بیس سال بعد انصاف ملنا سوچنے کا مقام‎

20 سال پہلے ملیر کے علاقے میں رمضان کے دنوں میں عذرا نواب کو بیٹے شوہر سمیت ان کے گھر میں قتل کردیا گیا ان کی بیٹی اسما نواب کالج جانے کی وجہ سے قتل سے بچ گی پولس کی تحقیقات کے نتیجے میں اور ان کی بیٹی کے بیانات بدلنے پر شک کی بنیاد پر اپنی ماں باپ اور بھائی کے قتل میں شامل ہونے کے الزام میں اسما نواب کو گرفتار کرلیا گیا جس وقت یہ قتل ہوا اس زمانے میں اتنی نفسا نفسی نہیں تھی اور قتل جیسی وارداتیں بہت ہی کم تھیں۔چنانچہ پورے شہر میں ایک عجیب سا خوف پھیل گیا اور یہ قتل اس وقت ہرخاص و عام کی زبان پر تھا اور جب بیٹی کو اس الزام میں پکڑا گیا تو سب نے بہت لعن طعن کی اور بلآخر عدالت نے اسما نواب اور اس کے ساتھی کو سزاے موت سنا دی اس کے بعد انھوں نے اعلی عدلیہ میں اس سزا کے خلاف اپیل دائر کی اور آخر کار 20 سال کے بعد عدالت نے اسما نواب اور اس کے ساتھی کو بے گناہ قرار دے کر با عزت بری کردیا جب ہم نے یہ خبر پڑھی تو ہمیں شدید حیرت کا جھٹکا لگا کے آخر پاکستان میں انصاف ملنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوتی ہے اب جب کہ ان کو بے گناہ بھی قرار دیدیا گیا اور سزا بھی ان کو پوری مل گی ان کی زندگی برباد ہوگی جوانی سے اڈھیڑ عمری میں داخل ہوگئے اس میں قصور کس کا ہے ان کے ساتھ تو انصاف ہوتے ہوئے بھی انصاف نہ ہوااپنی زندگی کے بہترین دن تو الزام سہہ کر جیل میں گزار دیے اس کا کفارہ یہ معاشرہ کس طرح ادا کرے گا۔
اس وقت مجھے حضرت علیؓ کا ایک قول یاد آرہا ہے کے حکومت کفر کے ساتھ چل سکتی ہے نا انصافی کے ساتھ نہیں ۔کیا اس قسم کی مثالیں دیکھ کربھی ارباب اختیار یہ سوچنے پہ مجبور نہیں ہوتے کے اب تو اس نظام کو درست کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اور آخر کب تک ہزاروں اسما نواب اور فرحان جیسے بے گناہ جیلوں میں صرف الزام کی بنیاد پر اور انصاف میں تاخیر کی وجہ سے اذیت کے ساتھ زندگی گزار یں گے اور جب تک انصاف ملے گا سزا بھی پوری کر چکے ہونگے کیا ان کے لیے کچھ کرنے کا وقت نہیں آیا ہمیں اپنے عدالتی نظام پر جنگی بنیادوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے ان خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے جس سے انصاف حاصل کرنے میں ایک نسل ختم ہوجاتی ہے ہمارے حکمرانوں کو یہ سوچنا ہوگا ان کو بھی اس طرز عمل کا حساب دینا ہے اور عوام کو بھی سوچنا ہوگا اورایک ایسی قیادت چننا ہوگی جو اپنے منشور میں اس حوالے سے تبدیلی لانے کے خواہشمند ہیں ۔ہماری چیف جسٹس صاحب سے اپیل ہے کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور انصاف کے عمل کو تیز بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اللہ نے آپ کو بہت بڑا منصب دیا ہے اللہ آپ کو اس منصب کا صحیح معنوں میں حق ادا کرنے کی توفیق دے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں