نعمان الحق

mm
8 مراسلات 0 تبصرے
پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ مذہب، سیاست، معاشرت، اخلاقیات و دیگر موضوعات پر لکھتے ہیں۔ انکی تحریریں متعدد ویب سائٹس پر باقاعدگی سے پبلش ہوتی ہیں۔ درج ذیل ای میل ایڈریس پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے nomanulhaq1@gmail.com

“ریحام خان کی کتاب – سماج کیلئے خطرے کی گھنٹی”

ملک کے طول و عرض بلکہ عالمی میڈیا میں بھی آج کل ریحام خان کی نہایت متنازعہ کتاب کے چرچے ہیں جو پبلش ہونے...

ہرجائی محبوب کے نام۔افسانچہ

ایسا کیا ہے جس سے تِری یادیں نہ جْڑی ہوں؟ کْچھ بھی تو نہیں سب کْچھ تو تِرے دَم سے تھا میرے محبْوب! ہلکورے کھاتی یَخ بَستہ...

“گُناہ”

کیا تم کوئی نبی ہو (نعوذ باللہ) جو تم سے گُناہ سَرزَد نہیں ہوتے؟ اور اگر گُناہ کر جاتے ہو تو اپنے رَب سے  مُعافی...

’’آوارہ کتّا اور پالتو کتا‘‘

آوارہ اور پالتو کتے میں کیا فرق ہوتا ہے؟ آوارہ کتّا کسی قاعدے قانون اور ضابطے کا پابند نہیں ہوتا،وہ جب چاہے جہاں چاہے گْھومتا...

شیم آن یو

ملک عوامی احتساب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شیخوپورہ میں میاں جاوید لطیف کو تو ساتھیوں سمیت "کٹ" لگ گئی ہے نثار کے گھر کا گیٹ...

“خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا”

 سورج غروب ہوئے ابھی پون گھنٹہ گزرا تھا کہ خدا بخش اپنی جھکی ہوئی کمر کو سہارا دیتے ہوئے بمشکل جھونپڑے میں داخل ہوا...

کامیاب اور پُرسکون زندگی گزارنے کے سنہری اصول.

۔ جھوٹ جھوٹ دو ہی وجہ سے بولا جاتا ہے کسی خوف سے یا کسی مفاد سے ہمیشہ سیدھے راستے پر چلیں، آپ خوف سے نجات پا لیں گے اللہ...

نیکی کرنے کیلیے نیک طریقہ اپنائیے

 اجتماعی طور پر ہمارے معاشرے کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ ہم نیکی کرتے ہوئے ایسا طریقہ اختیار کر جاتے ہیں جس میں...

اہم بلاگز

پانی اور قومی سلامتی‎

پاکستان اوربھارت کے درمیان پانی کے تنازع کی تاریخ تو ستر برس پرانی ہے جب قیام پاکستان کے بعد ہی بھارت نے اپنے علاقوں میں دریائے راوی پر بنے مادھو ہیڈورکس اور ستلج پر بنے فیروزپور ہیڈ ورکس کا پانی روک لیا۔ انہی ہیڈورکس پر اس وقت پاکستانی پنجاب کی زراعت انحصار کرتی تھی ۔ ایک دہائی سے زیادہ یہ مسئلہ چلتا رہا جس کے بعد عالمی بینک کی ثالثی کے نتیجے میں اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم  جواہر لعل نہرو نے 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کئے ۔ اس معاہدے پر دستخط کر کے پاکستان نے درحقیقت اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ ایک تو پاکستان کو اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاؤں راوی، ستلج ،اور بیاس سے مکمل دستبردار ہونا پڑا جبکہ تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم، اور چناب کو پاکستان کی آبی ضروریات کے لئے کافی مان لیا گیا۔ واضح رہے ان تینوں دریاؤں کا ماخذ مقبوضہ جموں و کشمیر ہے جس پر بھارت نے غاصبانہ تسلط جمایا ہوا ہے ۔ دوسرا پاکستان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بھارت، پاکستان کےحصے میں آنے والے دریاؤں پر ہائیڈرولک پروجیکٹس(بجلی پیدا کرنے والے ڈیم )بنا سکتا ہے لیکن ڈیم میں پانی کا ذخیرہ کرنے کا حق دار نہ ہو گا۔ سب سے زیادہ ناانصافی کی بات یہ قبول کی گئی کہ اگر بھارت کے کسی ہائیڈرولک پروجیکٹ کے دریائی بہاؤ پرکوئی پاکستانی ڈیم نہ ہو تو بھارت دریا کا رخ موڑ سکتا ہے لیکن شرط یہی کہ پانی کا ذخیرہ نہ کریں ۔        اس معاہدے کے بعد پاکستان نے اپنے حصے کے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے منگلا اور تربیلا ڈیم تعمیر کئے اور کالا باغ ڈیم بنانا چاہا جو اپنے اعلان کے وقت ہی سے متنازعہ ہو گیا بعد میں پاکستانی حکومتوں نے آبی ذخائر کی تعمیر کو مسلسل نظر انداز کیا جس کا ایک نقصان پانی کے زیاں کی صورت میں نکلا دوسرا یہ کہ بھارت نے پاکستان کی بے عملی کو جواز بنا کر پاکستانی دریاؤں پر متعدد ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا۔ یہ ڈیم صرف بجلی کی پیداوار کے لئے نہیں تھے بلکہ اس میں پانی کا ذخیرہ بھی کیا جانا تھا ۔واضح رہے  بھارت کی جانب سےپانی کاذخیرہ کرنا  سندھ طاس منصوبے کی خلاف ورزی تھی جس کا  عالمی بینک کو نوٹس لینا چاہیئے تھا۔لیکن چشم پوشی اختیار کی گئی۔       دریائے چناب پر تعمیر ہونے والے بگلیہار ڈیم کے منصوبے پر بھارت نے 1992 میں ہی غور کرنا شروع کر دیا تھا جبکہ اس کی تعمیر کا آغاز 1999 سے ہوا۔ پاکستان نے باقائدہ تعمیر شروع ہونے کے بعد بھی تین سال تک اس ڈیم کی تعمیر رکوانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔2002 میں ہوش آیا تو پہلے مذاکرات کے ذریعے ڈیم کے ڈیزائن کو تبدیل کروانے کی کوشش کی جاتی رہی مگر مذاکرات میں ناکامی پر 2005 میں پاکستان معاملے کو ورلڈ بینک میں لے گیا جو سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے اس کے فیصلے سے تعمیر...

معرکہ عین جالوت اور سلطان رکن الدین بیبرس 

۲۵ رمضان ۶۵۸ھ ؁ تاریخ میں کئی واقعات ایسے ہیں کہ جن کے رونماء ہونے کے سبب کچھ ایسا منظر نامہ بنا جس نے یکایک تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ ۹۷ ؁ھ میں دمشق میں سلیمان بن عبدالمالک کا مسند خلافت سنبھالنا اور اس کے نتیجے میں قتیبہ بن مسلم کا چین کی سرحدوں سے ،طارق بن زیاد کا فرانس سے اور محمد بن قاسم کا فتح سندھ کے بعد پلٹ جانا اس کی ایک مثال ہے۔بعد میں اگرچہ ترک اور افغان فاتحین کے ذریعے ہندوستان میں تو اسلام پہنچ گیا مگر چین اور فرانس کی سرحدوں سے واپسی کے بعد عالم اسلام کی سرحدیں چودہ سو سال کے بعد بھی کاشغر(مشرقی ترکستان) سے آگے نہ بڑھ سکیں اور نہ ہی یورپ عالم اسلام میں شامل ہوسکا۔ اس کے علاوہ 1402 ؁ء میں جنگ انقرہ میں امیر تیمور کے ہاتھوں عثمانی سلطان بایزید یلدرم کی افسوس ناک شکست اور گرفتاری بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا کہ جس نے یکایک تاریخ کا رخ موڑ دیا اور اس کے نتیجے میں پورے یورپ کی تسخیر کی خواہش عثمانی ترکوں کا خواب بن کر رہ گئی۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اگر 1815 ؁ء میں واٹر لو کے میدان میں نپولین کو شکست نہ ہوتی تو شاید دنیا کو جنگ عظیم اول اور دوم کی تباہ کاری کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آج ہمارا موضوع ایک ایسی ہی معرکہ آرائی کا تذکرہ ہے جو 25رمضان المبارک 658 ؁ ء بمطابق1260 ؁ء کو مصر اور شام کے درمیان واقع عین جالوت کے مقام پر پیش آئی اور جس کے نتیجے میں عالم اسلام جو بظاہر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا وہ مکمل بربادی سے بچ گیا،عامتہ الناس کو تو چھوڑیں ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بھی ’’معرکہ عین جالوت‘‘ اور اس کے ہیرو ’’سلطان رکن الدین بیبرس‘‘ کے بارے میں بہت کم واقفیت رکھتا ہے ۔حالانکہ اس معرکہ آرائی کے نتیجے میں نہ صرف عالم اسلام کو سیاسی طور پر نئی زندگی ملی بلکہ حرمین شریفین کی حرمت کو لاحق شدید ترین خطرہ بھی ٹل گیا ۔ تیرھویں صدی عیسوی کا سیاسی منظر نامہ معرکہ عین جالوت کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے تیرویں صدی عیسوی کے سیاسی منظر نامہ کو دیکھنا پڑے گا ۔یہ صدی عالم اسلام کے لئے نہایت پر آشوب تھی اور اس صدی میں جتنے مسلمان شہید ہوئے اتنے شاید نہ اس سے پہلے شہید ہوئے نہ اس کے بعد آج تک (دور جدید میں اکیسوی صدی عیسوی کا آغاز اگر چہ اب تک مسلمانوں کے لیے کچھ ایسی ہی صورت حال لیے ہوئے ہے۔) بہر حال تیرھویں صدی عیسوی میں1219 ؁ء میں منگولیا سے اٹھنے والا طوفان بلاخیز ایک کروڑ مسلمانوں کو بہا کر لے گیا ۔ چنگیز خان نے پہلے تو چین کی عظیم تاریخی سلطنت کو برباد کیا پھر اس نے ماوراء ا لنہر کے علاقوں کا رُخ کرتے ہوئے سمرقند، بخارا،تاشقند، مرو اور نسا سے لے کر خراسان کے علاقے ہرات تک اور نیشا پور سے لے کر دریائے سندھ کے ساحلی علاقوں تک تباہی اور بربادی کی داستانیں رقم کیں ۔ وسطی ایشیا اور چین کے بعد مشرقی...

روزہ اور معاشرتی صحت

روزہ بظاہر ایک انفرادی عبادت ہے ، ہر فرد صبح سویرے اٹھتا ہے ، سحری کرتا ہے، پورا دن بھوکا پیاسا رہتا ہے اور شام میں افطار کرتا ہے اور اس کے روزے کا اس کو اور اس کے رب کو پتا ہوتا ہے، کسی تیسرے فرد کو پتا نہیں ہوتا ، ان معنوں میں روزہ ایک انفرادی عبادت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ روزہ ایک اجتماعی عبادت بھی ہے معاشرتی عبادت بھی ہے ، اس لیے کہ پورا معاشرہ ایک ساتھ ایک وقت میں روزہ رکھنا شروع کرتا ہے ، چاند دیکھا جاتا ہے اور اس کے بعد پورے معاشرے کے اندر ایک نمایاں تبدیلی ہمیں نظر آتی ہے۔لوگ پہلی رمضان سے تراویح کے لیے جانا شروع کردیتے ہیں ، مسجدیں بھر جاتی ہیں ، پورے پورے مسلم معاشروں میں ایک وقت پر سحری ہوتی ہے ، ایک وقت پر لوگ کھانا روک دیتے ہیں ، پورے دن بھوکا پیاسا رہتے ہیں اس کے بعد ایک ہی وقت پر کھانا پینا شروع کردیتے ہیں اور پھر تراویح ہوتی ہے پورے معاشرے میں لاکھوں اور کروڑوں لوگ جب ایک کام کررہے ہوتے ہیں تو اس سے اجتماعی عبادت کی فضا بنتی ہے ۔ روزے ایک معاشرتی عبادت بن جاتے ہیں۔ روزے میں سب سے نمایاں جو تبدیلی معاشرے میں نظر آتی ہے اس کو کافی لوگوں نے اسٹڈی کیا ہے کہ کس کس طریقے سے معاشرے کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں،بالخصوص ان معاشروں میں جہاں لوگ بڑی تعداد میں روزے رکھتے ہیں ان معاشروں میں بہت ہی نمایاں اور واضح تبدیلیاں ہمیں نظر آتی ہیں۔ تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ روزے رکھنے کی وجہ سے معاشرے میں ڈسپلن پیدا ہوجاتا ہے اور پورے کا پورا معاشرہ ایک خاص نظم وضبط کا پابند ہوجاتا ہے ، سارے لوگ ایک وقت میں تراویح پڑھتے ہیں ، ایک وقت میں کھانا شروع کرتے ہیں ایک وقت میں ہی کھانا روک دیتے ہیں، یہ ڈسپلن جس معاشرے میں ہوتا ہے یہ اتنا موثر ہوتا ہے کہ دیکھنے والا اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کچھ عرصہ پہلے رمضان کے مہینے میں آسٹریلیا سے ہمارے ایک دوست ڈاکٹر آئے جو بہت بڑے پروفیسر اور ریسرچر ہیں رمضان میں ہم انھیں ایک ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے لے کر گئے جب کھانے کے لیے سب لوگ بیٹھے تو وہ افطار کا وقت تھا، انھوں نے کہاکہ کھانا شروع کریں تو میں نے ان سے کہا کہ یہ ایک خاص وقت ہے جس پر سب لوگ کھانا شروع کریں گے اور پھر وہ وقت آیا اذان ہوئی ، سارے لوگوں نے ایک ساتھ کھانا شروع کیا یہ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوئے اور اس کے بعد انھوں نے پاکستان، ہندوستان کے علاوہ مختلف جگہوں پر لیکچرز دئیے تو ہرجگہ یہ بات کہی کہ میں نے اپنی زندگی میں انسانوں میں اتنا بڑا ڈسپلن کبھی نہیں دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ عورتیں بھی تھیں، بچے اور بوڑھے، بزرگ اورجوان بھی کھانا سامنے رکھا ہوا تھا لوگ پورے دن کے بھوکے پیاسے تھے مگر سب نے ایک خاص وقت پر ہی کھانا...

’’ماہِ رمضان کی خصوصیات‘‘

رمضان المبارک کی باسعادت گھڑیاں قریب ہیں۔ اس کی برکتیں اور رحمتیں بے شمار ہیں۔ یہ مہینہ آخرت کمانے،باطن سنوارنے،اورزندگی بنانے کا ہے۔ اس لیے اس کی پہلے سے تیاری کی ضرورت ہے۔ اس ماہ(رمضان المبارک) میں جتنے کام عام طور پر پیش آتے ہیں، ان میں سے جتنے کام رمضان المبارک سے پہلے ہو سکیں،پہلے ہی کر لیے جائیں۔ او رجو کام رمضان المبارک میں کرنے ہوں، ان کے کرنے میں بھی کم سے کم وقت لگایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت رمضان المبارک میں ذکر وعبادت اور دعا وتلاوت کے لیے فارغ کرسکیں۔ بلا ضرورت لوگوں سے ملاقات کرنا ترک کردیں،تاکہ فضولیات میں قیمتی مہینہ یا اس کے قیمتی لمحات ضائع نہ ہوں۔ اس ماہ میں گناہوں سے بچنے کی خوب کوشش کریں، آنکھ، کان، ناک، دل زبان اور ہاتھ پیروں کو گناہوں سے بچائیں۔ T.V دیکھنے، گانا سْننے سے بچیں، خواتین بے پردگی کے گناہ سے بطور خاص اپنی حفاظت کریں۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، گالم گلوچ، اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب برتیں۔تراویح پورے ماہ پابندی سے ادا کریں۔کیوں کہ عموماََلوگ دس یا پندرہ روزہ تراویح پڑھ کر سمجھ کر لیتے ہیں کہ اب ان پر آگے تراویح نہیں۔ان کا فرض پورا ہوگیا۔یہ سوچ بھی غلط ہے کہ ایک دفعہ تراویح میں قرآن کی سماعت کرلینے سے فرض پورا ہوگیا۔نہیں! مکمل قرآن تروایح میں سننا الگ سنت ہے،اور پورا ماہ پابندی سے تراویح پڑھنا الگ سنت۔ اسی طرح اللہ پاک سے گڑ گڑا کر اپنے والدین، اہل وعیال اور تمام مسلمان مردوں وعورتوں کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے خاص طو رپر اس کی رضا اور جنت مانگیں۔اللہ کی ناراضگی اور دوزخ کی آگ سے پناہ مانگیں۔ رمضان المبارک ایسا مقدس مہینہ ہے کہ اس میں ہر فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابر کردیا جاتا ہے، اور ہر نفل عبادت کاثواب فرض کے برابر۔ یہ صبر وغم خواری کرنے کا مہینہ ہے۔ روزہ افطار کرانا ۔لوگوں کی خوشیوں میں شامل حال ہو کر ان کی ہمت بندھانا۔مساکین و یتامیٰ کی کفالت کرنا۔ اس ماہ کا ہر عشرہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ چنانچہ پہلا عشرہ سراسر رحمت ہے۔ دوسرا عشرہ دِن ورات مغفرت کا عشرہ ہے۔ اور آخری عشرہ دوزخ سے آزادی کے لیے ہے۔اس مہینے میں تمام آسمانی کتابوں اور صحائف کا نزول ہوا ۔خاص طور پر قرآن مجید کا نزول تو خود ہی قرآن نے ہمیں بتایا ہے ۔تفسیر مظہری میں ہے کہ رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے نازل ہوئے۔ جو تعداد میں دس تھے۔ پھر سات سو سال بعد چھ رمضان کو حضرت موسی علیہ السلام پر توریت کا نزول ہوا۔ پھر پانچ سو سال بعد حضرت داؤد علیہ السلام پر13 رمضان کو زبور کا نزول ہوا۔ زبور سے بارہ سو سال بعد 18 رمضان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل کا نزول ہوا۔ پھر انجیل کے بعد پورے چھ سو سال بعد24 رمضان کو لوح محفوظ سے دنیاوی آسمان پر پورے قرآن کا نزول ہوا اور اسی ماہ کی اسی تاریخ کو خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم...

