منکرینِ حدیث کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

منکرین ِ حدیث کا سیدھا سیدھا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ؛

قرآنِ مجید کو صاحبِ قرآن و شارحِ قرآن معنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بغیر سمجھا جائے

اس کا فائدہ یقیناً یہ ہوگا کہ ہر کوئی قرآنِ مجید کی من مانی تشریح و تفسیر و توضیح و تعبیر کرنے میں آزاد ہوگا ،

جو منصب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے – وہ انہیں تفویض ہوجائے ،

یہ سیدھا ختمِ نبوت اور مقامِ نبوت ہی پر ڈاکہ ہے ،

اور ایک دوسرا فتنہ منکرینِ صحابہ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کو ہدفِ تنقید بنانے والوں کا ہے ،

ان کا معاملہ بھی منکرینِ حدیث ایسا ہی ہے۔

ظاہر ہے صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ سند کی پہلی کڑی ہیں۔

چنانچہ یہ اور منکرینِ حدیث ؛ اُمّت کی عدالت میں قرآنِ مجید کی اُس تعبیر و تشریح و تفسیر و توضیح و تفہیم کو مجروح قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں – جو صحابہ کرام نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبتوں میں مکمل جانی ، سیکھی ، سمجھی اور ایمان اور مکمل ایمانتداری کیساتھ من و عن امت تک پہنچائی۔یعنی قرآن مجید کی  ”عین وہی”  تفسیر و تعبیر و تشریح و توضیح و تفہیم – جو شارحِ قرآن محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان کرکے دی ۔

دشمنِ اسلام جانتا ہے کہ ؛

 صحابہ کرام دینِ اسلام کی بنیاد ہیں ،

صحابہ کو ناقابلِ اعتبار اور نشانۂ تنقید بنا دینے کے بعد دینِ اسلام کی عمارت ہی منہدم ہوجاتی ہے۔

چنانچہ وہ جب بھی شیطانی و دجالی تیشہ چلائے گا ، حدیث اور صحابہ ہی پر نقب لگائے گا۔

بنیادی طور پر تمام فِرَقِ باطلہ کی پہچان بس یہی ہے ،

یہ ہمیشہ حدیث اور دینِ محمدصلی اللہ علیہ سلم کی اولین ، حقیقی و اصل محافظ و ترجمان جماعت(صحابہ) ہی کو مشکوک بنائیں گے۔تاکہ باآسانی قرآنِ مجید پر ہاتھ صاف کیا جاسکے اور قرآنِ مجید سے اپنی مرضی کا کام لیا جاسکے

تمام کبار فتنے یہیں سے پھوٹے ہیں۔

لہذا نہایت لازمی ہے جدید مسلمان اور امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بتانا اور سمجھانا کہ اصل دین صرف وہ کہلاتا ہے جو  ”بذریعہ صحابہ”  امت تک پہنچے ۔

اللہ کو ہر مسلمان سے صرف یہی ایمان و اعتقاد مطلوب ہے کہ ہر مسلمان صحابہ کی سیرت و منہج کو منبعِ ہدایت تسلیم کرے اور قرآن و حدیث سے استدلال کرتے ہوئے  ”صحابہ کے فہمِ”  قرآن و حدیث ہی کو حُجّت مانے

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بنا قرآن مجید کی  ”نبوی”  تفسیر ہم تک کیسے پہنچ پاتی بھلا ؟؟

آپ اصحاب (رضی اللہ عنہم) دینِ محمد کی حفاظت کیلئے اللہ کا پسندیدہ انتخاب ہیں ، آپ اصحاب (رض) نے آسمانی آخری مکمل ضابطہ حیات کو  ”علمی و عملی”  ہر دو میدانوں میں عین اُسکی اصل و حقیقی شکل میں قائم رکھا ،

چنانچہ اللہ تعالٰی نے قرآنِ مجید میں صحابہ کرام کی بابت ؛

 رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ  فرما کر قیامت صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کی شان قائم کر دی۔

رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ

کسی اور کے بارے تو ظن و تخمین ہی سے کہا جاسکتا ہے کہ اللہ اس پر راضی ہوا یا نہیں – مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ جماعت ہیں جن کی بابت اللہ تعالٰی نے قرآنِ مجید ہی میں دو ٹوک اور صاف واضح کلام فرما دیا :رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ

اب ظاہر ہے جن سے اللہ راضی ہوجائے تو  ”اللہ کے”  بندوں کو بھی اُن پر راضی ہوجانا چاہیے۔کیونکہ جو صحابہ کی بابت بدگمان ہوا یقیناً وہ اللہ اور اللہ کی ہر پسندیدہ چیز ہی کا دشمن ہے اور اسے دشمنانِ اسلام اور شیطان کے بندوں میں سے ہی سمجھا جائے گا۔

خوب ذہن نشین رہے

اُمّتِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر بحران سے نکالنے کا کوئی بھی حل  سیرت و منہجِ صحابہ کو بنیاد بنائے بنا ناممکن ہے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں