آج کے منافق

98

سیدہ امبرین عالم
’’جو لوگ اہلِ کتاب میں سے، اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ یومِ آخرت پر، اور نہ اُن چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا اور اس کے رسول نے، اور نہ دینِ حق کو قبول کرتے ہیں، ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔‘‘ (سورۃ توبہ آیت 29)
مندرجہ بالا آیت کو عام طور پر عیسائی اور یہودی لوگوں پر چسپاں کیا جاتا ہے، مگر دراصل یہ ہر اُس منافق کی تعریف ہے جو اللہ کی کتاب کا ماننے والا کہلائے اور ایمان و عمل میں صفر ہو۔ لہٰذا مسلمانوں میں موجود منافقین کو بھی قرآن کی نافرمانی کی صورت میں اس آیت کے ذیل میں ہی سمجھا جانا چاہیے… اس آیت میں بڑی عمدگی سے ’’منافق‘‘ کی خصوصیات بیان کی گئیں، ان خصوصیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم قرآن و حدیث سے ’’منافق‘‘ کی مزید خصوصیات بھی معلوم کرتے ہیں، جو درج ذیل ہیں:
٭ منافق دین میں طعنے کرنے کا مرتکب ہوتا ہے، یعنی اللہ کے احکامات میں تنقید کی رُو سے خرابیاں نکالتا ہے اور دین کے احکامات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
٭ منافق کو مال، دولت، خاندان وغیرہ اللہ سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں، لہٰذا دین کے کسی بھی معاملے میں قربانی دینے سے ڈرتا ہے اور پیچھے ہٹتا ہے۔
٭اپنا مال و دولت دین کے کاموں کے بجائے لوگوں کو دین سے دور لے جانے میں خرچ کرتا ہے۔
٭ مالِ غنیمت یا دیگر مالِ مفت کے حصول کے لیے ہمیشہ کبیدہ خاطر رہتا ہے، یعنی لالچ و ہوس۔
٭ وعدہ ہو، قسم ہو یا باقاعدہ معاہدہ، منافق کبھی بھی خلاف ورزی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔
٭ جھوٹ بولتا ہے، بولنے پر شرمندہ بھی نہیں ہوتا، جھوٹ پر قائم بھی نہیں رہتا۔
٭ مالی بے ضابطگی یا امانت میں خیانت یا کرپشن منافق کے کردار کا لازمی جُز ہے۔
٭ بے حد بزدل ہوتا ہے اور اپنے بچائو کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتا ہے، لہٰذا کسی نظریے کا مسلسل ساتھ نہیں دے سکتا، جدھر فائدہ ہو اُسی نظریے یا جماعت کا ساتھی ہوگا، حق کا نہیں۔
٭ منافق چونکہ اللہ اور اس کے رسول سے مخلص نہیں ہوتے، لہٰذا شرک کرنے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھتے اور یہود و نصاریٰ کی طرح انبیاء یا بزرگوں کو غیر انسانی اختیارات کا مالک سمجھتے ہیں، اور بعض اوقات خدائی اوصاف سے بھی منسوب کردیتے ہیں۔
٭ سورۃ توبہ آیت 34 میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ علما و مشائخ بھی منافق ہوسکتے ہیں۔ ایسے علما ناجائز مال کھاتے ہیں، راہِ خدا سے گمراہ کرتے ہیں اور سونا چاندی جمع کرتے ہیں، ان کے لیے عذاب کی خوش خبری ہے۔
٭ برے کام کا حکم دیتے ہیں اور اچھائی سے منع کرتے ہیں، انتہائی کنجوس ہوتے ہیں۔
٭ اہلِ اقتدار کی چاپلوسی، مومنین کا مذاق اڑانا، اُس پر یہ ڈر کہ اللہ ان کے دلوں کی باتوں سے مومنین کو آگاہ نہ کردے، پھر بھی کفر کے کلمات کہتے ہیں اور کہہ کر مکر جاتے ہیں۔