دیہاڑی کی سوچ

حیدر میر خان کا تعلق ہندوستان کے  شہر حیدرآباد سے تھا ۔ وہ نویں کلاس میں تھا جب پاکستان وجود میں آگیا ۔ پاکستان دیکھنے کی تڑپ اور شوق اس نوجوان کو ایک دو دوستوں اور ایک عدد سائیکل کے ساتھ پاکستان کھینچ لائی ۔ جب اس نے اپنی ماں کو آواز لگائی کہ " اماں میں پاکستان جا رہا ہوں " ۔ اسوقت اس کی ماں ہنڈیا پر سالن چڑھائے بیٹھی تھی وہ غور سے بیٹے کی شکل تک نہ دیکھ سکی ۔ جب تک بھاگ کر صحن میں آئی بیٹا پاکستان کے لئیے نکل چکا تھا ۔ پاکستان تو  پاکستان تھا وہ بھی 1947 کا پاکستان کونسا امریکا تھا ۔ یہاں آکر اس کو معلوم ہوا : ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات اس نویں کے طالبعلم نے ایک چائے کے ہوٹل میں نوکری کرلی ۔لوگوں کو چائے پلانا ، صبح سے رات تک میز وں پر کپڑا مارنا  ،ٹیبل پر پانی بھر  کر رکھنا  اور رات کو اسی ہوٹل کی کسی ٹیبل کے نیچے سوجانا ۔ کچھ عرصے بعد اس نوجوان نے کنڈکٹری شروع کردی۔ اس دفعہ سر چھپانے اور رات گزارنے کے لئیے بس کی چھت مل گئی تھی ۔ روزو شب ایسے ہی گزرتے رہے کہ ایک دن پولیس والے کی گاڑی پر کپڑا مارنا کام آگیا ۔ "صاحب" نے تھانے بلا لیا اور اس طرح تھانے میں صفائی کرنا ، سپاہیوں کو چائے پلانا اور تھانے کی دیوار کے ساتھ ہی سوجانا ۔ کچھ عرصے بعد پولیس میں نوکریاں آئیں اور اس نوجوان کو اسی پولیس آفیسر نے بھرتی کروادیا ۔ تھانے میں صفائی کرنے والا اب سپاہی بن چکا تھا ۔ اس نے دن رات ایک کردیا ۔ محنت اور ایمانداری مل کر وہ قیامت ڈھاتے ہیں کہ جسکا اندازہ بھی شاید ہم نہ کرسکیں ۔اس نے ایمانداری کا بیج بونے کے بعد محنت کی سرمایہ کاری شروع کردی ۔ اگر آپ کو اپنی صلاحیتوں پر  اعتماد اور خدا پر یقین ہے تو پھر آپ آج کی محنت کا صلہ آج وصول کرنے کے بجائے اس کسان کی طرح فصل آنے کا انتظار کرینگے جو بیج بونے کے بعد روز صرف اپنی محنت کا پانی اپنی خالی زمینوں پر ڈالتا رہتا ہے لیکن اس کو یقین ضرور ہوتا ہے کہ آج نہیں تو کل میری کھیتی پھل ضرور لائیگی ۔ وہ نوجوان سپاہی سے افسر بنا ۔ سب انسپکٹر ، انسپکٹر ، ایس – ایچ – او ، ڈی – ایس –پی اور پھر سی – آئی – ڈی کا  ایس – پی بن گیا ۔ سندھ کے پانچ اضلاع کی پولیس اس کپڑا مارنے والے نوجوان کو سیلوٹ مارنے لگی ۔ لیکن اس کی ایمانداری میں فرق نہیں آیا ۔کبھی غوث علی شاہ اور کبھی قائم علی  شاہ اس کے دروازے تک آنے لگے ۔ اسی دروازے پر جہاں آج بھی ٹاٹ کا کپڑا پڑا تھا  اور وہ اب بھی اپنی ساس کے دئیے مکان میں رہائش پذیر تھا ۔ نوٹوں سے بھرے بریف کیس آتے۔ جیسے آتے ویسے ہی چلے جاتے ۔ ہر نئے موسم  میں آنے والے پھلوں کی پیٹیاں زمین داروں...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ،لال مرچ، کالی مرچ ،مرچی پودوں کی جنس شملہ مرچ سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کی ابتدا امریکہ سے ہوئی۔ مرچ کم از کم 7500 قبل مسیح سے لے کر امریکہ میں انسانی غذا کا ایک حصہ رہا ہے۔ دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے۔ جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ باریک مرچیں اور جنگلی مرچیں روز مرہ کے کھانوں میں عمومًا استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا اور باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ ان کو لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے ہرہیز کرنا چاہے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کریں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو وہ دور جانے کے بجاۓ قریب ہوجائیں۔ جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو بیلنس رکھنا ایک فن ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جاۓ تو سننے والے کو لطف آتا ہے۔ اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔یہ نصیحت خصوصاً خواتین کے لیے ہے۔ جو اکثر اپنی باتوں سے مرچ لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔ بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کے شوہر کے سامنے جاۓ ، شوہر موبائل میں مصروف ہوں اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکاۓ اگر شوہر اس میں کوئی خامی نکالے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ لہذا تمام شوہروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں۔ کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے سردی گرمی دنوں میں با آسانی لگائی جا سکتی ہیں۔ غنیمت جانے کے آپکی شادی ہوچکی ہے۔ ورنہ تو کہیں ایسا نہ ہو مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ نہ پڑجاۓ۔  

دبی شخصیت کے ساتھ ایک صبح

تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر ادبی شخصیات کے ساتھ آپ نے سنا ہوگا کہ اکثر شام یا رات منائی جاتی ہے۔کیونکہ سارا دن وہ ادبی کاموں،رسائل،میگزین و دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے شام سے رات گئے تک وہ فارغ ہوتے ہیں۔مشاعرہ ہو یا ادبی نششت محفل رات کو ہی جمتی ہے۔یقین مانئے اکثر شعرا کرام کے گھر اُتنی دہی نہیں جمتی جتنی محفلیں جمتی ہیں۔رات تاخیر سے بسترِ استراحت پر جانے کی وجہ سے صبح صادق آنکھ کا نہ کھلنا قدرتی اور محفل کا ’’خمار‘‘ بھی ہو تا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کوئل و بلبل کو اپنی شاعری میں استعمال کرنے والے شعرا نے کبھی ان پرندوں کی شکل علی الصبح باہر نکل کردیکھی ہو یا ان کی آواز سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں۔دوحہ سے واپسی اسلام آباد کوئی پانچ گھنٹے کا قیام تھا علی الصبح اسلام آباد ائر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنے ایک دیرینہ ادبی دوست کے گھر کا راستہ لیا۔ملاقات چونکہ دوحہ سے روانگی پر ہی فون پہ طے ہو چکی تھی اس لئے صبح سویرے انہیں فون بھی نہ کیا سوچا ہمدم دیرینہ ہے میرے پہنچتے ہی بیڈ روم سے گیٹ تک دیر نہیں لگائے گا۔مقررہ وقت پر اس کے ہاں پہنچے،ڈور بیل دی۔اور ذرا گیٹ کی سائیڈ پہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے،جواب و شکل دونوں ہی ندارد پا کر ایک بار دو بار،سہ بار مسلسل بیل پہ ہاتھ دھرے رکھا،تھوڑا توقف کیا اور سوچ میں پڑ گئے خدایا کسی اور کے گھر تو دھاوا نہیں بول دیا۔چند قدم پیچھے ہٹے،گھر کے باہری حصہ کو غور سے دیکھا،ماسوا اس کے کوئی فرق نہ پایا کہ جب پچھلی بار تشریف آوری ہوئی تھی تو منڈیر پر کالا کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا،جس کی کہانی بھی الگ سے ہے۔کہ پچھلی بار میں نے یونہی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی کوّے کی کائیں کائیں شروع ہو گئی تو موصوف اپنا پسٹل لے کر نمودار ہوئے کہ آج یا کوا نہیں یا مہمان نہیں۔کیونکہ مجھ سے قبل کوئی چار بار کوّے نے کائیں کائیں کی اور چاروں مرتبہ مہمان آ وارد ہوئے اور میں پانچواں مہمان تھا۔صد شکر کہ اس بار کوّے کی جگہ ایک فاختہ تشریف فرما تھی ۔ایک بار پھر ہمت مجتمع کی اور ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ آنکھیں ملتے ہوئے چوکیدار کی شکل دکھائی دی،بھاری بھر کم آواز میں اس استقبالیہ کے ساتھ خوش آمدید کیا کہ اتنی صبح آن دھمکا ہے ،چین سے سونے بھی نہیں دیتے۔لو جی موصوف کیا یہاں تو چوکیدار تک سویا ہوا ہے۔نیم بند آنکھوں سے ہی ہمیں پہچانتے ہوئے دور سے ہی سلام کیا اور اسی ہاتھ سے اندر آنے کا بھی اشارہ فرما دیا۔ڈرائنگ روم کھول کے بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی،نہ چوکیدار،نہ دوست اور نہ کوئی چائے پانی،سب ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ،حالانکہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے نہیں ۔کوئی گھنٹہ بعد کام والی ماسی ڈرائنگ روم کی صفائی کرنے آئی تو ایسے ہی اسے پوچھ لیا کہ یہ چوکیدار کدھر...

بڑھاپے کی بڑھکیں،عینک اور بتیسی

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے حالانکہ اس عمر میں انسان کسی رخ سے بھی سیدھا نہیں ہوتا۔ دونوں کی بتیسی(مصنوعی دانت) اور عینک کا نمبر ایک جیسا ہو جاتا ہے۔جس کو جو چاہئیے مستعار لے اور اپنا گزارہ کر لے۔مثلاًبابا جی کو بھوک لگی ہو تو کھانے کے لئے بتیسی ادھار پکڑی کھانا کھایا بتیسی گرم پانی میں سٹرلائز کی اور ’’بابی‘‘ کے منہ میں۔اماں کو تلاوت فرمانی ہوئی تو بابے کی عینک پکڑی ،دھاگے والے فریم کو ناک کی سلوٹوں پہ ایڈجسٹ کیا ،بعد از تلاوت عینک بڑے پیار سے بابے کی ناک پہ چسپاں۔گویا انسان اگر بوڑھا نہ ہوتا تو چشموں اور دانتوں کے کام کا مکمل مندا ہوتا۔اکثر میری کلاس کے بچے شرارتاً سوال کرتے ہیں کہ سر بڑھاپے کی آمد کا پتہ کیسے چلتا ہے۔تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ جب منہ میں دانت گرنے لگیں اور عینک کا نمبر بڑھنے لگے تو سمجھ جاؤ کہ بڑھاپے کی آمد آمد ہے۔یا پھر اولاد اور اعضائے جسمانی ایک ساتھ جواب دینے لگ جائیں ،بیوی اور یاد داشت کا ساتھ کم ہونے لگے،کھانے کا ذائقہ اور بدصورت عورتوں کا ساتھ حسین لگنے لگے ،حد یہ کہ جب بچے آپ کو نانا ،دادا جبکہ حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنا شروع کر دیں تو کسی قسم کے تردًد سے کام نہ لیتے ہوئے چپ چاپ اپنے بڑھاپے کو ایسے ہی تسلیم کر لیں جیسے بوقتِ نکاح دلہن سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ فلاں بن فلاں قبول ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوا اس کے کہ ہاں’’ سب چلے گا‘‘۔ ویسے بڑھاپا مغرب میں اتنا برا خیال نہیں کیا جاتا جتنا کہ مشرقی لوگوں نے بنا دیا ہے۔مغربی بڈھے جتنا بڑھاپے کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں اتنا ہم مشرقی جوانی میں بھی شائد نہ کرتے ہوں،مغرب میں بوڑھوں کو عمر کے ڈھلتے ہی اولڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ان کی کیئر ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں بوڑھوں کو گھر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ جوانوں کے ’’طعنے معنوں‘‘ کی زد میں رہ کر ان کے کتھارسس کا باعث بن سکیں۔طعنے ذرا ملاحظہ فرمائیں ٌ* بابے کی چارپائی جانوروں والے کمرے میں لگا دیں * بابا ہر بات میں ٹانگ نہ اڑایا کر،حالانکہ بابا اپنی ٹانگوں پہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ * بڑھاپے میں کوئی فعلِ جوانی سر زد ہو جائے تو’’چٹے چاٹے(سفید بالوں) کا خیال کر،چاٹا سفید ہو گیا عقل نہ آئی،بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مشرق میں تو بڑھاپے کو توبہ و استغفار کی عمر خیال کیا جاتا ہے کہ بابا جی تسبیح مصلحہ لے لو اور اللہ اللہ کرو،حالانکہ مغرب میں جو بوڑھے ایامِ جوانی میں جس عورت سے عیاشی کرتے رہے بڑھاپے میں اسی عورت سے شادی کو آئیڈیل عمر اور جوڑی سمجھتے ہیں،اسی لئے بڑھاپا مشرق میں مرض اور بوجھ جبکہ...

اُف یہ بیویاں

عورت ٹیڑھی پسلی کی وہ تخلیق ہے کہ ایک بار بیوی بن جائے تو پھر ٹیڑھے سے ٹیڑھے مرد کو بھی یک جنبش انگلی ایک ہی پاؤں پہ وہ ناچ نچواتی ہے کہ شوہر نامدارکے تمام کس بل نکال دیتی ہے۔اور مرد بے چارہ جو قبل از شادی کسی کو پلے نہیں باندھتا تھا اب بیوی کے پلو سے ایسے بندھا رہتا ہے جیسے اونٹ کے گلے میں بلی اور بلی بھی وہ کی جو بہت سے بلوں میں اکیلی گھری ہوئی ہو جیسے رضیہ غندوں میں اور دور کھڑا ایک خاوند لاچارگی و نحیف آوازمیں کہہ رہا ہو کہ :شیر بن شیر؛ بیوی آ پکا وہ قانونی حق ہے جسے آپ سو(۱۰۰)دو سو(۲۰۰) افراد کی موجودگی میں قبولیت ثلاثہ کے ساتھ بخوشی حق قبولی میں لیتے ہیں۔بعد از شادی بعدین دو سو دن شادی مرگ ہو بھی جائے تو یقین مانیں آپ دنیا کے خوش قسمت ترین خاوند خیال کئے جائیں گے ہو سکتا ہے آپ کو :عائلی شہید: کے اعلی رتبے پر خیال کیا جائے۔ بیوی میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہوایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ یہ جب چاہے کوئی سا بھی روپ دھار سکتی ہے۔جب چاہے گرگٹ بن کے کوئی سا بھی رنگ بدل لے۔رنگ بدلنے کے لئے خاوند،سسرال،یا میکہ کہیں سے بھی بیوی کو اجازت نامہ درکار نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے سے ہی :بیوی نامہ:میں ڈیٹا اسٹور میں پڑا ہوتا ہے۔بس یہ بیوی پر منحصر ہے کہ ذاتی منشا و مدعا کے مطابق کب ،کونسا روپ دھار کر خاوند،ساس،نند،اوردیورانی کو بیوقوف بنانا ہے۔یعنی گھر میں دھونے والے برتنوں کی کثرت ہو تو کثرت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے لئے بھی بیوی کے سر میں درد نکل سکتاہے،سسرالی مہمانوں کی آمد آمد ہو تو :خاتون خانہُ:گندے دوپٹے سے سر باندھ کر بوڑھی :دائیہ ؛کی وضع اپنا سکتی ہے۔اور اگرمیکہ والوں سے کوئی دور پار کے رشتہ دار بھی آ جائیں تو :کپتی بیوی: کے غلاف سے دھارمک ،بی بی اور موٗدب بیوی کہاں سے عود کر آ جائے گی کہ پورا سسرال انگشت بدنداں،حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ :ہیں: ایسا روپ تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔البتہ تنخواہ کا دن وا حد دن ہوتا ہے جس میں ایک دم کپتی بیوی گل اندام محبوبہ کی وضع قطع اپنا لے گی کہ :سکے خاوند: کو یقین نہیں آتا کہ وہ ذاتی بیوی سے مخاطب ہے یا کسی اور کی بیوی کے سامنے کھڑا ہے۔بیوی کے یہ ناز و نخرے اس وقت تک چلتے ہیں تا وقتیکہ شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی نہ ہو جائے۔ ایام ماہ آ خرجب شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی ہو جاتے ہیں تو فوری طور پہ :گجی ماں:جیسے ٹکا کے بے عزتی کرتی ہے جیسے بچپن میں رات تاخیر سے وآنے پہ اماں کرتی تھیں۔بعض اوقات تو اماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہی رہتی ہے۔ بیوی کا پاور ھاؤس اسکا میکہ ہوتا ہے جبکہ خاوند کے لیے یہ جگہ بارگاہ ادب سے کم نہیں۔ ہر اس شخص کو کسھیانی مسکراہٹ اور عزت و مقام بخشتے ہوئے جھک کر سلام اور گلے لگانا پڑتا ہے جو آر...

