صائمہ عبد الواحد

10 بلاگ 0 تبصرے

آہ !!!!!مبارک ہو میں اکہتر برس کا ہوگیا۔۔۔۔

ستر اکہتر برس کی عمر ایسی آئیڈیل عمر ہوتی ہے خصوصا قوموں اور ملکوں کی زندگی میں کہ اس کے باغ کی ننھی کونپلیں...

خوش حالی درست فیصلے کی منتظر

پاکستان کی آزاد ہوئے اکہتر سال ہونے کو ہیں مگر عوام اب بھی غلام کی غلام ہی رہی۔پہلے انگریزوں کے غلام تھے اب کالے...

اور کوا مر گیا۔۔۔

علی الصبح میں اپنے گھریلو کاموں میں مصروف تھی کہ اچانک زوردار دھماکے نے سارے کام ٹھپ کر دیئے کیونکہ بجلی جا چکی تھی...

کاش عوام اپنی طاقت کو سمجھ پاتے

پچھلے دنوں ترکی میں الیکشن ہوئے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ سو فیصد رہا اور الیکشن میں عوام نے باشعور ہونے کا ثبوت دیا۔وہ افراد...

میڈیا یا جرائم کی ورکشاپس؟

پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں سوشل کرائم میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جن میں خود کشی ،قتل، بچوں سے زیادتی...

روٹی کی جستجو

شہر کی مصروفیات ترین شاہراہ پر وہ ہر بائیک والے کو روکتا اورکہتا کہ صاحب! صاحب !رنچھوڑ لائن پر اتار دیں۔دکھنے میں تھوڑا سا...

مسئلہ کھانا گرم کرنے کا نہیں ہے

پچھلے دنوں ،پہلے کارڈ اٹھا کر عورتوں کے حقوق کے لیے بات کی گئی اس کی گونج الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر اب...

کشمیریو!ہمیں معاف کرنا۔۔۔

آزادی وہ نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں،میں اس آزاد ملک کی شہری ہوں جسے الطاف حسین جیسے لوگ، بزرگوں کی غلطی...

ہماری سوچ کا کینوس چھوٹا کیوں ہے؟

یوم پاکستان آیا ،افسردگی اور بیچارگی لئے گذر گیا۔اخبارات اور رسائل نے بے تحاشا مضامین شائع کئے،اپنا فرض جانتے ہوئے یا پھر اپنے صفحات...

مارننگ شوز سے اصلاحی فوائد سمیٹے جائیں

پچھلے دنوں مارننگ شو دیکھنے کا اتفاق ہو۔انڈین گانوں پر ڈانس،مایوں اور مہندی جیسے فنکشن کا فروغ ،وقت اور صلاحیتوں کا ضیاع ،غرض ہر...

اہم بلاگز

حضرت سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ

نبی اکرم ﷺ کی احادیث میں حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیشین گوئی پر مبنی روایات ملتی ہیں ،جن میں سے چند ذیل میں درج کی جارہی ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :بارش کے فرشتے نے اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں حاضر ی کی اجازت چاہی، آپﷺ نے اسے شرفِ باریابی کا موقع دیا اورساتھ ہی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : دروازے کی طرف دھیان رکھنا،تاکہ کوئی اندر نہ آنے پائے،لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ کودتے پھاندتے اللہ کے رسول ﷺتک پہنچ گئے اور آپﷺکے کندھے مبارک پر کودنے لگے۔ فرشتے نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ!کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں۔ فرشتے نے کہا : آپ کی امت اسے قتل کردے گی اور اگر آپ چاہیں تو وہ مٹی لاکر آپ کو دکھلا دوں ،جہاں اسے قتل کیا جائے گا،پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور لال رنگ کی ایک مٹھی مٹی اللہ کے رسول ﷺکے سامنے رکھ دی (مسند احمد ) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں : ٹھیک دوپہر کے وقت اللہ کے رسولﷺ کو ہم نے خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال اور چہرہ مبارک مبارک غبار آلود ہیں اور آپ کے ساتھ ایک شیشی ہے، جس میں خون ہے۔ہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ کیا چیز ہے؟ آپﷺ نے فرمایا : یہ حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے۔(مسند احمد) اسی معنی میں ایک روایت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنن الترمذی میں بھی موجود ہے،جس میں یہ اضافہ بھی ہے : حدیث کے راوی عمارؒ بیان فرماتے ہیں کہ جب حساب لگایاگیا تو خواب دیکھنے کا دن وہی تھا،جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کاواقعہ پیش آیا تھا۔ جس طرح ان کی شہادت کی پیشین گوئی ذخیرہ احادیث میں ملتی ہے،اسی طرح ان کی ولادت سے پہلے بھی بشارتیں ملتی رہیں ،جیسا کہ مستدرک کی روایت ہے :حضرت سیدناحسین رضی اللہ عنہ ابھی شکم مادر ہی میں تھے، کہ حضرت عبّاس بن عبدالمطلبؓ کی اہلیہ ام الفضل لبابہ بنت الحارثؓ نے ایک خواب دیکھا ،کہ کسی نے رسول اللہﷺکے جسدِ اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ان کی گودمیں رکھ دیا۔ انہوں نے آں حضرت ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ!میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا ہے ،جو ناقابلِ بیان ہے۔ فرمایا :بیان کرو،آخر کیا خواب ہے؟ رسول اللہ ﷺکے اصرار پر انہوں نے خواب بیان کیا۔خواب سن کر آپﷺنے فرمایا :یہ تو نہایت مبارک خواب ہے۔ فاطمہؓ کے لڑکا پیدا ہوگا اور تم اسے گود میں لوگی۔ کچھ دنوں کے بعد اس خواب کی تعبیرحضرت سیدنا حسینؓ کی ولادت کی شکل میں ملی،حضرت ام الفضلؓ نے نہ صرف دایہ کے فرائض انجام دیے،بلکہ اپنے بیٹے قثم بن عباس کے ساتھ ساتھ حضرت حسینؓ کو بھی دودھ پلایا۔(مستدرک حاکم،مشکوٰۃ ) حضرت سیدنا حسین بروز ہفتہ4شعبان4 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا...

سالارِ کارواں ہے میرِ حجاز اپنا

تحریر:ام محمد عبداللہ، جہانگیرہ جارج کا دفتر شہر کے مضافات میں واقع ایک خوبصورت عمارت کے دفتر میں تھا۔ چاروں جانب لگے بڑے بڑے شیشوں سے باہر کا خوش نما منظر بہت صاف نظر آتا تھا۔ سال بھر کام کے دوران بدلتے موسم کھڑکی سے دیکھنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ خاص طور پر جب خزاں کا موسم شروع ہوتا تو تمام درخت بڑی تیزی سے زرد پتوں کی چادر اوڑھ لیتے، یہ منظر بہت دل نشیں ہوتا۔ مگر جلد ہی یہ پتے سوکھ کر درختوں سے جھڑ جاتے،بادل گہرے ہو جاتے،روشنی غائب ہو جاتی اور سرد ہوائیں چلنا شروع ہو جاتیں۔ پرمژدگی اور افسردگی کا ماحول بن جاتا۔ اس ماحول میں دہری کمر والی پچھتر سالہ بڑھیا ایک چھوٹے سے کتے کو ٹہلاتی ہوئی گزرتی تو ماحول سے نظریں ہٹا کر وہ ایک گہری نگاہ اس بڑھیا پر ڈالتا۔ برسوں پہلے کا منظر اس کی نگاہوں میں گھوم جاتا۔ جب یہ بڑھیا ایک جوان اور پرکشش عورت تھی۔ اسی عمارت کے اسی آفس میں ایک پیسہ بنانے والی مشین کی مانند سارا دن مصروف رہنے والی یہ عورت جب نگاہ اٹھا کر کھڑکی سے باہر دیکھتی تو ہاں عین اسی جگہ جہاں وہ آج خود کھڑی تھی، جارج کھڑا ہوتا۔ چھوٹے سے کتے کی رسی ایک ہاتھ میں پکڑے وہ ماں کی فطری محبت سے تہی دامن تھا اور ماں اپنی فطری ممتا دبائے پیسے کی محبت میں بے کل تھی۔کچھ روز پہلے کی بات ہوتی تو جارج بڑھیاماں پر ایک گہری نگاہ ڈال کر ہٹا چکا ہوتامگر اب نگاہ ہی نہیں زوایہ نگاہ تبدیل ہو چکا تھا۔ وہ ٹکٹکی باندھے بڑھیا کے ناتواں وجود کو سڑک پر گھسٹتا دیکھ رہا تھا۔ ایک آنسو آنکھ سے بہہ نکلا تھا۔ ہاں چند روز پہلے جب اسلامک سنٹر جا کر ایک مسلم اسکالر کے سامنے اس نے اسلام قبول کیا تھا تو ان اسکالر نے اس کو بتایا تھا۔ ’’بیٹے! حضرت محمد مصطفی ﷺکی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ اللہ رب العالمین کے بعد ہم پر سب سے بڑھ کر حق ہماری ماں کا ہے‘‘۔ سامنے میز پر حدیث کی کتاب کھلی پڑی تھی، جارج پڑھ رہا تھا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما فرماتی ہیں کہ’’ جس زمانے میں قریش اور مسلمانوں میں معاہدہ تھا، میری مشرک ماں میرے پاس آئی۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری ماں آئی ہے اور وہ اسلام سے رغبت نہیں رکھتی۔ کیا میں اس سے سلوک کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اس سے سلوک کرو‘‘۔ (متفق علیہ) دل کی دنیا زیر و زبر ہو رہی تھی۔ وہ دفتر کی سیڑھیاں پھلانگتا نیچے اتر آیا تھا۔ ’’مام! اس کے اپنے ہی کانوں کو یہ آواز بڑی نامانوس لگی تھی۔ اجنبی آواز پر بڑھیاکیا لبیک کہتی وہ تو حسرت و یاس کی تصویر بنی اولڈ ہاوس کی جانب گھسٹ رہی تھی۔ جارج کو لمحہ بھر کے لیے بڑھیا سے کراہت سی محسوس ہوئی۔ اسی لمحے سرد ہوا کا ایک جھونکا اس کے کانوں میں سرگوشی کر گیا۔ جنت ماں کے...

عقیدۂ ختم نبوت کی ضرورت واہمیت

آئیے!آج کے دن یہ عہد کریں ،کہ ہم کسی بھی قیمت پر عقیدہ ختم نبوت کے دفاع وتحفظ اور اس کی ترویج واشاعت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس عقیدے کے خلاف کی جانے والی بڑی سے بڑی کوشش کو ناکام بنانے میں اپناایمانی کردار ادا کریں گے،ان شاء اللہ! یوم دفاع ختم نبوت(7ستمبر2018) عقیدۂ ختم نبوت اسلام کے اہم ترین عقائد میں سے ہے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ رب العزت نے سلسلۂ نبوت کی ابتدا سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائی اور اس کی انتہا محمدﷺکی ذاتِ اقدس پر فرمائی۔ آنحضرت ﷺپر نبوت ختم ہوگئی،آپ ﷺکے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا۔البتہ حضرت عیسٰی علیہ السلام قریبِ قیامت میں ضرور نازل ہوں گے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شریعت پر ہوں گے، اس لیے نزول عیسی ؑ سے رسول اللہ ﷺکے خاتم النبیین ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا،کیوں کہ ایک توحضرت عیسٰی علیہ السلام شریعتِ محمدیہ ﷺپر ہوں گے،دوسرے اس کے علاوہ حضرت عیسٰیؑ کو تو رسول اللہﷺسے پہلے پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آپﷺکی ختم نبوت کا اعلان فرمایا۔(سورہ توبہ:33)اسی طرح قرآنِ کریم میں حقِ جل شانہ نے تمام پیغمبروں سے اس بات کا عہد لیا کہ اگر محمدﷺ کا زمانہ پا لو تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لانا اور ان کی نصرت اور پاسداری کرنا۔ (سورہ آلِ عمران:81)یہی وجہ ہے کہ آنحضرتﷺسے پہلے تمام انبیائے سابقین آپﷺ کی آمد کی بشارت دیتے رہے، آپ ﷺکا خاتم الانبیا ہونا تورات اورانجیل اور تمام انبیائے سابقین کے صحیفوں میں مذکور تھا، جو علما اہلِ کتاب دینِ اسلام میں داخل ہوئے، انھوں نے بیک زبان ہوکر اس امر کا اقرار اور اعتراف کیا کہ ہم نے آنحضرتﷺکو اسی صفت پر پایا جیسا کہ ہم نے تورات اور انجیل میں دیکھا اورپڑھا تھا،اس کے علاوہ آپ ﷺ کی مہرنبوت بھی آپ کے خاتم النبیین ہونے کی حسی دلیل تھی، جس کو دیکھ کر علمائے یہود اور نصاریٰ آپﷺکی نبوت اور ختمِ نبوت کی شہادت دیتے تھے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کی مجموعی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے،جن میں سے رسولوں کی تعداد تین سو تیرہ ہے اورآپﷺ خاتم الانبیاء اور آخرالانبیاء ہیں آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہ ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے:’’نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا بجز مبشرات(سچے خوابوں )کے ‘‘۔(صحیح بخاری و مسلم ) حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں: میری مثال نبیوں میں ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ،جہاں کچھ نہ رکھا، لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے ہیں ، لیکن کہتے ہیں : کیاہی اچھا ہوتا کہ اس اینٹ کی جگہ بھی پر کرلی جاتی ،پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں۔(مسندِاحمد ) حضوﷺ ایک حدیث میں فرماتے ہیں :میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبیوں کا ختم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام پورے طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے...

حجاب : قیمتی ہونے کا احساس دلاتا ہے‎

یہ ۱۹۹۴ کی بات ہے جب خوشبوؤں کے شہر فرانس میں باحجاب لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ اس سلسلے میں فرانسیسی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ "حجاب عورت کو کم تری کا احساس دلاتا ہے اور اس نے فرانسیسی معاشرے میں مشکلات پیدا کی ہیں" ۔ اس سے قبل سیکولر ترکی میں حجاب پرجبراً کنٹرول کے احکامات آ چکے تھے۔ بعد ازاں ،یہ معاملات صرف فرانس اور ترکی تک محدود نہ رہے بلکہ مغرب و یورپ کے بیشتر ممالک خصوصاً امریکا برطانیہ جرمنی ڈنمارک اور سری لنکا وغیرہ میں پھیل گئے ۔ ان حالات میں عالمی تحاریک اسلامی کے رہنما یوسف القرضاوی کی سربراہی میں لندن میں ایک بین المذاھب کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں 4ستمبر کو یوم حجاب کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا اس میں امیر جماعت قاضی حسین احمد بھی شریک تھے۔ نائن الیون کے بعد جوں جوں حجاب کی مخالفت میِں تیزی آتی گئی یوم حجاب کی اہمیت بھی بڑھتی گئی۔ آخر وہ دن بھی آ گیا جب جرمنی کی بھری عدالت میں مصری نزاد خاتون کو حجاب لینے کے جرم میں خنجر کے وار کر کے شہید کر دیا گیا۔ مروۃالشربینی کے پاکیزہ لہو نے یوم حجاب کی تحریک میں گویا جان ڈال دی اور اب یہ مہم لاکھوں، کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔      پردہ و حجاب اسلامی معاشرے کے متنازعہ امور نہیں بلکہ ان کے لئے الہامی احکامات بہت واضح ہیں جو سورۃ النور کی آیت   31 اور سورۃالاحزاب کی آیت 59 میں بیان ہوئے ہیں ۔ ان احکامات میں واضح کر دیا گیا ہے کہ" پردے کا حکم اس لئے ہےکہ تاکہ یہ خواتین بحیثیت حیا دار پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جا سکیں" ۔ یہاں رب کائنات خود حجاب کو مسلم عورت کی پہچان قرار دیتا ہے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ حجاب جو عورت کی پہچان ہے اسے چھیننے کی کیوں کوششیں ہورہی ہیں ؟ صرف اس لئے کہ حجاب و پردہ محض شعار ہی نہیں بلکہ ایک نظام اخلاق ہے جومعاشرے میں حیا کی آبیاری کرتا ہے اور عفت کے چلن کو عام کرتا ہے ۔ کون نہں جانتا کہ اسلامی تہذیب کا آغاز ہی شرم و حیا سےہوا ،جب آدم اور حواعلیہاالسلام نے خود کو درختوں کے پتوں سے چھپا کر بے لباسی سے بچنا چاہا ۔ یہی معراج آدمیت اور عروج انسانیت ہے اور بے حیائی شیطان کے واروں میں سے ایک وار ہے ۔ گویایہ مقرس و عفیف حجاب فحش و عریاں تہذیب وثقافت کو ملیامیٹ کرنے کا نام ہے۔       فطرت کا تقاضا ہے ہر قیمتی چیز ملفوف ہوتی ہے ۔ اسے لوگوں کی نظروں سے بچایا جاتا ہے،تاکہ اس کی قدروقیمت میں کمی نہ ہو۔ ہر مبارک چیز غلاف میں لپیٹی جاتی ہے۔جیسے قرآن پاک ، خانہ کعبہ اور دوسری متبرک اشیاء ۔ عورت بھی خدا کی ایسی تخلیق ہے جسے غلاف یا پردے سے ڈھانکنے کی تلقین آئی ہے ۔ شاعر مشرق ، علامہ اقبال اپنی ایک رباعی میں فرماتے ہیں ۔" اللہ خالق ہے اور...

نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ۔۔اسباب و تجاویز

کسی بھی معاشرے کی کامیابی و کامرانی میں نوجوان نسل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی ، مذہبی، لسانی ،قومی و دیگر تحریکیں نوجوان نسل کی حمایت سے ہی کامیاب و مقبول ہوتی ہیں۔ اسلام کی ترویج و تبلیغ میں بھی نوجوانوں کی خدمات سے سرموئے انحراف نہیں کیا جاسکتا ۔نبی اکرم ﷺ کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا کہ نوجوانان اسلام نے اپنے وقت کی عظیم طاقتوں کو سرنگوں کیا ۔یہ نبوی تعلیم و تربیت کی برکت کا نتیجہ ہی تھا کہ ایک غیرمنظم ٹولی ایک منظم اور باشعور جماعت کی شکل اختیار کرگئی اور زمانے میں خیر کوقائم کرنے اور شرکے سد باب کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔حضرت اسامہ بن زید،حضرت خالد بن ولید ، حضرت عمروابن العاص، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ،صلاح الدین ایوبی، محمد الفاتح اور محمد بن قاسم نے اپنے زور بازو سے باطل قوتوں کو مسمار کرڈالا۔ان نوجوانوں میں جذبہ حریت ،اعتماد ،استقلال ،بلند نگاہی،درست قوت فیصلہ ،شعور و بالیدگی جیسے قائدانہ اوصاف صرف اور صرف نبوی تعلیم وتربیت کا ہی نتیجہ تھے۔ دنیا میں جتنے بھی انقلابات بپاہوئے ہیں ان کی کامیابی ا ور کامرانی میں نوجوانوں کا اہم کردار رہا ہے۔ تحریک خلافت ا ور جد وجہد آزادی میں بھی نوجوان کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ نوجوانوں کی قوت کے دھار وں کو صحیح سمت ، شعورا ور قائدانہ کردار تعلیم و تربیت ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ تعلیم صرف غوغائے علم کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا واضح راستہ ہے جس پر گامزن ہو کر آدمی کامیابی اور خوشحالی کو گلے لگاتا ہے۔تعلیم کسی بھی ملک و قوم کے لئے موت و حیات کا مسئلہ ہوتی ہے۔دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے بھی مختلف معیار ہوتے ہیں جن سے گزر کر نئی نسل یا تو ایک متوازن،سماج سے ہم آہنگ فکری سانچے میں ڈھلتی ہے یا پھر ایک غیر متوازن اور سماج سے غیر آہنگ غیر پسندیدہ شخصیت کا وجود ظہور میںآتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر تعلیم کے معیار پرہی انسانی زندگی کے دیگر معیار استوار ہوتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی معیار ہماری زندگی ،حالات اور رویوں کے معیار کاغماز ہوتا ہے۔ تعلیم اور قیادت جہاں معاشرے کو فکر ی آزادی عطا کر تی ہے وہیں یہ آدمی کو ذہنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کا کام بھی انجام دیتی ہے۔جو تعلیم اور قیادت آدمی کو ترقی ،تمدن اور تہذیب کی راہوں پر گامزن نہ کرسکیں وہ ملک و قوم کی سربلندی کا باعث نہیں ہوسکتی۔آج قیادت کا بحران صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بحران زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دیتاہے۔ زندگی کے مختلف شعبہ جاتمیں اچھے ماہرین پیداکرنے میں ہماری ناکامی کی وجہ بھی نئی نسل کی قائدانہ صلاحیتوں کی شناخت ،اعتراف و فروغ میں ہمارا معاندانہ رویہ ہے۔ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے مطابق لیڈر شپ اور لرننگ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم کا درجہ رکھتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ ایکٹیو ازم پر وہ زور دے کر کہتا ہے کہ تعلیمی اداروں کو نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغکے لئیاستعمال کیاجائے۔ماضی قریب میں امریکہ میں طلبہ...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

“دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ”

محکمہ آثارِ قدیمہ نے پاکستان میں ایک ایسی عجیب و غریب سیاسی جماعت کا ڈھانچہ دریافت کیا ہے جسے دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس سیاسی جماعت کے معدہ میں پائے گئے خوراک کے حنوط شدہ ذرات کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جماعت اپنے وقت کے فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھایا کرتی تھی اور اسی خوراک سے پل کر جوان ہوئی تھی۔ سیاسی جماعت کے ڈی این اے میں مکاری، عیاری، لوٹ مار، تکبر، انسانوں کی خرید و فروخت اور ذاتی خاندان تک محدود اقربا پروری کے جینز کثیر مقدار میں پائے گئے ہیں۔ سیاسی جماعت کی کھوپڑی کا لیبارٹری میں تفصیلی جائزہ لینے پر انتہا درجے کی منافقت کے واضح ثبوت دکھائی دیے جن سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت ماضی میں ایک طرف تو فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے اپنا وزن بڑھاتی رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ فوجی بوٹوں کا وزن کم کرنے کے لیے خوب زور لگاتی رہی جس اسے چنداں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ جب یورپ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے اس حوالے سے رائے لی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے کے لے اُس دور کی سیاسی جماعتیں کچھ لوگوں کو بوٹ چاٹنے پر مامور کر دیتی تھیں اور اسی جماعت کے کچھ لوگوں پر دور کھڑے ہو کے بوٹوں والوں پر بھونکنے کی زمہ داری لگا دیتی تھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بھاگا جا سکے۔ محکمہ سیاسی حیاتیات کے ماہرین نے بھی ڈھانچے کا معائنہ کیا اور اپنی مشترکہ رائے دیتے ہوئے رپورٹ میں لکھا کہ اقتدار میں آنے کے امکانات اس جماعت کی روح کا کام کرتے رہے ہیں اور جیسے ہی یہ روح غائب ہوئی، اس جماعت کا نام و نشان سیاسی روئے زمین سے مٹ گیا تھا۔ تقریباً دس سال تک یہ جماعت مینڈک کی طرح زیر زمین رہی لیکن پھر یہاں کی سیاسی وائلڈ لائف کی از سر نو حیات کاری کے لیے یورپ کے ایک مشہور ملک میں میثاق جمہوریت نامی معاہدہ طے پایا جس کے لیے بدبودار فوجی جرابیں خاص طور پر وہاں پہنچائی گئیں تاکہ میثاق جمہوریت کو توثیقِ بْوٹیت مل سکے اور سیاسی وائلڈ لائف کو پنپنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی کے ڈین نے ہمارے پوچھنے پر بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے ہم دیکھتے رہتے ہیں لیکن جس درجے کی انا پرستی اور بیوقوفی ہمیں اس ڈھانچے سے ملی ہے، وہ آج تک کسی اور سیاسی ڈھانچے سے نہیں ملی۔ ہم نے دلچسپی سے پوچھا کہ یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے :’’انا پرستی کے آثار ہمیں اس سے نظر آئے ہیں کہ یہ جن بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھاتے رہے ہیں، اسی چمڑے کے بوٹ خود پہننے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو کسی بھی بوٹوں والوں کو کبھی گوارا نہیں ہو سکتا‘‘۔ ایک طالب علم جو اس پراجیکٹ میں خصوصی دلچسپی لے رہاہے، یوں گویا ہوا کہ سیاسی آرکیالوجی ایک نیا فیلڈ ہے جس میں تحقیق کی کافی گنجائش موجود ہے،اس لیے ایسے ڈھانچوں کا دریافت ہونا ہمارے لیے علمی...

مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ،لال مرچ، کالی مرچ ،مرچی پودوں کی جنس شملہ مرچ سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کی ابتدا امریکہ سے ہوئی۔ مرچ کم از کم 7500 قبل مسیح سے لے کر امریکہ میں انسانی غذا کا ایک حصہ رہا ہے۔ دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے۔ جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ باریک مرچیں اور جنگلی مرچیں روز مرہ کے کھانوں میں عمومًا استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا اور باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ ان کو لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے ہرہیز کرنا چاہے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کریں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو وہ دور جانے کے بجاۓ قریب ہوجائیں۔ جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو بیلنس رکھنا ایک فن ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جاۓ تو سننے والے کو لطف آتا ہے۔ اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔یہ نصیحت خصوصاً خواتین کے لیے ہے۔ جو اکثر اپنی باتوں سے مرچ لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔ بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کے شوہر کے سامنے جاۓ ، شوہر موبائل میں مصروف ہوں اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکاۓ اگر شوہر اس میں کوئی خامی نکالے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ لہذا تمام شوہروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں۔ کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے سردی گرمی دنوں میں با آسانی لگائی جا سکتی ہیں۔ غنیمت جانے کے آپکی شادی ہوچکی ہے۔ ورنہ تو کہیں ایسا نہ ہو مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ نہ پڑجاۓ۔  

دبی شخصیت کے ساتھ ایک صبح

تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر ادبی شخصیات کے ساتھ آپ نے سنا ہوگا کہ اکثر شام یا رات منائی جاتی ہے۔کیونکہ سارا دن وہ ادبی کاموں،رسائل،میگزین و دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے شام سے رات گئے تک وہ فارغ ہوتے ہیں۔مشاعرہ ہو یا ادبی نششت محفل رات کو ہی جمتی ہے۔یقین مانئے اکثر شعرا کرام کے گھر اُتنی دہی نہیں جمتی جتنی محفلیں جمتی ہیں۔رات تاخیر سے بسترِ استراحت پر جانے کی وجہ سے صبح صادق آنکھ کا نہ کھلنا قدرتی اور محفل کا ’’خمار‘‘ بھی ہو تا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کوئل و بلبل کو اپنی شاعری میں استعمال کرنے والے شعرا نے کبھی ان پرندوں کی شکل علی الصبح باہر نکل کردیکھی ہو یا ان کی آواز سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں۔دوحہ سے واپسی اسلام آباد کوئی پانچ گھنٹے کا قیام تھا علی الصبح اسلام آباد ائر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنے ایک دیرینہ ادبی دوست کے گھر کا راستہ لیا۔ملاقات چونکہ دوحہ سے روانگی پر ہی فون پہ طے ہو چکی تھی اس لئے صبح سویرے انہیں فون بھی نہ کیا سوچا ہمدم دیرینہ ہے میرے پہنچتے ہی بیڈ روم سے گیٹ تک دیر نہیں لگائے گا۔مقررہ وقت پر اس کے ہاں پہنچے،ڈور بیل دی۔اور ذرا گیٹ کی سائیڈ پہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے،جواب و شکل دونوں ہی ندارد پا کر ایک بار دو بار،سہ بار مسلسل بیل پہ ہاتھ دھرے رکھا،تھوڑا توقف کیا اور سوچ میں پڑ گئے خدایا کسی اور کے گھر تو دھاوا نہیں بول دیا۔چند قدم پیچھے ہٹے،گھر کے باہری حصہ کو غور سے دیکھا،ماسوا اس کے کوئی فرق نہ پایا کہ جب پچھلی بار تشریف آوری ہوئی تھی تو منڈیر پر کالا کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا،جس کی کہانی بھی الگ سے ہے۔کہ پچھلی بار میں نے یونہی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی کوّے کی کائیں کائیں شروع ہو گئی تو موصوف اپنا پسٹل لے کر نمودار ہوئے کہ آج یا کوا نہیں یا مہمان نہیں۔کیونکہ مجھ سے قبل کوئی چار بار کوّے نے کائیں کائیں کی اور چاروں مرتبہ مہمان آ وارد ہوئے اور میں پانچواں مہمان تھا۔صد شکر کہ اس بار کوّے کی جگہ ایک فاختہ تشریف فرما تھی ۔ایک بار پھر ہمت مجتمع کی اور ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ آنکھیں ملتے ہوئے چوکیدار کی شکل دکھائی دی،بھاری بھر کم آواز میں اس استقبالیہ کے ساتھ خوش آمدید کیا کہ اتنی صبح آن دھمکا ہے ،چین سے سونے بھی نہیں دیتے۔لو جی موصوف کیا یہاں تو چوکیدار تک سویا ہوا ہے۔نیم بند آنکھوں سے ہی ہمیں پہچانتے ہوئے دور سے ہی سلام کیا اور اسی ہاتھ سے اندر آنے کا بھی اشارہ فرما دیا۔ڈرائنگ روم کھول کے بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی،نہ چوکیدار،نہ دوست اور نہ کوئی چائے پانی،سب ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ،حالانکہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے نہیں ۔کوئی گھنٹہ بعد کام والی ماسی ڈرائنگ روم کی صفائی کرنے آئی تو ایسے ہی اسے پوچھ لیا کہ یہ چوکیدار کدھر...

بڑھاپے کی بڑھکیں،عینک اور بتیسی

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے حالانکہ اس عمر میں انسان کسی رخ سے بھی سیدھا نہیں ہوتا۔ دونوں کی بتیسی(مصنوعی دانت) اور عینک کا نمبر ایک جیسا ہو جاتا ہے۔جس کو جو چاہئیے مستعار لے اور اپنا گزارہ کر لے۔مثلاًبابا جی کو بھوک لگی ہو تو کھانے کے لئے بتیسی ادھار پکڑی کھانا کھایا بتیسی گرم پانی میں سٹرلائز کی اور ’’بابی‘‘ کے منہ میں۔اماں کو تلاوت فرمانی ہوئی تو بابے کی عینک پکڑی ،دھاگے والے فریم کو ناک کی سلوٹوں پہ ایڈجسٹ کیا ،بعد از تلاوت عینک بڑے پیار سے بابے کی ناک پہ چسپاں۔گویا انسان اگر بوڑھا نہ ہوتا تو چشموں اور دانتوں کے کام کا مکمل مندا ہوتا۔اکثر میری کلاس کے بچے شرارتاً سوال کرتے ہیں کہ سر بڑھاپے کی آمد کا پتہ کیسے چلتا ہے۔تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ جب منہ میں دانت گرنے لگیں اور عینک کا نمبر بڑھنے لگے تو سمجھ جاؤ کہ بڑھاپے کی آمد آمد ہے۔یا پھر اولاد اور اعضائے جسمانی ایک ساتھ جواب دینے لگ جائیں ،بیوی اور یاد داشت کا ساتھ کم ہونے لگے،کھانے کا ذائقہ اور بدصورت عورتوں کا ساتھ حسین لگنے لگے ،حد یہ کہ جب بچے آپ کو نانا ،دادا جبکہ حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنا شروع کر دیں تو کسی قسم کے تردًد سے کام نہ لیتے ہوئے چپ چاپ اپنے بڑھاپے کو ایسے ہی تسلیم کر لیں جیسے بوقتِ نکاح دلہن سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ فلاں بن فلاں قبول ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوا اس کے کہ ہاں’’ سب چلے گا‘‘۔ ویسے بڑھاپا مغرب میں اتنا برا خیال نہیں کیا جاتا جتنا کہ مشرقی لوگوں نے بنا دیا ہے۔مغربی بڈھے جتنا بڑھاپے کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں اتنا ہم مشرقی جوانی میں بھی شائد نہ کرتے ہوں،مغرب میں بوڑھوں کو عمر کے ڈھلتے ہی اولڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ان کی کیئر ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں بوڑھوں کو گھر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ جوانوں کے ’’طعنے معنوں‘‘ کی زد میں رہ کر ان کے کتھارسس کا باعث بن سکیں۔طعنے ذرا ملاحظہ فرمائیں ٌ* بابے کی چارپائی جانوروں والے کمرے میں لگا دیں * بابا ہر بات میں ٹانگ نہ اڑایا کر،حالانکہ بابا اپنی ٹانگوں پہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ * بڑھاپے میں کوئی فعلِ جوانی سر زد ہو جائے تو’’چٹے چاٹے(سفید بالوں) کا خیال کر،چاٹا سفید ہو گیا عقل نہ آئی،بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مشرق میں تو بڑھاپے کو توبہ و استغفار کی عمر خیال کیا جاتا ہے کہ بابا جی تسبیح مصلحہ لے لو اور اللہ اللہ کرو،حالانکہ مغرب میں جو بوڑھے ایامِ جوانی میں جس عورت سے عیاشی کرتے رہے بڑھاپے میں اسی عورت سے شادی کو آئیڈیل عمر اور جوڑی سمجھتے ہیں،اسی لئے بڑھاپا مشرق میں مرض اور بوجھ جبکہ...

