خان صاحب ایماندار ہیں

آپ یقین کرلیں کہ خان صاحب ایماندار آدمی ہیں ۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو 62 ، 63 پر پورا اترتے ہیں ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ان کے امیدواروں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا ۔ ان امیدواروں میں 62 ایسے ہیں جنکا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور 63 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔

میاں صاحب والے ہی کیس میں نااہل ہونے والے جہانگیر ترین ، 2005 میں مشرف ، 2008 میں ق لیگ ، 2013 میں پیپلز پارٹی اور اب 2018 میں تحریک انصاف کے ” حق گو ” ترجمان فواد چوہدری صاحب کی موجودگی ، بطور پاکستانی سب سے زیادہ آف شور کمپنیز رکھنے والے علیم خان ، ای – او – بی – آئی جیسے ادارے کو کھا کر ڈکار تک نہ لینے والے اور 400 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث نذر محمد گوندل ، ندیم افضل چن جیسے ” ایماندار ترین ” لوگوں  کی تحریک انصاف میں شمولیت اور بطور امیدوار اپنے حلقوں میں موجودگی کے باوجود مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔

فردوس عاشق اعوان جیسی  ” پوتر ” اور ” مادر ملت ” خاتون کا خان صاحب کے ساتھ کرسی لگا کر بیٹھنا ، ” محافظ ختم نبوت ” اور اس ملک کے “سنجیدہ ترین” انسان عامر لیاقت حسین کا 245 کراچی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا اور اشرف جبار جیسے ” لینڈ گریبر ” کے ساتھ ہونے کے باوجود میرا ماننا ہے کہ لیڈر دیانتدار ہونا چاہیئے ۔

غلام مصطفی کھر جیسے 82 سالہ ” لڑکے ” پرویز خٹک جیسے یوتھ کے ” نمائندے ” اور دوست محمد کھوسہ جیسے ” ہینڈ سم اسمارٹ بوائے ” کو ٹکٹ دینے ۔ محض 180 دنوں میں 20 کروڑ  سے  زیادہ کی چائے انڈیل لینے والی خیبر پختونخواہ کی حکومت ۔ لیڈر ایماندار ہو تو ٹیم میں کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوتی جیسے ” ایمان افروز ملفوظات ” کے ساتھ 5 سال بعد 21 صوبائی اسمبلی کے ارکان  کا صرف ڈھائی اور تین کروڑ روپے میں  بک جانے کے باوجود میرا مان ہے کہ خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں ۔

5 سال تک اپنے حلقے میں شکل تک نہ دکھانے اور اب رکشہ چلا چلا کر غریبوں کا مسیحا بننے والے دندان ساز عارف علوی صاحب کی صداقت اور دیانت کے باوجود کہ 57 تولے سونے کی قیمت محض ساڑھے تین لاکھ روپے ، انکے ڈینٹل ہاسپٹل کی مالیت صرف ڈیڑھ کروڑ روپے۔ دھوراجی سوسائٹی میں زوجہ محترمہ کے نام ایک سادہ سا بنگلہ صرف 30 لاکھ اور اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹ گیارہ کروڑ کا ہے ۔ بہرحال میرا عارف علوی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیڈر ایماندار ہونا چاہئیے۔

آپ کمال ملاحظہ کریں ۔ اسلام آباد کے پہاڑی علاقے میں 15 ہزار گز پر مشتمل ” سادگی کا نمونہ ” خان صاحب کے ننھے سے بنی گالہ کی قیمت ایک کروڑ 14 لاکھ روپے ہے ۔ میرا خیال ہے کہ اگر خان صاحب واضح کردیتے کہ یہ ہندوستانی روپیہ ہے یا پاکستانی تو خاصی آسانی ہوجاتی ۔ خیر ملک بھر میں 14 پراپرٹیز کی قیمت 3 کروڑ دس لاکھ سے ذرا زیادہ ہے۔لیکن ان سب میں  مجھے خان صاحب کی جو ادا سب سے زیادہ پسند آئی وہ یہ کہ وہ ایک ” بے کار ” آدمی ہیں یعنی ” غربت اور افلاس” کی وجہ سے اب تک ایک بھی گاڑی نہیں خرید سکے ہیں ۔ خان صاحب کی سالانہ آمدنی 17 لاکھ ہے ۔ ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ ” مخیر حضرات ” کے تعاون اور اللہ کے فضل و کرم سے وہ عمرہ ڈیڑھ کروڑ میں کر آتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ خان صاحب ایماندار ، دیانتدار ، صادق اور امین ہیں ۔

میں نے رسول خداﷺ  کہ یہ حدیث سنی تھی کہ ” آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے “۔اب مسئلہ یہ ہے کہ خان صاحب ایک ایماندار آدمی ہیں اور صحبت ان سے زیادہ ” ایماندار ” ہے ۔ویسے تو ہم نے اپنے بزرگوں سے یہ بھی سنا ہے کہ ” اگر ایک صاف ستھرے سیب کو گندے سیبوں میں رکھ دو تو وہ اچھا والا سیب بھی سڑ جاتا ہے “۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ بڑے بزرگ غلط کہتے تھے کیونکہ تب تک وہ خان صاحب سے نہیں ملے تھے ۔

جن چوروں کو چوراہوں پر لٹکا نا تھا خان صاحب نے اپنی پارٹی کو ان سے لٹکادیا ۔ لیکن پھر بھی میں دل سے اس نئے پاکستان کے انتظار میں ہوں جس کے لئیے ہر اصول ، ہر ضابطے اور اپنی 22 سالہ جدوجہد کو خان صاحب نے ایسے قربان کردیا کہ ہر لوٹے اور کرپٹ لوگوں کے لئیے اپنے دروازے چوپٹ کھول دئیے ۔ خان صاحب روک سکیں تو روک لیں کہیں یہ تبدیلی آپ کو ہی تبدیل نہ کردے اور آپ بھی میاں صاحب کی طرح پوچھتے پھریں ” مجھے کیوں نکالا ؟”۔

حصہ
mm
جہانزیب راضی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں،تعلیمی نظام کے نقائص پران کی گہری نظر ہے۔لکھنے کے فن سے خوب واقف ہیں۔مختلف اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

11 تبصرے

  1. مجھے تو آپ کے کالم کا انداز بہت پسند آیا ہے مگر کچھ لوگوں کو فارورڈ کیا تو کچھ کو برا لگ گیا….انہوں نے ثبوت مانگے… . کیا آپ ہر بات کا ثبوت مہیا کر سکتے ہیں خاص کر بنی گالہ کی پراپرٹی کئ قیمت کے بارے میں

  2. Aap kay writing may itnay jhoot hain kay is se aap ki personality ka pata chal raha hay .. theek hay so no choice ki baat hay aap imran Khan ko na pasand kerain lmagar nay khul ker jhoot bolay hain..Bani gala kay ghar aik aik documents w/o court mY dikha chukay hain, …yay you may nay aik jhoot ka javab dya hay aap Kya… awam kobewaqoof banana chor dain aur yay jo likhnay ki salayat Allah nay aap ko do hay us se haq likhain kahin Allah aap se yay naimat cheen na lain…

  3. Jahanzaib razi agr tum ne khud likha hai to ye sab sach nahi kiuke teri itni si Umar mein itni malumat vo b yakeen k saath mana Keise Jaye
    Aor haa’n kisi aor ne likhwaya hai to bhai mere itna yad rakho kisi k bare mein likhne se pehle khud Jan lo dekh lo aor samaj lo phir likho aor sath mein saboot Lao hamein dikhao kiuke bhai mere ye film ya drama nahi hai ye Pakistan ka mustqabil hai

  4. آج کل ہر سُو بڑی بِچّیاں ( مرچیں) لگ رہی ہیں ، اُن سب پاکستانیوں کو جو اپنے زعم میں جنّت کے محل کی کھڑکی میں بیٹھے کبھی ایک اور کبھی دوسرے کو جہنم میں گرتا دیکھتے ہیں اور ان کے قلم سے مندرجہ بالا مضامین جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں ! اور پھر کھڑکیوں کے پٹ بند کرکے ہم جنتیوں سے داد کے طلبگار ہوتے ہیں !
    اپنے تئیں وہ معاشرے کی تادیبی اصلاح فرما رہے ہیں ! کاش ہمیں اصلاح کا ڈھنگ کوئی سکھا دے !

  5. محترم اوپر کالم میں جتنے لوگوں کا آپ نے زکر فرمایا ان میں سے اکثراء پارلیمنٹ میں موجود نہیں نذر گوندل سے لیکر جہانگیر ترین فردوس عاشق اعوان سے لیکر مصطفی کھر تک اس وقت پارلیمنٹ میں 65٪ نئے چہرے ہیں باقی رھی بات کام کرنیکی خان صاحب کام کرینگے اس کی توقع ہی کی جاسکتی ھے اسٹام تو کسی کے پاس نہیں ھوتا اچھا لیڈر ھے اچھے کی توقع ھے بس تھوڑا حوصلہ رکھو

جواب چھوڑ دیں