چلی جاتی ہے۔۔۔غزل

چلی جاتی ہے
بات سے بات کی گہرائی، چلی جاتی ہے
جھوٹ آجائے تو، سچائی چلی جاتی ہےرات بھر جاگتے رہنے کا عمل ٹھیک نہیں
چاند کے عشق میں، بینائی چلی جاتی ہے

میں نے اس شہر کو دیکھا بھی نہیں جی بھر کے
اور طبیعت ہے کہ، گھبرائی چلی جاتی ہے

کُچھ دنوں کے لئے منظر سے اگر ہٹ جائو
زندگی بھر کی، شناسائی چلی جاتی ہے

پیار کے نغمے ہوائوں میں سُنے جاتے ہیں
دف بجاتے ہوئے، رُسوائی چلی جاتی ہے

چھپاک سے گِرتی ہے کوئی چیز ٹھہرے پانی میں
دُور تک پھٹی ہوئی، کائی چلی جاتی ہے

کرتی ہے مجھے، میرے لہُو کی خوشبُو
زخم سب کھول کے، ہریالی چلی جاتی ہے

درودیوار پر چہرے سے اُبھر آتے ہیں
جسم بنتی ہوئی، تنہائی چلی جاتی ہے

شاکرہ نندنی

حصہ
mm
ڈاکٹر شاکرہ نندنی لاہور میں پیدا ہوئی تھیں اِن کے والد کا تعلق جیسور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا اور والدہ بنگلور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئیں تھیں اور پیشے سے نرس تھیں شوہر کے انتقال کے بعد وہ شاکرہ کو ساتھ لے کر وہ روس چلی گئیں تھیں۔شاکرہ نے تعلیم روس اور فلپائین میں حاصل کی۔ سنہ 2007 میں پرتگال سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور استاد کیا، اس کے بعد چیک ری پبلک میں ماڈلنگ کے ایک ادارے سے بطور انسٹرکٹر وابستہ رہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سویڈن سے ڈانس اور موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اب ایک ماڈل ایجنسی، پُرتگال میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔.

جواب چھوڑ دیں