“دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ”

محکمہ آثارِ قدیمہ نے پاکستان میں ایک ایسی عجیب و غریب سیاسی جماعت کا ڈھانچہ دریافت کیا ہے جسے دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس سیاسی جماعت کے معدہ میں پائے گئے خوراک کے حنوط شدہ ذرات کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جماعت اپنے وقت کے فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھایا کرتی تھی اور اسی خوراک سے پل کر جوان ہوئی تھی۔
سیاسی جماعت کے ڈی این اے میں مکاری، عیاری، لوٹ مار، تکبر، انسانوں کی خرید و فروخت اور ذاتی خاندان تک محدود اقربا پروری کے جینز کثیر مقدار میں پائے گئے ہیں۔
سیاسی جماعت کی کھوپڑی کا لیبارٹری میں تفصیلی جائزہ لینے پر انتہا درجے کی منافقت کے واضح ثبوت دکھائی دیے جن سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت ماضی میں ایک طرف تو فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے اپنا وزن بڑھاتی رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ فوجی بوٹوں کا وزن کم کرنے کے لیے خوب زور لگاتی رہی جس اسے چنداں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
جب یورپ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے اس حوالے سے رائے لی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے کے لے اُس دور کی سیاسی جماعتیں کچھ لوگوں کو بوٹ چاٹنے پر مامور کر دیتی تھیں اور اسی جماعت کے کچھ لوگوں پر دور کھڑے ہو کے بوٹوں والوں پر بھونکنے کی زمہ داری لگا دیتی تھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بھاگا جا سکے۔
محکمہ سیاسی حیاتیات کے ماہرین نے بھی ڈھانچے کا معائنہ کیا اور اپنی مشترکہ رائے دیتے ہوئے رپورٹ میں لکھا کہ اقتدار میں آنے کے امکانات اس جماعت کی روح کا کام کرتے رہے ہیں اور جیسے ہی یہ روح غائب ہوئی، اس جماعت کا نام و نشان سیاسی روئے زمین سے مٹ گیا تھا۔
تقریباً دس سال تک یہ جماعت مینڈک کی طرح زیر زمین رہی لیکن پھر یہاں کی سیاسی وائلڈ لائف کی از سر نو حیات کاری کے لیے یورپ کے ایک مشہور ملک میں میثاق جمہوریت نامی معاہدہ طے پایا جس کے لیے بدبودار فوجی جرابیں خاص طور پر وہاں پہنچائی گئیں تاکہ میثاق جمہوریت کو توثیقِ بْوٹیت مل سکے اور سیاسی وائلڈ لائف کو پنپنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔
آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی کے ڈین نے ہمارے پوچھنے پر بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے ہم دیکھتے رہتے ہیں لیکن جس درجے کی انا پرستی اور بیوقوفی ہمیں اس ڈھانچے سے ملی ہے، وہ آج تک کسی اور سیاسی ڈھانچے سے نہیں ملی۔
ہم نے دلچسپی سے پوچھا کہ یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے :’’انا پرستی کے آثار ہمیں اس سے نظر آئے ہیں کہ یہ جن بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھاتے رہے ہیں، اسی چمڑے کے بوٹ خود پہننے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو کسی بھی بوٹوں والوں کو کبھی گوارا نہیں ہو سکتا‘‘۔
ایک طالب علم جو اس پراجیکٹ میں خصوصی دلچسپی لے رہاہے، یوں گویا ہوا کہ سیاسی آرکیالوجی ایک نیا فیلڈ ہے جس میں تحقیق کی کافی گنجائش موجود ہے،اس لیے ایسے ڈھانچوں کا دریافت ہونا ہمارے لیے علمی طور پر کافی مفید ہوتا ہے جیسے کہ اس ڈھانچے کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ بوٹ چاٹنے والے کبھی بھی بوٹوں والوں پر اخلاقی برتری حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے۔ بوٹوں پر اخلاقی برتری کے لیے بے داغ دامن، قابلیت، لیاقت اور اخلاص چاہیے۔ یہ سیاسی تاریخ کا سبق ہے جو میں نے سیکھا ہے۔
عجائبات کے ماہرین سے ہم نے سوال کیا کہ آپ نے اس سیاسی جماعت کے ڈھانچے میں ایسا کیا پایا ہے جو اسے دنیا کے آٹھویں سیاسی عجوبے کا ٹائٹل دے دیا گیا ہے تو انہوں نے ہمیں حیرت سے گھورا اور جواب دینے کی بجائے ہم پر ہی سوال داغ ڈالا کہ آپ نے اس سیاسی جماعت کے آخری ادوار کے حالات سے واقفیت حاصل نہیں کی؟ ہم نے نفی میں سر ہلا دیا تو انہوں نے ہمیں ڈاکٹر سائمن کے آفس کی راہ دکھلا دی کہ آپ وہاں جا کر مل لیں۔
ہم نے سیدھا ڈاکٹر سائمن کے آفس کا رخ کیا جو شاید ہمارے ہی انتظار میں بیٹھے تھے۔ ہم نے چھوٹتے ہی تجسس بھرے لہجے میں دریافت کیا کہ حال ہی میں دریافت ہونے والے سیاسی جماعت کے ڈھانچے کے آخری ادوار پر روشنی ڈالیں۔
وہ ہلکا سا مسکرائے اور بولنے لگے۔ وہ کہتے گئے اور ہم نہایت دلچسپی سے سنتے گئے۔
انکی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ سیاسی جماعت دو لیڈران پر مشتمل تھی؛ ایک بڑا دوسرا چھوٹا۔ اقتدار ان کے دو گھرانوں میں مرتکز تھا۔ بڑا لیڈر انا پرست اور بیوقوف تھا جبکہ چھوٹا لیڈر مکار اور نسبتاً سمجھدار تھا۔ مالی کرپشن دونوں گھرانوں کا خاصہ تھی۔ بڑے لیڈر نے انا پرستی کی سزا مالی کرپشن کی سزا کے رنگ میں پائی تو اسے نظریاتی ہونے کا تیسرا دورہ پڑا اور وہ بیٹی سمیت جیل پہنچ گیا۔
جیل جانے سے پہلے اس بڑے لیڈر نے ووٹ کو عزت دو کے نام پر عوام کو بوٹوں کے خلاف ابھارا جبکہ چھوٹا لیڈر بوٹوں کے تلوے چاٹ رہا تھا۔عوام ووٹ کی عزت کے لیے جس بڑے لیڈر کو ووٹ دینے کا سوچ رہے تھے اس کا سیاسی کیرئیر ختم ہو چکا تھا اور سیاسی جماعت اْس چھوٹے لیڈر کے ہتھے چڑھی ہوئی تھی جو آج بھی بوٹوں میں سر بسجود تھا
یہاں پہنچ کر ڈاکٹر سائمن نے آنکھوں سے عینک اتار کر ہمیں غور سے دیکھا اور گمبھیر لہجے میں کہا:”کنفیوژن کا یہ درجہ جب کسی سیاسی جماعت یا فرد کو لاحق ہو جائے تو وہ فرد ہو یا سیاسی جماعت، اسے ایک ڈھانچہ بنتے دیر نہیں لگتی”۔
ہمیں سوال کا جواب مل چکا تھا کہ اسے سیاسی عجائبات میں جگہ کیسے ملی۔
ہم نے نوٹ بک اٹھائی، وائس ریکارڈر بند کیا اور چپ چاپ کمرے سے نکل آئے،گھر جاتے ہوئے ہم سوچ رہے تھے کہ سیاسی جماعتیں اپنی عوام کو راہ دکھلاتی ہیں اور جب سیاسی جماعتیں خود کنفیوژن کے اس بلند مقام کو چھونے لگ جائیں تو وہ عوام کی رہنمائی کیا خاک کریں گی۔

حصہ
mm
پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ مذہب، سیاست، معاشرت، اخلاقیات و دیگر موضوعات پر لکھتے ہیں۔ انکی تحریریں متعدد ویب سائٹس پر باقاعدگی سے پبلش ہوتی ہیں۔ درج ذیل ای میل ایڈریس پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے nomanulhaq1@gmail.com

جواب چھوڑ دیں