اجمل سراج کے لہجے میں تازہ کاری ہے‘ خواجہ رضی حیدر

49

ڈاکٹر نثار احمد نثار
کراچی پریس کی ادبی کمیٹی تواتر کے ساتھ ادبی اور علمی پروگرام منعقد کر رہی ہے۔ کبھی مشاعرہ‘ کبھی تنقیدی نشست اور کبھی کسی قلم کار کی تقریبِ پزیرائی ترتیب دیتی ہے۔ گزشتہ ہفتے خواجہ رضی حیدر کی صدارت میں اجمل سراج کے لیے ایک محفل سجائی گئی جس میں خالد معین مہمان خصوصی تھے۔ موسیٰ کلیم نے نظامت کی۔ مقررین میں خواجہ رضی حیدر‘ علاء الدین خانزادہ‘ عمران شمشاد‘ ہدایت سائر‘ ناصر مصطفی‘ احمد سعید فیض آبادی‘ نجیب ایوبی‘ خالد معین‘ زیب اذکار اور سیمان نوید شامل تھے۔ سب سے پہلے سیمان نوید مائیک پر آئے اور کہا کہ وہ بے سروسامانی کے عالم میں کراچی آئے تھے مجھے اجمل سراج نے بہت سپورٹ کیا اور آج میں جو کچھ بھی ہوں اس کا کریڈٹ اجمل سراج کو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجمل سراج کی شاعری میں زندگی بے حد فعال نظر آتی ہے یہ چھوٹی چھوٹی بحروں میں کمال کے اشعار کہتے ہیں لیکن طویل و مشکل بحروں میں بھی ان کی غزلیں موجود ہیں انہوں نے شعری روایات کو آگے بڑھایا ہے ان کی غزلوں کے دو مجموعے ’’الفراق‘‘ ، ’’اور میں سوچتا رہ گیا‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میدانِ صحافت میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ ہدایت سائر نے کہا کہ اجمل سراج نے ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی لیکن غزل ان کی شناخت ٹھہری یہ ایک قادرالکلام شاعر ہونے کے علاوہ محبتوں کے آدمی ہیں‘ یاروںکے یار ہیں ان کی شاعری پر معتبر ناقدانِ سخن کے تبصرے موجود ہیں جس کی روشنی میں یہ طے ہو چکا ہے کہ یہ دو متوازی اور بظاہر مماثل خیالات Elements کو ایک شعر میں یکجا کرکے ایک نیا مفہوم پیدا کرلیتے ہیں انہوں نے انسانی احساسات و محسوسات کو شعری قالب میں ڈھال کر ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے جس سے پڑھنے والا لطف اندوز ہوتا ہے۔ عمران شمشاد نے اجمل سراج پر مقالہ پیش کیا اور خوب داد پائی۔ انہوں نے کہا کہ اجمل سراج نے زندگی کے مختلف رویوں‘ مختلف عنوانات پر قلم اٹھایا ہے۔ ہجر‘ وصل‘ حالاتِ حاضرہ ان کی شاعری کا محور ہیں۔ انہوں نے معاشرے کے کرتا دھرتائوں کو آئینہ دکھایا ہے۔ انا پرستی اور خود داریت ان کی طبیعت کا اہم جز ہے ان کی شعری میں امیجری اور جمالیت نظر آتی ہے۔Thinking Process ان کے مزاج کا حصہ ہے۔ یہ غالب‘ میر اور علامہ اقبال کے نظریات کے سفیر ہیں انہوں نے نئے استعارے ایجاد کیے‘ جدیدت کے دلدادہ ہیں۔ انہوں نے لفظ ’’دل‘‘ کو مختلف مفہوم و معنی میں استعمال کرکے جدت پیدا کی ہے نیا ویژن سامنے لائے ہیں۔ ناصر مصطفی نے کہا کہ اجمل سراج کے یہاں استعارتی حسن پایا جاتا ہے وہ کہتے ہیں:

اس نے پوچھا تھا کیا حال ہے
اور میں سوچتا رہ گیا
زخم سب مندمل ہو گئے
اک دریچہ کھلا رہ گیا

انہوں نے سادہ الفاظ میں انسانی جذبات کی ترجمانی کرکے اپنی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ احمد سعید فیض آبادی نے کہا کہ اجمل سراج سہل ممتنع کے بڑے شاعر ہیں انہوں نے غزل کے روایتی مضامین کے ساتھ ساتھ جدید حسیات کو بھی برتا ہے۔ یہ رعایتِ لفظی سے نئے مفہوم پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ فنی چابک دستی‘ بے ساختگی ان کے کلام میں جابجا نظر آتی ہے۔ نجیب ایوبی نے کہا کہ اجمل سراج ایک علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں‘ یہ چالیس سال سے شاعری کر رہے ہیں ان کا شمار معتبر شعرا میں ہوتا ہے دنیا کی اہم اردو بستیوں میں اپنی شناخت بنا چکے ہیں یہ زندگی کے تمام پہلوئوں پر بات کرتے ہیں۔ یہ حادثاتی شاعری نہیں ہیں انہیں شاعری ورثے میں ملی ہے اور یہ سلسلہ رکا نہیں ہے ان کے بیٹے عبدالرحمن مومن بھی شاعری کر رہے ہیں۔ انہوں نے حوصلے اور جدوجہد سے اپنا مقام بنایا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اجمل سراج تکرارِ لفظی سے خوب صورت معنویت پیدا کرنے کے ماہر ہیں لفظوں کے دروبست پر قدرت رکھتے ہیں ان کے پرستاروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
خالد معین نے کہا کہ آج ہم اجمل سراج کی محبت میں یہاں جمع ہوئے ہیں یہ ہمہ صفت شخص ہیں اور میرے نزدیک ایک قابل قدرت شخصیت ہیں انہوں نے شعروسخن کی ترقی میں بہت کام کیا ہے‘ یہ نئی نسل شعرا کی تربیت کرنے کے حوالے سے بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ ایک پیدائشی اور مکمل شاعر ہیں روایت سے جڑے ہوئے ہیں ان کی اندر کی آنکھ اور باہر کی آنکھ کھلی ہوئی ہیں یہ حسیت اور ڈکشن سمجھتے ہیں انہوں نے اساتذہ کی فنی صلاحیتوں سے فیض اٹھایا ہے۔ انہوں نے زندگی کے نشیب و فراز دیکھے ہیں انہیں اپنی ماں کے بچھڑنے کا بہت دکھ ہے جس کے باعث ان کے اشعار میں درد و غم نمایاں نظر آتا ہے لیکن اپنے محبوب کی تعریف و توصیف بھی کر رہے ہیں ان کی آئیڈیا لوجی قابل تحسین ہے یہ اپنے عہد سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں آنے والے حالات کا بھی اندازہ ہے جس سے ہمیں بھی خبردار کرتے رہتے ہیں 80 کی دہائی میں جن شعرا نے ادبی منظر میں انٹری دی ان میں اجمل سراج سب سے نمایاں نظر آتے ہیں انہوں نے زندگی سے شاعری کی ہے انہوں نے نئی نئی تراکیب وضع کرکے نام کمایا ہے ان کی فنی ریاضت و مہارت بڑھ رہی ہے یہ کسی بات کو سرسری نہیں لیتے بلکہ پوری سچائی اور انہماک کے ساتھ زندگی کے تمام مناظر دیکھتے ہیں اور انہیں شاعری بنا دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نئے شعرا کو اجمل سراج کی شاعری سے بہت فائدہ ہوگا‘ ان کے علم میں اضافہ ہوگا۔ زیب اذکار نے کہا کہ کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کی یہ خواہش ہے قلم کاروں سے مکالمہ کیا جائے اشعار تو ہم سنتے ہی رہتے ہیں لہٰذا آج ہماری دعوت پر اجمل سراج یہاں آئے ہیں ہم ان کے شکرگزار ہیں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں یہ ان کے شعری محاسن پر گفتگو ہو رہی ہے ان کی شخصیت پر بات ہوئی ہے تمام لوگوں کو اس بات پر اتفاق ہے کہ اجمل سراج ایک بولڈ آدمی ہیں یہ اپنے نظریات کا سودا نہیں کرتے یہ اپنی شاعری میں نئے مضامین لاتے ہیں‘ پرانی اور متروک لفظیات سے گریز کرتے ہیں۔ ادبی کمیٹی کے روح رواں علاء الدین خانزادہ نے کہا کہ اجمل سراج زندہ دل آدمی ہیں دوسروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ادبی منظر نامے میں جگمگا رہے ہیں ایسی جنیوئن قلم کاروں کی قدر کرنا ہمارا فرض ہے اس لیے آج ہم نے انہیں دعوت دی ہے صاحب اعزاز نے کہا کہ وہ کراچی پریس کلب کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان تمام لوگوں کے ممنون و شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر اس محفل کو رونق بخشی۔ اس موقع پر اجمل سراج نے اپنا تازہ کلام سنا کر سامعین سے خوب داد وصول کی۔ صاحبِ صدر تقریب نے کہا کہ اجمل سراج امنگ و ترنگ سے غزل کہتے ہیں ان کے لہجے میں تازہ کاری ہے یہ انتہائی اعتماد سے آگے بڑھ رہے ہیں یہ محسوسات کے شاعر ہیں انہوں نے شعرا کے ہجوم میں اپنی راہیں الگ نکالی ہیں انہوں نے استعارے مانگے نہیں ہیں بلکہ نئے مفہوم و معنی خود پیدا کیے ہیں۔ یہ اپنے عہد کے بڑے شاعر ہے‘ یہ P.R کے آدمی نہیں ہیں انہوں نے عزیز حامد مدنی سے سلیم احمد تک کا زمانہ دیکھا ہے ان کی شاعری میں تجربات زندگی نمایاں ہیں یہ بیرونی امداد و سہارے کے بغیر زندہ ہیں ان کا رویہ حاسدانہ نہیں بلکہ مشفقانہ ہے۔ گزشتہ صدی کے آخری عشروں میں بہ طور شاعر اجمل سراج اپنی نسل کا پہلا اور آخری توانا شاعر ہے وہ نہ صرف اپنے شعر میں بسر کرتا ہے بلکہ اس کا شعر اس کے وجود میں اپنی معنویت کے تمام پیرایوں سے واصل ہوتا رہتا ہے جس کی بنا پر شاعری اس کے طرزِ حیات کا روپ دھار گئی ہے۔

حصہ