ایک اور بائیکاٹ مہم

30

’’مری کے بارے میں چند اور دل کو چھو لینے والے حقائق… اگر آپ بھی اس تجربے سے گزرے ہیں اور اتفاق کرتے ہیں تو شیئر لازمی کریں‘‘۔
’’یہاں ہر ہوٹل پر کھانا بے حد مہنگا ہے۔ مال روڈ پر 15 روپے کا sooper بسکٹ 40 روپے کا ملتا ہے۔‘‘
’’اس جگہ کا نام کسی نے بالکل صحیح رکھا تھا ’’مری‘‘، کیونکہ یہاں پر انہوں نے سب چیزیں مری ہوئی دیکھیں۔ عزت، غیرت، شرافت، خودداری، اخلاق، کردار، گفتار، تہذیب، ثقافت، انسانیت، احترام، بھائی چارہ، لحاظ، مروت، پاکیزگی، شرم و حیا، طہارت، صفائی ستھرائی… جہاں یہ چیزیں مری ہوتی ہیں اُس جگہ کا نام ہوتا ہے: مری‘‘۔
’’یہاں منرل واٹر کی 50 روپے کی بوتل 130 روپے کی ملتی ہے۔ آلو کے چپس کی ایک پلیٹ 200 روپے کی ہے۔ بدبودار اور گندے واش رومز میں جانے کے لیے 100 روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔‘‘
’’میں سڑک پر چل رہا تھا کہ میرے ساتھ ایک شخص چلنے لگا کہ کمرے ہم سے لو۔ میں نے کئی بار اسے سمجھایا کہ نہیں چاہیے، مگر وہ یہی کہتا رہا، اور آخر مجھ سے جان بوجھ کر ٹکرا گیا اور بولا ’’دیکھ کر چلو‘‘۔ اس کے بعد دنگا فساد شروع ہوگیا۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ خواتین تک کا احترام نہیں کرتے۔‘‘
’’مری بائیکاٹ کا یہ عالم ہے کہ اِس وقت ملکہ کہسار میں اُلّو بول رہے ہیں۔ ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ ٹیکسی مالکان گاڑیوں کی سیٹیں لمبی کرکے سو رہے ہیں۔ مری کے پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے لوگوں کو چاہیے کہ اپنا گند کارپٹ کے نیچے چھپانے کے بجائے کھل کر سامنے آئیں۔ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کرکے قوم سے معافی مانگیں۔ اس کے بعد انتظامیہ سے مل کر ایک کاروباری ضابطۂ اخلاق تیار کرکے اس پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ مری اور سوات ہمارے لیے یکساں عزیز ہیں۔ دونوں ہی پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم مری کی ویرانی پر شادیانے بجائیں! بخدا ایسا ہرگز نہیں چاہتے۔ جس دن مری کے مقامی باشندے مل کر حریص، بدتمیز اور بدتہذیب کاروباری افراد کو لگام ڈالیں گے ہم خود بھی مری جائیں گے اور لوگوں کو بھی جانے کی ترغیب دیں گے۔‘‘
’’بازار میں فروخت ہونے والی ہر چیز سب اسٹینڈرڈ اور اصل سے 200 گنا مہنگی ہے۔ سیاح دور دور سے یہاں سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ یہی سیاح ان مری والوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں، اور انہیں ان سیاحوں کی کوئی قدر نہیں۔ اگر ایسی جگہ پر آکر بھی فیملی سمیت پریشان ہونا ہے تو آنے سے بہتر ہے ’’مری بائیکاٹ‘‘ کیا جائے۔‘‘