انگریزی،انگریزنی اور ہم پاکستانی

انگریز برصغیر سے جاتے ہوئے اپنی اپنی انگریزنیوں کو تو ساتھ لے گئے۔تاہم انگریزی ہمارے واسطے بطور عذاب اور امتحان کے چھوڑ گئے۔ہم ٹھہرے باوقار پاکستانی،اپنی چائے میں مکھی بھی پڑ جائے تو اسے مکمل نچوڑ کر اور کبھی کبھار چوس کر چائے بدر کرتے ہوئے کہیں دور پھینک کر بقیہ چائے یہ کہتے ہوئے پی لیتے ہیں کہ حلال کمائی کی ہے، مگر کسی کی جھوٹی چائے کو تو ہاتھ لگانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔بھلا تصور کریں کہ انگریز کی چھوڑی ہوئی انگریزی کو ہم کیسے ہاتھ لگائیں گے۔ہاں اگر انگریزی کی جگہ انگریزنی ہو تو ہاتھ اور منہ لگانے کو ہم قومی فریضہ خیال کریں گے۔پھر بھی ہم یارانِ مہر و محبت ،انگریزی کو بھی صیغہ مونث خیال کرتے ہوئے اس امید سے برداشت کر رہے ہیں کہ اک روز تو آئیگی آتے آتے’’پر کتھوں‘‘نہ انگریزی اور نہ ہی انگریزنی آتی ہے،مایوسی کہیں کفر تک نہ لے جائے اور مذکور ان دو صنف اور صنفِ نازک سے بدلہ لینا مقصود ہو تو رختِ سفر باندھیے گوروں کے دیس کا اور ایک عدد گوری سے شادی کر وا کے خوب اپنی تشنگی بجھائیے۔جیسے 90 کی دہائی میں میرا ایک دوست اس عزمِ صمیم سے ولایت پڑھنے گیا تھا کہ وہاں جا کر انگریزی اور انگریزنیوں سے گن گن کر بدلے لوں گا۔اور وہ اپنی زبان کا پکا نکلا کہ گن گن کر اس نے سات آٹھ انگریزنیوں سے شادیاں کی ،گن گن کر پندرہ بیس مکس کراپ( mix crop ) قسم کے بچے پیدا کئے جنہوں نے بڑھاپے میں ایک ایک کر کے چھوڑ دیا اور اب محترم سوچ رہے ہیں کہ ’’اپنے اور اپنا پاکستان زندہ باد‘‘۔مگر یہ سب ہر بندے کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ انگریزی اور انگریزنی کو ایک ساتھ ہاتھ ڈال لے۔اور اگر یہ دونوں ایک ساتھ کہیں ہمارے ہتھے چڑھ جائیں تو پھر ہم ان دونوں کی وہ ’’ماں بہن‘‘ ایک کرتے ہیں کہ خدا پناہ۔میرا ایک دوست انگریزی کے ساتھ وہ ’’کتے خوانی‘‘ کرتا ہے کہ گورے ان کی انگریزی اگر پڑھ لیں تو انگریزنیوں کو بچوں سمیت موصوف سے ایسے چھپاتے پھریں جیسے بلی اپنے بچوں کو منہ میں دبائے سات گھروں میں لئے پھرتی ہو۔میری نظر سے ان کا لکھا ہوا ایک پیرا گراف گزرا ۔اس پیراگراف پڑھنے کے بعد جو میرے احساسات تھے میں چاہتا ہوں کی قارئین کی نذر کروں،پیرا پڑھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے preposition کو دھوبی پلڑا مار کر اور مجھے کرنٹ لگا کر زمیں پر دے مارا ہو،preposition کے بے ہنگم استعمال سے میں سمجھا ،کہ ہو سکتا ہے کہ میں ہی ذہنی طور پہ تیا ر نہ تھا ،ایسا ہرگز نہیں تھا کیونکہ use of tense کو بھی انہوں نے اتنی tention میں رکھا ہوا تھا کہ میں خود tense ہو گیا کہ الہی ماجرا کیا ہے،بندہ ماسٹر ڈگری کر کے ماسٹر لگا ہوا ہے تو پھر انگریزی میں اتنا ماسٹر کیوں نہیں کہ ایک جملہ ہی ٹھیک سے لکھ سکتا ہو۔اب دیکھئے ذرا کہ ’’میں کہتا ہوں‘‘ کی انگریزی me told اور ’’تم آجانا‘‘ کی they come کی...

ہمارے بلاگرز