سمندر کے کنارے رہنے والے

96

سید مہر الدین افضل

47 واں حصہ:۔
(تفصیلات کے لیے دیکھیے سورۃ الاعراف حاشیہ نمبر :122 :123 :124 :125 سورۃ البقرۃ حاشیہ نمبر :83)
آیت نمبر 163 تا 166 میں ارشاد ہوا:۔ اور ذرا اِن سے اس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی اِنہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سَبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافر مانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے۔ اور انہیں یہ بھی یاد دلاؤ کہ جب ان میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ ’’ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کر نے لگیں۔‘‘ آخر کا ر جب ان ہدایات کو با لکل ہی فراموش کر گئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ پھر جب وہ پوری سر کشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہو جاؤ ذلیل اور خوار۔
سمندر کے کنارے رہنے والے
بحیرہ احمر (Red Sea) یا بحیرہ قلزم بحر ہند کی ایک خلیج ہے۔ یہ آبنائے باب المندب اور خلیج عدن کے ذریعے بحر ہند سے منسلک ہے۔ اس کے شمال میں جزیرہ نمائے سینا، خلیج عقبہ اور خلیج سوئز واقع ہیں جو نہر سوئز سے ملی ہوئی ہے۔ بنی اسرائیل اپنے زمانہ عروج میں اسی سمندر کے کنارے آباد تھے۔ یہ بڑا اہم تجارتی مرکز تھا۔ حضرت سلیمانؑ نے اپنے جنگی و تجارتی بیڑے کا صدر مقام اِسی شہر کو بنایا تھا جو اس سمندر کے کنارے آباد تھا۔ جس واقعے کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے اس کے متعلق یہودیوں کی کتبِ مقدسہ میں کوئی ذکر ہمیں نہیں ملتا، مگر قرآن مجید میں جس انداز سے اس واقعے کو یہاں اور سورہ بقرہ میں بیان کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نزولِ قرآن کے دور میں بنی اسرائیل بالعموم اس واقعے سے خوب واقف تھے، اور یہ حقیقت ہے کہ مدینہ کے یہودیوں نے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے، قرآن کے اس بیان پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں کیا۔
سبت یعنی ہفتہ کا دن
یہ دن بنی اسرائیل کے لیے مقدس قرار دیاگیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اور اولادِ اسرائیل کے درمیان پشت در پشت تک دائمی عہد کا نشان قرار دیتے ہوئے تاکید کی تھی کہ اس روز کوئی دنیوی کام نہ کیا جائے، گھروں میں آگ تک نہ جلائی جائے، جانوروں اور لونڈی غلاموں تک سے کوئی خدمت نہ لی جائے اور یہ کہ جو شخص اس ضابطے کی خلاف ورزی کرے اسے قتل کر دیا جائے۔ لیکن بنی اسرائیل نے آگے چل کر اس قانون کی علانیہ خلاف ورزی شروع کر دی۔ یرمیاہ نبی کے زمانے میں (جو 628 ء اور 586ء قبل مسیح کے درمیان گزرے ہیں) خاص یر وشلم کے پھاٹکوں سے لوگ سبت کے دن مال و اسباب لے لے کر گزرتے تھے۔ اس پر نبی موصوف نے خدا کی طرف سے یہودیوں کو دھمکی دی کہ اگر تم لوگ شریعت کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی سے باز نہ آئے تو یروشلم نذرِ آتش کردیا جائے گا (یرمیاہ 17: 21.27)۔ اسی کی شکایت حزقی ایل نبی بھی کرتے ہیں جن کا دور595ء اور536 ء قبل مسیح کے درمیان گزرا ہے، چنانچہ ان کی کتاب میں سبت کی بے حرمتی کو یہودیوں کے قومی جرائم میں سے ایک بڑا جرم قرار دیا گیا ہے (حزقی ایل20: 12.24)۔ ان حوالوں سے یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید یہاں جس واقعے کا ذکر کر رہا ہے وہ بھی غالباً اسی دور کا واقعہ ہو گا۔
آزمائش کا طریقہ
اللہ تعالیٰ بندوں کی آزمائش کے لیے جو طریقے اختیار فرماتا ہے ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جب کسی شخص یا گروہ کے اندر فرماں برداری سے انحراف اور نا فرمانی کی جانب جھکاو بڑھنے لگتا ہے تو اس کے سامنے نا فرمانی کے مواقع کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے تاکہ برائی کے وہ ارادے جواس نے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں کھل کر پوری طرح واضح ہو جائیں اور جن جرائم سے وہ اپنے دامن کو خود داغ دار کرنا چاہتا ہے ان سے وہ صرف اس لیے رکا نہ رہ جائے کہ انہیں کر نے کا اسے موقع نہ مل رہا ہو۔
تین قسم کے لوگ
اس بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے۔ ایک وہ جو دھڑلے سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کر تے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور نصیحت کرنے والوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ جن کی غیرت ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بے حرمتی کو بر داشت نہ کر سکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہ راست نہ اختیار کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے خدا کے سامنے اپنی برأت کا ثبوت پیش کر ہی دیں۔ اس صورت حال میں جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن مجید کہتا ہے کہ اِن تینوں گروہوں میں سے صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا کیونکہ اسی نے خدا کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کی فکر کی تھی اور وہی تھا جس نے اپنی برأت کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا۔ باقی دونوں گروہوں کا شمار ظالموں میں ہوا اور وہ اپنے جرم کی حد تک مبتلائے عذاب ہوئے۔ ظاہر ہے کہ کسی بستی پر خدا کا عذاب آنے کی صورت میں تمام بستی دو ہی گروہوں میں تقسیم ہو سکتی ہے، ایک وہ جو عذاب میں مبتلا ہو اور دوسرا وہ جو بچا لیا جائے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس بستی میں علانیہ احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابلِ مواخذہ ہوتی ہے اور اس کا کوئی باشندہ صرف اس وجہ سے عذاب سے بچ نہیں سکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی بلکہ اسے خدا کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لازماً اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حدِ استطاعت تک اصلاح اور اقامت حق کی کوشش کرتا رہاتھا۔ پھر قرآن اور حدیث کے دوسرے ارشادات سے بھی ہم کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہی ہے۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ (ڈرو اس فتنے سے جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتار نہیں ہوں گے جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو) اور اس کی تشریح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ’’اللہ عزوجل خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا جب تک عامتہ الناس کی یہ حالت نہ ہو جائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے برے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہار ِ ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور پھر کوئی اظہار ناراضی نہ کریں۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے‘‘۔ ان کے بندر بنائے جانے کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جسمانی ہیئت بگاڑ کر بندروں کی سی کر دی گئی تھی اور بعض اس کے یہ معنی لیتے ہیں کہ ان میں بندروں کی سی صفات پیدا ہو گئی تھیں۔ لیکن قرآن کے الفاظ اور اندازِ بیان سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسخ اخلاقی نہیں بلکہ جسمانی تھا۔ ہمارے نزدیک قرینِ قیاس یہ ہے کہ ان کے دماغ بالکل اسی حال پر رہنے دیے گئے ہوں گے جس میں وہ پہلے تھے اور جسم مسخ ہو کر بندروں کے سے ہو گئے ہوں گے۔
ہماری صورت حال
عام طور پر قران کریم میں جن قوموں پر عذاب کا ذکر ہے ان کی کسی ایک ہی برائی کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان میں اور خرابیاں نہ تھیں بلکہ نمونے کے طور پر اس برائی کو لیا جاتا ہے جس کے ذکر سے اس قوم کے پورے طرز فکر و عمل کا اندازہ ہو جائے۔ اس کے علاوہ خود وہ بیماری بڑے معاشرتی فساد کا سبب ہو۔ ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو ہم دیکھتے ہیں کہ اس حکم کی ہر اس موقع پر دھڑلے سے خلاف ورزی کی جاتی ہے جب امانتیں سپرد کرنے کا موقع آتا ہے اور قوم واضح طور پر تین گروہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جنہیں اس حکم پر عمل کی کوئی پرواہ ہی نہیں اور وہ اپنی ذات، برادری اور گروہ بندیوں سے آگے نہیں دیکھتے۔ دوسرے بہت سے نیک لوگ ہیں جو خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس انتخابی کیچڑ میں جاکر اپنی عبائیں گندی نہیں کرنا چاہتے اور صرف یہ کہنے پر بس نہیں کرتے بلکہ اس کے نتیجے میں بننے والے نظام سے اپنی خاموشی کا معاوضہ بھی وصول کرتے ہیں اور ناصحوں سے کہتے ہیں کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ لوگ ہیں جن کی غیرت ایمانی اللہ کے حکم کی اس کھلم کھلا بے حرمتی کو بر داشت نہیں کر تی اور وہ نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے کے حکم کے تحت سرگرم عمل ہیں اور ہر انتخاب کے موقع پر دیانت دار اور اہل لوگوں کو پیش کرتے ہیں کہ شاید غافل لوگ راہ راست پر آجائیں اور درست انتخاب کریں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے خدا کے سامنے اپنی برأ ت کا ثبوت پیش کر ہی دیں۔ یہ ہی عذاب سے بچنے والے اور کامیاب لوگ ہیں۔۔۔ اللہ انہیں استقامت عطا فرمائے (آمین)
اللہ سبحانہٗ و تعالٰی ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے، اور اس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے، اور مطالبے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

حصہ