یہ تھی سوشل میڈیا پر بھرپور طریقے سے جاری ’’مری بائیکاٹ مہم‘‘ کی ایک تعارفی جھلک۔ ویسے تو بہت مواد تھا، مگر یہاں مقصد آپ کو اندازہ کروانا تھا کہ کس طرح سوشل میڈیا ایک آزاد پروپیگنڈے یعنی کسی باقاعدہ طے شدہ پلان کے بغیر ایک طاقتور اور مؤثر آلے کے طور پر ہفتہ بھر ہلچل مچاتا رہا۔ مری پاکستان کا ایک مشہور خوبصورت تفریحی مقام ہے، یہاں ملک بھر سے لوگ آتے ہیں، اور یہ ایک مصروف تفریحی مقام بن چکا ہے۔ مقامی افراد کے، آنے والے مہمان شہریوں کے ساتھ رویّے اور مخصوص شکایات پر جب کوئی کان دھرنے والا نہیں تھا تو سماجی میڈیا کو استعمال کیا گیا، اور آناً فاناً ملک بھر کے سماجی میڈیا کے پلیٹ فارم پر مختلف گروپس، پیجز پر یہ مہم چل پڑی۔ بی بی سی نے بھی اس مہم پر اسٹوری شائع کی جس کے مطابق ’’پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات کے دوران کم از کم دس ہزار سیاح روزانہ مری آتے رہے ہیں۔ سالانہ یہ تعداد ایک کروڑ تک بتائی جاتی ہے۔ مری کی تقریباً پوری معیشت سیاحت کے زور پر چلتی ہے، لیکن اسلام آباد میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ مری کے لوگ مہمان نواز نہیں رہے اور ان کا رویہ عموماً خراب ہوتا ہے۔ ایک مقامی شخص شاہد عباسی نے کہا کہ چند لوگوں کے رویّے کی سزا پورے مری کو دینا غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ مری میں چند افراد کا رویہ ضرور خراب رہا ہے لیکن ان پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہیں اب ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا۔‘‘کمشنر راولپنڈی کے نام وزارتِ انسانی حقوق نے رپورٹ طلب کرلی جس میں واضح ذکر کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو، ویڈیوز و دیگر کا نوٹس لیا گیا۔ ڈاکٹر فیاض عالم لکھتے ہیں کہ ’’مری یا کسی بھی سیاحتی مقام کے بائیکاٹ کی بات تو نامناسب لگتی ہے۔ حکومت اگر مری کی بڑی سڑکوں پر اچھے معیار کے کیمرے نصب کروا دے اور ضرورت سے زیادہ نفع لینے والوں اور آنے والے مہمانوں سے غیر مناسب رویہ اختیار کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی ایک فرد یا فیملی کے ساتھ بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکے۔ پاکستان سے باہر ہر ملک میں حکومتوں نے ایسے ہی انتظامات کے ذریعے سیاحتی مقامات کو ہر خاص و عام کے لیے محفوظ بنادیا ہے۔‘‘اسی طرح گزشتہ تین چار برسوں سے سماجی میڈیا پر بھرپور انداز سے الیکٹرانک میڈیا پر جاری رمضان ٹرانسمیشن کے حوالے سے ردعمل بھی اہمیت کا حامل ہے۔ نصف شعبان کے بعد سے ہی رمضان نشریات پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ’’ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم وہ تمام چیزیں کرنا چاہتے ہیں جو کبھی ہماری تہذیب کا حصہ نہیں رہیں، اور یہی سب ہماری اخلاقی اور معاشرتی گراوٹ کا سبب ہیں۔ ان سب میں قابلِ ذکر بات رمضان المبارک میں چلنے والے وہ ٹی وی شوز ہیں جو رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر نہ جانے کیا کیا دکھاتے ہیں۔‘‘ اسی دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عوام کے دل کی آواز کو ایک فیصلے کی صورت میں پیش کیا، جو خود سماجی میڈیا پر بھرپور انداز سے وائرل رہا۔ جسٹس صاحب نے سماعت اگلے بدھ تک ملتوی کی ہے لیکن عوام پُرامید ہیں کہ ’’ڈوز‘‘ مناسب دی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ’’ایمان کے ڈاکوؤں کے خلاف ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ‘‘۔ اسی طرح ’’رمضان میں گیم شوز پر پابندی اور رمضان نشریات میں PHD اسکالر کے سوا کوئی بات نہیں کرے گا۔ شوکت صاحب زندہ باد‘‘۔ ’’رمضان المبارک کے بابرکت ماہ میں اگر پروگرام کرنے ہیں تو علمائے کرام کو مدعو کریں اور سارا سال رقص کرنے والی خواتین کو شامل نہ کریں‘‘۔ جیو چینل نے امسال اپنی رمضان ٹرانسمیشن پر ایک گلوکارہ مومنہ مستحسن پر ’’نہ ترا خدا کوئی اور ہے‘‘ والا معروف متنازع کلام لانچ کردیا۔ اس کی لانچنگ کے بعد عوام نے سوشل میڈیا پر جو غصہ نکالا اُس کی جھلکیاں بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’آپ کو شرم آنی چاہیے۔ سارا سال آپ لوگ سر پر دوپٹہ نہیں لیتیں اور ماہِ رمضان میں مومن بن جاتی ہیں۔ واہ۔ رمضان المبارک قریب ہے، جب یہ نام نہاد سیلیبریٹیز مذہبی بن جاتی ہیں۔ ایک صارف نے مشورہ دیا کہ برائے مہربانی یہ سب نہ کرو اور موسیقی کی دنیا میں ہی رہو۔ ایک محترمہ نے غصے میں لکھا کہ: ہمیں مت دکھاؤ کتنی مذہبی ہو، سارا سال دوپٹے کا نام و نشان نہیں ہوتا اور رمضان میں آجاتی ہیں اسلام سکھانے۔‘‘
ویسے پچھلے سال یہ گلوکارہ ایک اور چینل پر میزبانی کررہی تھیں۔ یہی حال دیگر چینلز کا ہے۔ نیوز ون نے راحت فتح علی خان سے رمضان کا تھیم گانا لانچ کیا، جسے سماجی میڈیا پر خاصی مقبولیت ملی، جبکہ رمضان نشریات کے لیے ایک اور متنازع خاتون اینکر مایا خان کو منتخب کیا ہے۔ میزبانوں کی تفصیل ہمارا موضوع نہیں، لیکن ہمارے دوست احسان کوہاٹی کا سماجی میڈیا پر شیئر کردہ ایک تبصرہ بعنوان ’’’رمضان والی سرکس‘‘ ضرور پڑھیے:
’’پورا سال ہی خرافات میں گزرتا ہے، پھر بھی اللہ رب العالمین کی شفقت دیکھیے کہ سدھر جانے کا موقع دینے کے لیے رمضان کا تحفہ دے کر مغفرت کی انتہا کردیتے ہیں۔ عرش والا رحمتوں کی انتہا کرتا ہے اور ہم فرش والے مستیوں کی اخیر کردیتے ہیں۔ نیوز چینلز کی برآمدگی کے بعد عامر لیاقت حسین نے ان مستیوں کو خرمستیوں میں تبدیل کرکے خبر فروشوں کو دولت کمانے کی ایک نئی راہ دکھائی تھی، بس پھر کیا تھا، ہر چینل نے مشہور چہروں کی بکنگ شروع کردی۔ کیا ناچنے والیاں اور کیا نوٹنکی باز… کیا میراثی اور کیا بھانڈ… چمکیلے کرتے پہنے بنے ٹھنے میزبان بنے تبرک کے طور پر نعت خوانوں اور شہرت کے دلداہ علماء کو لیے فردوس کی لان اور موٹر سائیکلیں بانٹنے، ٹھمکے لگانے لگے۔ یقینا ابلیس بھی جھوم جھوم گیا ہوگا۔ جیو نیوز کے ایک باخبر دوست کے مطابق عامر لیاقت کی اس ’لیاقت‘ سے مہینے بھر میں دو ڈھائی ارب کا دھندا ہوجاتا تھا، دیگر چینلز کے مالکان نے یہ دیکھا تو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے بجائے تہبند باندھ کر ڈبکی لگا دی۔ رمضان کے مہینے کا تقدس اٹھا کر طاق پر رکھ دیا، جو جو مشہور چہرہ نظر آیا اُس کے سر پر دوپٹہ یا ٹوپی ٹکا کر دھندے پر لگا دیا۔ افسوس کہ دینی جماعتیں اور سول سوسائٹی اس سرکس کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہ کرسکیں۔ یہ اعزاز ملا تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے اُس جج کو، جس کی رگوں میں ابوبکر ؓ کا لہو دوڑ رہا ہے۔ اس نے رمضان کے اس سرکس پر پابندی کا حکم دے کر ان بھانڈوں، میراثیوں کو آہ و بکا پر مجبور کردیا ہے۔ یہ ٹولہ یقینا چپکا نہ بیٹھے گا۔ افطار نہ سہی، سحر میں سرکس لگا لے گا، کوئی اور چھب نکال لے گا۔ ایسا ہوا تو آپ کیا کریں گے؟ فیس بک پر غصہ نکالیں گے، دانت نکالیں گے یا سرکس سے ان جوکروں کو باہر نکالیں گے۔ اس بار کوئی عملی قدم ہونا چاہیے لیکن قانون کے دائرے میں۔‘‘
اسی طرح زبیر منصوری کی وال سے اُن کی درد پر مبنی تحریر کا کچھ انتخاب پیش ہے:’’خوش تو میں بھی بہت ہوا جسٹس شوکت صدیقی صاحب! کہ چلو کسی نے تو آئینِ پاکستان کی پاسداری کی، کسی نے تو میڈیا کے مداریوں کو لگام ڈالی، کوئی تو نظریہ پاکستان کا وفادار نکلا۔ مگر دل نے ساتھ یہ بھی سوچا کہ کیا اب یہ سب اتنا مفید ہے کہ جب یہ بے حیا تہذیب کا بیٹا ’’میڈیا‘‘ اٹھارہ بیس برس کا کڑیل جوان ہوچکا؟ ان اقدامات سے کوئی دیرپا اثر اب ہوگا جب خبر، تفریح اور تعلیم کے نام پر پچھلے اٹھارہ برسوں میں لادینیت نئی نسل کی گھٹی میں ڈالی جا چکی؟ اب جب کہ میری بچیاں جینز کو اپنا کلچر سمجھ کر قبول کرچکیں، جب میری نئی نسل کی نظر میں اخلاقیات ایک بے کار چیز بن چکی، جب وہ انسانی رشتوں اور جذبوں سے دور ہوچکے، جب ’’ہم ٹی وی‘‘ اور دیگر خدا بیزار ڈراما نگاروں کی فوج نے ایک ایجنڈے کے تحت میرا سارا اثاثہ لوٹ لیا؟ کیا کوئی اگلی عدالت انہیں معطل نہیں کردے گی؟ یا خود عوام میں اس کے حامی کھڑے نہ ہوجائیں گے؟ جسٹس صاحب! آپ کا شکریہ، مگر اب دیر ہوچکی۔ پُلوں کے نیچے سے پانی بہہ چکا۔‘‘
اب چلتے ہیں کچھ ملکی سیاسی منظرنامے اور سماجی میڈیا پر، جس پر بدستور پی پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان اپنے جلسوں اور متعلقہ سرگرمیوں پر ٹوئٹر ٹرینڈ بنانے کی دوڑ جاری رہی۔ پی پی پی نے لیہ جلسہ کے موقع پر ’’لیہ میں تیر چلے گا‘‘ کا ٹرینڈ بنایا، تو سندھ بجٹ کے موقع پر ’’بدحالی کے پانچ سال‘‘ کے ٹرینڈ کا بھی سامنا کیا۔ خورشید شاہ کے، سندھ میں ترقیاتی کاموں کے بیان کے بعد بھی خاصا ردعمل سامنے آیا اور دل کھول کر سندھ کی تباہ حال صورت حال سامنے لائی گئی۔ ویسے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان حکیم سعید گراؤنڈ میں (ایک ہی دن، ایک ہی مقام پر) جلسہ کرنے کے معاملے پر جو پُرتشدد کارروائی ہوئی وہ بھی خاصی تنقید کا باعث بنی، کیونکہ دونوں جماعتوں کے قائدین موقع پر موجود ہی نہیں تھے جو صورت حال کو سنبھالتے۔ پی ٹی آئی کو مزید تنقید کا سامنا اس وقت بھی کرنا پڑا جب پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کے منتخب ارکان اسمبلی کی تحریک انصاف میں شمولیت ہوئی۔ پی ٹی آئی کے کارکنان تو اس کو بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے تاہم عوام نے ماضی کرید کر ’لوٹوں‘کی سابقہ پارٹی تبدیلی کی تفصیلات دل کھول کر شیئر کیں۔
nn

حصہ