آج کے دور کی ماؤں کا اہم مسئلہ

28

افروز عنایت
امی: ثانیہ بیٹا، تم نے پھر احمر کے ہاتھ میں موبائل دے دیا…
بہو: تو کیا کروں امی، اس طرح تو اُس کے حلق سے ایک نوالہ نہیں اترتا۔ تنگ کیا ہوا ہے بچوں نے… نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں، نہ وقت پر سوتے ہیں۔ سارا دن ان کے پیچھے ہی لگی رہتی ہوں۔
درج بالا جملے 70 فیصد ینگ مائوں کے منہ سے اکثر سنتی ہوں جس میں میری بہو اور بیٹی بھی شامل ہیں۔ یعنی آج کی مائوں کا بڑا مسئلہ بچوں کا کھانا پینا، سونا جاگنا اور اسکول کی پڑھائی وغیرہ ہے جس کی وجہ سے وہ ہلکان رہتی ہیں۔ سونے پہ سہاگہ اگر ماں ملازمت پیشہ ہے تو اس کی مشکلات دوچند ہوجاتی ہیں۔ بزرگ خواتین جو ان مراحل سے گزر چکی ہیں اُن سے آج کی یہ مائیں اکثر کہتی ہیں کہ آپ کے بچے بہت ’’شریف اور سادہ‘‘ مزاج تھے، جو کھلایا کھا لیا، جب سلایا سو گئے، آپ لوگوں کو اتنی محنت و تگ و دو نہیں کرنا پڑی۔ ذرا چند دہائیاں پیچھے مڑکر ان مائوں کے ساتھ آج کی مائوں کا موازنہ کریں تو فرق صاف نظر آئے گا کہ غلطی کہاں سرزد ہورہی ہے۔
چار سے پانچ دہائیاں پیچھے
اماں نے سالن میں سے آلو نکال کر پانی سے دھویا، نرم چپاتی میں سے ٹکڑا توڑا اور آلو اور روٹی کی باریک چُوری انگلیوں کی مدد سے مسل مسل کر بنائی اور رقیہ کو آواز دی: بیٹا کپڑے بدل لیے تو ذرا کچن میں آجائو۔‘‘
رقیہ: جی اماں آ رہی ہوں، ہاتھ منہ دھو لوں۔
اماں: لو بیٹا یہ منی کو کھلائو۔ میں نے کمرے میں دسترخوان بچھا دیا ہے۔
سات سالہ رقیہ نے ایک سالہ چھوٹی بہن کو اپنی گود میں لیا اور دوسرے کمرے میں دسترخوان پر آکر بیٹھ گئی اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اسے کھلاتی گئی (جیسا کہ ماں نے اسے سمجھایا تھا)۔ آدھے گھنٹے میں اماں نے روٹیاں وغیرہ بنا لیں۔ جب تک اماں فارغ ہوئیں، رقیہ منی کو کھانا کھلا چکی تھی۔ اماں نے سب کو بلایا۔ بسم اللہ پڑھ کر سب نے مل کر کھانا شروع کیا۔ سات سالہ رقیہ، چار سالہ زینب، آٹھ سالہ عمران، اماں اور ابا سب دسترخوان پر موجود تھے۔
ابا: عمران آج ٹیسٹ کیسا ہوا؟
عمران: ابو اچھا ہوگیا، اور وہ سوال جو آپ نے آخر میں مجھے کروایا تھا وہ تو زبردست ہوگیا، میری تیاری اچھی تھی۔
ابا: گڈ… شاباش… ظاہر ہے بیٹا آپ نے شام کو ہی تیاری مکمل کرلی تھی، پھر رات کو جلدی سوگئے، اس لیے صبح جلدی اٹھ گئے… تازہ دم ہوکر اسکول گئے۔
عمران: ابا میں نے فجر کی نماز بھی پڑھی تھی اور اللہ میاں سے دعا مانگی تھی کہ میرا ٹیسٹ اچھا ہوجائے۔
اماں: چلو شاباش، سب کھانا کھا چکے، ہاتھ دھو لو۔
یہ اس گھر کا روز کا معمول تھا کہ اماں رات آٹھ بجے تک بچوں کو کھانا وغیرہ کھلا کر فارغ ہوجاتیں۔ نہ گھر میں ٹی وی، وی سی آر یا موبائل کا چرچا۔ بچے ہوم ورک وغیرہ سے سرِِ شام ہی فارغ ہوجاتے، دوپہر میں بھی آدھا گھنٹہ ہی سہی، اماں سب بچوں کے ساتھ خود بھی پلنگ پر لیٹ جاتیں، کہانی سناتیں اور کہانی سنتے سنتے بچے نیند کی آغوش میں پہنچ جاتے۔ اماں آہستہ سے اٹھ کر گھر کو سمیٹنے میں لگ جاتیں۔ اسکول سے تھکے ہارے آئے بچوں کے لیے یہ آدھے ایک گھنٹے کی نیند انہیں ترو تازہ کردیتی۔ شام چار بجے سے آٹھ بجے تک بچوں کے پاس چار گھنٹے ہوتے جس میں کھیل کود، قرآن کی پڑھائی اور اسکول کی پڑھائی ہوتی۔ ہر کام منظم طریقے سے ہوتا۔ اگر دیکھا جائے تو کل کی ماں آج کی ماں کے مقابلے میں زیادہ منظم تھی، حالانکہ اکثر کل کی مائیں دنیاوی تعلیم سے کوری تھیں، یعنی تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود منظم اور باشعور تھیں۔ 45 سے 50 سالہ مائیں میری اس بات کی تائید کریں گی کہ انہوں نے ایسی مائوں کی آغوش میں بچپن کی سیڑھیاں چڑھیں، اور اگر نظر دوڑائیں تو یہ 45 سے 50 سالہ مائیں بھی قابل تحسین ہیں اور وہ دور بھی قابلِ تحسین کہا جاسکتا ہے۔ ہماری خوش نصیبی کہ ہمارا شمار انہی مائوں میں ہوتا ہے۔
آج سے دو یا تین دہائیاں پیچھے
عالیہ: براہِ مہربانی ٹی وی کی آواز کم کردیں، میں بچوں کے کمرے میں ان کو سلا رہی ہوں، بڑی مشکل سے تو انہیں راضی کیا ہے کمرے میں جانے کے لیے۔ اگر دیر سے سوئیں گے تو صبح بھی دیر سے اٹھیں گے، پھر سارا دن ہی سست اور کاہل رہیں گے۔ پچھلے ہفتے ایک دن دیر سے سوئے، اگلے دن نہ صرف سست رہے بلکہ ہوم ورک بھی نہیں کیا۔ اسکول سے شکایت الگ آئی۔
شوکت: لو یار ٹی وی بند کردیتا ہوں… خوش۔ بچے سو جائیں گے تو پھر دیکھوں گا۔
عالیہ: (بچوں کے کمرے میں آکر ان کے ساتھ لیٹ گئیں، رات کے 9 بجے تھے) لو بچو! آج ایک زبردست کہانی سنائوں گی، خاموشی سے سنو۔
پھر عالیہ نے انہیں حضرت عمرؓ کے اپنی خلافت کے زمانے میں راتوں کو جاگ کر لوگوں کی مدد کرنے کے واقعات سنائے۔ کہانی پوری ہونے سے پہلے ہی بچے سوگئے۔
جلدی سونے کی وجہ سے بچے صبح جلدی اٹھ گئے۔ آرام سے وہ نہ صرف تیار ہوئے بلکہ عالیہ اور بچوں کے پاس اتنا وقت تھا کہ سب نے مل کر ناشتا کیا۔ بچوں کی فرمائش کے مطابق عالیہ نے فرنچ ٹوسٹ بنائے تھے جسے سب نے شوق سے کھایا، بلکہ رامس تو اسکول لنچ باکس میں بھی یہی ٹوس لے گیا۔
عالیہ: شوکت! چاول ختم ہوگئے ہیں۔ بچے دوپہر میں دال چاول شوق سے کھاتے ہیں، واپسی میں لیتے آئیے گا۔ (عالیہ کی یہ کوشش ہوتی کہ کھانا بچوں کی پسند کا بنائے، لیکن اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ غذائیت کے لحاظ سے بھرپور ہو) آج میں دوپہر میں لوکی بنا لوں گی، ساتھ میں چپاتیاں…
دوپہر کے کھانے میں لوکی دیکھ کر ننھے اسلم کا موڈ خراب ہوگیا۔ عالیہ نے اسے اس طرح باتوں میں لگایا اور اُن صحابیؓ کی کہانی سنائی جن کے بیٹے نے لوکی کھانے سے انکار کردیا تو انہوں نے اسے گھر سے نکال دیا۔ کہانی سننے میں اسلم اتنا محو تھا کہ اس نے لوکی کے ساتھ پوری چپاتی کھا لی، اور آئندہ لوکی کھانے سے انکار بھی نہیں کیا۔
شام کو عالیہ نے ہوم ورک کرواکر ٹی وی آن کیا اور خود بھی بچوں کے ساتھ ٹی وی کے آگے بیٹھ گئی۔ جہاں وہ ضرورت سمجھتی ٹی وی کو بند کردیتی، یعنی سنسر کا انتظام عالیہ کے ہاتھ میں تھا، اور اب تو بچے بھی اتنے سمجھدار ہوچکے تھے کہ اگر کوئی ایک آدھ سین امی کے مطابق بچوں کے دیکھنے کا نہ ہوتا تو بچے خود ہی ٹی وی بند کردیتے۔ یعنی حالات پھر بھی قابو میں تھے۔
آج کا منظرنامہ معذرت کے ساتھ
انعم: مما مجھے سالن اچھا نہیں لگتا، میں نہیں کھاؤں گی۔
مما: پھر کیا کھانا ہے تمہیں…؟ تمہارے تو نخرے بھی بڑے ہیں۔
انعم: پیزا منگوا دیں۔
مما نے نہ صرف انعم، بلکہ گھر کے چار اور افراد کے لیے بھی پیزا کا آرڈر دے دیا۔
چلو بچو! گیارہ بج گئے، سونا نہیں ہے؟
سہیل: پلیز مما یہ فلم مجھے اچھی لگتی ہے، بس آدھے گھنٹے میں ختم ہونے والی ہے، پھر ہم سو جائیں گے۔
بچے مووی دیکھنے میں مصروف ہوگئے۔ مما اپنے کمرے میں آئی پیڈ لے کر بیٹھ گئیں۔ بچے کیا دیکھ رہے ہیں، نہ امی اور نہ ہی ڈیڈی کو پروا۔ بارہ بجے فلم دیکھ کر بچے اپنے کمرے میں سونے گئے۔ صبح سب کو اٹھنے میں دیر ہوگئی، بچے بغیر ناشتا کیے اسکول چلے گئے۔ مما خود بھی جلدی جلدی تیار ہوکر آفس کے لیے نکلیں کہ بچوں نے بڑا تنگ کیا ہے، بڑی مشکل سے صبح اٹھتے ہیں۔
مما: گڑیا تم مجھے سب سے زیادہ تنگ کرتی ہو، اب میں گھر کے کام کروں یا تمہیں کھانا کھلائوں! ادھر آئو۔ واہ زبردست کارٹون ہے۔ ممانے موبائل پر ایک وڈیو ڈائون لوڈ کرکے موبائل گڑیا کے ہاتھ میں تھمایا۔ گڑیا موبائل میں مصروف ہوگئی تو مما بار بار آکر اس کے منہ میں ایک نوالہ ٹھونس جاتیں، گڑیا اسے نگلتی جاتی۔ نہ ذائقے کا پتا، نہ یہ معلوم کہ پیٹ بھرا ہے یا نہیں۔ اور بچہ اس صورت حال کا اتنا عادی کہ اب مما جب بھی اس کے آگے کھانے کی کوئی چیز پیش کرتیں، بچہ پہلے موبائل کی شرط آگے رکھتا، پھر کھانا منہ میں ڈالتا۔
٭…٭
تین ادوار کا یہ مختصر جائزہ آپ کے سامنے رکھا ہے۔ کم و بیش یہی حالات ہیں۔ آپ میری بات سے متفق ہوں گے۔ بے شک میڈیا کی بے ہودگی اور بے حیائی نے ہمیں چاروں طرف سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، لیکن اسے اپنے اوپر حاوی کرنے میں آج کے والدین کا بھی قصور ہے۔ میں خود ملازمت پیشہ تھی اور ٹی وی پر مختلف نئے چینلز کی چکا چوند تھی۔ بڑا دل چاہتا تھا کہ رات گئے مختلف پروگراموں سے لطف اندوز ہوں، لیکن دس بجے گھر کی بتیاں گل۔ بچوں کے ساتھ خود بھی بستر میں ہوتے، جس کے نتیجے میں سب کو ایک توانائی بخش نیند نصیب ہوجاتی۔ صبح سب تروتازہ اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے۔ گھر میں جو پکتا بچوں کو ذہن نشین کروا دیا کہ یہی کھانا ہے اور سب کو ایک ہی دسترخوان پر مل کر کھانا ہے۔ اگر کسی بچے کا مطالبہ کسی خاص شے کا ہوتا تو وہ گھر پر خود بناکر پیش کردی جاتی۔ باہر کا کھانا شاذونادر کھاتے۔ گوشت کے ساتھ سبزیوں کا استعمال ضرور ہوتا۔ مجھے اپنی والدہ مرحومہ کی بات ابھی تک یاد ہے۔ مجھے مچھلی کا سالن بالکل پسند نہیں تھا لیکن وہ مجھے باور کراتیں کہ مچھلی میں آلو اور شوربہ تمہاری وجہ سے رکھا ہے۔ اور یقین کریں میں مچھلی میں سے آلو اور شوربہ نکال کر شوق سے کھاتی کہ اماں نے میرے لیے اہتمام کیا ہے۔ آج سوچتی ہوں کہ مچھلی میں آلو اور شوربہ تو اکثر رکھا جاتا ہے۔
کسی بھی سبزی یا گوشت وغیرہ کو مختلف طریقوں سے بنانے سے بھی بچے اکتاتے یا بیزار نہیں ہوتے۔ میری نواسی میرے گھر آکر وہی چیز شوق سے کھاتی ہے بلکہ ڈیمانڈ بھی کرتی ہے جو اپنے گھر میں نہیں کھاتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ایک ہی طریقے سے کھانا بنتا ہے۔ بچوں کی عمر اور ان کے رویوں کے مطابق ہلکے پھلکے مسالوں میں ان کی پسند کی چیزیں بناکر ان کے آگے پیش کریں اور یہ کہیں کہ یہ آپ کی فرمائش پر بنایا ہے، تو نہ صرف وہ شوق سے کھائیں گے بلکہ ان کے دل میں آپ کی محبت اور قدر بھی ہوگی۔ میرا بیٹا فرحت جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے، بڑے فخر سے آج یہ کہتا ہے کہ میری ماں نے ہم بھائی بہنوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بہت سے اپنے شوق اور سرگرمیاں معطل کردیں۔ اس لیے آج کی مائوں کے لیے ضروری ہے کہ چاہے وہ ملازمت پیشہ ہی کیوں ناں ہوں، اپنے بچوں کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت نکالیں، ان کی چھوٹی چھوٹی سرگرمیوں میں ساتھ دیں۔ ٹی وی یا موبائل ان کی دسترس میں اتنی آزادی سے نہ دیں کہ ان کا نہ صرف اوڑھنا بچھونا یہی چیزیں ہوں بلکہ ان کے منفی اثرات اُن پر مسلط ہوکر اُن کا مستقبل تباہ کردیں۔ کھانے پینے کے جو آداب تعلیماتِ اسلامی کے مطابق ہیں ان پر عمل پیرا ہونے سے بہت سے مسائل بآسانی حل ہوسکتے ہیں۔ ایک ساتھ مل جل کر کھانے، یا کم از کم ماں کے بچے کے ساتھ کھانا کھانے سے بھی بچہ خوشی محسوس کرتا ہے۔ قطر میں ایک محفل میں ایک 40/35 سالہ ماں کو دیکھا کہ بچے کے سامنے ایک بطخ کھلونا موجود تھا۔ ماں ایک نوالہ بچی کے منہ میں ڈالتی اور ایک جھوٹ موٹ بطغ کے منہ کی طرف لے جاتی، پھر خوشی سے ایک سالہ بچی سے کہتی کہ واہ… آپ جیت گئیں۔ اس بچی نے میرے سامنے پورا کھانا مکمل کیا اور خوش بھی ہوئی کہ میں جیت گئی۔ بیشک ماں کے پیروں تلے اللہ نے جنت اس لیے رکھی ہے کہ ماں کو اپنی ذات کی نفی کرکے اولاد کے لیے جینا پڑتا ہے۔

حصہ