جسے جمعیت کہتے ہیں

اسلامی جمعیت طلبہ کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی پیارے پاکستان کی ،تاریخ گواہ ہے کہ جتنی خدمت قوم کی جمعیت نے کی ہے اتنی شاید ہی کسی اور نے کی ہو۔
آپ معاشرے میں موجود ہرشعبے کو دیکھ لیں آپ کو آج جمعیت کے تیار کیے ہوئے افراد نمایاں کارنا مے سر انجام دیتے نظرآئیں گے۔
تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ اس قوم اور ملک پر جب بھی برا وقت آیا جمعیت نے ہمیشہ اس کا ساتھ دیا۔1971 میں ملک دشمن عناصر کے آگے ڈٹ کر مقابلہ صرف جمعیت ہی نے کیا ، جبکہ قدرتی آفات کی صورت میں بھی جمعیت کے کارکنان قوم کی مدد کیلیے آگے آئے۔
جمعیت تو ہر دور میں مثبت سر گرمیوں میں مصروف رہی مگر دوسری طرف اسے تعلیمی اداروں میں کبھی سیاست کے نام پر ، کبھی مذہب کے نام پر اورکبھی قوم پرستوں کی مخالفت کا سامنا رہا ہے۔کراچی میں لسانیت کی بنیاد پر قائم طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او کی درندہ صفت کارروائیوں سے جو لوگ واقف نہیں ہیں ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ کراچی کے کئی تعلیمی اداروں میں اس تنظیم کے غنڈوں نے جمعیت کے سینکڑوں کارکنان کو موت کے گھاٹ اتارا اور ایسے سفاکانہ ظلم کیے کہ جن کا سوچ کرہی انسان کی روح کانپ جائے۔ ڈرل مشین سے طالب علموں کے جسموں پر سوراخ کیے گئے ، ان کے ناخنوں کو پلاس سے اکھاڑا گیا اور جسموں کو جلتی سگریٹ سے داغا گیا ، مگر افسوس کسی اینکر کو آج تک اس پر بات کرنے کی کو ئی ہمت نہیں ہو ئی۔
دوسری طرف پشاور میں پختون طلبہ کی طرف سے تشدد کا سامنا ہو یا پھر پنجاب کے تعلیمی اداروں میں قوم پرست عناصر کی طرف سے جمعیت کے کارکنا ن کو بجلی کے جھٹکوں سے مارا جانا ہومگر جمعیت کا سفر پھر بھی جاری رہا اس کے پیچھے اس کے کارکنا ن کی مخلصانہ کو ششیں اور ان کا باطل کے سامنے ڈٹ جا نا ہے۔
آپ پورا پاکستان گھوم کر دیکھ لیں آپ کو ملک کے تعلیمی اداروں میں واحد طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ ہی نظرآئے گی جو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آج بھی موجود ہے اور اس ملک کو ہر سال ہزاروں کی تعداد میں باصلاحیت افراد مہیا کر تی ہے جو اپنے اپنے شعبوں میں جاکر اس ملک کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔
آج جمعیت کے پورے ملک میں 3 ہزار سے زائد یو نٹس موجود ہیں جبکہ ایک لاکھ کے قریب اس کے رفقا ء ہیں اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں جمعیت کے ارکان ہر مشکل کا مقابلے کے لیے ہمہ وقت تیار نظرآتے ہیں۔
یہاں میں ایک بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک اینکر نے جمعیت کے کارکنا ن کو دیہاتی لڑکوں سے منسوب کیا ہے میں ان کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ یہ جمعیت ہی ہے جس کی مرکزی شوریٰ میں موجود 31 ارکان تمام کے تمام پی ایچ ڈی ، ایم فل اور ماسٹر کی سطح کے طالب علم ہیں جو کسی اور طلبہ تنظیم کے پاس اتنی بڑی تعداد میں پڑھے لکھے طلبہ نہیں ہو ں گے۔
موصوف خود ایک چھوٹے سے دیہات سے تعلق رکھتے ہیں اسی لیے وہ دوسروں کو بھی اپنے جیسا دیہاتی سمجھتے ہیں۔ کیا ان کو معلوم ہے کہ میدان صحافت اور سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی اسی اسلامی جمعیت طلبہ سے نکلی ہے جو دنیا کے چپے چپے میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کررہے ہیں۔
قوم پرست تنظیموں کو ایک پریشانی یہ بھی ہو تی ہے کہ ان کے پاس سوائے نفرت کا پرچار کرنے کے اور کوئی کام تو ہوتا ہی نہیں ہے تو وہ جمعیت کے ساتھ غیر ضروری طور پر اٹکنا شروع کر دیتے ہیں مگر جب انہیں جواب ملتا ہے تو پھر مظلومیت کا رونا شروع کر دیتے ہیں۔
جمعیت ہی وہ واحد تنظیم ہے جس میں ہر قوم قبیلے ، علاقے اور ہر مکتبہ فکر کے کارکنا ن موجود ہیں جن میں ایسی محبت ہے کہ جسے دیکھ کر لوگ رشک کرتے ہیں۔
جمعیت کو مسئلہ قومیت سے نہیں ہے بلکہ قوم پرستی کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کے لیے جمعیت ہمیشہ مسئلہ رہی ہے۔ کراچی سے خیبر تک تمام قوم پرست تنظیمیں اپنے اپنے علاقوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں جبکہ جمعیت ہی وہ واحد تنظیم ہے جو ملک کے کونے کونے میں پوری آب و تاب کے ساتھ آج بھی موجود ہے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں