انس اسلام

13 بلاگ 0 تبصرے

میرا سب کچھ ، نامِ محمدﷺ

کائنات میں سب سے بدقسمت ، بدنصیب و غلیظ انسان وہ ہے جو دل رکھتا ہے مگر دل میں محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم)...

آپ صاحب عقل ہیں تو۔۔۔

پہلے طاق راتوں میں مسجد عبادت کیلئے جاتے تھے اب اگر آپ نے عبادت کرنی ہے تو مسجد نہیں جاسکتے اتنا شور شرابہ ، کھانے...

عامر لیاقت ہمارے کام کا بندہ ہے

یہاں اس شیطانی و دجالی ڈبے میں آپ کو وہی گندہ لگتا ہے جو اوور ہوکر ورک کر رہا ہوتا ہے ، آپ کو...

روزے رکھے، مگر تقوٰی پیدا نہ ہوا ؛ کیوں ؟

روزے کا ماحصل و مقصد و حکمت’’تقویٰ‘‘ ہے،بلکہ ہر عبادت ہی کا مطلوب’’تقویٰ‘‘ہے!۔ جس عبادت کا ماحصل تقوی نہ ہو وہ عبادت ''بانجھ'' عبادت ہوتی...

یہ ترقی ہے خوشحالی نہیں

جاپان کو خودکشی کا وطن کہا جاتا ہے ، دوسری جانب سپر پاور ہونے کا دعوے دار امریکہ بھی جاپان سے کم نہیں اور...

شب برات’ کا پیغام مسلمانوں کے نام ‘

محترم بھائیو ! شیطان ہر انسان کا سب سے بڑا اور اصلی دشمن ہے ، شیطان بنیادی طور پر دو ہی کام کرتا ہے 1 :انسان کو...

نسلِ نو کا اغوا

حضرات ! گھروں میں موجود بچے بظاہر تو آپ کے ساتھ ہیں لیکن درحقیقت وہ اغواء ہو چکے ہیں۔ آپ کے بچے آپ کی گود...

شام کی عظمت و فضیلت و اہمیت و حیثیت‎

تاریخ میں جس خطے کو ''بلادِ شام'' کہا جاتا ہے ، یہ ایک بہت بڑا علاقہ ہے ، جب خلافتِ اسلامیہ کمزور پڑی اور...

اسلام کی بیٹی لبرل ازم کی شکار ، کیوں ؟ 

معاف کیجئے گا اسے اگنور نہیں کیا جاسکتا ، اس حقیقت کو ٹھکرایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اسے معمولی سمجھا جاسکتا ہے آپ کی...

اللہ ہم میں کیا دیکھ ہے ؟

دنیا ہمیشہ دو حصوں میں تقسیم رہی ہے ، تقسیم ہے اور ہمیشہ تقسیم رہے گی ''انبیاء کے دشمن اور انبیاء کے متبعین و پیروکار'' یہ...

اہم بلاگز

ہنوز دلی دور است

20مارچ 1739 ؁ء دہلی میں محلہ حوض قاضی کی سنہری مسجد کا منظر ، یہ مسجد روشن الدولہ کی مسجد بھی کہلاتی ہے ۔ مسجد کی سیڑھیوں پر ایک سپہ سالار ننگی تلوار ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے۔ اس کے گرد محافظین کا دستہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ سپہ سالار ان افواج کا سربراہ ہے جو گزشتہ نو گھنٹوں سے دہلی میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ ان نو گھنٹوں میں دہلی میں ایک لاکھ سے زائدبے گناہ افراد قتل کیے گئے ہیں۔ گلی کوچوں میں لاشوں کے ڈھیر جمع ہوچکے ہیں۔ شرفاء دہلی کے گھروں کے دروازے کھلے پڑے ہیں اور حملہ آور افواج کے سپاہی ان گھروں کے باسیوں پر تشدد کرکے پوشیدہ مال و دولت نکلوارہے ہیں۔ دہلی کے خوبصورت مکانات دھڑا دھڑ جل رہے ہیں۔ حملہ آور سپاہی پورے پورے محلے لوٹ مار کے بعدنذرآتش کررہے ہیں۔ مرد و عورت اور جوان بوڑھے کا فرق کیے بغیر قتل وغارت گری کی جارہی ہے۔ دہلی والوں نے بھلا ایسی قیامت کب دیکھی تھی؟ اس قتل عام نے تین سو سال پرانی امیر تیمور کی دہلی پر یلغار کو بھی شرما دیا ہے۔ اب مجبور ہو کر بادشاہ دہلی نے نظام الملک آصف جاہ کو روشن الدولہ کی مسجد بھیجا ہے اور نظام الملک حملہ آور سے دہلی والوں کے لیے جان بخشی طلب کرتے ہیں۔ آخر کار حملہ آور سپہ سالار تلوار نیام میں ڈال لیتا ہے اور یہ اشارہ ہے کہ قتل و غارت گری بند کردی جائے! یہ سپہ سالار ایرانی بادشاہ نادر شاہ افشار ہے جسے تاریخ میں نادر قلی بیگ بھی کہا گیا ہے اور یہ آج دہلی والوں پر قیامت بن کر ٹوٹا ہے۔ گزشتہ ماہ 24فروری 1739 ؁ء کو دہلی سے سو کلو میٹر دور کرنال کے میدان میں مغل لشکر نادر شاہ کے ہاتھوں شکست فاش سے دوچار ہوگیا تھااور مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلاکو نادر شاہ نے اس معرکے میں گرفتار کرلیا تھا۔ دہلی میں شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مغل فوج کا یہ حال بھی ہوسکتا ہے۔ صرف32سال پہلے مغل تاجدار اورنگزیب عالمگیر کی وفات کا واقعہ پیش آیا تھا جس نے تقریباً پچاس سال قندھار اور کابل سے لے کر دہلی اور لاہور تک جاہ و جلال کے ساتھ حکومت کی تھی۔ عالمگیر نے اپنی بیشتر زندگی میدان جنگ میں گزاری تھی اور اپنے دور حکومت میں مرہٹوں اور سکھوں کی یورش پر بڑی کامیابی سے قابو پالیا تھا۔ آج اس کی وفات کے صرف 32سال بعد ایران سے نادر شاہ ایرانی لوٹ مار کرتا چلا آرہا تھا اور دہلی کے لال قلعے تک اسے روکنے والا کوئی نہ تھا! محمد شاہ رنگیلا1719 ؁ء تا 1748 ؁ء: 1707 ؁ء میں اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد سے 1719 ؁ء میں محمد شاہ رنگیلا کی تخت نشینی تک12سال کے وقفے کے دوران مغل تخت پر چھ حکمران مسندنشین ہوئے، اعظم شاہ، بہادر شاہ اول، جہاں دار شاہ، فرخ سیر، رفیع الدرجات، اور شاہجہاں ثانی۔ یعنی12سال میں مغل سلطنت کے چھ حکمران ! عالمگیر کی وفات کے بعد زوال حکومت کی یہ...

جب دنیا والے سوتے تھے وہ میرے غم میں روتا تھا

انسان معاشرتی حیوان ہے اور اسے قابو میں رکھنے کے لیے محبت، امن، خداترسی ،ہمدردی اوردوسروں کے درد کو محسوس کرنا جیسے جذبات اس کے دل میں ڈالے گئے۔اور  اگر یہی جذبات دین و مذہب اور اخروی زندگی کی فلاح و کامیابی سے جڑ جائیں تو انسانیت عروج کی بلندیوں پر پہنچ جائے۔دنیا میں عدل وانصاف کا ہونااور انسان کااپنے جیسے انسان کےدردکو محسوس کرنا ۔دراصل ازل سے انسان  مسائل میں گھرا رہا اور رب تعالی نے اپنے انبیاء کو انسانیت کےمسائل کے حل کے ساتھ ہی دنیا میں بھیجا۔اور بالآخر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر حجت تمام ہوئی اور  قیامت تک کے انسانوں کے لئے شریعت محمدیﷺ میں ہی اپنے مسائل کاحل تلاش کرنا لازم ٹھہرا۔ اور ساتھ ہی رب کے ساتھ اس کے محبوب کی محبت لازم قرار پائی۔ محبت بھی ایسی جو انسان کے اپنے فائدے کا سبب بنی نہ صرف دنیا کی زندگی میں کامیابی کا سرٹیفکیٹ قرار پائی بلکہ ہمیشہ ہمیش کی زندگی اور جنت میں داخلے کا پروانہ بن گئی۔اور عاشق رسول بھی ایسے کہ حق ادا کر دکھایا۔ بیعت رضوان کے موقع قریش کے وفد کی زبانی صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے احوال کہ محمدﷺکے اصحاب تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی تک نیچے نہیں گرنے دیتے۔ ایسی عزت و اکرام تو میں نے بڑےبڑے بادشاہوں کی نہیں دیکھی۔  پھر جن سے محبت کی جاتی ہے انہی کے نقش قدم پر چلنے کی جستجو بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہی محبت اور نقش قدم پر چلنے کی توفیق ہے کہ جس نے مسلمانوں کو اوج ثریا پر پہنچا دیا اور آدھی دنیا کا حکمران بنا دیا ۔اور یہ وہی محبت ہےکہ ایک مسلمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آن کی خاطرکٹ تو سکتا ہے لیکن انکی حرمت پر کوئی آنچ آئے ،برداشت نہیں کر سکتا۔ اور یہ رشتہ مضبوط اسلیئے ہےکہ آج کا انسان و مسلمان یہ بات جان چکا ہےکہ موجودہ حالات میں تمام مسائل کا حل شریعت محمدیﷺ کی پیروی میں ہے۔ ایک طویل حدیث کا مختصرا مفہوم جس میں آج کے مسائل کا حل موجود ہے اس حدیث میں نبی کریم نے عدی بن حاتم کو تین پیشن گوئیاں دیں اور ساتھ ہی لمبی عمر کی بشارت بھی اور انھوں نے یہ پیشن گوئیاں خلافت راشدہ میں اپنی آنکھوں سے پوری ہوتے دیکھیں۔کہ ایک عورت سونا اچھالتی ہوتی اکیلی سفر کرے گی اور اسے جنگلی جانوروں کے علاوہ کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔ لوگ زکوۃ لے کر نکلیں اور کوئی لینے والا نہ ہوگا ۔تمام سپر پاور اسلام کے زیر نگیں آجائیں گی۔(مفہوم حدیث) اگر آج کے حالات میں دیکھا جائے تو انہی تین پیشن گوئیوں میں ہمارے مسائل کا حل موجود ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہےکہ ہم نبی کریمﷺ کے ساتھ ویسا تعلق قائم کریں جیساکہ حق ہے اور صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور  انفرادی اور اجتماعی سطح پر شریعت محمدی ﷺکے نفاذ کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔اسکےلیے سلطان صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی جیسے مجاہدین کی ضرورت ہے اور اس سے پہلےایسی ماؤں کی ضرورت...

ایک رشتہ جو میری اوقات بدل دیتا ہے

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا, مجھے تمنا ہے کہ میں اپنے بھائیوں سے ملتا.صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: کیا ہم آپﷺ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم تو میرے صحابہ ہو اور میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے.(مسند احمد) اسی نوعیت کی ایک اور حدیث پیش خدمت ہے: روایت ہے ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا '' خوشخبری ہو اسے جس نے مجھے دیکھا اور سات بار خوشخبری ہو اسے جس نے مجھے نہیں دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا."(مسند احمد). کتنے لطیف اور خوش کن انداز میں ذکر کیا ہے میرے نبیﷺ نے مستقبل میں آنیوالے اپنے امتیوں کا ان احادیث میں کہ ساڑھے چودہ سو سال گذرنے کے بعد بھی عقیدت اور محبت کی یہ ڈور امت کے موجودہ اور تاقیامت آنیوالے ہر فرد کا روحانی و شعوری رشتہ اپنے عظیم مربی و محسن سے جوڑے رکھتی ہے.ہر کلمہ گو کا اپنے نبی پاک سرور کائنات محمدﷺ سے جڑا یہ رشتہ ہی تو اسے اللہ کے نزدیک خاص الخاص بنا دیتا ہے. اندھیری راتوں کی تنہائیوں میں اپنے رب سے سرگوشیوں اور سسکیوں میں بھی "امتی،امتی" کی گردان کرنیوالے سے محبت بھرا یہ رشتہ ہی تو ہے جو میرے دل میں دھڑکتا ہے، میرے خون میں گردش کرتا ہے،میری سانسوں میں مہکتا ہے.پھر کبھی محبوب ﷺ کی یاد میں آنکھوں سے بہتا ہے۔کبھی ملنے کی تڑپ پیدا کرتا ہے،تو کبھی آنکھوں میں پیاس بن کر ، محبوب کے دیدار کی تمنا کر بیٹھتا ہے کہ کبھی خواب میں ہی سہی مجھے پیارے نبی ﷺ کا دیدار کرادے مولا.اس دائمی رشتے کی حساسیت ہی تو ہے کہ مسجد نبویﷺ میں روضہ رسول ﷺکی سنہری جالیوں کے اس پار سے وہ شفیق ہستی زخمی دلوں پر اپنی رحمت وشفقت کے پھاہے رکھتی میدان عمل میں جمے رہنے کیلیئے حوصلہ فراہم کردیتی ہے. اللہ رب العزت کے بعد مجھ گنہ گار سے سب سے زیادہ محبت کرنیوالا یہی تو رشتہ ہے.جس کی محبت اور خلوص نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے طائف کی وادیوں میں خون آلود وجود اور رنجیدہ قلب کے ساتھ میرے لیئے ہم سب کیلیئے عذاب کے فرشتے کی سامنے موجودگی کے باوجود دعائے خیر مانگی.اہل طائف کے ناروا سلوک کے باوجود امیدواخلاص سے بھرپور وہ دعا کہ انکی آئندہ نسلوں سے باایمان ,ہدایت یافتہ افراد اٹھیں کتنے دوررس مثبت اثرات رکھتی ہے کہ اسی طائف کی وادی کا نوجوان محمد بن قاسم برصغیر میں اسلامی تہذیب کے آغاز کا باعث بن گیا.میرے محبوب نبی ﷺکی وہ دعا میرے اور اس خطہ میں تاقیامت آنیوالے ہر ذی شعور مسلم کیلیئے کیسی بارآور ثابت ہوئی. میں کیسے بیان کروں کہ میرےنبیﷺ سے میرے اس لازوال رشتے کی کیا اہمیت ہے.قلبی کیفیات کو تحریر کرنا بہت کٹھن معاملہ ہے.میں تو ایمان و اخلاص کی انتہائی پست حالت میں ہوں  مجھ بے عمل کی اوقات سے ماورا ہے کہ میں اس رشتہ ،نسبت کا کبھی حق ادا...

یہاں سب بکتا ہے

ہم ایسے ملک کے رہنے والے ہیں جہاں سب کچھ بکتا ہے۔یہاں ریٹنگ کی دوڑ ہے اس لیے سب بکتا ہے۔کہیں زندگی بکتی ہے، تو کہیں موت بکتی ہے،کہیں اچھا بکتا ہے، تو کہیں برا بکتا ہے،کہیں عزت بکتی ہے، تو کہیں غیرت بکتی ہے، اور کہیں انصاف بکتا ہے تو کہیں ظلم و ستم بکتے  ہیں۔یہ ایسی منڈی ہے جہاں سب کچھ بکے گا جو ہے وہ بھی بکے گا اور جو نہیں وہ بھی بکے گا۔ یہاں اخلاقی اقدار کی دھجیاں بکتی ہیں،یہاں ہوشیاری کے نام پر مکاری بکتی ہے،یہاں تنقید کے نام پہ جہالت بکتی ہے،یہاں انصاف کے نام پہ ناانصافی بکتی ہے،یہاں مزاح کے نام پہ تذلیل بکتی ہے،یہاں فیشن کے نام پہ پردہ بکتا ہے،یہاں سچ کے نام پہ جھوٹ بکتا ہے،یہاں قابلیت کے نام پہ جہالت بکتی ہے، یہاں جیت کے نام پہ ہار بکتی ہے، یہاں آنسو بکتے ہیں یہاں سسکیاں بکتی ہیں اور پیسے کے نام پہ یہاں سب کچھ بکتا ہے۔ مال وہی بکتا ہے جسکا خریدار ہو۔ یہاں ظلم کا خریدار ظالم ہے تو ظلم بکتا ہے۔یہاں ناانصافی کا خریدار جج ہے تو ناانصافی بکتی ہے۔یہاں غربت کا خریدار حکمران ہے تو غربت بکتی ہے۔یہاں دھوکہ اور جھوٹ کا خریدار سیاست دان ہے تو دھوکہ اور جھوٹ بکتا ہے۔یہاں سیاست بکتی ہے تو خریدار اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے۔یہاں مذھب بکتا ہے تو خریدار مولوی ہوتا ہے۔بہر کیف یہاں سب بکاو مال ہے سب کچھ بکتا ہے۔ یہاں سب بکتا ہے۔کبھی غریب روٹی کیلئے بکتا ہے تو کبھی انصاف کیلئے بکتا ہے۔کبھی عزت بکتی ہے تو کبھی ضمیر بکتا ہے۔کبھی انصاف بکتا ہے تو کبھی انصاف کرنے والے بکتے ہیں۔کبھی آئین بکتا ہے تو کبھی قانون بکتا ہے۔کبھی ثواب بکتا ہے تو کبھی گناہ بکتا ہے۔کبھی بچے بکتے ہیں تو کبھی جوان بکتے ہیں۔افسوس ہوتا ہے کہ میرے دیس کا صرف غریب بکتا ہے اور امیر شہر کے لیے سب کچھ بکتا ہے۔میرے دیس میں ہر کچھ بکتا ہے۔ یہاں علاج بھی بکتا ہے تو یہاں علاج کرنے والے بھی بکتے ہیں۔یہاں مزدور بھی بکتا ہے تو یہاں  انجنیئر بھی بکتا ہے۔ یہاں سیاست بکتی ہے تو یہاں صحافت بھی بکتی ہے۔یہاں دین بکتا ہے تو یہاں ایمان بھی بکتا ہے۔ کبھی مریض بکتا ہے تو کبھی صحت مند بکتا ہے۔کبھی زندہ بکتا ہے تو کبھی مردہ بکتا ہے۔کبھی دلہا بکتا ہے تو کبھی دلہن بکتی ہے۔کبھی اولاد بکتی ہے تو کبھی والدین بکتے ہیں۔کبھی شاگرد بکتا ہے تو کبھی استاد بکتا ہے۔کبھی مرد بکتا ہے تو کبھی عورت بکتی ہے۔کبھی قیدی بکتا ہے تو کبھی آزاد بکتا ہے۔کبھی مجرم بکتا ہے تو کبھی قاضی بکتا ہے۔کبھی عدالت بکتی ہے تو کبھی قانون ساز اسمبلی بکتی ہے۔ ملک میں جب بکنے کی بات آتی ہے تو ہر طرف بکتے ہی دکھائی دیتے ہیں،گھر کے چوکیدار سے لے کر ملک کے سربراہ تک بکتے دکھائی دیتے ہیں،تھانے کے سنتری سے لے کر عدالت کے بڑے بڑے قاضی بکتے دکھائی دیتے ہیں،غریب کی غربت اور امیر کی امارت تک بکتے دکھائی دیتے ہیں،مزدور کی اجرت اور سرمایہ دار کی عیاشی بھی بکتی دکھائی دیتی ہیں،فرق اتنا ہے کہ کوئی...

میرا سب کچھ ، نامِ محمدﷺ

کائنات میں سب سے بدقسمت ، بدنصیب و غلیظ انسان وہ ہے جو دل رکھتا ہے مگر دل میں محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہیں رکھتا ، دراصل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) جس دل میں ہونگے وہ دل نہایت پاکیزہ و شفاف ہوتا ہے ۔کائنات کی سب سے عظیم و پاک و مطہّر ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔، آخر کیونکر ہر دل میں ہو سکتے ہیں ؟؟ ہر دل اس قابل نہیں ہوتا ،!! بہت منفرد ، نایاب ، خال خال ہی پائے جاتے ہیں ایسے دل ،۔۔۔۔، جن میں کائنات کی سب سے عظیم ہستی سمائی ہو ، آپ نے دیکھا ہوگا اور اب تو روزانہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ؛ جدید مسلمان سرمائے و عہدے و مادّے و رنگ و زبان و نسل و قوم و ملک و وطن و علاقے و ذات پات ،۔۔۔۔۔۔۔۔، اور اپنی سیاسی و غیر سیاسی شخصیات کے تقدّس و عظمت و حرمت کی خاطر مرا جا رہا ہے ۔۔۔!! اس کے چہرے کا رنگ ، اس کے ماتھے کے تیور ، اس کے رویّے ، اس کے چال چلن ،۔۔۔۔۔۔، سب بتاتے ہیں کہ یہ دل میں کسے رکھتا ہے ۔۔!! اس کی زندگی کا عمومی ڈھنگ و کریکٹر یہ واضح کرتا ہے کہ اسے سب سے زیادہ محبوب اللہ اور اس کا رسول ہے یا کوئی اور چیز ۔۔۔۔۔؟؟ یہ ہر بار کہاں کمپرومائزڈ ہو جاتا ہے اور کہاں یہ ہر دفعہ کسی شے کو خاطر میں نہیں لاتا ۔۔۔؟؟ اس کی ترجیحات اس کے دل میں کون بستا ہے ،۔۔۔۔۔۔، اس کا پتہ دیتی ہیں ، اس کیلئے زندگی میں کون معیار و اسوہ و ماڈل و نمونہ و قدوہ و آئیڈیل ہے جسے دیکھ دیکھ کر یہ ہر پل جیتا ہے ؟؟ کہاں یہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور کہاں یہ ہمیشہ ٹھنڈا رہتا ہے ؟؟ اس کے جذبے ، اس کے جوش ، اس کا غیرت کھانا ، حتی کہ اس کا مرنے مارنے پر اتر آنا ۔۔۔۔۔۔ اس کے دل میں موجود اس کے محبوب کا تعارف کرواتا ہے ۔۔۔!! اس کی دوستیاں و دشمنیاں ،۔۔۔۔،  اسکے تعلقات و معاملات ،۔۔۔، اس کی مجلسیں و بیٹھکیں ،۔۔۔، اس کی سرگرمیاں و محنتیں ،۔۔۔، سب حرکات اس کے دل میں سمائے ہوئے کا نام واضح کرتی ہیں ۔۔!! یہی بات ہے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ خطائیں درگزر فرمادے گا ، لیکن جس دل میں اللہ اور اس کا حبیب نہ ہوا ۔۔۔۔؟؟ اللہ تو دل دیکھتا ہے اور فرمایا ؛ روزِ آخرت وہ قلبِ سلیم ہی پر راضی ہوگا ، دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ، جنتوں کے اعلان اور دوزخ سے نجات  ؛  قلبِ سلیم والوں ہی کو عطا ہوگی ۔لیکن یہاں معاملہ یکسر بدل دیا گیا ہے ،جو اپنے دل میں قوم و ملک و وطن و علاقے و زبان و رنگ و نسل و ذات پات و سرمائے و مادے و عہدے و شخصیات و پارٹی کی حرمت و عظمت و تقدس کیلئے کتنی ہی شدت رکھتا ہو ،۔۔۔۔، وہ احسن ہے ،۔۔۔، خوب ہے ،۔۔۔، اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔ ، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔۔۔ اور نہ اس سے کسی کوئی پرابلم ۔۔۔!! اسے کوئی انتہا پسند...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

ٹیکنالوجی اور ہم

تحریر: گل اندام خٹک ہماری والدہ ماجدہ جب بھی ہمارے ہاتھ میں موبائل فون دیکھتی ہیں انہیں وہ دن یاد آجاتے ہیں جب لوگ ہاتھ میں بٹیرے لئے گھوم رہے ہوتے تھے۔ یہ بٹیرے آپ کو آج کل ہر ایک کے ہاتھ میں نظر آئیں گے۔ کسی کے لیے دوسرے سے رابطے کا ذریعہ، کسی کے لئے مشغلہ، کسی کے لیے چلتا پھرتا کاروبار، تو کسی کے لیے ٹشن دکھانے کا سامان۔ دوسروں کے لیے اس کا کوئی بھی مطلب ہو، والدین کے لیے یہی بچوں کی بربادی کا ذمہ دار ہے۔ یہ اور بات ہے کے آج کل کے والدین خود اس مرض کے شکار ہیں۔ ایک دہائی کے اندر اندر ٹیکنالوجی کی دنیا میں آنے والی ڈرامائی تبدیلوں نے معاشرے کی سوچ اور طرز زندگی کی صورت پلٹ کے رکھ دی ہے۔ اس کے مثبت اثرات میں گھر بیٹھے کارونار کرنا، دور دراز کے علاقوں سے رابطہ اور خبردار رہنا، کام کی رفتار میں تیزی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے عوض ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہمیں ان گنت نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ ان میں سے ایک نقصان کا سامنا چند روز پہلے میرے بھائی کو ہوا۔ موصوف کو والدہ نے دن کے تقریباً 10 بجے سودا لانے کو کہا حضرت ’’ابھی جاتا ہوں‘‘ کہہ کر 2 گھنٹے تک موبائل کی اسکرین پہ نظریں جمائیں، کے پیڈ کو طبلے کی مانند پیٹتے رہے۔ جب اماں جان نے طیش میں آکے جوتے سے ڈرون حملہ کیا تب بھائی صاحب کو ہوش آیا، سودا لائے اور گھر میں کھانا بنا۔ رات کو ہاسٹل کا منظر کچھ یوں ہوتا ہے کہ کوئی فرش پہ بیٹھی دیوار سے ٹیک لگائے لائیو ڈرامہ دیکھ رہی ہے تو کوئی کونے میں بیٹھی سوشل میڈیا سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ کوئی سیڑھیوں پر بیٹھی واٹس ایپ پہ بات کررہی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ قابل رحم وہ لڑکیاں ہیں جو موبائل ہاتھ میں لیے سگنلز کی تلاش میں در در بھٹک رہی ہوتی ہیں تاکہ وہ ٹھیک سے بات کر سکیں پھر بھی وہ اکثر کہتی سنائی دیتی ہیں تو ’’کیا اب بھی آواز نہیں آرہی، اب کیا تمہارے لیے ٹاور پر چڑھ جاؤں‘‘۔ کسی روایتی پھپھو کے اندازے کے مطابق یہ بے چاریاں جیسے ہی ’’کیمرے سے پیا گھر‘‘ پہنچتی ہیں ان کے ساتھ’’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل‘‘ والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ایک بار ہم 3 دوست گول گپے کھانے گئیں۔ آڈر دیتے ہوئے غلطی سے منہ سے نکل گیا ’’کاکا! ہم 3 گول گپے ہیں‘‘۔ اس وقت تو بے چاری کا جو مذاق اڑا سو اڑا۔ ہاسٹل پہنچ کے واٹس ایپ دیکھا تو تیسری دوست نے اس بات کا اسٹیٹس بنا کر لگایا ہوا تھا۔ اب حالات ایسے ہیں کے لوگوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں اسٹیٹس کے نام پر بریکنگ نیوز نہ بن جائیں۔ تیزی سے بدلتے اس دور میں اگر نہیں بدلے تو وہ والدین ہیں۔ انہیں آج بھی اپنے بچوں سے شکایات ہیں حالانکہ آج کل کے بچے انتہائی امن پسند ہوگئے ہیں۔ شرافت سے اپنے لیپ ٹاپ اور فون لیے بیٹھے رہتے ہیں جب...

“دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ”

محکمہ آثارِ قدیمہ نے پاکستان میں ایک ایسی عجیب و غریب سیاسی جماعت کا ڈھانچہ دریافت کیا ہے جسے دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس سیاسی جماعت کے معدہ میں پائے گئے خوراک کے حنوط شدہ ذرات کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جماعت اپنے وقت کے فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھایا کرتی تھی اور اسی خوراک سے پل کر جوان ہوئی تھی۔ سیاسی جماعت کے ڈی این اے میں مکاری، عیاری، لوٹ مار، تکبر، انسانوں کی خرید و فروخت اور ذاتی خاندان تک محدود اقربا پروری کے جینز کثیر مقدار میں پائے گئے ہیں۔ سیاسی جماعت کی کھوپڑی کا لیبارٹری میں تفصیلی جائزہ لینے پر انتہا درجے کی منافقت کے واضح ثبوت دکھائی دیے جن سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت ماضی میں ایک طرف تو فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے اپنا وزن بڑھاتی رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ فوجی بوٹوں کا وزن کم کرنے کے لیے خوب زور لگاتی رہی جس اسے چنداں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ جب یورپ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے اس حوالے سے رائے لی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے کے لے اُس دور کی سیاسی جماعتیں کچھ لوگوں کو بوٹ چاٹنے پر مامور کر دیتی تھیں اور اسی جماعت کے کچھ لوگوں پر دور کھڑے ہو کے بوٹوں والوں پر بھونکنے کی زمہ داری لگا دیتی تھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بھاگا جا سکے۔ محکمہ سیاسی حیاتیات کے ماہرین نے بھی ڈھانچے کا معائنہ کیا اور اپنی مشترکہ رائے دیتے ہوئے رپورٹ میں لکھا کہ اقتدار میں آنے کے امکانات اس جماعت کی روح کا کام کرتے رہے ہیں اور جیسے ہی یہ روح غائب ہوئی، اس جماعت کا نام و نشان سیاسی روئے زمین سے مٹ گیا تھا۔ تقریباً دس سال تک یہ جماعت مینڈک کی طرح زیر زمین رہی لیکن پھر یہاں کی سیاسی وائلڈ لائف کی از سر نو حیات کاری کے لیے یورپ کے ایک مشہور ملک میں میثاق جمہوریت نامی معاہدہ طے پایا جس کے لیے بدبودار فوجی جرابیں خاص طور پر وہاں پہنچائی گئیں تاکہ میثاق جمہوریت کو توثیقِ بْوٹیت مل سکے اور سیاسی وائلڈ لائف کو پنپنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی کے ڈین نے ہمارے پوچھنے پر بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے ہم دیکھتے رہتے ہیں لیکن جس درجے کی انا پرستی اور بیوقوفی ہمیں اس ڈھانچے سے ملی ہے، وہ آج تک کسی اور سیاسی ڈھانچے سے نہیں ملی۔ ہم نے دلچسپی سے پوچھا کہ یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے :’’انا پرستی کے آثار ہمیں اس سے نظر آئے ہیں کہ یہ جن بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھاتے رہے ہیں، اسی چمڑے کے بوٹ خود پہننے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو کسی بھی بوٹوں والوں کو کبھی گوارا نہیں ہو سکتا‘‘۔ ایک طالب علم جو اس پراجیکٹ میں خصوصی دلچسپی لے رہاہے، یوں گویا ہوا کہ سیاسی آرکیالوجی ایک نیا فیلڈ ہے جس میں تحقیق کی کافی گنجائش موجود ہے،اس لیے ایسے ڈھانچوں کا دریافت ہونا ہمارے لیے علمی...

مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ،لال مرچ، کالی مرچ ،مرچی پودوں کی جنس شملہ مرچ سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کی ابتدا امریکہ سے ہوئی۔ مرچ کم از کم 7500 قبل مسیح سے لے کر امریکہ میں انسانی غذا کا ایک حصہ رہا ہے۔ دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے۔ جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ باریک مرچیں اور جنگلی مرچیں روز مرہ کے کھانوں میں عمومًا استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا اور باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ ان کو لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے ہرہیز کرنا چاہے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کریں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو وہ دور جانے کے بجاۓ قریب ہوجائیں۔ جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو بیلنس رکھنا ایک فن ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جاۓ تو سننے والے کو لطف آتا ہے۔ اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔یہ نصیحت خصوصاً خواتین کے لیے ہے۔ جو اکثر اپنی باتوں سے مرچ لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔ بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کے شوہر کے سامنے جاۓ ، شوہر موبائل میں مصروف ہوں اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکاۓ اگر شوہر اس میں کوئی خامی نکالے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ لہذا تمام شوہروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں۔ کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے سردی گرمی دنوں میں با آسانی لگائی جا سکتی ہیں۔ غنیمت جانے کے آپکی شادی ہوچکی ہے۔ ورنہ تو کہیں ایسا نہ ہو مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ نہ پڑجاۓ۔  

دبی شخصیت کے ساتھ ایک صبح

تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر ادبی شخصیات کے ساتھ آپ نے سنا ہوگا کہ اکثر شام یا رات منائی جاتی ہے۔کیونکہ سارا دن وہ ادبی کاموں،رسائل،میگزین و دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے شام سے رات گئے تک وہ فارغ ہوتے ہیں۔مشاعرہ ہو یا ادبی نششت محفل رات کو ہی جمتی ہے۔یقین مانئے اکثر شعرا کرام کے گھر اُتنی دہی نہیں جمتی جتنی محفلیں جمتی ہیں۔رات تاخیر سے بسترِ استراحت پر جانے کی وجہ سے صبح صادق آنکھ کا نہ کھلنا قدرتی اور محفل کا ’’خمار‘‘ بھی ہو تا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کوئل و بلبل کو اپنی شاعری میں استعمال کرنے والے شعرا نے کبھی ان پرندوں کی شکل علی الصبح باہر نکل کردیکھی ہو یا ان کی آواز سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں۔دوحہ سے واپسی اسلام آباد کوئی پانچ گھنٹے کا قیام تھا علی الصبح اسلام آباد ائر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنے ایک دیرینہ ادبی دوست کے گھر کا راستہ لیا۔ملاقات چونکہ دوحہ سے روانگی پر ہی فون پہ طے ہو چکی تھی اس لئے صبح سویرے انہیں فون بھی نہ کیا سوچا ہمدم دیرینہ ہے میرے پہنچتے ہی بیڈ روم سے گیٹ تک دیر نہیں لگائے گا۔مقررہ وقت پر اس کے ہاں پہنچے،ڈور بیل دی۔اور ذرا گیٹ کی سائیڈ پہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے،جواب و شکل دونوں ہی ندارد پا کر ایک بار دو بار،سہ بار مسلسل بیل پہ ہاتھ دھرے رکھا،تھوڑا توقف کیا اور سوچ میں پڑ گئے خدایا کسی اور کے گھر تو دھاوا نہیں بول دیا۔چند قدم پیچھے ہٹے،گھر کے باہری حصہ کو غور سے دیکھا،ماسوا اس کے کوئی فرق نہ پایا کہ جب پچھلی بار تشریف آوری ہوئی تھی تو منڈیر پر کالا کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا،جس کی کہانی بھی الگ سے ہے۔کہ پچھلی بار میں نے یونہی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی کوّے کی کائیں کائیں شروع ہو گئی تو موصوف اپنا پسٹل لے کر نمودار ہوئے کہ آج یا کوا نہیں یا مہمان نہیں۔کیونکہ مجھ سے قبل کوئی چار بار کوّے نے کائیں کائیں کی اور چاروں مرتبہ مہمان آ وارد ہوئے اور میں پانچواں مہمان تھا۔صد شکر کہ اس بار کوّے کی جگہ ایک فاختہ تشریف فرما تھی ۔ایک بار پھر ہمت مجتمع کی اور ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ آنکھیں ملتے ہوئے چوکیدار کی شکل دکھائی دی،بھاری بھر کم آواز میں اس استقبالیہ کے ساتھ خوش آمدید کیا کہ اتنی صبح آن دھمکا ہے ،چین سے سونے بھی نہیں دیتے۔لو جی موصوف کیا یہاں تو چوکیدار تک سویا ہوا ہے۔نیم بند آنکھوں سے ہی ہمیں پہچانتے ہوئے دور سے ہی سلام کیا اور اسی ہاتھ سے اندر آنے کا بھی اشارہ فرما دیا۔ڈرائنگ روم کھول کے بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی،نہ چوکیدار،نہ دوست اور نہ کوئی چائے پانی،سب ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ،حالانکہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے نہیں ۔کوئی گھنٹہ بعد کام والی ماسی ڈرائنگ روم کی صفائی کرنے آئی تو ایسے ہی اسے پوچھ لیا کہ یہ چوکیدار کدھر...

بڑھاپے کی بڑھکیں،عینک اور بتیسی

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے حالانکہ اس عمر میں انسان کسی رخ سے بھی سیدھا نہیں ہوتا۔ دونوں کی بتیسی(مصنوعی دانت) اور عینک کا نمبر ایک جیسا ہو جاتا ہے۔جس کو جو چاہئیے مستعار لے اور اپنا گزارہ کر لے۔مثلاًبابا جی کو بھوک لگی ہو تو کھانے کے لئے بتیسی ادھار پکڑی کھانا کھایا بتیسی گرم پانی میں سٹرلائز کی اور ’’بابی‘‘ کے منہ میں۔اماں کو تلاوت فرمانی ہوئی تو بابے کی عینک پکڑی ،دھاگے والے فریم کو ناک کی سلوٹوں پہ ایڈجسٹ کیا ،بعد از تلاوت عینک بڑے پیار سے بابے کی ناک پہ چسپاں۔گویا انسان اگر بوڑھا نہ ہوتا تو چشموں اور دانتوں کے کام کا مکمل مندا ہوتا۔اکثر میری کلاس کے بچے شرارتاً سوال کرتے ہیں کہ سر بڑھاپے کی آمد کا پتہ کیسے چلتا ہے۔تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ جب منہ میں دانت گرنے لگیں اور عینک کا نمبر بڑھنے لگے تو سمجھ جاؤ کہ بڑھاپے کی آمد آمد ہے۔یا پھر اولاد اور اعضائے جسمانی ایک ساتھ جواب دینے لگ جائیں ،بیوی اور یاد داشت کا ساتھ کم ہونے لگے،کھانے کا ذائقہ اور بدصورت عورتوں کا ساتھ حسین لگنے لگے ،حد یہ کہ جب بچے آپ کو نانا ،دادا جبکہ حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنا شروع کر دیں تو کسی قسم کے تردًد سے کام نہ لیتے ہوئے چپ چاپ اپنے بڑھاپے کو ایسے ہی تسلیم کر لیں جیسے بوقتِ نکاح دلہن سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ فلاں بن فلاں قبول ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوا اس کے کہ ہاں’’ سب چلے گا‘‘۔ ویسے بڑھاپا مغرب میں اتنا برا خیال نہیں کیا جاتا جتنا کہ مشرقی لوگوں نے بنا دیا ہے۔مغربی بڈھے جتنا بڑھاپے کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں اتنا ہم مشرقی جوانی میں بھی شائد نہ کرتے ہوں،مغرب میں بوڑھوں کو عمر کے ڈھلتے ہی اولڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ان کی کیئر ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں بوڑھوں کو گھر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ جوانوں کے ’’طعنے معنوں‘‘ کی زد میں رہ کر ان کے کتھارسس کا باعث بن سکیں۔طعنے ذرا ملاحظہ فرمائیں ٌ* بابے کی چارپائی جانوروں والے کمرے میں لگا دیں * بابا ہر بات میں ٹانگ نہ اڑایا کر،حالانکہ بابا اپنی ٹانگوں پہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ * بڑھاپے میں کوئی فعلِ جوانی سر زد ہو جائے تو’’چٹے چاٹے(سفید بالوں) کا خیال کر،چاٹا سفید ہو گیا عقل نہ آئی،بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مشرق میں تو بڑھاپے کو توبہ و استغفار کی عمر خیال کیا جاتا ہے کہ بابا جی تسبیح مصلحہ لے لو اور اللہ اللہ کرو،حالانکہ مغرب میں جو بوڑھے ایامِ جوانی میں جس عورت سے عیاشی کرتے رہے بڑھاپے میں اسی عورت سے شادی کو آئیڈیل عمر اور جوڑی سمجھتے ہیں،اسی لئے بڑھاپا مشرق میں مرض اور بوجھ جبکہ...

ہمارے بلاگرز