٭مومنین کے خلاف سازشوں میں ملوث رہتے ہیں مگر ڈھکے چھپے، یعنی مانتے نہیں کہ سازش کی۔
٭ کتنے ہی ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں، اللہ ان کے دلوں پر ایسے پردے ڈال دیتے ہیں کہ ان کو اللہ کی کتاب کے دلائل، احکامات اور حکمتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔
منافقین کے یہ تمام خصائل سورۃ انفال، سورۃ توبہ، سورۃ منافقون اور احادیث سے اخذ کیے گئے ہیں۔ نزولِ قرآن سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ سے دو غلطیاں سرزد ہوئیں:
-1 ہم جب بھی قرآن میں ’’اہلِ کتاب‘‘ کا لفظ پڑھتے ہیں تو خطاب کو فوراً یہود و نصاریٰ کی جانب مرکوز کردیتے ہیں، حالانکہ ہم بھی حاملِ قرآن ہیں، لہٰذا ہم بھی مخاطب ہیں۔ اور یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ جو جو خرابیاں یہود و نصاریٰ میں نزولِ کتاب کو طویل عرصہ گزر جانے سے پیدا ہوگئی ہیں، امتِ مسلمہ بھی انہی عیوب کا آج شکار ہوگئی ہے۔ وہ خوش قسمت تھے کہ ان کے پاس اللہ نے آخری رسول بھیج دیا، گو کہ اکثریت گمراہ رہی، مگر ہمارے پاس کوئی رسول نہیں آئے گا، قرآن ہی ہمارا واحد آسرا ہے، لہٰذا اس میں غور و فکر ہر مدعی ٔ ایمان کا عین فریضہ ہے۔
-2 دوسری غلطی جو ہم سے ہوئی وہ بہم اہم سنتِ نبویؐ سے چشم پوشی ہے، اور وہ سنت ہے: جماعت بندی… میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جماعتیں بنا دی تھیں: کافر، منافق، مومن۔ مدینہ میں موجود ہر شخص کے بارے میں ہر ایک کو علم ہوتا تھا کہ کون کافر ہں، کون منافق اور کون مومن، اور ہر مومن ڈرتا تھا کہ کہیں اس سے کوئی ایسا کام نہ ہوجائے کہ اسے منافق سمجھا جانے لگے۔ منافق ڈرتا تھا کہ کافر نہ سمجھا جانے لگے۔ کافر کو بھی مومن بننے کا اعلان کرنا پڑتا تھا۔ بغیر اعلان کوئی نہ مومن تھا، نہ مافق، نہ کافر۔ یہ اعلانیہ درجہ بندی تھی اور کوئی اس سے عاری نہ تھا۔ ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے ’’منافق‘‘ کا درجہ ختم کردیا۔ زیادہ سے زیادہ دوغلے لوگوں کو لڑائی جھگڑے میں منافق کہہ دیا جاتا ہے، لیکن بحیثیت ایک جماعت اس خصلت کے لوگوں کی پہچان نہیں رہی، اور ہم ان لوگوں کی شرانگیزی سے محفوظ رہنے کی تدبیر سے قاصر رہے، لہٰذا امتِ مسلمہ کو اس جماعت نے اب تک خاصا نقصان پہنچا دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدریس و تربیت اس قدر ناقص تھی (نعوذ باللہ) کہ اُس وقت ان کی براہِ راست تربیت کے دور میں تو منافق پوری ایک جماعت کی صورت میں موجود رہے، اور اب جب کہ 1500 سال بیت گئے، بے راہ روی اور شیاطنیت اپنے عروج پر ہے، تو کوئی منافق ہے ہی نہیں، ہم سب کے سب مومن بن گئے؟ یا صورتِ حال یہ ہے کہ منافق اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ مومن منافق ملا کر سب مسلمان گھروں میں پیدا ہونے والوں کو امتِ مسلمہ کہہ دیا جاتا ہے! اتنے ’’منافق‘‘ ہیں کہ اگر ان کو علیحدہ جماعت بنادیا جائے تو امتِ مسلمہ شاید آٹھ دس ہزار لوگوں پر مشتمل رہ جائے، کیونکہ شاید اب اتنے ہی مومن ہیں امتِ مسلمہ میں… اگر میں غلط کہہ رہی ہوں تو آپ خود جائزہ لیں، منافقین کی درج بالا نشانیوں میں شاید ہم میں سے کوئی ہی ہوگا جو پورا نہیں اترتا ہوگا۔ دوچار نشانیاں تو ہم میں سے ہر ایک میں ہیں، پھر بھی ہم خود کو منافق نہیں سمجھتے بلکہ امتِ مسلمہ کی بدحالی پر روتے، کڑھتے ہیں۔ کبھی کوشش نہیں کرتے کہ ہم سدھر جائیں، قربانی دینے والے بنیں، بزدل نہیں۔
میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم منافقین کو بھی درجوں میں تقسیم کرتے تھے:
(1) وہ منافقین جو محض کاہلی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے دین کے احکامات میں سستی برتتے تھے، کوئی پوشیدہ مفادات یا ایجنڈا نہیں رکھتے تھے۔
(2) وہ منافقین جو بظاہر مسلمان تھے لیکن در پردہ دشمنانِ اسلام سے ملے ہوئے تھے۔ خفیہ کارروائیاں، جاسوسی اور طعن و تشنیع جن کا وتیرہ تھا، اور دینِ اسلام کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔
اگر ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس درجہ بندی پر راضی ہیں تو آج بھی یہی حال ہے، امت کا بڑا حصہ پہلے درجے کے منافقین پر مشتمل ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے بے انتہا محبت رکھتے ہیں مگر دنیاوی سرگرمیوں و تفریحات میں اس قدر مشغول ہیں کہ اللہ کی عبادت اور دین کی خدمت کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ ان کی بے عملی نے انہیں بڑی حد تک شیطانی قوتوں کا آسان ہدف بنادیا ہے اور یہ انجانے میں امتِ مسلمہ کو اس حد تک کمزور کرچکے ہیں کہ مسلمان مارنا، جانور کو مارنے سے بھی زیادہ آسان ہوگیا ہے۔
دوسری طرف وہ خطرناک قسم کے منافقین ہیں جو کھلم کھلا خود کو سوائے مسلمان کے ہر نام سے پکارتے ہیں، یہ کبھی خود کو مسلمان نہیں کہتے، مختلف فرقوں سے خود کو موسوم کرتے ہیں۔ آج کل ان کی سب سے خطرناک قسم وہ ہے جو خود کو Moderate, Enlightened, Liberal اور نہ جانے کیا کیا کہتی ہے- یہ وہ القاب ہیں جو کہیں بھی قرآن و حدیث سے ثابت نہیں- لہٰذا جو کوئی بھی لبرل ہے وہ محمد عربیؐ کے دین پر تو نہیں ہے، کیونکہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایسا کوئی مذہب نہیں سکھایا، نہ ایسا کوئی دین حدیث یا قرآن میں مذکور ہے۔
مضمون کی ابتدا میں جو آیت منافقین کی تعریف کے لیے دی گئی، عین اس آیت کے مطابق یہ منافقین اُن چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ جتنے لوگ آج خود کو لبرل کہتے ہیں وہ سب شراب کے رسیا ہیں، اسلام کے احکامات کے خلاف کھل کر بکواس کرتے ہیں، پردے کی نفی اور عورتوں کی آزادی کا نام لے کر، وہ وہ خرافات پروان چڑھانے کا باعث بن رہے ہیں جو اسلام کی تاریخ میں کبھی نہیں اپنائی گئیں۔ یہ لوگ اس حد تک اسلام دشمنی میں آگے بڑھ گئے ہیں کہ اگر کوئی میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کردے تو وہ ان لبرلز کے دل کا راجا بن جاتا ہے، یہ اس کے تحفظ اور عزت کے لیے جان کی بازی لگا دیتے ہیں، بلکہ ایک گورنر صاحب نے تو جان دے بھی ڈالی۔
جیسا کہ آیت میں کہا گیا، یہ لوگ دینِ حق کو بھی قبول نہیں کرتے۔ کس کس بات کا ذکر کروں، یہ لوگ اس حد تک دینِ حق کے خلاف ہیں کہ اپنے پیاروں کی مغفرت کے لیے دو سپارے پڑھ کر بخشنے کو تیار نہیں، ایک سورۃ فاتحہ پڑھنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ موم بتیاں جلاتے ہیں۔ جب کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ آگ کو مذہبِ اسلام میں خیر نہیں سمجھا جاتا۔ کون اپنے مُردوں پر آگ جلائے گا! جب کہ قرآن میں جہاں بھی آگ کا ذکر ہے صرف عذاب کی صورت ہے۔ یعنی رسومات، مرنے جینے کے رواج، زبان، لباس، طور طریقے سب کافروں سے مستعار لینے کے باوجود ان کو اپنے مسلمان ہونے پر اتنی اصرار ہے کہ کوئی ٹوک دے تو فوراً کہیں گے: ہم بھی تو مسلمان ہیں… کس بات کے مسلمان؟ تم تو نمازِ جنازہ تک صحیح نہیں پڑھ سکتے۔
ان کو صرف اسلام سے دشمنی نہیں ہے… ہر وہ شخص، چیز یا جگہ جو اسلام کے لیے کسی بھی طور فائدہ مند ہو، یا اسلام کے کسی شعار کو اپنانے کا ارادہ رکھتی ہو، اس کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہوجاتے ہیں، جیسے حافظ سعید اور جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد قرار دے سکتے ہیں، مگر مودی اور بجرنگ دل کی دہشت گردی کے خلاف ان انسانیت کے چیمپئنز کے منہ سے کچھ نہیں نکلتا۔ قندیل بلوچ کے قتل پر ان کے دلوں سے آہیں نکلنی ختم نہیں ہوتیں مگر ان میں سے کوئی عافیہ صدیقی پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز نہیں نکالتا۔ اگر سندھ میں کچھ ہندو بچیاں اپنی مرضی سے مسلمان ہوگئیں تو سب کے پیٹ میں درد… مگر میانمر، شام، کشمیر، یمن، فلسطین میں ہونے والے مظالم ان لبرلز کی بصارت و سماعت کی حدود سے ماورا ہے۔
خیر جناب! جب اللہ کے گھر کی سرزمین پر مندر تعمیر ہوسکتا ہے تو لگتا تو یہی ہے کہ آنے والا وقت ان لبرلز کا ہے جو اللہ کے رسولؐ کے کیے گئے ہر کام کو رول بیک کرنا چاہتے ہیں، اور مزے کی بات یہ کہ خود کو اسلام کی شناخت سے جدا بھی نہیں کرنا چاہتے۔ اب تو حال یہ ہے کہ جو ملک اس لیے حاصل کیا گیا تھا کہ کافروں کی ثقافت ہمارے مسلمان بچوں سے دور رہے اور وہ ایمان پر پختہ رہیں، وہاں 25 کروڑ پاکستانیوں کے نمائندے اسمبلیوں میں ہولی اور دیوالی منا رہے ہیں۔ کیا پاکستان اس لیے حاصل کیا گیا تھا؟ کیا میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہؓ کرام نے رواداری کے نام پر کبھی کفارِ مکہ کے ساتھ لات و منات کے مذہبی تہواروں میں شرکت کی؟ یا اپنی زندگیاں لڑا دیں ان بتوں کی بالادستی ختم کرنے میں؟
آج بھی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی جماعت بندی قائم ہے، آج بھی کرۂ ارض پر رہنے والا ہر شخص یا کافر ہے، یا مومن، یا منافق… ہمارے آنکھیں بند کرلینے سے اللہ کے کیمرے بند نہیں ہوجائیں گے۔ وہ سب دیکھ رہا ہے، وہ سب لکھ رہا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اللہ کے دربار میں کس شناخت سے پیش ہونا چاہتے ہیں… کافر، مومن یا منافق!!
nn

حصہ