رانی پدماوتی اور علاؤالدین خلجی ۔۔۔ کیا حقیقت کیا افسانہ

محمد بن قاسم کی سندھ میں آمد سے لے کر 1857 ؁ء کی جنگ آزادی تک بر صغیر ہندوستان میں مسلم حکمرانوں نے گیارہ سو سال تک حکومت کی ہے۔ ہندوستان مختلف النسل اقوام کا مجموعہ ہے جس کے باشندے رنگ ، نسل اور مزاج کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں متقسم ہیں۔ ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں چندر گپت موریا اور اشوک کے علاوہ کوئی اور حکمران ایسا نہیں گزرا کہ جس نے ان تمام گروہوں کو ایک سلطنت میں ضم کرکے حکومت کی ہو۔ اس کے برعکس مسلم سلاطین نے برصغیر میں کئی مضبوط اور مستحکم سلطنتیں قائم کیں جن میں تغلق، خلجی، لودھی اور مغل سلطنتیں شامل ہیں۔
سب لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کے افسانہ ہو یا فلم یہ صرف تاریخی پس منظر رکھتے ہیں مگر اصل تاریخ سے بہت مختلف ہوا کرتے ہیں بلکہ قطعی مختلف بھی ہو سکتے ہیں، یہاں تک کے سارے تاریخ دا ں جس بات کو رد کرتے ہوں فلم میں تجارتی نکتہ نظر سے اس ا فسانہ یعنی پاپولر کلچر کو خوب خوب بڑھا چڑھا کر بیاں کیا جاتا ہے۔ جس کو مستند تاریخ نہ کوئی سنجیدہ شخص مانتا ہے اور نہ ہی کوئی منوانا چاہتا ہے۔
ہاں عامتہ الناس البتہ اس میں خوب دلچسپی لیتے ہیں اور اپنے اپنے نکتہ نظر سے فلم کی بیان کردہ تاریخ کو صحیح اور مستند یا جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے رہتے ہیں۔ سخت گیر حکمرانوں پر متوازن رائے قائم کر نا یوں بھی مشکل ہوتا ہے اور جب مسئلہ ہندو اور مسلم بھی ہو تو بر صغیر کی فضا متوازن رائے قائم کر نے کے لیئے کتنی سازگار ہے، سب جانتے ہیں۔
علاؤالدین خلجی پر بھارت میں حال ہی میں ایک فلم ریلیز ہوئی ہے۔فلم ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا یعنی سماجی رابطوں کی دنیا میں ایک ہلچل سی مچ گئی، دیگر ذرائع ابلاغ پر بھی فلم پر لے دے شروع ہوگئی۔ تاریخ سے مکمل نابلد افراد نے بھی گفتگو میں بڑھ چڑھ کر رائے زنی کی اور اپنے اپنے حسابوں علاؤالدین خلجی کو دیوتااور نجات دہندہ قوم یا ظالم اور عیاش حکمراں ثابت کرنے کی کوشش کی، حالانکہ تجارتی نکتہ نظر سے بنائی گئی کسی بھی فلم میں بیان کردہ تاریخ ایک سِرے سے اس قابل ہی نہیں ہوتی کہ اس کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
ایک بے معنی بات کو اس قدر اہمیت دینا ہی اصل میں اس تحریر کا محرک بنا کہ مستند تواریخ سے علاؤالدین خلجی کی جو تصویر سامنے آتی ہے اسے بلا کم و کاست بیان کردیا جائے۔ فلمی فسانے کو حقیقت سے جدا کردیا جائے۔ تاریخ دان نہ جج ہوتا ہے نہ وکیل کہ وہ کسی کے اچھے یا برے ہونے پر دلائل دے یا کسی کے اچھے یا برے ہو نے کا فیصلہ صادر کرے۔ وہ صرف حقائق کی چھان پھٹک کرکے واقعات کو معروضی انداز میں پیش کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔اچھے برے ہونے کا فیصلہ قاری پر چھوڑتا ہے ورنہ مورخ اور فلمساز میں فرق کم رہ جائے گا۔ تاریخ کے بیان میں اگر ذاتی پسند یا نکتہ نظر شامل کردیا جاے تو بقول مختار مسعود کے ’’ایسے میں اگر نفس کا کہا مانیں تو تاریخ کا بڑا زیاں ہوتا ہے۔‘‘
سلطان علاؤالدین خلجی
1290 ؁ء میں خاندان غلاماں کے زوال کے بعد دہلی کے نواح میں نو تعمیر شدہ شہر کیلو گڑھی میں ایک افغان امیر جلال الدین خلجی نے سلطانِ ہندوستا ن کا تاج اپنے سر پر رکھتے ہوئے خلجی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔سلطان جلال الدین خلجی ایک خدا ترس اور عوام پرور حکمران ثابت ہوا۔ 1293 ؁ء میں ہلاکو خان کے پوتے نے ہندوستان پر ایک لشکر جرار کے ساتھ حملہ کردیا۔ سلطان جلال الدین خلجی نے تاتاریوں کو شکست فاش دے کر ہندوستان سے لوٹا دیا۔
علاؤالدین خلجی سلاطین دہلی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ وہ جلال الدین خلجی کا بھتیجا اور داماد تھا۔ جلال الدین اپنے معتمد امیر اور سالار کی حیثیت سے علاؤالدین کو مختلف مہمات اور بغاوتوں کی سرکوبی کے لیے بھیجتا رہتا تھا۔ اسی طرح کی مہمات کے دوران علاؤالدین مال و دولت جمع کرتا رہا یہاں تک کہ دیو گیر یا دولت آباد کی ریاست کی فتح کے بعد بے اندازہ دولت علاؤالدین کے ہاتھ لگی۔ دولت کے بل بوتے پر اس نے جلال الدین خلجی کے کئی امراء اپنے ساتھ ملا کر اپنے چچا کا تختہ الٹ دیااور اسے قتل کرکے 1296 ؁ء میں دہلی کا سلطان بن بیٹھا۔
علاؤالدین خلجی کااپنے چچا کو قتل کرکے تخت و تاج کا حصول تومناسب نہیں مگر اقتدار کی جنگ میں یہی کچھ ہوتا چلا آرہا ہے۔ سلطنت کے حصول کے لیے برادر کشی کی روایت ہندوستان کی تاریخ کا حصہ ہے۔ ہندوستان کا ولی صفت سمجھا جانے والا بادشاہ اورنگزیب عالمگیر پانچ سال تک سلطنت کے لیے اپنے بھائیوں سے لڑتا رہا اور آخر کار اپنے تین بھائیوں کو قتل کرکے شہنشاہ ہند بنا۔ اس سے پہلے اورنگزیب عالمگیر اپنے والد شاہجہاں کو بھی ساڑھے سات سال نظر بند یا قید کرچکا تھا۔ اسی شاہجہاں نے اپنے والد جہانگیر کے خلاف کی گئی بغاوت کی معافی حاصل کرنے کے لیے اپنے کمسن بیٹوں اورنگزیب اور دارشکوہ کو بطور ضمانت ملکہ نور جہاں کے پاس رکھوایا تھا۔ اورنگزیب کا جد امجد ہمایوں بھی اپنے بھائی مرزا کامران سے سالوں تخت کی لڑائی لڑتا رہا تھا۔
ایک نظر علاؤالدین خلجی کے دور حکومت پر
آئیے اب ایک نظر علاؤالدین خلجی کے دور حکومت پر ڈالتے ہیں۔ سلطان علاؤالدین خلجی اپنے پیشرو سلطان جلال الدین خلجی کی نسبت ایک نہایت سخت گیر حکمران ثابت ہوا۔ اقتدار حاصل ہوتے ہی پہلے تو اس نے جلال الدین کے خاندان کا خاتمہ کیا اور جلال الدین کے بیٹوں اور داماد کو اندھا کروادیا۔ پھر اپنی ساس اور چچی ملکہ جہاں اور دیگر شاہی خواتین کو دہلی میں قید کردیا۔ اس طرح بغاوت کے تمام امکانات ختم کردیے۔
جلال الدین کے خاندان سے نمٹ کر علاؤالدین خلجی نے سلطنت دہلی کی وسعت کی طرف توجہ دی اور سب سے پہلے گجرات اور سیوستان فتح کئے۔ گجرات کا حاکم راجہ کرن رائے تھا۔ شکست کھا کر راجہ کرن رائے گجرات سے فرار ہوگیا اور گجرات کی رانی کنولہ دیوی کو مسلمان کرکے علاؤالدین خلجی نے اس سے نکاح کرلیا۔
اس طرح آہستہ آہستہ علاؤالدین خلجی ایک کے بعد ایک ہندوستان کی ریاستیں فتح کرتا رہا۔ گجرات اور سیوستان کے بعد دیو گیر، جھالور،سیوانہ، کرنا ٹک، تلنگانہ ، ملابار، اور رومنڈل کی فتح کے بعد ہمالیہ سے لے کر گجرات اور بنگال تک بر صغیر کا تقریباً تمام علاقہ سلطنت دہلی کے زیرنگین آگیا۔ اس طرح علاؤالدین خلجی دولت خلجی کا سب سے زبردست سلطان مانا جاتا ہے۔ اس کی فتوحات میں ملک کا فور نامی غلام کا بھی اہم کردار تھا جسے علاؤالدین نے سپہ سالار کا درجہ دیتے ہوئے ایک بڑے لشکر کی کمان دی ہوئی تھی۔ ملک کافور سے متعلق تاریخ میں مشہور اکثر باتیں بے بنیاد ہیں۔
بہر حال بطور فاتح سلطان علاؤالدین ایک کامیاب بادشاہ تھا ۔مگر بطور حکمران ایک جابر شہنشاہ تھا۔ معمولی سیاسی اغراض کے لئے مخالفین کو قتل کردینا اس کے لیے معمولی بات تھی۔
سلطان علاؤالدین خلجی کی کامیاب مالیاتی پالیسی
بطور منتظم علاؤالدین کامیاب حکمران تھا۔ اس کے دور حکومت میں قیمتوں پر سرکاری کنٹرول نہایت سخت تھا۔ ہر چیز کے سرکاری نرخ مقرر تھے جن سے انحراف ممکن نہ تھا۔ یہ ایک متضاد صفات کا حامل بادشاہ تھا۔ شراب کا رسیا تھا مگر عوام میں سختی کے ساتھ شراب نوشی پر پابندی عائد کی ہوئی تھی۔ قیمتوں پر سخت گرفت ہونے کے سبب عوام کواشیاء خورد نوش با آسانی دستیاب تھیں۔
علاؤالدین خلجی کا دورِ حکومت نہایت پر آشوب تھا کیونکہ اس کے دور حکومت میں ہندوستان کو منگول حملوں کا سامنا تھا۔ منگولوں سے لڑنے کے لیے علاؤالدین کو ایک زبردست فوج کی ضرورت تھی جس کے لیے کثیر رقم درکار تھی۔ علاؤالدین کے مشیروں نے اسے عوام پر ٹیکس عائد کرکے فوج کے لیے سرمایہ جمع کرنے کا مشورہ دیا مگر علاؤالدین خلجی نے کہا کہ ہندوستان کی عوام پہلے ہی مشکلات میں گھری ہوئی ہے ایسے میں مزید ٹیکس کی ادائیگی ان کے لیے دشوار ہوگی۔
چنانچہ فوجی ضروریات پوری کرنے کے لیے علاؤالدین خلجی نے ایک مکمل مالیاتی پالیسی تشکیل دی۔ اس پالیسی کے تحت اس نے مملکت کے بازاروں کو نرخوں کے حوالے سے ایک مربوط نظام کا پابند کرتے ہوئے ہر چیز کے نرخ مکمل طور پر اپنے دربار سے منسلک کردیے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں علاؤالدین خود طے کرتا اور پورے ہندوستان میں تاجر اشیاء ایک ہی نرخ پر فروخت کرتے۔ علاؤالدین نے باقاعدہ اناج منڈی، سبزی منڈی اور مویشی منڈی قائم کی۔ ان منڈیوں میں عوام کو عام استعمال کی اجناس اور مال مویشی سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوتے تھے۔ علاؤالدین نے باقاعدہ تھوک اور پرچون کے علیحدہ بازار قائم کیے اور ان کے علیحدہ علیحدہ نرخ مقرر کیے۔ اگر کوئی تاجر ان نرخوں سے زائد قیمت وصول کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو اسی بازار میں اسے سخت سزائیں دی جاتیں۔
اس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے علاؤالدین خلجی کے زمانے میں ہندوستان کی عوام نہایت خوشحال ہوگئی اور حکومت کو محاصل کی مد میں کثیر رقم ملنے لگی۔اس طرح علاؤالدین خلجی کو تاریخ میں اعلیٰ درجہ کا مالیاتی ماہر تسلیم کیا جاتا ہے اور بعد میں یورپ میں کئی جگہ مالیاتی پالیسی سازی کے دوران خلجی کا مالیاتی ماڈل نقل کیا گیاہے۔
سلطان علاؤ الدین خلجی کو ہندوستان کا پہلا سوشلسٹ لیڈر بھی کہا جاتا ہے۔ وہ پہلا ہندوستانی حکمران تھا جس نے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرتے ہوئے زمینداروں کی زمینداری محدود کردی۔ اس طرح اس کے دور میں کاشت کارخوشحال ہوگیا۔علاؤالدین نے باقاعدہ زرعی اصلاحات نافذ کیں۔
سلطان علاؤالدین خلجی کا ہندوستان کے باشندوں پر احسان عظیم
1219 ؁ء میں قراقرم سے اٹھنے والا طوفان چنگیز خان کی سربراہی میں ماورا لنہر کے علاقوں سمرقند، بخارا، قوقند جیسے علم و فضل کے مراکز کو برباد کرچکا تھا۔ اس طوفان نے چین کی مملکت کے بعد خوارزم کی اسلامی حکومت کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی۔
چنگیز خان کے بعد اس کے پوتے ہلاکو خان نے 1258 ؁ء میں بغداد کو تباہ کرکے خلاف عباسیہ کا بھی خاتمہ کردیا تھا۔ اس دوران مفتوحہ علاقوں میں تاتاریوں نے ظلم و ستم کی جو داستانیں رقم کی وہ بذات خود اپنے اندر بے شمار عبرت ناک کہانیاں لیے ہوئے ہیں۔
سقوط بغداد کے بعد منگول حملہ آوروں کا نشانہ سرزمینِ ہندوستان تھی۔ علاؤالدین سے پہلے بھی دہلی کے مسلم سلاطین نے تاتاری افواج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔ مگر سلطان علاؤالدین کے دور میں ہلاکو خان کے پوتے اور دیگر منگول سرداروں نے مسلسل حملے کئے۔ کئی دفعہ تو وہ دہلی تک بھی پہنچ گئے ۔ مگر علاؤالدین نے ہر دفعہ انہیں زبردست شکست دی اور دو ، دو لاکھ کے لشکر کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ علاؤالدین نے جلال الدین خلجی کے دور حکومت میں بھی تاتاریوں کو شکست دی تھی مگر اس کے اپنے دور میں تاتاری حملہ آور تعداد میں کئی گنا زیادہ تھے اور زیادہ منظم بھی مگر پھر بھی فتح ہر دفعہ علاؤالدین کا مقدر بنی۔ اس طرح ہندوستان کے باشندوں پر سلطان علاؤالدین خلجی کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے اپنے زورِ بازو سے وحشی تاتاریوں کا سیلاب نہ صرف روکا بلکہ انہیں واپس ان کے علاقوں میں دھکیل دیا۔ اس طرح اہل ہند ان مظالم اور بربادی کی داستانوں سے محفوظ رہے جو سمر قند اور بخارا کے باشندوں کا مقدر بن گئی تھیں۔
رانی پدمنی یا پدماوتی کی فرضی داستان اور اس کی حقیقت
رانی پدمنی یا پدماوتی کی داستان صرف اور صرف ایک افسانہ ہے اور تاریخی طور پر اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ سارا افسانہ دراصل 1540 ؁ء میں اودھی زبان کے مشہور شاعر ملک محمد جائیسی کی تخلیق ہے۔ اس نے لوک داستان کی طرز پر ایک نظم ’’پدماوت‘‘ لکھی تھی۔ ملک محمد جائیسی کی نظم ایک بولنے والے طوطے کے گرد گھومتی ہے جو اس لوک داستان کا مرکزی کردار ہے۔
علاؤالدین خلجی اور چتوڑ کی فتح
خلجی سلطنت میں وسعت کے حوالے سے 1303 ؁ء میں علاؤالدین خلجی نے چتوڑ کے قلعے کا محاصرہ کیا۔ چتوڑ پر قبضہ کرنا علاؤالدین کی اپنی سرحدی حدود میں اضافہ کی پالیسی کا حصہ تھا، اس حملے کی اس کے سوا اور کوئی وجہ نہ تھی۔ باقی سب کچھ ملک محمد جائیسی کی خیال آرائی ہے اور اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا۔
28جنوری 1303 ؁ء میں شروع ہونے والی اس مہم کا اختتام آٹھ ماہ کی جنگ کے بعد 26اگست1303 ؁ء میں ہوتا ہے جب علاؤالدین خلجی فاتح کی حیثیت سے قلعے میں داخل ہوا۔
امیر خسرو کی گواہی
چتوڑ کی اس مہم میں مشہور شاعر اور موسیقار امیر خسرو بھی علاؤالدین خلجی کے ساتھ بطور درباری شریک تھا۔امیر خسرو نے اپنی تصنیف ’’خزائن الفتح‘‘ میں چتوڑ کی مہم کا احوال درج کیا ہے۔ اس میں امیر خسرو نے قلعے کا محاصرہ، منجیقوں کے ذریعے سنگ باری اور دوران محاصرہ برسات جیسے چھوٹے چھوٹے واقعات کا بھی ذکر کیا ہے۔ چتوڑ کی فتح کے بعد علاؤالدین نے قلعے میں محصور ہندوؤں کے قتل عام کا حکم جاری کیا جس میں تیس ہزار ہندو قتل کئے گئے ۔ اس کی بھی تفصیل ’’خزائن الفتح‘‘ میں ملتی ہے۔ مگر امیر خسرو نے کہیں بھی چتوڑ پر حملے کی وجہ کسی رانی کو قرار نہیں دیا بلکہ ’’خزائن الفتح‘‘ میں چتوڑ کی رانی کا ذکر ہی نہیں۔
چتوڑ کا راجہ جس کا نام تاریخ میں ’’رتنا سمہا‘‘ ملتا ہے اس کے بارے میں امیر خسرو لکھا ہے کہ اس نے علاؤالدین خلجی کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے تھے اور علاؤالدین نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہوئے اسے چتوڑ سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔ امیر خسرو کے بیان کی تصدیق ’’تاریخ فیروز شاھی‘‘ کا مصنف ضیاء الدین برنی اور ’’فتح السلاطین‘‘کا مصنف عبدالمالک اسامی بھی کرتا ہے۔ جبکہ ملک محمد جائیسی نے راجا رتنا سمہا کا نام ہی تبدیل کردیا اور اسے راجہ رتن سین کے نام سے یاد کرتے ہوئے افسانوی انداز میں علاؤالدین خلجی کے ساتھ پیش کیا۔ مزید یہ کہ چتوڑ کی فتح کے بعد قلعے کی خواتین کا آگ میں کود جانے کا تذکرہ بھی امیر خسرو نہیں کرتا جبکہ فتح کے بعد اس وقت امیر خسرو قلعے میں ہی موجود تھا !
مختصراً یہ کہ رانی پدمنی یا پدماوتی کا ذکر چتوڑ کے حوالے سے کہیں بھی تاریخ میں نہیں ملتا بلکہ سولہویں صدی عیسوی کے مشہور مورخ محمد بن قاسم شاہ فرشتہ نے اپنی تصنیف ’’تاریخ فرشتہ‘‘ میں لکھا ہے کہ رانی پدمنی چتوڑ کے راجا رتنا سہما کی بیٹی کا نام تھا۔ اس طرح تو یہ پورا قصہ ہی باطل قرار پاتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب خلجی کے دورِ حکومت کے ڈھائی سو سال بعد ایک شاعر کے ذہن کی اختراع ہے جس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں۔
سلطان علاؤالدین خلجی کے آخری سال
پے درپے کی کامیابیوں نے علاؤالدین خلجی کو حد درجہ مغرور اور خود پسند بنا دیا تھا۔ وہ اپنے آپ کو انسان سے بلند کوئی مخلوق تصور کرنے لگا تھا۔ اس نے ’’سکندر ثانی‘‘ کا لقب اختیار کرلیا تھا۔ اس کے زمانے کے دریافت شدہ سکوں پر بھی ’’سکندر ثانی‘‘ کا لقب واضح طور پر لکھا ملتا ہے۔ ایک وقت میں علاؤالدین کو ایک نیا مذہب ایجاد کرنے کا بھی خیال آیا اور وہ دعوٰی پیغمبری کرنے کا سوچنے لگا مگر امرائے سلطنت نے اسے اس ادارے سے باز رکھا۔ تقریباً 20سال تک حکومت کرنے کے بعد سلطان علاؤالدین خلجی کی موت1316 ؁ء میں پراسرار انداز میں ہوئی ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ملک کافور نے اسے زہر دے کر مارا تھا۔ اس طرح برصغیر ہندوستان کا ایک عظیم مسلمان حکمران اپنے غلام کے ہاتھوں ہی مارا گیا۔

حصہ
mm
عدیل سلیم ایک منجھے ہوئے قلم کار ہیں،تاریخ اسلام سے انہیں خاص دلچسپی ہیں،تاریخی موضوعات کوعام فہم انداز میں قلم بند کرنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے۔

8 تبصرے

  1. خوب لکھتے ہیں آپ عدیل سلیم صاحب ، مزا آگیا تاریخ کے جھروکوں کے عمدہ اوراق ، سلامت رہیں

  2. ماشاءاللہ عدیل ۔۔ آپ واقعی تاریخ کے بھولے بسرے دور کی سیر کروا دیتے ہیں۔

    آپکے مضامین دلچسپ و معلوماتی بھی ہوتے ہیں۔ میری تجویز ہے کہ بعد میں کسی وقت ان تمام مضامین کو کتابی شکل میں بھی شایع کیا جائے۔

    اس سے پُرانی نسل کی یادیں تازہ بھی ہو جاتی ہیں اور ہمیں اپنی نئی نسل کو بھی تاریخ سے روشناس کرانا آسان ہو جائے گا۔

  3. ماشاءاللہ بہت خوب ہمیشہ کی طرح ۔۔۔
    تاریخ کے ایسے کئی متنازعہ موضوعات آپ کی توجہ کے منتظر ہیں عدیل صاحب۔
    محنت اور جستجو جاری رکھیں۔

  4. شکریہ عدیل صاحب
    ماضی کے جھروکوں سے اہم اور سبق آموز واقعات ہم تک پہنچانے کے لیے….
    امید ہے ہم اپنے مستقبل کو بہتر کر سکیں گے…
    ڈھیر ساری دعائیں آپ کے لیے…

  5. ماشاء اللہ…. برادر عدیل سلیم تاریخی حقائق رواں دواں تبصرے کی صورت میں تاریخی کتب کے حوالہ جات کے ساتھ عام فہم انداز میں پیش کرتے ہیں. جس کی وجہ سے قاری کی دلچسپی شروع سے آخر تک برقرار رہتی ہے. کسی سنجیدہ موضوع پر اس طرح دلچسپی کا برقرار رہنا یقیناً ایک خوبی ہے. یہی وجہ ہے کہ اب برادر عدیل سلیم کے مضمون کا انتظار رہتا ہے اور تاریخ کے مختلف گوشوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے. آج کل میڈیا کی مختلف جہات پر مشتمل مشینری کے ذریعے کسی بھی قسم کا منفی پروپیگنڈا کرنا بہت آسان ہو گیا ہے. پروپیگنڈا مشینری کا ایک طاقتور tool فلم بھی ہے. فلم کے ذریعے عوام الناس بہت آسانی کے ساتھ ایسے پروپیگنڈا کا شکار ہو جاتے ہیں. کچھ اسی نوعیت کا معاملہ مذکورہ بالا مضمون میں بھی پیش کیا گیا ہے. انڈیا کی میڈیا مشینری قیامِ پاکستان کے وقت سے پاکستان، بانیانِ پاکستان اور برصغیر پر ہزار سال تک حکمرانی کرنے والے مسلمان بادشاہوں کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈا کر رہی ہے. جس کی ایک واضح مثال بابری مسجد کو رام مندر قرار دینا ہے جس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے، بلکہ خود ہندو مذہبی کتب میں رام کی جائے پیدائش کے مقام پر تضاد پایا جاتا ہے، جن کے مطابق رام کی جائے پیدائش بہرحال بابری مسجد کی جگہ ہر گز نہیں ہے. اسی طرح رانی پدما وتی کا قصہ بھی محض ایک شاعر کا تخیل ہے. شاعر کے مطابق اسے ایک طوطے نے سری لنکا کی ایک شہزادی کے حسن و جمال کے بارے میں بتایا. یہ بات راجہ تک پہنچی تو وہ کسی طرح سے رانی پدما وتی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا. اور پھر اس قصہ کو خواہ مخواہ علاوالدین خلجی تک طول دے کر مذکورہ فلم کے ذریعے ایک مسلمان بادشاہ کی شخصیت کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی. جب کہ برادر عدیل سلیم نے مسند تاریخی کتب کے حوالوں سے اس قصے کی حقیقت کو بخوبی عیاں کرتے ہوئے ہمیں اور جسارت کے قارئین کو اصل بات سے آگاہی فرمائی. بہت شکریہ برادر عدیل سلیم جملانہ…..

جواب چھوڑ دیں