کراچی جو اللہ الل? کرکے برسوں بعد سکون میں آیا تھا۔ سیاسی نوسر بازوں اور ٹنکی ، نو ٹنکی اور ٹینک کی مثلث بن کر پرانا منظر دہرانے لگا۔
ان کو کون سمجھائے کہ کراچی میں سیاسی قد بڑھانے کے لیے نوسر بازی ، نوٹنکی اور بدمعاشی کی ضرورت نہیں بلکہ حقیقی مسائل پر مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔

حصہ