اُف یہ بیویاں

عورت ٹیڑھی پسلی کی وہ تخلیق ہے کہ ایک بار بیوی بن جائے تو پھر ٹیڑھے سے ٹیڑھے مرد کو بھی یک جنبش انگلی ایک ہی پاؤں پہ وہ ناچ نچواتی ہے کہ شوہر نامدارکے تمام کس بل نکال دیتی ہے۔اور مرد بے چارہ جو قبل از شادی کسی کو پلے نہیں باندھتا تھا اب بیوی کے پلو سے ایسے بندھا رہتا ہے جیسے اونٹ کے گلے میں بلی اور بلی بھی وہ کی جو بہت سے بلوں میں اکیلی گھری ہوئی ہو جیسے رضیہ غندوں میں اور دور کھڑا ایک خاوند لاچارگی و نحیف آوازمیں کہہ رہا ہو کہ :شیر بن شیر؛ بیوی آ پکا وہ قانونی حق ہے جسے آپ سو(۱۰۰)دو سو(۲۰۰) افراد کی موجودگی میں قبولیت ثلاثہ کے ساتھ بخوشی حق قبولی میں لیتے ہیں۔بعد از شادی بعدین دو سو دن شادی مرگ ہو بھی جائے تو یقین مانیں آپ دنیا کے خوش قسمت ترین خاوند خیال کئے جائیں گے ہو سکتا ہے آپ کو :عائلی شہید: کے اعلی رتبے پر خیال کیا جائے۔ بیوی میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہوایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ یہ جب چاہے کوئی سا بھی روپ دھار سکتی ہے۔جب چاہے گرگٹ بن کے کوئی سا بھی رنگ بدل لے۔رنگ بدلنے کے لئے خاوند،سسرال،یا میکہ کہیں سے بھی بیوی کو اجازت نامہ درکار نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے سے ہی :بیوی نامہ:میں ڈیٹا اسٹور میں پڑا ہوتا ہے۔بس یہ بیوی پر منحصر ہے کہ ذاتی منشا و مدعا کے مطابق کب ،کونسا روپ دھار کر خاوند،ساس،نند،اوردیورانی کو بیوقوف بنانا ہے۔یعنی گھر میں دھونے والے برتنوں کی کثرت ہو تو کثرت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے لئے بھی بیوی کے سر میں درد نکل سکتاہے،سسرالی مہمانوں کی آمد آمد ہو تو :خاتون خانہُ:گندے دوپٹے سے سر باندھ کر بوڑھی :دائیہ ؛کی وضع اپنا سکتی ہے۔اور اگرمیکہ والوں سے کوئی دور پار کے رشتہ دار بھی آ جائیں تو :کپتی بیوی: کے غلاف سے دھارمک ،بی بی اور موٗدب بیوی کہاں سے عود کر آ جائے گی کہ پورا سسرال انگشت بدنداں،حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ :ہیں: ایسا روپ تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔البتہ تنخواہ کا دن وا حد دن ہوتا ہے جس میں ایک دم کپتی بیوی گل اندام محبوبہ کی وضع قطع اپنا لے گی کہ :سکے خاوند: کو یقین نہیں آتا کہ وہ ذاتی بیوی سے مخاطب ہے یا کسی اور کی بیوی کے سامنے کھڑا ہے۔بیوی کے یہ ناز و نخرے اس وقت تک چلتے ہیں تا وقتیکہ شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی نہ ہو جائے۔ ایام ماہ آ خرجب شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی ہو جاتے ہیں تو فوری طور پہ :گجی ماں:جیسے ٹکا کے بے عزتی کرتی ہے جیسے بچپن میں رات تاخیر سے وآنے پہ اماں کرتی تھیں۔بعض اوقات تو اماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہی رہتی ہے۔ بیوی کا پاور ھاؤس اسکا میکہ ہوتا ہے جبکہ خاوند کے لیے یہ جگہ بارگاہ ادب سے کم نہیں۔ ہر اس شخص کو کسھیانی مسکراہٹ اور عزت و مقام بخشتے ہوئے جھک کر سلام اور گلے لگانا پڑتا ہے جو آر...

ہمارے بلاگرز