دو خدا

وہ مسکرائے اور کہنے لگے “اگر تم تحقیق کروگے تو پتہ چلے گا کہ دنیا میں چار ہزار سے زیادہ خدا ہیں جن کی عبادت اور پوجا کی جاتی ہے ۔ لیکن میری زندگی بھر کی تحقیق اور تجربے سے میں نے سیکھا ہے کہ عملا دنیا میں صرف دو ہی خدا ہیں “۔ وہ کچھ دیر رکے اور گویا ہوئے اصل میں ایک خدا وہ ہے جسے ہم نے اور ساری دنیا نے ، ہر انسان ، ہر مذہب  اور فرقے نے مل کر بنایا ہے ۔ وہ خدا بھی بالکل ویسا ہی ہے جیسے ہم خود ہیں ۔ وہ خدا بھی ہماری طرح ضدی ، بد اخلاق  اور بدمزاج ہے ۔ وہ بھی لالچی ، پیسے کا حریص اور انا پرست ہے ۔ اگر تم نے رفع یدین نہیں کیا یا پھر تم نے آمین زور سے کہہ دیا تو وہ تمھیں کبھی معاف نہیں کریگا ۔ اگر کبھی تم نے نعلین مبارک کو ہاتھ نہیں لگایا یا انگوٹھے نہیں چومے تو وہ قبر تک تمھارا پیچھا کریگا ۔ وہ اتنا لالچی ہے کہ اسے جینے ، مرنے ، اٹھنے ، بیٹھنے میں ہر وقت کچھ نہ کچھ بس کھانے پینے کو ملتا رہے ۔ ایک غریب آدمی اس لئیے ساری زندگی گناہوں کے ” بوجھ” تلے گذارے گا کیونکہ اس بے چارے کے پاس سوئم ، دسواں ، چالیسواں ، برسی اور عرس کرنے کے پیسے نہیں تھے ۔ وہ ” خدا ” بات بات پر آپ سے ناراض بھی ہوجاتا ہے ۔ اور اس ” خدا ” کو منانے کے لئیے آپ کو بہت جتن کرنا پڑتے ہیں ۔ اگر آپ عیسائی ہیں تو وہ آپ کو جب تک معاف نہیں کریگا جب تک آپ چرچ میں پادری کے پاس جاکر اپنے ” گناہ ” جھڑوا نہیں لیتے  یا پھر گنگا اور جمنا میں نہا کر  اپنے ” پاپ ” دھو نہیں لیتے ۔ اور اگر آپ مسلمان ہیں تو پھر آپکا بنایا ہوا خدا آپ کو اس وقت تک معاف نہیں کریگا جب تک حضرت ، پیر ، مرشد اور داتا کے پاس جاکر آپ اپنے ” گناہ ” نہیں بخشوالیتے  یا جب تک آپ ان کی قبر مبارک پر دبیز چادر نہیں چڑھادیتے ۔ آپ کا بنایا ہوا ” خدا ” وزیر اعظم بنانے سے لے کر نوکری دلوانے تک آپ کو ہر چوکھٹ پر سجدہ ریز کروادیتا ہے ۔در در کی خاک چھنواتا ہے اور ہر در پر ذلیل کرواتا ہے ۔

کبھی عرش پر کبھی فرش پر

کبھی اس کے در کبھی دربدر

لیکن چین آپ کو پھر  بھی نہیں آتا ہے ۔یہاں تک بول کر وہ خاموش ہوگئے ۔

وہ دوبارہ گویا ہوئے ۔وہ خدا ساری زندگی بات بات پر آپ کو لڑواتا رہتا ہے ۔ آپ کے دل میں اپنے فرقے ، اپنی قوم اور اپنے مسلک کے علاوہ ہر انسان ، ہر مذہب اور ہر فرقے کے لئیے اس کے دل میں بغض ، کینہ ،حسد اور نفرت کی آگ جلتی رہتی ہے ۔

وہ ” خدا ” بھی عجیب ہے ۔ وہ ہر وقت آگ سلگا کر بیٹھا رہتا ہے ۔ اسکا بس چلے تو آپ کی ذات ، آپ کے مسلک اور آپ کے فرقے کے علاوہ دنیا کے ہر انسان کو جہنم میں ڈال کر دم لے ۔ وہ ہر انسان کی عیب جوئی پر بھی تلا رہتا ہے ۔ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر انھیں ہر دم اپنے عذاب کی گرفت میں لینے کے لئیے ہر دم تیار رہتا ہے ۔

وہ ” مین میڈ خدا ” ہر وقت صرف اور صرف آپ سے راضی اور خوش رہتا ہے لیکن باقی ساری دنیا سے ناراض اور خفا رہتا ہے ۔ جتنا ” دین ” آپ کے پاس ہے اس خدا کے نزدیک بھی بس وہی سارا دین ہے ۔ اس کے علاوہ ہر مسلمان ” کفر ” کی زندگی بسر کر رہا ہے ۔وہ خدا دیوبندی کے پیچھے بریلوی کی ، مقلد کے پیچھے غیر مقلد کی اور شیعہ کے ساتھ سنی کی نماز کبھی بھی قبول نہیں کریگا ۔

وہ خدا ہر وقت منتظر رہتا ہے کہ آپ حلق سے عربی کے مشکل ترین الفاظ میں دعا مانگیں گے تو وہ قبول کریگا اور جہاں آپ کی عربی ” مجہول ” ہوئی آپ کی ساری کی ساری دعائیں رد کردیگا ۔وہ آپ کا سجدہ بھی اسوقت تک قبول نہیں کریگا جب تک ناپ تول کر آپ اچھی طرح یہ چیک نہ کرلیں کہ بیچ میں سے ایک بکری کا بچہ گذر بھی سکتا ہے یا نہیں ؟ وہ آپ کی دعا بھی اسی وقت قبول کریگا جب آپ ایک خاص حد تک اپنا ہاتھ فضا میں بلند کرینگے اور آپ کے متقی ، فاسق و فاجر ہونے کا فیصلہ بھی وہ آپ کے حلیے سے کرتا ہے ۔

میں نے پریشان ہوکر پوچھا ” حضرت ! وہ تو بڑا ظالم خدا ہے “۔انھوں نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگے ” اسلئیے کیونکہ ہم نے اسے ” بنایا ” ہے ۔ ہم خود ظالم ہیں اسلئیے ہمارا بنایا ہوا ” خدا ” بھی ویسا ہی ظالم ہے ۔میں نے حیران ہوکر دریافت کیا اور وہ دوسرا خدا ؟انھوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری آسمان کی طرف دیکھا اور آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہنے لگے ۔وہ خدا !

وہ عظیم الشان خدا ہے ۔ وہ میری اور تمھاری سوچ سے بڑھ کر محبت کرنے والا ، رحم کرنے والا  اور پیار کرنے والا ہے ۔ وہ اپنے نہ ماننے والوں کو بھی ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔ وہ دنیا کے ہر انسان سے اتنی ہی محبت رکھتا ہے جتنی اپنے کسی بھی نبی سے اس کو محبت تھی ۔ وہ ہر وقت اور ہر لمحہ اپنے گناہ گار بندوں کی طرف متوجہ رہتا ہے ۔

وہ تو کہتا ہے کہ میں تمھاری رگ گردن سے زیادہ قریب ہوں ۔ جب تم مجھے پکارتے ہو میں جواب دیتا ہوں ۔ تم نوے سال کی عمر میں بھی اپنے بال ، ڈاڑھی اور بھنویں تک سفید کر کے اور ساری زندگی گناہوں میں لتھڑ کر صرف ایک دفعہ سچے دل سے میرا نام اپنی زبان پر لے آؤ ۔ آنکھوں میں آنسوؤں کے چند موتی سمالو  میں تم پر جہنم کی آگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام کردونگا۔ تمھاری ساری زندگی کے گناہ نیکیوں سے بدل کر رکھ دونگا۔

وہ تو انتظار میں رہتا ہے کہ کوئی اس سے دوستی تو لگائے ، یاری تو کرے ۔ کوئی اس کی طرف ایک قدم تو بڑھائے وہ دس قدم بڑھائے گا ۔ کوئی چل کر تو اس کی طرف آئے وہ دوڑ کر اپنے بندے کے پاس آجائیگا ۔ کوئی اس کو  یاد تو کرے وہ ساتوں آسمانوں میں اس کی یاد کو پھیلا دے گا ۔

میں نے مضطرب ہوکر پوچھا کیسے ملے گا وہ خدا ؟”سب سے زیادہ آسانی اور آرام سے ” انھوں نے مسکرا کر کہا ۔آنکھیں بند کرو اور پوری محبت اور خلوص کے ساتھ صرف ایک دفعہ اپنے دل کو اس کے لئیے یکسو کرلو وہ ملے گا بلکہ صرف ” وہی وہ ” ملے گا ۔

اسے آسمانوں پر ، جنگلوں میں ، صحراؤں میں ، پہاڑوں اور بیابانوں میں نہیں انسانوں میں تلاش کرو ۔بیوقوف ہے وہ آدمی جو خدا کی تلاش میں انسانوں کو چھوڑ کر تنہائیوں اور خلوتوں میں چلا جاتا ہے “۔

کبھی کسی بھوکے انسان میں  ، کبھی کسی پیاسے جانور میں ، کبھی کسی ضرورتمند کی ضرورت میں ، کبھی کسی ٹوٹے دل میں اور  کبھی کسی کمزور کی مدد میں تمھیں اللہ کی قربت نصیب ہوجائیگی ۔میرے بیٹے ! میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا عبادت سے جنت  ملتی ہے لیکن خدمت سے خدا ملتا ہے اور جسکو خدا مل گیا پھر وہ خالی ہاتھ نہیں رہتا ہے ۔جو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ مخلوق کو تکلیف پہنچا سکتا ہے لیکن جو اس سے محبت کرتا ہے اس کے پاس سے صرف بھلائی کے چشمے ہی پھوٹتے ہیں ۔

جاؤ اور جاکر اپنے بنائے ہوئے ” خدا ” کے بت کو توڑو اور صرف اپنےخدا کے ہوجاؤ صرف اپنے پیارے اللہ میاں کے۔

حصہ
mm
جہانزیب راضی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں،تعلیمی نظام کے نقائص پران کی گہری نظر ہے۔لکھنے کے فن سے خوب واقف ہیں۔مختلف اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں