اہل برما  اور اہل خیر

برما کے روہنگیا مسلمانوں کا آج وہی حال ہے جو 5 صدیاں پہلے اندلس کے مسلمانوں کا تھا۔ غرناطہ اندلس کے مسلمانوں کا آخری مورچہ تھا جس نے اڑھائی سو برس تک نصرانیوں کی جارحیت کا مقابلہ کیا، مگر جب اس کا دم لبوں پر آیا تو باہر سے کوئی اس کی مدد کو نہ پہنچا، حالانکہ باقی عالم اسلام میں مسلمانوں کی قوت و شوکت کچھ کم نہیں ہوئی تھی۔ اندلس میں ان پرآشوب حالات کے دوران مشرق کی سلطنتِ عثمانیہ اپنے دورِ عروج سے گزر رہی تھی۔ سقوطِ غرناطہ سے صرف 39 سال پہلے 857ھ (1453ئ) میں سلطان محمد خان فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرکے پورے یورپ کو ہلا ڈالا تھا۔ اب اس کا بیٹا سلطان بایزید ثانی سلطنتِ عثمانیہ کا تاج دار تھا۔ مصر میں سلطان قائتبائی (م 901ھ) کادورِ عروج تھا۔ اس کا بحری بیڑہ بحیرہ ٔ روم میں نہایت طاقتور سمجھا جاتا تھا۔ غرناطہ کے عمائد نے محاصرے کے دوران سفیر بھیج کر ان حکمرانوں سے فوجی مدد کی درخواست کی، مگر انہوں نے کمک بھیجنے کی بجائے، بیت المقدس کے کچھ پادریوں کو نمایندہ بناکر اسپین کے عیسائی حکام کی طرف بھیج دیا تاکہ صلح و صفائی کا ماحول پیدا کیا جائے، مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ غرناطہ کا محاصرہ شدت اختیار کرتا گیا۔ کمک اور رسد بند ہوجانے کے باعث مسلمان بھوکوں مرنے لگے۔ غرناطہ کے آخری سلطان ابوعبداللہ محمد کی صدارت میں علماء، امرائے فوج اور عمائدِ شہر کا اجلاس ہوا اور ساری صورتحال پر غور کیا گیا۔ دو ہی راستے تھے، انجام کی پروا کیے بغیر لڑنا یا ہتھیار ڈال کر خود کو دشمن کے حوالے کردینا۔ آخر میں طے ہوا کہ عیسائیوں سے زیادہ سے زیادہ مراعات منظور کراکے شہر ان کے حوالے کردیا جائے، چنانچہ مئی 1492ء میں اندلس میں مسلمانوں کا آخری شہر ’’غرناطہ‘‘ بھی نصرانیوں کے قبضے میں چلاگیا۔

برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت اہلِ اندلس سے مختلف نہیں۔ 1982ء میں شہریت کے قانون میں تبدیلی کے بعد انہیں برما کے ایک سو 35 نسلی گروہوں سے خارج کردیا گیا۔ شہریت سے محرومی کے بعد ان کے پاس رہائش، صحت، تعلیم، روزگار، انصاف سمیت کوئی حق باقی نہیں رہا۔ وہ بدھ اکثریت کے لیے تختہ مشق بن گئے۔ ان پر مظالم کی تفتیش نہیں کی جاتی۔ وہ سرکاری اجازت کے بغیر شادی تک نہیں کرسکتے۔ 2 سے زائد بچے پیدا کرنا ان کے لیے ممنوع ہے۔ وہ خصوصی اجازت نامے کے بغیر کہیں آجا نہیں سکتے، املاک کی خریدو فروخت کے حق سے محروم ہیں۔ برمی مسلمانوں کی حالت اسلامیانِ اندلس سے زیادہ قابلِ رحم ہے۔ اُس دور میں اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے میں کئی ماہ لگ جاتے تھے، مگر برما کے مسلمانوں کا حال سب کے سامنے ہے، وہاں باقاعدہ ان کی نسل کشی کی جارہی ہے جسے بھارت کی پوری حمایت حاصل ہے۔

برما میں حکومتی سرپرستی میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری ظلم وستم اور جبری ملک بدری سے اب تک 4 لاکھ سے زائد رہنگیا مسلمان  بنگلا دیش ملائیشیا اور انڈو نیشیا ہجرت کر چکے ہیں جن میں سے اکثریت بنگلا دیش میں ہے ۔ الخدمت جو کہ ملکی اور بین الاقوامی فلاحی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے الخدمت  نے ابتدائی طور پر برمی مہاجرین کے لئے ریلیف آپریشن کردیا تھا، عیدالاضحیٰ کے بعد  الخدمت کے مرکزی صدر محمد عبدالشکو ر نے وفد کے ہمراہ بنگلا دیش کو دورہ کیا اور کاکس بازار میں روہنگیا مہاجر کیمپ کا تفصیلی جائزہ لیا، محمد عبدالشکور بتاتےہیں کہ ” جب ہم کیمپ پہنچے تو اس وقت بھی بڑی تعداد میں مہاجرین ننگے پاؤں بے سروسامانی کے حالت   میں جانے کن مشکلات کے پہاڑوں کو عبور کر کہ بنگلا دیش پہنچ رہے تھے ۔ جن کے خوف ، بھوک ، تکلیف اور کیچڑ سے لتھڑے چہرے ان کی حالت ِ زار کا پتہ دے رہے تھے۔ جس کو جہاں جگہ مل رہی تھی وہیں ڈیرہ لگا کر بیٹھے رہے تھے ، کمزوری اور نقاہت کا یہ عالم تھا کہ چلنے پھرنے اور بات کرنے سے بھی اُکسا رہے تھے ۔کوئی اپنے لخطِ جگر سے محروم ہوچکا تھا تو کوئی والدین کا سایہ شفققت کھو چکا تھا،  میں نے رات کے وقت ایک ایسا کیمپ بھی دیکھا جس کو چھوٹے چھوٹے پلاسٹ کے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنایا گیا تھا ۔چھوٹی سے اراضی پر ہزاروں خواتین ، بزرگ اور بچے شیدید پریشانی کے عالم میں  بے بسی کی تصویر بنے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔آپ نے یقیناََ میڈیاکے زریعے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والےظلم وستم کے واقعات دیکھے اور سنے ہونگے ۔ لیکن یقین جانئے دکھ اور درد کی تصویر  بنے یہ چہرے دیکھنے کے بعد میری  لئے چین کی نیند سونا ممکن نہیں رہا ۔”

الخدمت کے مرکزی صدر نے ابتدائی طور پر کیمپ میں موجود مہاجرین میں تیار کھانا، خشک راشن اور ضروری اشیا تقسیم کیں اور مزید ریلیف آپریشن کے لئے  بنگلا دیش کی  مقامی این جی اوز کے ذمہ داران سے میٹنگ کی اورمزید  امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات  لی ۔ 72 گھنٹے بنگلا دیش میں گزار کر واپس اسلام آباد پہنچے اور فوری طورپربڑی این جی اور کا اجلاس بلایا اورروہنگیا  مسلمانوں کے حوالے سے ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا  ۔ صدر الخدمت کے مطابق مہاجر کیمپوں میں موجود افراد کو  تیار کھانا ، خشک راشن ، خیمے کی فوری ضرورت ہے اور بیت الخلاء  کی تعمیر بھی ضروری ہے ۔

الخدمت کی اپیل پر ہمیشہ کی طرح لوگوں نے بھرپور اعتما دکامظاہرہ کرتے ہوئے عطیات جمع کروانے کا سلسلہ شروع کیا جو تاحال جاری ہے  ۔ الخدمت کے مقامی  رضا کار  چوکوں چوراہوں ، مساجد کے باہر ،بازاروں گلیوںمیں روہنگیا مسلمانوں کے لئے عطیات جمع کررہے ہیں ۔ اسکول ، کالج اور یونیوسٹی کے طلبا و طالبات بھی اپنے طور مہمات چلا کر عطیات جمع کر رہی ہیں ، جبکہ اندرون سندھ کی پسماندہ آبادیوں کے مکینوں نے بھی 20لاکھ روپے کی ابتدائی رقم الخدمت کے حوالے کی ہے ۔کراچی کے ایک اسکول کے بچوں نے 10لاکھ روپےروہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لئے الخدمت کے حوالے کیے۔  پاکستانی عوام کے دیئے گئے ان عطیات سےامدادی سرگرمیاں جاری ہیں ۔ مہاجر کیمپوں میں مقیم افراد میں پکاپکایا کھانا تقسیم کیا جارہا ہے خشک راشن کی تقسیم کا عمل جاری ہے ، پینے کے لئے صاف پانی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے لئے  ہینڈز پمپ  کی تنصیب بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔کم اراضی میں بہت ذیادہ افرادرہائش پذیرہیں جن کے لئےضروری حاجات سے فراغت خصوصاََ خواتین کے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ اس ضمن میں بیت الخلاء تعمیر کئےجارہے ہیں ۔ سا حلی علاقہ ہونے کی وجہ سے بارش کثرت سے ہوتی ہے جس سے  بیماریوں اور مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے ، بچوں اور خواتین میں کو مختلف امراض کا  سامنا  کر نا پڑرہا ہے جس کے لئے مقامی ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ مل کر میڈیکل کیمپس قائم کردیئے گئے ہیں ۔صدرالخدمت پاکستان محمد عبدالشکور کی سربراہی میں وفد ایک بار پھر امدادی کاموں کا جائزہ لینے کے جلد بنگلا دیش روانہ ہوگا۔ روہنگیا مسلمانوں کے لئے امدادی سرگرمیوں پر محمد عبدالشکور صاحب سے تفصیلات کے لئے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ مسلمان بھائیوں کے لئے پاکستان کے کونے کونے سے رقوم موصول ہورہی  ہیں جبکہ پاکستان سے باہر بھی مختلف ممالک میں مقیم مسلمانوں نے بڑی رقوم عطیہ کی ہیں  لیکن ضرورت اس سےکہیں  ذیادہ ہ ہے ، روہنگیوں کی بہت بڑی تعداد بنگلادیش ہجرت کر چکی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔صدر الخدمت نے  اہل خیر افراد سے مزید تعاون کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی برما میں پرتشدد کارروائیوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جس کے باعث لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جس کے بعدپاکستان سے الخدمت فاؤنڈیشن سمیت ترکی ، ملائشیا ور انڈونیشیا کی سماجی تنظیموں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔

 

حصہ
mm
سلمان علی صحافت کے طالب علم ہیں، بچپن سے ہی پڑھنے پڑھانے اور لکھنے لکھانے کا شوق ہے ۔ کافی عرصہ ریڈیو سے وابستہ رہنے کے بعد کچھ عرصہ ایک اخبار سے وابستہ رہے ، فی الوقت ایک رفاعی ادارے کے شعبے میڈیا اینڈ مارکیٹنگ سے وابستہ ہیں ۔معاشرتی مسائل، اور سیر و سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں