الیکشن مہم اور سیاست دانوں کی زبانیں

زبان کسی بھی معاشرے کی پہچان ہوتی ہے اور لوگ اپنی زبان سے پہچانے جاتے ہیں، یہاں تک کہ زبان آپ کی سالمیت تک کے لیے بہت ضروری ہے۔اچھی زبان اعلی قدروقیمت کی حامل ہوتی ہے ،لوگ کے بولنے کا انذار اور الفاظ کا چناؤ ان کی پہچان بن جاتا ہے۔اچھے لوگ اور باوقار لوگ اپنی گفتگو کے معیار کو بھی اچھا رکھتے ہیں وہ خوش گفتار ہوتے ہیں۔وہ اچھا بولتے ہیں اور معیاری الفاظ استعمال کرتے ہیں۔زبان کے استعمال سے آپ کافی حد تک بتا سکتے ہیں کہ فلاں بندہ کیسا ہے اور ان کے طور طریقے کیسے ہیں یا ان کا اخلاقیات کا معیار کیسا ہے۔ اچھی زبان اچھے کلچر کی نمائندگی کرتی ہے۔
خاص طور پر جب آپ اپنے لیڈروں کی بات کرتے ہو تو انہیں تو اس معاملے میں خاص احتیاط کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کی پوری دنیا میں نمائندگی کرتے ہیں اور آپ کے کلچر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مگر جب یہی لوگ ایسی زبان استعمال کرنا شروع کر دیں کہ جسے سن کر آپ کو شرم آ جاتی ہے مگر بولنے والوں کو فرق نہیں پڑتا۔
ایک دور تھا کہ سیاسی جماعتوں میں چاہے کتنے بھی اختلافات ہوتے اور وہ اپنے بیانات میں ایک دوسرے کی سیاسی پالیسیوں پر کھل کر اعتراضات کرتے تھے مگر ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملہ کرنے سے گریز کرتے ، جس کا یہ فائدہ ہوتا کہ وہ دکھ سکھ کے موقعوں پر اکٹھے دکھتے اور یہ بات ملک اور قوم کے لئے اچھی تھی۔
مگر اب اس سوشل میڈیا کے دور میں جہاں ہمارے پاس بے پناہ آزادی آئی ہے کہ ہم کھل کر رائے کا اظہار کر سکتے ہیں وہیں بد تہذیبی بھی بڑھ گئی ہے ۔ایک طرف تو لوگ بھی اس طرح کی زبان اور الفاظ کا استعمال کھلے عام کرنا شروع ہوگئے ہیں جس سے ہمارا کلچر مجروح ہو رہاہے اور ہماری تہذیب کی دھجیاں اڑ رہی ہیں۔ ہمارے لیڈر ،ہمارے نمائندے بھی اخلاقیات سے کنارہ کرتے نظرآتے ہیں۔آئے دن سوشل میڈیا پر مخالفین پر تیر اندازی کی جارہی ہے اور اس میں اخلاقیات کو تارتار کیا جاتاہے، ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملے کیے جاتے ہیں۔
سیاسی فریقین اس طرح گتھم گتھا ہوتے ہیں جسے دیکھ کر لگتا ہے گلی کے ناسمجھ لڑکوں کی لڑائی ہورہی ہے، آج کل تو وہ بھی ایسے نہیں لڑتے اور اس طرح گفتگو میں ایک دوسرے کی عزتوں کو نیلام کر رہے ہوتے ہیں اور ایسے ایسے الفاظ کہ سن کر آپ کو بھی شرم آ جاتی ہے مگر انہیں فرق نہیں پڑتا۔
آج کل الیکشن کا دور ہے ہر طرف سیاسی جماعتیں الیکشن مہم چلا رہی ہیں۔جلسے جلوس ہو رہے ہیں تقاریر ہورہی ہیں خطاب کیے جارہے ہیں۔ مگر ان میں جو افسوسناک بات دیکھی گئی ہے جو یہ ہے کہ سیاستدان ایسی غلط زبان اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں جو اخلاقیات کے معیار سے گری ہوئی ہے۔بڑے بڑے سینئر لوگ، جنہیں سیاست میں آئے عرصہ ہوگیا ہے وہ بھی ایسے الفاظ استعمال کررہے ہیں ، ایک دوسرے کو گدھا پاگل کہہ رہے ہیں ، ذاتیات پر تیر برسا رہے ہیں. پارٹیاں ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملے کر رہی ہیں، لیڈر ایک دوسرے کی خاندان تک انگلیاں اٹھا رہے ہیں.
گالی گلوچ کی سیاست فروغ پا رہی ہے. کہیں بلاول کی تیر اندازی ہے تو کہیں کپتان کہ گولہ باری تو کہیں شہباز کے حملے سب کے سب ایسے ہی سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں جو کسی طور مناسب نہیں ، ایک دوسرے کی پالیسیوں کو نشانہ بنانے کی بجائے ایک دوسرے کی ذاتیات پر حملہ کرتے ہیں. جب بڑے بڑے لیڈروں کی یہ حالت ہو گی تو وہاں چھوٹے نمائندوں نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑنی . یہ سب دیکھ کر لگتا نہیں کہ یہ جمہوریت کی سیاست ہے یہاں تو ہر طرف بادشاہت نظر آتی ہے. یوں لگتا ہے ہر پارٹی کے رکن اپنے اپنے بادشاہ کو خوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس لیے مخالفین کو ہر طرح کی دھول چٹاتے ہیں، ان کی تقاریر اور بیان سن رہا کر آپ کو شرم آ جاتی ہے مگر انہیں فرق نہیں پڑتا اور یہ سب کرنے والے کوئی گلی محلے کے ان پڑھ لوگ نہیں ہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار لوگ ہیں، جنہیں سیاست میں آئے عرصہ ہو گیا ہے.یہ سب دیکھ کر خوف آتا ہے کہ ہماری سیاست کس طرف جارہی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ کر جارہی ہے گالی گلوچ کے علاوہ۔
ان حالات کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ہمارے لیڈز کس قدر سیاست کی بنیادی تربیت سے محروم ہیں اور ہمیں سیاسی تربیت کی اشد ضرورت ہے.کیا ہماری تقاریر ذاتیات پر حملے کیے بغیر نہیں ہوسکتی ہیں ، اس دوسرے کی عزت اچھالے بغیر ہمارا گزارا ممکن نہیں. کیا دوسروں کو گالی گلوچ دئیے بغیر ہماری سیاست ممکن نہیں .یہ سب برے کلچر کی پیداوار ہے مگر ہم اس کو سمجھنے سے انکاری ہیں. پتا نہیں ہم کیوں بھو ل جاتے ہیں کہ یہ بدتمیزی ہماری ذات سے شروع ہو کر ہماری ذات پر ہی ختم ہوتی ہے. اللہ ہی رحم کرے ہمارے حال پر۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں