قربانی کامقصد

ذی الحج وہ مہینہ ہے جس میں مسلمان، اللہ رب العالمین کے عظیم پیغمبرجناب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں قربانی کا فریضہ ادا کر کے اللہ کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔اسی ماہ میں عازمین حجاج کے قافلے اپنی جان ، مال اور نفس کی پاکی کے لیے سوئے حجاز مقدس میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔قربانی مذہب اسلام میں ایسی عبادت ہے جس کا تصور سب سے جدا ہے۔اس عبادت میں مسلمان اپنی جان ،مال ، وقت سمیت ہر چیز کی قربان دیتا ہے اور ایک مسلمان کے لیے اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا کا حصول ، گناہوں کی معافی ، سنت ابراہیمیؑ کی پیروی اور حکم خدا وندی کی تکمیل ہے ۔قربانی کاتقاضا یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالٰی کی محبت میں اپنی خواہشات نفسانی کو ختم کردے ۔جانور کی قربانی میں بھی یہی حکمت پوشیدہ ہے کہ اللہ کی محبت میں اپنی خواہشات کو ایک ایک کرکے مٹادینا۔اگر کوئی شخص جانور قربان کرتا ہے مگر نفسانی خواہشات اور گناہوں کو چھوڑنے کاا رادہ نہیں کرتا تو ایسے شخص کے ذمہ سے واجب اگرچہ ادا ہو جائے گا ،لیکن ایسا شخص قربانی کی حقیقت و روح سے محروم رہے گا ۔
اس لیے ظاہری طور پر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے ساتھ ساتھ قربانی کی حقیقت کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔حج اور قربانی اللہ تعالی کے دو بڑے حکم ہیں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالی کا جو حکم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سیکھائے اور بتائے ہوئے طریقے کے مطابق پورا کیا جائے وہی قرب الہٰی کا ذریعہ بنے گا ۔بہت سے اعمال ایسے ہیں جن کی انجام دہی سے مسلمان اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے اور اس کے گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے۔یہ ایسا پر فتن دور ہے کہ جس میں ہمارے اہل ایمان اور دین دار بھی فتنوں میں گرفتار ہیں۔حدیث مبارکہ میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
’’لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں دین پر ثابت قدم رہنے والے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص آگ کے انگاروں سے مُٹھی بھر لے ‘‘۔(ترمذی حدیث 2186)
کسی بھی عمل کے پیچھے نیت کارفرما ہوتی ہے ،جس سے وہ عمل مقبول نامقبول ، پسندیدہ نا پسندیدہ ٹھیرایا جاتا ہے ۔،اس لیے حسن نیت پر زور دینا چاہیے ،کہ حسن نیت کے ثمرات انسان دیکھ لیتا ہے ۔جو مسلمان قربانی کرتے ہیں ان کا کوئی دنیاوی مقصد نہیں ہوتا بل کہ مسلمان یہ عمل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں ادا کرتے ہیں۔قربانی اس بات کا اظہار کرنا ہے کہ اے اللہ ! آپ نے ہم سے جانوروں کا خون مانگا ہے ہم بخوشی دینے کو تیار ہیں ،صرف یہی نہیں اگر آپ نے ہم سے ہماری جان اور خون مانگا تو ہم ذرا بھی پیچھے نہ ہٹیں گے ۔حکم الہٰی کے مطابق مسلمان جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور گوشت تین حصوں میں تقسیم کرنے کی بجائے اپنے ڈیپ فریزر ، فریج میں اسٹور کرلیتے ہیں جو کہ اللہ کے احکام سے رو گردانی ہے ۔اللہ تعالٰی کا فرمان ہے :
’’ اللہ تعالٰی کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون ،لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ، اس نے جانوراسی طرح تمہارے تابع بنا دیے ہیں تا کہ تم اس بات پر اللہ کی تکبیر کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی اور جو لوگ خوش اسلوبی سے نیک عمل کرتے ہیں انہیں خوش خبری سنا دو ‘‘۔(پارہ 17 آیت 36 )
اللہ کی رضا جانور کے خون بہا نے کے ساتھ اپنے اندر رحم دلی ،ایثار و ہمدردی پیدا کرنے سے حاصل کی جانی چاہیے۔اپنے جملہ اعضا ء الجسدسے مسلمان دوسرے بھائی کی خیر خواہی چاہے ،نہ کہ ایزا رسانی کے مواقع تلاش کرتا رہے ۔ایام قربانی ہمیں اس بات کا درس دیتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں آپسی خلیج کا خاتمہ ہو اور اخوت و محبت کا جذبہ پروان چڑھے ۔دیکھنے میں آتا ہے کہ قربانی کے بابرکت گوشت کی تقسیم میں اسلامی احکامات کی پیروی نہیں کی جاتی ،بل کہ اسے ذریعہ ریاکاری بنایا جاتا ہے ۔گلی ،محلے ، سڑکوں پہ گوشت چلتی گاڑیوں سے مستحقین میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ایسا کر کے نیکی کا سر عام مذاق بنایا جاتا ہے ۔ اس سے مقصود اپنی سخاوت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے جو کہ قابل مباح چیز ہے۔اس سے انسانیت کی تذلیل کا پہلو نکلتا ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت سے محبت کرنے والی ہستی تھے۔قربانی دکھاوا ،ظاہری نمائش کا نام نہیں ،قربانی جذبہ ایثار کا نام ہے ۔

حصہ
mm
محمد عنصر عثمانی نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات و عربی کیا ہے،وہ مختلف ویب پورٹل کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں