کب نظر آئے گی تبدیلی کی بہار؟

”تعلیم و تربیت ایک سنجیدہ کام ہے، تعلیمی معیار پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ صوبے میں تعلیم کے ساتھ مذاق برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت کام کر رہی ہے۔ ‘ یہ کاغذی باتیں تھیں جو گزشتہ دنوں صوبائی سپیکر ایک وفد سے گفتگو میں کر رہے تھے۔ یہ وہی باتیں ہیں جو پچھلے پنج سالے میں بھی سنائی جاتی رہیں۔ میں توپڑھ کر حیرت زدہ رہ گیا تھا۔ داد دینے کو جی چاہا۔ دل کیا داد و تحسین کے ڈونگرے برساؤں۔ کتنے مخلص ہیں نا! یہ حکمران ہماری تعلیم کے بارے؟ آئے روز ایک نیا دعوی، نیا اعلان، جھوٹے وعدے اور وعدے ایسے کہ ’پانچ منٹ ٹھہرو آدھے گھنٹے میں آیا‘۔ اور ایسا کیوں نہ ہو تبدیلی اسے ہی تو کہتے ہیں۔ علم انسانیت کی معراج ہے تو معیاری تعلیم کے خواب دکھانا حکومت کی معراج۔

ہمارےصوبے میں گزشتہ حکومت بھی حکمران جماعت کی تھی اور یہ صوبے میں ان کا دوسرا سیشن ہے۔ ان کی تعلیم بارے توجہ دیکھیے کہ کئی سرکاری اسکول و کالج خالی آسامیوں پر اسٹاف کی تعیناتی کے منتظر ہیں۔ کئی جگہوں پر سہولیات ناپید ہیں۔ طلباء و طالبات سراپا احتجاج ہیں۔ لیکن یہ لوگ فقط اعلان کر کے چپ سادھ لیتے ہیں اور سادہ لوح عوام خوابوں کی شال اوڑھ کر اونگھنے لگتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے تعلیم ان کے کاغذات میں ہے ہی نہیں۔ عدم توجہی غیرذمہ دارانہ رویے اور خالی خولی دعوؤں کی بدولت سیکڑوں طلبہ و طالبات کا مستقبل داؤ پر ہے۔ 23فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ خیبر پختونخوا کو تعلیم کی درجہ بندی میں اول درجہ دے دیا گیا تھا۔

ملک خداداد ایشیا میں تعلیم پر کم خرچ کرنے والا ملک ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 195ممالک میں سے صرف 14 ممالک تعلیم پر پاکستان سے کم خرچ کرتے ہیں۔ شنید ہے کہ تعلیمی بجٹ بڑھایا جائے گا۔ خدا کرے کہ ایسا ہو جائے۔ ’تعلیم سب کے لیے‘ مہم حقیقی معنوں میں کامیاب ہو۔ اب آپ یہ نہ سمجھیے کہ میں تنقید کر رہا یا حکومت کو دوشی ٹھہرا رہا ہوں۔ ہرگز نہیں۔ حکومت تو نظام تعلیم و معیار تعلیم میں جدت کی خواہاں ہے۔ اعلانات بھی کر رکھے ہیں۔ خواب فروشوں سے ہم نے خواب بھی خرید رکھے ہیں۔ تبدیلی کے نام پرنئے ادارے بھی بنائے جا رہے ہیں۔ اب دیکھ لیجیے وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان بھلاچھوٹی بات ہے؟ لیکن یہ سوالیہ نشان اپنی جگہ کہ جو ا دارے پہلے سے بنے ہوئے ہیں وہاں کلاسز کا اجراء کون کرے گا؟ اسٹاف کی تعیناتی کا مسئلہ فقط خانہ پوری، خالی اعلانات سے حل ہونے سے تو رہا۔ اسکول کی گری عمارت تعمیر نہیں۔ جو تعمیر ہیں وہاں ویرانی کا بسیرا ہے۔

میرے علاقے کی ایک خبر پڑھ لیجیے: ’گرلز ڈگری کالج اوگی میں کلاسز کا اجراء نہ ہو سکا۔ طالبات پریشان‘۔ عمارت تعمیر، افتتاح کے باوجود صوبائی حکومت کی غفلت سے سیکڑوں طالبات کا مستقبل کھڈے لائن لگا ہوا ہے۔ جب کہ صوبائی اسپیکر کہتے ہیں: ’حکومت تعلیم کے معاملے میں کمر بستہ ہے۔ ‘ مزید کہتے ہیں حکومت پرائیویٹ اسکولوں کی حوصلہ افرائی کرتی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کے مالکان بہترین تعلیم و تربیت کے لیے تیار ہوں۔ کوئی انہیں بتائے کہ حضور! پرائیویٹ اسکول مالکان تو پہلے سے تیار بیٹھے ہیں۔ آپ کا تعاون ہی تو ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی کے غبارے سے ہوا نکلی پڑی ہے۔ آپ کی تعلیمی ایمرجنسی دم توڑ چکی ہے۔ اور آپ تعاون ہی تو کریں گے کہ بزنس کے مواقع پیدا کرنے کا اعلان بھی تو کر رکھا ہے۔ خواتین کے واحد ڈگری کالج میں کلاسز کا اجراء نہ ہونا یہ پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی نہیں تو کیا ہے؟

نئے سیشن میں طلباء کے لیے دیگر شعبہ جات کی منظوری کے باوجود کلاسز کا اجراء سوالیہ نشان ہے۔ جب نئی کلاسز کا اجراء نہ ہوگا۔ ادارے سنسان ہوں گے تو پرائیوٹ سکول، کالج آ کر اس کمی کو پورا کریں گے۔ خدا ان کا بھلا کرے وہ بھی نہ ہوتے تو چند گھرانوں کی طالبات کہاں جاتیں علم ڈھونڈنے؟ بھاری بھر کم فیسوں سے غریبوں کا پیٹ نہ کاٹا جاتا تو ان کے بچے علم کیسے حاصل کرتے؟ تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ گزشتہ دور حکومت میں بھی ہوا تھا اب پھر ہے۔ کوئی انہیں بتائے کہ اے حاکم وقت! آپ وزیراعظم ہاؤس کو غریبوں کے لیے یونیورسٹی میں ضرور بدلیں پر ازراہ کرم جو ادارے بنے پڑے ہیں ان میں کلاسز کا اجراء تو کروائیے، اساتذہ کی کمی کوتو پورا کیجیے۔ ہمارے ہاں کی حالت یہ ہے کہ لڑکیاں بارہ جماعتیں پڑھ لیں اس کے بعد یا تو گھر بیٹھ کر جھاڑو پوچا کریں یا پھر گھر والے اجازت دیں تو دورکے شہر جا کر ہاسٹل میں رہ کر تعلیم مکمل کریں اور جو لوگ ہاسٹل کا خرچ برداشت نہ کر سکیں وہ اپنی بچیوں کو گھر پر ہی بٹھائیں۔ کیو ں کہ اوگی میں ”خواتین کالج“ کی بارہویں کے بعد کی تعلیم کے لیے صرف عمارت ہی بنی ہے۔

اب آپ ہی بتائیے پرائیویٹ اداروں کی بھاری فیس غریب گھرانے کی لڑکی کہاں سے لائے؟ دیہاڑی دار مزدور کہاں سے دے؟ اب جب آخری آپشن ان کے پاس بچتا ہے تو یہی کہ لڑکی بارہ جماعتوں پر گزارا کرلے۔ کثیر تعداد کا تعلیمی سفر منجمد ہوجاتا ہے۔ ان کاآگے بڑھنے کا خواب خواب ہی رہتا ہے۔ سوچیے! اب تک جو لڑکیاں صرف اس وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکیں کہ کوئی سرکاری ادارہ نہ تھا اور جو تھے تو ان کی بھاری فیسیں برداشت کرنے کی سکت نہ تھی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ خدارا! طالبات کے ڈوبتے مستقبل کو بچائیے۔ سال ضائع ہونا آپ کے نزدیک کوئی بڑی بات نہ ہو گی لیکن طالبات کے لیے بہت بڑی بات ہے۔ نقصان کے ازالے کے لیے صوبائی و ضلعی ذمہ دار اپنا حق ادا کریں۔ جلد از جلد تعلیمی ایمرجنسی کا قبلہ درست کریں تا کہ تبدیلی کے ثمرات عام شخص تک پہنچیں۔

ڈپٹی کمشنر، ڈی ای او اور دیگر ذمہ داران خالی پوسٹوں پراسٹاف کی تعیناتی، بالخصوص طالبات کے لیے جلد از جلد خواتین کالج میں کلاسز کے اجراء کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ تاکہ ملک و ملت کے ستارے چمکنا سیکھیں اور ایک پڑھی لکھی نسل تیار ہو سکے۔ امید کا سورج غروب ہونے سے قبل ڈگری کالج اوگی میں بی ایس کے نئے شعبہ جات میں کلاسز کا اجراء کروائیے وگرنہ معذرت کے ساتھ طلباء و طالبات کا سال ضائع ہونے کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ اور تبدیلی کا نعرہ فقط نعرہ ہی رہ جائے گا۔ خدا معلوم ”کب نظر آئے گی تبدیلی کی بہار؟ “

حصہ
mm
مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے عبد الباسط ذوالفقارمختلف سماجی موضوعات پر انتہائی دل سوزی سے لکھتے ہیں،جو براہ راست دل میں اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔مختلف اخبارات و جرائد میں ان کے مضامین شایع ہوتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں