خرد کو غلامی سے آزاد کر

خلیفہ ہارون الرلشید کے دو بیٹے امام اصمعیؒ کے پاس زیر تعلیم تھے ۔ امام صاحب دونوں شہزادوں کو تعلیم دینے کے لئیے شاہی محل تشریف لایا کرتے تھے ۔ایک دن خلیفہ دور کھڑا ہوکر امام صاحب اور اپنے دونوں بیٹوں کو دیکھتا رہا ۔ جب چھٹی کا وقت ہوا تو ایک بیٹے نے...

’’قبل از وقت متنازع الیکشن‘‘

مستونگ دھماکے میں 128بے گناہوں کی شہادت ہوئی ۔اس سانحے نے صرف جانیں ہی نہیں لی، بل کہ 128 خاندانوں کو اجاڑ ا ۔بلوچ قوم تقسیم پاکستان سے ہی...

حکمت مؤمن کا گم شدہ خزانہ ہے

یہ مضمون اسمعیل راجی فاروقی  شہید کی معرکہ آرا کتاب ’ علوم کی اسلامی تشکیل جدید ‘ پر مبنی اور ان کی فکر سے مستعار ہے : علوم کی اسلامی...

خدمتِ خلق عین عبادت

آج کل کے دور میں ہر انسان بے حد مصروف ہے۔ ہر انسان اپنے لئے سوچتا ہے اور فکر معاش میں ارد گرد سے لا تعلق سا نظر آتا...

مستونگ, کس کی ناکامی

جب بھی "ترجمان" کی پریس بریفنگ ہوتی ہے اور خاص طور سے اس موقعہ پر جب امریکہ کی جانب سے "ڈومور" کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاجاتا ہے کہ دہشتگردوں...

پانی کا مسئلہ ،گلوبل وارمنگ اور کلائمنٹ چینج

پانی فی الواقع ایک مسئلہ بن کے رہ گیا ہے لیکن پانی کی فراہمی کو مسئلہ بنانے کے ذمہ دار خود ہم ،ہماری ہوس ،ہمارا اسراف اور ہماری بے...

ریاست اور استوانِ ریاست

            گزشتہ دوتین برس سے ایک جملہ بہت زیادہ سنائی دینے لگا ہے ہے ، ریاست کے خلاف کوئی بیان تقریر یا کسی قسم کی کوئی ایسی کاروائی جس سے...

  پانی پانی کردے سب رانجھا ہوئے 

پچھلے دنوں یوٹوب پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کیسے 2050 میں لوگ پانی کو  چھپا چھپا کر لاکرز میں رکھیں گے اور چور ڈاکو...

عشق کا اصل تقاضا

میں کوئی باقاعدہ قلم کار نہیں مگر آج دل نے بہت اصرار کیا کے اس موضو ع پر ضرور کچھ لکھوں ۔ بحیثیت مسلمان ہم سب نا مو سِ رسالت...

الیکشن یا اٹینشن

جب بھی ترجمان ترجمانی کیلئے تشریف لاتے ہیں ان کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ "ہمارا الیکشن یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں"۔ بات تو "دل لگتی" ہی کہتے ہیں۔...

جینے کا ہنر

خرد کو غلامی سے آزاد کر

خلیفہ ہارون الرلشید کے دو بیٹے امام اصمعیؒ کے پاس زیر تعلیم تھے ۔ امام صاحب دونوں شہزادوں کو تعلیم دینے کے لئیے شاہی محل تشریف لایا کرتے تھے...

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

انسانی دماغ میں ایک سو ملین سے بھی زیادہ اعصابی خلیے (نیوران) پا ئے جا تے ہیں اور ہر ایک خلیہ ایک سوپر کمپیوٹر سے بھی زیادہ طاقت ور...

آپ خود کو صرف59 سیکنڈز میں بدل سکتے ہیں

آپ صرف 59 سیکنڈز میں اپنی شخصیت میں نمایاں تبدیلی لاکر ایک خوشگوار زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں جی ہاں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں۔ یہ دعویٰ...

خوشگوار زندگی کا راز

بادشاہ وقت نے اپنے وزیر خاص سے پوچھا: یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں۔ جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کمی...

کامیابی کاحصول کیسے ممکن ہے؟

ایک بڑ ی کمپنی کا سالانہ اجلاس جاری تھا ۔صدرہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، سینکڑں ملازمین  اپنی اپنی نشستوں پر موجود بڑے ہی انہماک سے اسٹیج پر موجودمقرر...

مایوس ہونے کا پیمانہ

مایوس ہونے کا امکان ہر انسان میں پایا جاسکتا ہے، البتہ مایوس ہونے کی سطح الگ الگ ہو سکتی ہے۔ موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان کسی راہگیر سے موبائل...

میڈیا واچ

زن مرید۔۔۔ ایک ڈرامہ یا سوشل انجینئرنگ؟

 "زن مرید"، ڈرامے کا نام سنتے ہی ذہن میں جو پہلا خیال آیا وہ ایک معصوم سے کاٹھ کے الو قسم کے شوہر کا تھا جو اپنی بیوی کے...

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر...

ترکی ڈرامے۔۔ پاکستان میں

عشق ممنوع، میں عائشہ گل، میرا سلطان، کوسم سلطان، پیار لفظوں میں کہاں، الیف، ایک حسینہ ایک دیوانہ، فاطمہ گل، مناہل اور خلیل، آشیانہ میری محبت کا... 2012 سے پاکستان...

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

کوئی بھی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے اسباب و عوامل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کی وجہ سے کوئی بھی انسان اس درندگی پر آمادہ...

اشتہارات: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

          ہماری زندگی میں اشتہارات کی بہت زیادہ اہمیت ہے، ہر کمپنی اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے اشتہارات کا سہارا لیتی ہے۔ بل بورڈز، ریڈیو، اخبارات ، انٹرنیٹ...

ڈرامے, تفریح یا بے راہ روی

سڑکوں پہ ناچتی ہیں کنیزیں بتول کی اور تالیاں بجاتی ہے امت رسول کی یہ شعر ہمارے مسلم معاشرے میں اسلامی قدروں کی پامال ہوتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کسی...

مباحث

دین مائینس سیاست برابر چنگیزی

جب بھی اسلام  میں سیاست کے حوالے سے بات چھڑتی ہے یا بحث و مباحثہ ہوتا ہے تو عام طور پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اس مصرع کا...

سرسید اور ان کی پیدا کردہ ذہنیت

ایک مسلمان کے لیے سب کچھ اس کا دین ہے، اس کا خدا ہے، قرآن مجید ہے، رسول اکرمؐ کی ذات مبارکہ ہے، آپؐ کی سیرت ہے، آپؐ کی...

لبرل ازم کیا ہے ؟

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے افکارو نظریات میں بہت زبردست انقلاب رونما ہوا۔ یہ انقلاب اس قدر...

قدیم و جدید فتنے کہاں سے پھوٹے ؟

  کلامِ الہی قرآنِ مجید کیا کہتا ہے ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ہمیں کوئ نہیں بتائے گا ، قرآنِ مجید (کلامِ الہی) کے  ''شارح'' ...

کیا قادیانیوں کو جبرا غیر مسلم بنایاگیا؟؟

جیسے ہر ملک کا شہری بننے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے کو فالو کئے بغیر آپ اسکے شہری نہیں بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ...

الفاظ کی توہین کا زمانہ

       ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا زمانہ ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں صرف ایک کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کام ہوگا الفاظ...

قدامت،لبرلزم اور فطرت

اگرچہ اب مذہبی لوگوں میں بھی ’’مزاحیہ فنکاروں‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ مگر مذہبی لوگ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ...

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے...

جدیدیت کیا ہے،کیانہیں؟

دنیا کی ٢٣ روایتی، الہامی دینی تہذیبوں میں انسان عبد تھا۔ وہ جو اس نیلی کائنات میں خدا کے آگے سر بسجود ایک ہستی تھا جو اپنی آخرت کی...

اہم بلاگز

بچوں کی تر بیت میں والدین کا کردار

اولاد اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ عام آدمی ہی نہیں نبیوں اور بزرگوں نے بھی اولاد کی تمناکی اور دعائیں مانگیں۔یہ ایک فطری امر ہے کہ انسان اولاد کی تر بیت اور پرورش کے لئے تا حیات اپنے آپ کو مصروف رکھتا ہے۔ رب ذوالجلال فرما تا ہے " مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہے"(الکہف) ہمارے سامنے سماج کی مختلف اکائیوں کی شکل میں موجود شرفاء و ذلیل ،کامیاب و ناکام،معززو مقہور افراد بچپن کی منازل طئے کر تے ہوئے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ ہمارے اردگرد بسنے والے یہ انسان جن میں قاتل بھی ہیں اور مقتول بھی،امن پسند بھی ہیں اور فسادی بھی یہ صرف اس تربیت کا نتیجہ ہے جو ان کو فرا ہم کی گئی جس کی بنا ء پر کوئی فتنہ پرور بن کر ابھر ا تو کو ئی ہا دی اور صالح بن کر ابھرا۔جس بچے کو اچھی تر بیت میسر آگئی وہ بہتر انسان بن گیا جو رہنمائی اور تر بیت سے محروم رہا وہ بے راہ روی کا شکار ہو گیا۔ رسول اکرم ﷺ کا فر مان ہے کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتاہے پھر اس کے والدین اس کو یہودی ، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ بچے پیدائشی طور پر پاکیزہ اور نازک ہو تے ہیں۔اگر ان کو خیر کا عادی بنادیا جائے اور اچھے کا م سکھائے جائیں تو وہ زندگی میں آگے بڑھتے ہیں بجائے اس کے اگر وہ بر ے افعال کے عادی ہو جا ئیں تو بربادی اور ہلاکت ان کا مقدر بن جا تی ہے۔ما ں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ کہا گیا اورایک مثالی ماں کو ایک ہزار اسا تذہ پر تر جیح دی گئی ۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی اور باپ کو جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ بنا دیا گیا۔ والدین کو ان اعلی و ارفع مقامات پر فائز ہ کرنے کی وجہ نسل نوکی تربیت میں ان کا گرانقدر کردار اور اولاد کی فلاح و بہبود کے لئے اپنا آرام وسکون نثار کر ناہے۔ حشرات الارض پیدا ہو تے ہی رینگنے ،پرندے پرواز اور چوپائے چلنے پھرنے کے قابل ہو جا تے ہیں جب کہ اولاد آدم کو اپنی پیدائش کے بعد امور زندگی کی انجام دہی کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتاہے۔ اور وہ طویل عرصہ جس کے باعث بنی نوع انسان اپنے آپ کو خود کفیل بنا پاتی ہے اسے تعلیم و تر بیت سے تعبیر کیا جا تا ہے۔ جہاں جانور اپنی خوراک اور زندگی کا ادراک لئے روئے زمین پر آتاہے وہیں انسانی نو زائیدہ نسل ان تما م رموز پا نے میں ایک عر صہ لگادیتی ہے۔ تربیت بنی نوع انسان کا وہ واحد وصف ہے جس کی بدولت انسان اپنی آنی والی نسلوں کو حسب منشاء تیار کر تاہے ۔ کسی بھی ملک و قوم کا مستقبل اس ملک و قوم کے بچوں پر ہو تا ہے۔بچوں کو نظر انداز کر کے کو ئی بھی قوم آج تک کامیابی حا صل نہیں کر سکی ۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و تخریب...

   کون اہل ہے!! سوال کیجئے…؟؟

وہ ننھے منھے ہاتھ اخبار کو تھامے"انتخابات" پڑھنے کی کوشش میں مصروف تھے کے اتنے میں ابو کمرے میں آگئے فاطمہ نے اپنے معصوم ہاتھ اخبار سمیت آگے بڑھائے اور اپنے ابو سے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔۔ یہ کیا لکھا ہوا ہے؟ اس کے ابو نے اسے بتایا یہ "انتخابات "ہے بیٹی۔پھر فاطمہ نے بہت معصومانہ لہجے میں پوچھا انتخابات کس کو کہتے ہیں ؟؟؟ اس سوال کو سنتے ہی اس کے ابو نے اس کو ٹال دیا اور بولا جاؤ اور امی سے کہو کھانا دے دیں ۔فاطمہ کے کمرے سے جاتے ہی اس کے ابو نے اخبار اٹھایا تو دیکھا کہ الیکشن قریب ہونے کی وجہ سے سارا اخبار الیکشن کی سرگرمیوں سے بھرا پڑا ہے۔  فاطمہ کے دو بھائی تھے لیکن وہ اس سے کافی بڑے تھے پر کچھ دن پہلے اسکے  بڑے بھائی کو ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا گیا تھا اور دوسرا بھائی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہسپتال میں داخل تھا فاطمہ کے اس سوال نے کہ" انتخابات کا مطلب کیاہے؟؟" اس کے ابو کے زخموں کو تازہ کر دیا تھا وہ سوچنے لگے کہ پھر وہی جھوٹے وعدے ،بھی نہ پوری ہونے والی تسسلیاں اور پاکستان کو امن سے بھرپور شہر بنانے کے خوابوں کا تانتا بن جائے گا پھر کوئی نہ کوئی بےایمانی سے جیت جائے گا پھر پانچ سال تک اربوں روپے لوٹے جائیں گے اور ہزاروں گودوں کو ویران کردیا جائے گا پھر عوام کو دلاسے دیے جائیں گے اسٹیجوں پر کھڑے ہوکر نعرے لگائے جائیں گے اور تقریروں میں پھر بلند خیالات کا اظہار کیا جائے گا اور پھر دو تین سال بعد کسی کرپٹ لسٹ میں نام کا شمار ہو جائے گا۔۔۔ ان کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس امانت کو کس کے سپرد کریں تاکہ روزِ محشر وہ اپنے بیٹے سے نظریں ملا سکیں وہ ابھی بھی یہ سوچ رہے تھے کہ اتنے میں فاطمہ کمرے میں داخل ہوگئی ابو کو پریشان دیکھ کر اس نے کوئی سوال نہ پوچھا اور کھانا لگا دیا ۔وہ کھانا کھا کر ہسپتال کی جانب روانہ ہوگئے جہاں ان کا چھوٹا بیٹا موت کے منہ میں تھا ہسپتال تو پہنچ گئے لیکن گاڑی سے اترنے کی ہمت ان میں اب بھی نہ تھی وہ اس بات کو سوچ رہے تھے کہ آخر کون ہے جو نظام بدل سکتا ہے کون ہے جو پاکستان کو واپس" اسلامی جمہوریہ پاکستان" بنا سکتا ہے لیکن افسوس کافی دیر سوچنے کے بعد بھی وہ مایوس ہو گئے انھوں نے تمام جماعتوں میں فرق کرنا شروع کر دیا اور آخر وہ ایک ایسے فیصلے پر پہنچ گئے جس سے اگر  دنیا میں جیت نہ ملتی تو کم از کم آخرت میں پکڑ بھی نہ ہوتی انہوں نے سوچا کہ دنیا سنوارنے والے سے اسلام پھیلانے والا رہنما بہتر ہے امیروں کو خوشحال سے خوشحال تر بنانے والوں سے غریبوں کے ساتھ کھانا کھانے والا رہنما اچھا ہے اور اگر دنیا میں ہار بھی گئے تو کم ازکم اللہ اور اس کے رسول کے آگے پشیمان نہیں ہونا پڑے گا یہ...

رانی پدماوتی اور علاؤالدین خلجی ۔۔۔ کیا حقیقت کیا افسانہ

محمد بن قاسم کی سندھ میں آمد سے لے کر 1857 ؁ء کی جنگ آزادی تک بر صغیر ہندوستان میں مسلم حکمرانوں نے گیارہ سو سال تک حکومت کی ہے۔ ہندوستان مختلف النسل اقوام کا مجموعہ ہے جس کے باشندے رنگ ، نسل اور مزاج کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں متقسم ہیں۔ ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں چندر گپت موریا اور اشوک کے علاوہ کوئی اور حکمران ایسا نہیں گزرا کہ جس نے ان تمام گروہوں کو ایک سلطنت میں ضم کرکے حکومت کی ہو۔ اس کے برعکس مسلم سلاطین نے برصغیر میں کئی مضبوط اور مستحکم سلطنتیں قائم کیں جن میں تغلق، خلجی، لودھی اور مغل سلطنتیں شامل ہیں۔ سب لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کے افسانہ ہو یا فلم یہ صرف تاریخی پس منظر رکھتے ہیں مگر اصل تاریخ سے بہت مختلف ہوا کرتے ہیں بلکہ قطعی مختلف بھی ہو سکتے ہیں، یہاں تک کے سارے تاریخ دا ں جس بات کو رد کرتے ہوں فلم میں تجارتی نکتہ نظر سے اس ا فسانہ یعنی پاپولر کلچر کو خوب خوب بڑھا چڑھا کر بیاں کیا جاتا ہے۔ جس کو مستند تاریخ نہ کوئی سنجیدہ شخص مانتا ہے اور نہ ہی کوئی منوانا چاہتا ہے۔ ہاں عامتہ الناس البتہ اس میں خوب دلچسپی لیتے ہیں اور اپنے اپنے نکتہ نظر سے فلم کی بیان کردہ تاریخ کو صحیح اور مستند یا جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے رہتے ہیں۔ سخت گیر حکمرانوں پر متوازن رائے قائم کر نا یوں بھی مشکل ہوتا ہے اور جب مسئلہ ہندو اور مسلم بھی ہو تو بر صغیر کی فضا متوازن رائے قائم کر نے کے لیئے کتنی سازگار ہے، سب جانتے ہیں۔ علاؤالدین خلجی پر بھارت میں حال ہی میں ایک فلم ریلیز ہوئی ہے۔فلم ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا یعنی سماجی رابطوں کی دنیا میں ایک ہلچل سی مچ گئی، دیگر ذرائع ابلاغ پر بھی فلم پر لے دے شروع ہوگئی۔ تاریخ سے مکمل نابلد افراد نے بھی گفتگو میں بڑھ چڑھ کر رائے زنی کی اور اپنے اپنے حسابوں علاؤالدین خلجی کو دیوتااور نجات دہندہ قوم یا ظالم اور عیاش حکمراں ثابت کرنے کی کوشش کی، حالانکہ تجارتی نکتہ نظر سے بنائی گئی کسی بھی فلم میں بیان کردہ تاریخ ایک سِرے سے اس قابل ہی نہیں ہوتی کہ اس کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ایک بے معنی بات کو اس قدر اہمیت دینا ہی اصل میں اس تحریر کا محرک بنا کہ مستند تواریخ سے علاؤالدین خلجی کی جو تصویر سامنے آتی ہے اسے بلا کم و کاست بیان کردیا جائے۔ فلمی فسانے کو حقیقت سے جدا کردیا جائے۔ تاریخ دان نہ جج ہوتا ہے نہ وکیل کہ وہ کسی کے اچھے یا برے ہونے پر دلائل دے یا کسی کے اچھے یا برے ہو نے کا فیصلہ صادر کرے۔ وہ صرف حقائق کی چھان پھٹک کرکے واقعات کو معروضی انداز میں پیش کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔اچھے برے ہونے کا فیصلہ قاری پر چھوڑتا ہے ورنہ مورخ اور فلمساز میں فرق کم رہ جائے گا۔ تاریخ کے بیان میں اگر ذاتی پسند یا نکتہ نظر شامل...

کاش عوام اپنی طاقت کو سمجھ پاتے

پچھلے دنوں ترکی میں الیکشن ہوئے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ سو فیصد رہا اور الیکشن میں عوام نے باشعور ہونے کا ثبوت دیا۔وہ افراد جو پچھلے دو دہائیوں سے عوام کی خدمت کر رہے تھے عوام انہی کو اقتدار میں لے آئے۔ ہمارے ملک میں بھی الیکشن بس ہونے ہی والے ہیں وہ لوگ جو پچھلے ساٹھ ستر سالوں سے عوام کو دھوکہ دیتے آ رہے ہیں وہ موسمی مینڈکوں کی طرح اپنے حلقے اور علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں جنہوں نے پچھلے پانچ سالوں میں عوام کی خدمت تو درکنار عوام کو شکل دکھانا بھی گوارا  نہ کیا لندن اور امریکہ کے ٹور لگائے اب جو گئے ہیں ووٹ مانگنے تو عوام نے بھی پانچ سالوں کا بدلہ چکاتے ہوئے درگت بنا ڈالی۔ اگر صرف کراچی کی بات کی جائےکہ ان پانچ سالوں میں اور اس سے پہلے عوام کو کیا ملا ۔بدبودار ماحول، گندگی، نلکوں میں پانی نہیں چولہے میں گیس نہیں، نہ پیٹ بھر روٹی ملی ،نہ تن ڈھانپنے کو کپڑا ملا،نہ روزگار نہ تعلیم۔ شہر کی خوبصورتی کا یہ عالم ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر، بدبودار کچڑے کے ڈھیر( جو پہاڑیوں کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں  )شہر کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہے ہیں۔یہ ایم  این اے ،ایم پی اے شہر کو کیا چار چاند لگائیں گے یہ تو خود کلنک کے ٹیگ ہیں جو اپنے گھر والوں پر خاندان پر اور اپنے ملک پر چسپاں ہیں یہ لوگ اپنے عوام کے مختص کیے بجٹ پر اپنےمحل اور بینک بیلنس بنانا جانتے ہیں اس کام میں تو ان کے پاس آکسفورڈ کی ڈگری موجود ہے کہ کس طرح لوٹ کھسوٹ کے ذریعے عوام کا مال اندر کیا جاتا ہے۔پاکستان میں پڑھے لکھے اور باشعور ووٹرز کی کمی ہے ہمیشہ سے یہی ہوتا آرہا ہے کہ پانچ سو اور سو روپے کے عوض عوام نے ووٹ بیچے ہیں اور اپنے اور دوسروں کے مستقبل کا سودا کیا ہے اندرون ملک گوٹھوں اور دیہاتوں میں وڈیروں اور جاگیرداروں کے حکم پر ووٹ دئیے جاتے ہیں کیا اس طرح  کے حالات میں ممکن ہے کہ ہمارے ملک کے عوام کی قسمت بھی ووٹ کے ذریعے تبدیل ہوگی یہ سب کچھ کیا دھرا بھی ان بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کا ہے کہ انہوں نے عوام کی ترقی کےلئے کچھ نہیں کیا کہ کل کو یہ عوام ہمارے سامنے کھڑی نہ ہو جائے گورنمنٹ اسکول اور ہسپتالوں کا حال دیکھیں عوام کی قسمت پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے ۔۔۔۔ ناامیدی کفر ہے اورامید پر دنیا قائم ہے جن علاقوں میں امیدواروں کے خلاف عوام میں اشتعال دیکھا اس سے امید کی کرن نظر آرہی ہے کہ عوام جان گئے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں دیا لیکن ان کی گاڑیوں پر ڈنڈے برسانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ عوام اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے ان کرپٹ حکمرانوں کو اپنے ووٹ کے ذریعے ہمیشہ کے لئے نامنظور قرار نہ دے دیں عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچاننا ہوگا اور اب کی بارعوام ایسی باصلاحیت اور دیانتدار قیادت...

شکرگذاری

حضرت موسیؑ کوہ طور پر اللہ تعالی سے ہمکلام ہونے روانہ ہوئے تو راستے میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی ۔اللہ نے اس کو رزق کی خاصی فراوانی عطا کر رکھی تھی ۔ اس نے حضرت موسیؑ سے عرض کی " اے رسول خدا ! میرے رب سے ذرا میرے متعلق دریافت کیجئیے گا  کہ میرے لئیے کیا حکم ہے ؟ میرے پاس اتنا رزق ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہا ہے "۔ موسیؑ ذرا آگے روانہ ہوئے تو ایک اور شخص کو دیکھا جس نے ریت سے اپنے جسم کو ڈھانپ رکھا تھا ۔اس نے حضرت موسیؑ سے فرمایا " اے کلیم اللہ ! میرے رب سے میری کیفیت بھی عرض کیجیئے گا "۔ حضرت موسیؑ کوہ طور پر پہنچے اور پہلے والے آدمی کے متعلق دریافت کیا  ۔ اللہ تعالی نے جواب دیا کہ " اس سے کہو ہماری ناشکری کرے "۔ جب دوسرے کے متعلق پوچھا تو  فرمایا کہ " اس سے کہو ہمارا شکر گذار بن جائے "۔موسیؑ نے واپس ہوتے ہوئے پہلے والے آدمی سے کہا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میری ناشکری کرو رزق میں کمی واقع ہوجائے گی "۔ اس نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہا " اے موسیؑ ! میں اتنا کچھ دینے والے رب کا ناشکرا بندہ نہیں بن سکتا ہوں " ۔ آپ آگے چلے اور دوسرے آدمی سے مل کر کہا کہ " اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کا شکر ادا کرو "۔ اس نے انتہائی مایوسی سے جواب دیا کہ " کس بات کا شکر ؟ میرے پاس ایسا کیا ہے جس پر شکر ادا کیا جائے ؟ابھی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہوا چلی اور جسم پر سے ریت بھی اڑ گئی ۔ آپ یقین کریں ہم انفرادی اور اجتماعی حثیت  میں ناشکرے بن چکے ہیں ۔ اسوقت ہر آدمی اپنے باپ سے اچھی زندگی گذار رہا ہے ۔مال و دولت کے اعتبار سے بھی اور سہولیات کی فراہمی کے لحاظ سے بھی ۔ آپ کبھی اپنے سودے کی لسٹ ہی اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا ۔ جن چیزوں کے متعلق شاید ہمارے والدین نے سنا بھی نہیں ہوگا وہ چیزیں اب ہماری ضروریات زندگی بن چکی ہیں مگر ہم پھر بھی ناشکرے ہیں ۔بجلی ، گیس ، پانی ، موبائل اور انٹرنیٹ جیسی عظیم نعمتیں ایک ایک بٹن کے فاصلے پر موجود ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ تمام سہولیات فرعون ، قارون اور نمرود بھی " انجوائے " نہیں کرسکے ہونگے جو آج ہمارے پاس ہیں لیکن ہم اس  سب کے باوجود ناشکرے ہیں ۔ شکر گذاری الفاظ کا نہیں ایک رویے اور عادت کا نام ہے ۔ اگر آپ شکر گذار ہیں تو پھر آپ کے رویے میں شکر گذاری نظر آئیگی ۔ آپ کی " باڈی لینگویج " میں شکر گذاری چھلکے گی ۔ لیکن آپ کبھی کسی بڑے دوکاندار تک سے ہاتھ ملائیں اور اس سے اس کے گھر اور کاروبار کے بارے میں دریافت کرلیں ۔ ایک بے جان اور مردہ شکل کے ساتھ " اللہ کا بڑا کرم ہے ، اسکا شکر ہے...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر وائی پہ نظر آئیں ، سفید لباس میں روتی بین کرتی بیوہ کے روپ میں ،شوہر کا التفات  اور اس کی محبت یکے بعد دیگرے مناظر کی صورت میں ثمرہ کے ذہن کے ساتھ ساتھ پردہِ سیمیں پر بھی ابھرتے چلے گئے، اور ہمیں اپنے صاحبزادے کے احساس دلانے پہ معلوم ہوا کہ یمنیٰ نے ثمرہ کے روپ میں بھلے ہی مصنوعی آنسو بہائے ہوں لیکن ہمارے چہرے کو حقیقی آنسو بھگو رہے تھے، یہ خبر سکھر کے دورے پہ نکلے ہوئے شوہرِ نامدار تک بھی تیزی سے پہنچا دی گئی ، اور فوراٍ ہی وہاں سے فون بھی آ گیا، حد کرتی ہو یار، یہ کوئی رونے والی بات ہے،مرد کی سرزنش میں چھپی محبت کو ڈھونڈ کو محسوس کر لینے کا گر عورت سیکھ لے تو زندگی گلزار ہو جائے ، بہر حال اس منظر نے ہمیں کچھ ایسا جکڑا کہ اس کہانی کو شروع سے جاننے کی خواہش پیدا ہوئی ، اس ڈرامے کے مصنف  عدیل رزاق ہیں ،جو اس سے پہلے  ہم ٹی وی پہ چلنے والی  ایک  ڈرامہ سیریز میں انتہائی متنازعہ موضوع پہ ڈرامہ بھی لکھ چکے ہیں۔  ہدایتکار فاروق رند ہیں، جن کے مشہور ڈراموں میں ،محبت تم سے نفرت، بے شرم، گلِ رعنا، لا ،رشتے کچھ ادھورے سے اور جگنو شامل ہیں ۔ جن لوگوں نے ان ڈراموں کو ذرا گہری نظر سے دیکھا ہے انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ   ان میں سے اکثر کہانیاں ہمارے معاشرے  میں عورت سے سلوک اور اسکی حیثیت کو قابلِ رحم انداز میں پیش کرتی ہیں، یقیناً اس میں کسی حد تک حقیقت بھی شامل ہوتی ہے ،لیکن اس حقیقت کو اس اندز میں بیان کرنا کہ اسکے منفی پہلو ساری مثبت باتوں کو کمال مہارت سے نگل لیں یہ بہر حال انصاف  کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بنیادی طور پہ یہ کہانی ثمرہ  کے گرد گھومتی ہے جو اپنے "روشن خیال" ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے، اور اسی روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے  والدین ثمرہ کی شادی اس کی پسند سے کر دیتے ہیں، شوہر کا تعلق ایک خالص جاگیردار گھرانے سے ہوتا ہے جو اپنے گاؤں میں سیاست میں بھی سرگرم ہوتے ہیں،اور پیر بھی مانے جاتے ہیں ،لڑکے کا باپ اس خیال سے پہلی بار خاندان سے باہر کی بہو لانے پہ تیار ہوتا ہے کہ بیٹا جو  تعلیم حاصل کرنے کے نتیجے میں ،جاگیرداری نظام کے نقائص ،پیری فقیری کی مذموم روایات  اور سیاست کے غلط استعمال سے خائف ہو کر اس سب سے دور رہنا چاہتا ہے، وقت پڑنے پر وہ اس احسان کا حوالہ دیتے ہوئےاسے اپنی ڈگر پہ چلایا جا سکے۔ثمرہ کو شادی کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا سسرال حقیقتاً کس پس منظر سے تعلق رکھتا ہے، رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی عورت ،کا کن کن مراحل پہ کس کس طریقے سے استحصال ہوتا ہے،اس ڈرامے میں  بلا شبہ اس کی عکاسی کرنے...

بچوں کے بدتمیز ہونے کی وجوہات

آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سننے میں آتا ہے کہ ہماری اولاد بہت بدتمیز ہوگئی ہے بڑوں کی عزت نہیں کرتی عجیب پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین بچوں کو سب کچھ دیتے ہیں مگر انہیں یہی بات ہی نہیں سیکھاتے۔ والدین اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، ہر خواہش پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کو ذرا بھی تکلیف ہو تو خود تکلیف میں آجاتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بے حد خیال رکھتے ان کے پیچھے خود کو فراموش کردیتے ہیں مگرانہیں عزت کرنا اور عزت سے پیش آنا سیکھاتے ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ والدین اپنے بچوں کو سمجھاتے نہیں ، سمجھاتے بہت کچھ ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فعل سے انجانے میں بچوں کو عزت و احترام نہ کرنا سیکھا رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کو محبت دی جائے، انہیں خلوص دیا سب کچھ دیا جائے مگر انہیں عزت نہ دی جائے تو پھر بچے بدتمیز ہی بنتے ہیں۔ بچوں کو محبت سے زیادہ عزت کی ضرورت ہوتی۔ جبکہ انہیں اکثر بہن بھائیوں یا پھر پڑوسیوں کے بچوں سے موازنہ کرکے ڈی گریڈ کیا جاتا ہے۔ سب کے سامنے یا تو ڈانٹا جاتا ہے یا پھر انہیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کیا عجیب بات ہے کہ جب بچوں کو اپنے گھر والے، والدین ، بہن بھائی ہی عزت و احترام نہیں دیں گے تو بچے کیسے سیکھیں گے کہ یہ سب۔ پھر یوں کہا جائے کہ یہ سب بچوں کے لیے گویا ایک اجنبی سی چیز ہے۔ بعض اوقات بچوں میں چڑچڑاپن اور بدتمیزی کی ایک بڑی وجہ والدین کا آپسی لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ والدین کی آپس میں کشیدگی کا نشانہ بچے بنتے ہیں۔ کسی اور کا غصہ کسی اور پر نکال دیا جاتا ہے۔ بیوی شوہر کا یا پھر شوہر بیوی کا غصہ بچوں پر نکالتا ہے۔ بچے کچھ چاہ رہے ہوتے ہیں مگر والدین کا بچوں سے بات کرنے کا انداز غیر ضروری حدتک تلخ ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر بچے کے کمزور دماغ پر پڑتا ہے۔ بچوں کے سامنے غیر ضروری اور غیر شائستہ گفتگو کرنے سے گریز نہ کرنا بھی بچوں کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بچوں کے سامنے ہر طرح کی باتیں کرتے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بچوں پر ان کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ بچے جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہی کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ والد بچے کو کہتا ہے کہ ’’بیٹا! اگر کوئی تھپڑ مارے تو تم بھی دو لگا دینا‘‘۔ یہ بات بچہ سیکھتا ہے اور پھر جب اس کا چھوٹا بھائی اسے مارتا ہے تو وہ سب کے سامنے اپنے بھائی کو دو جڑ دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر سب اسے ڈانٹتے ہیں اور والد صاحب اٹھ کراپنے بیٹے کو تھپڑ لگا دیتے ہیں۔ ’’یہ سب کس نے تمہیں سیکھایا، بدتمیز بن گئے ہو‘‘، وغیرہ وغیر۔۔ اب اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے۔ اس میں کس کا قصور ہے۔ خود ہی سیکھایا اور پھر خود ہی کہا کہ یہ سب کس نے سیکھایا۔ یہ...

بچوں کو اپنا بنائیے

آپ سروے کرلیں آپ کو ننانوے فیصد مائیں اپنے بچوں سے ناخوش اور پریشان دکھائی دیں گی۔ ان کے بچے ان کی بات نہیں سنتے ہیں ، شرارتیں کرتے ہیں ، ہر وقت موبائل ، لیپ ٹاپ یا ٹیب پر کارٹون دیکھتے یا گیم کھیلتے رہتے ہیں ، بے انتہا بدتمیز اور نالائق بھی ہو گئے ہیں۔ بات بات پر چڑ چڑا پن اور غصہ بھی دکھاتے ہیں۔ پڑھائی میں بھی انکا دل بالکل نہیں لگتا ہے۔ آپ کسی بھی ماں سے پوچھ لیں آپ کو سوائے ان شکایتوں کے اور کوئی شکایت نہیں ملے گی۔ اور آخر میں ایک ٹھنڈی آہ کے ساتھ یہ جملہ بھی’’ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں ؟‘‘۔ آپ ماؤں سے صبح سے رات تک چوبیس گھنٹوں کے دوران ان کے کیے گئے کاموں کی فہرست بنوالیں۔ آپ یقین کریں سوائے سونے ، کھانے ،ڈرامے دیکھنے اور موبائل کے علاوہ حد سے حد کھانا پکانے اور صفائی کے کوئی اور قابل ذکر کام انھوں نے نہیں کیا ہوگا۔ ہم صبح سے شام تک اور شام سے رات تک مارننگ شوز ، ڈرامے اور سوشل میڈیا کے سوا کوئی اور کام نہ کریں اور چاہیں کہ بچے ڈاکٹر عبد القدیر خان بن جائیں تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ بچے کو موبائل میں کارٹون لگا کر دے دیں اور خود ڈراموں میں لگ جائیں۔ بچہ کچھ پوچھنا چاہے تو دھتکار دیں۔ اپنی سوانح عمری سنانے لگ جائیں اور چاہیں کہ بچہ باادب نکلے تو مان لیں کہ آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں ، میں نے خود دیکھا ہے مائیں بچوں کو چیخ کر بولتی ہیں کہ چھوٹے بھائی سے چیخ کر بات نہیں کرتے ہیں ، باپ ایک زور کا ہاتھ لگا کر کہتا ہے ’’منع کیا ہے نا کہ ہاتھ مت چلایا کرو۔‘‘ موبائل پر بچے سے کہلواتے ہیں کہ بول دو بابا سو رہے ہیں یا ممی گھر پر نہیں ہیں۔ اور بچے کو نصیحت بھی کرتے ہیں کہ’’ جھوٹ بولنا بری بات ہوتی ہے‘‘۔ بچوں کے سامنے جھوم جھوم کر اور ہنس ہنس کر لوگوں کو بیوقوف بنانے کے قصے سناتے ہیں اور اولاد کے ایماندار ہونے کی تمنا کرتے ہیں۔ ہم بھی بڑے معصوم لوگ ہیں۔ کانٹے بوتے ہیں اور پھول لگنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ بچے نے کبھی گھر میں کوئی کتاب نہیں دیکھی اور اگر دیکھی بھی تو اماں یا ابا کے ہاتھ میں نہیں دیکھی اور ہم چاہتے ہیں کہ بچہ پڑھنے کا شوقین نکلے۔ کبھی اس نے اپنے ماں اور باپ کو قرآن کی تلاوت کرتے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا ، کبھی کسی کتاب پر ڈسکشن کرتے نہیں دیکھا اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ قرآن کا عاشق بن جائے۔ آپ یقین کریں میں نے جتنی بھی نبیؐ کی سیرت پڑھی ہے مجھے ان کی دعوت کی کامیابی میں سوائے عمل کے اور کوئی دوسری چیز نظر نہیں آئی۔ پہلے آپ نے دو پتھر اپنے پیٹ پر باندھے پھر اپنے ساتھی کو صبر کی تلقین کی۔ اللہ کے نبیؐ نے کبھی اپنی سوانح عمری...

زن مرید۔۔۔ ایک ڈرامہ یا سوشل انجینئرنگ؟

 "زن مرید"، ڈرامے کا نام سنتے ہی ذہن میں جو پہلا خیال آیا وہ ایک معصوم سے کاٹھ کے الو قسم کے شوہر کا تھا جو اپنی بیوی کے اشاروں پہ ناچتا ہو گا، لیکن یہاں تو کہانی ہی کچھ اور نکلی،جی ہاں ہم ٹی وی سے نشر ہونے والا ڈرامہ زن مرید، جس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو پہلا تبصرہ ہوگا ،کمزور کہانی اور دوسرا تبصرہ ہوگا کمزور ہدایتکاری، سچ تو یہ ہے کہ اس کھیل کو دیکھ کے مشہور زمانہ مصرعہ یاد آجاتا ہے ''آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا''،قصہ کچھ یوں ہے کہ تبسم ایک ورکنگ وومن ہے، جو اپنے شوہر سجاد دو عدد بچوں اور ایک عدد گونگی  اور کسی حد تک معذور ساس کے ساتھ خوش باش زندگی گزار رہی ہے، سیریل کی ابتدا ء میں میاں بیوی کے خوبصورت تعلقات دکھائے جاتے ہیں، سجاد تبسم پر جان چھڑکتا ہے، اس کے ساتھ برتن دھوتا بھی دکھایا جاتا ہے اور اس کی دفتر آنے جانے کی تکلیف کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے لیئے ایک عدد علیحدہ گاڑی بھی خریدتا ہے، کسی ایک منظر سے بھی یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک غصے کا تیز شخص ہے جس کی فطرت میں ہی جذبات کا بے قابو ہو جانا شامل ہے۔ کہانی  بالآخر کہانی میں ڈھلتی ہے اور ایک گھریلو تقریب میں جب سجاد اپنے سالے کی بیوی کی باتوں پہ کچھ چڑا ہوا ہوتا ہے ،مذاق مذاق میں سب کے سامنے کہتا ہے '' میری بیوی اتنی اچھی ہے کہ دل چاہتا ہے اس جیسی دو ہوں'' اب یہ جملہ جس کو مشرقی بیویاں اپنی تعریف سمجھ کر خوش ہوتی ہیں ، یا کم سے کم مسکرا کر ٹال ہی دیتی ہیں ۔تبسم کو اتنا زیادہ چبھتا ہے کہ وہ جوابا اسی بھری محفل میں اپنے شوہر کو جس جملے سے نوازتی ہے وہ کچھ یوں ہے''سجاد بھی اتنے اچھے شوہر ہیں کہ جی چاہتا ہے ایسے ایک اور ہوں '' اس بے باکانہ اور بے ہودہ جواب پر سجاد سمیت ساری محفل کو سانپ سونگھ جاتا ہے، جس کو مصنف اور ہدایتکار نے تبسم کے حق میں ناظر کی ہمدردیاں اکھٹی کرنے کے لیئے استعمال کیا ہے ۔ بس جناب یہ ہے بنیاد اس سارے ڈرامے کی، مہمانوں کے جانے کے بعد اس جملے کی تلخی اپنا اثر دکھاتی ہے اور سجاد کی تلخ کلامی ایک زبردست دھکے میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے تبسم کی پیشانی پہ چوٹ آجاتی ہےاور خون بہنے لگتا ہے، اس لمحے تبسم کو  خواتین کے تحفظ کے سلسلے میں بنائے جانے والے اس ''نئے قانون'' کا خیال آتا ہے جس کا چرچا ان دنوں میڈیا پہ ہوتا ہے۔ (ویسے یہ سطور رقم کرتے ہوئے راقم کو یہ خیال آ رہا ہے کہ اس ڈرامے کا نام تو ''نیا قانون'' ہی بنتا تھا  ( اب تبسم صاحبہ اپنی ازدواجی زندگی کے تمام خوبصورت ایام کو بھلاتے ہوئے تھانے فون کرتی ہیں اور ہماری مستعد پولیس فوراً ان کے گھر پہنچ کر سجاد کو گرفتار کر لیتی ہے۔یہ علیحدہ بات کہ اس وقت...

’’یار یہ حافظ نعیم کون ہے؟‘‘

’’یار یہ حافظ نعیم کون ہے؟‘‘ ’’ نام سے تو کوئی مولوی لگتا ہے، کہیں تم مفتی نعیم کا ذکر تو نہیں کررہے؟‘‘ ’’ نہیں یہ مولوی نہیں انجینئر ہیں بھائی۔‘‘ ’’ پھر تو میں ایسے کسی انجینئر مولوی کو نہیں جانتا۔‘‘ ’’ بڑے افسوس کی بات ہے جو کچھ نہیں کرتے انہیں سب جانتے ہیں اور جو تمہارے لیے آواز بلند کرتے ہیں انہیں تم جانتے تک نہیں۔‘‘ ’’ کیا یہ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے ہیں ؟‘‘ ’’نہیں لیکن پھر بھی یہ ان سب پر بھاری ہیں۔‘‘ ’’کیوں کیا یہ زرداری ہیں ۔مطلب پیسے والے ہیں۔‘‘ ’’ نہیں ایسا بھی نہیں ہے۔ ‘‘ ’’ تو پھر یہ کیسے ہمارے لیے آواز بلند کرسکتے ہیں؟ ‘‘ ’’ایک توتم لوگوں کی یادداشت بہت خراب ہے، کل تک جب کے الیکٹرک تمہاری گردن مروڑ رہا تھا تو تمہارے اپنے نمائندے کدھر تھے؟‘‘ ’’ اپنوں کو تو ابھی اپنی ہی پڑی ہوئی ہے۔ ‘‘ ’’ یہ حافظ نعیم تمہارے لیے نکلا تھاتمہاری آواز بن کر عدالتوں کے چکر کاٹے،نیپرا کی عدالت میں تمہارا کیس لڑا، تمہارے گھر کی روشنی کے لیے اس نے سڑکوں پر دھرنے بھی دیئے ، اسے گرفتار بھی کیا گیا لیکن اس کی آواز کو کوئی دبا نہیں سکا۔‘‘ ’’ مجھے یاد آگیا یہ وہی جماعت اسلامی کے امیدوار تو نہیں جنہیں ان کے حلقہ والوں نے ووٹ نہ دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی۔‘‘ ’’اس کے باوجودکہ اس کے پاس کوئی اختیارات نہیں ،یہ اختیارات کا رونا رونے کے بجائے میدان عمل میں کراچی کے لیے بہت کچھ کررہاہے۔‘‘ ’’کے الیکٹرک کو تو واقعی اس نے لگام دے رکھی ہے، عوام کو جہاں کوئی جماعتی ملتا ہے وہ اس کے پاس کے الیکٹرک کا مسئلہ لے کر پہنچ جاتاہے۔‘‘ ’’ لیکن ووٹ تم نے پھر بھی ان کو نہیں دینا یہ مجھے پتا ہے۔‘‘ ’’بھائی مسئلہ شناخت کا ہے ، انہوں نے ہماری شناخت کے لیے کچھ نہیں کیا۔‘‘ ’’ بڑے افسوس کی بات ہے جس کو تم نے ووٹ دیئے تھے وہ تو اب تک کوٹہ سسٹم تک ختم نہیں کرسکے۔کجا یہ کہ وہ تمہاری شناخت کا مسئلہ حل کرتے۔‘‘ ’’اب تو ہماری شناخت بھی مشکوک بنائی جارہی ہے۔‘‘ ’’یہ تو ہونا ہی تھا، لیکن فکر نہ کرو یہی حافظ نعیم اب تمہاری شناخت کے لیے بھی نکل رہا ہے۔کے الیکٹرک کے بعد اب یہ نادرا والوں کوبھی لگام دے گا، بے شک تم پھر بھی اس کو ووٹ نہ دینا۔‘‘ ’’بس ایک بار میرا شناختی کارڈ بنوا دو پھر دیکھو تمہارا ووٹ پکا ہے۔ کتنے دنوں سے لائن میں لگا کر ذلیل و خوار کررہے ہیں اور کہتے ہیں دادا کا شناختی کارڈ لاؤ ۔‘‘ ’’اپنی شناخت چاہیے تو پھر پہلے ’اپنوں‘ کی شناخت کرنا سیکھو ۔ورنہ ذلت و خواری ہی ہمارا مقدر بنے گی۔‘‘ ’’نہیں ا ب میں سمجھ گیا کہ اپنی شناخت’ اپنوں‘ کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔‘‘ ’’چلو پھر اپنی شناخت کے لیے اپنوں کے ساتھ نکلیں!‘‘ *۔۔۔*

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ،لال مرچ، کالی مرچ ،مرچی پودوں کی جنس شملہ مرچ سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کی ابتدا امریکہ سے ہوئی۔ مرچ کم از کم 7500 قبل مسیح سے لے کر امریکہ میں انسانی غذا کا ایک حصہ رہا ہے۔ دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے۔ جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ باریک مرچیں اور جنگلی مرچیں روز مرہ کے کھانوں میں عمومًا استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا اور باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ ان کو لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے ہرہیز کرنا چاہے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کریں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو وہ دور جانے کے بجاۓ قریب ہوجائیں۔ جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو بیلنس رکھنا ایک فن ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جاۓ تو سننے والے کو لطف آتا ہے۔ اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔یہ نصیحت خصوصاً خواتین کے لیے ہے۔ جو اکثر اپنی باتوں سے مرچ لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔ بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کے شوہر کے سامنے جاۓ ، شوہر موبائل میں مصروف ہوں اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکاۓ اگر شوہر اس میں کوئی خامی نکالے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ لہذا تمام شوہروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں۔ کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے سردی گرمی دنوں میں با آسانی لگائی جا سکتی ہیں۔ غنیمت جانے کے آپکی شادی ہوچکی ہے۔ ورنہ تو کہیں ایسا نہ ہو مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ نہ پڑجاۓ۔  

دبی شخصیت کے ساتھ ایک صبح

تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر ادبی شخصیات کے ساتھ آپ نے سنا ہوگا کہ اکثر شام یا رات منائی جاتی ہے۔کیونکہ سارا دن وہ ادبی کاموں،رسائل،میگزین و دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے شام سے رات گئے تک وہ فارغ ہوتے ہیں۔مشاعرہ ہو یا ادبی نششت محفل رات کو ہی جمتی ہے۔یقین مانئے اکثر شعرا کرام کے گھر اُتنی دہی نہیں جمتی جتنی محفلیں جمتی ہیں۔رات تاخیر سے بسترِ استراحت پر جانے کی وجہ سے صبح صادق آنکھ کا نہ کھلنا قدرتی اور محفل کا ’’خمار‘‘ بھی ہو تا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کوئل و بلبل کو اپنی شاعری میں استعمال کرنے والے شعرا نے کبھی ان پرندوں کی شکل علی الصبح باہر نکل کردیکھی ہو یا ان کی آواز سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں۔دوحہ سے واپسی اسلام آباد کوئی پانچ گھنٹے کا قیام تھا علی الصبح اسلام آباد ائر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنے ایک دیرینہ ادبی دوست کے گھر کا راستہ لیا۔ملاقات چونکہ دوحہ سے روانگی پر ہی فون پہ طے ہو چکی تھی اس لئے صبح سویرے انہیں فون بھی نہ کیا سوچا ہمدم دیرینہ ہے میرے پہنچتے ہی بیڈ روم سے گیٹ تک دیر نہیں لگائے گا۔مقررہ وقت پر اس کے ہاں پہنچے،ڈور بیل دی۔اور ذرا گیٹ کی سائیڈ پہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے،جواب و شکل دونوں ہی ندارد پا کر ایک بار دو بار،سہ بار مسلسل بیل پہ ہاتھ دھرے رکھا،تھوڑا توقف کیا اور سوچ میں پڑ گئے خدایا کسی اور کے گھر تو دھاوا نہیں بول دیا۔چند قدم پیچھے ہٹے،گھر کے باہری حصہ کو غور سے دیکھا،ماسوا اس کے کوئی فرق نہ پایا کہ جب پچھلی بار تشریف آوری ہوئی تھی تو منڈیر پر کالا کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا،جس کی کہانی بھی الگ سے ہے۔کہ پچھلی بار میں نے یونہی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی کوّے کی کائیں کائیں شروع ہو گئی تو موصوف اپنا پسٹل لے کر نمودار ہوئے کہ آج یا کوا نہیں یا مہمان نہیں۔کیونکہ مجھ سے قبل کوئی چار بار کوّے نے کائیں کائیں کی اور چاروں مرتبہ مہمان آ وارد ہوئے اور میں پانچواں مہمان تھا۔صد شکر کہ اس بار کوّے کی جگہ ایک فاختہ تشریف فرما تھی ۔ایک بار پھر ہمت مجتمع کی اور ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ آنکھیں ملتے ہوئے چوکیدار کی شکل دکھائی دی،بھاری بھر کم آواز میں اس استقبالیہ کے ساتھ خوش آمدید کیا کہ اتنی صبح آن دھمکا ہے ،چین سے سونے بھی نہیں دیتے۔لو جی موصوف کیا یہاں تو چوکیدار تک سویا ہوا ہے۔نیم بند آنکھوں سے ہی ہمیں پہچانتے ہوئے دور سے ہی سلام کیا اور اسی ہاتھ سے اندر آنے کا بھی اشارہ فرما دیا۔ڈرائنگ روم کھول کے بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی،نہ چوکیدار،نہ دوست اور نہ کوئی چائے پانی،سب ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ،حالانکہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے نہیں ۔کوئی گھنٹہ بعد کام والی ماسی ڈرائنگ روم کی صفائی کرنے آئی تو ایسے ہی اسے پوچھ لیا کہ یہ چوکیدار کدھر...

بڑھاپے کی بڑھکیں،عینک اور بتیسی

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے حالانکہ اس عمر میں انسان کسی رخ سے بھی سیدھا نہیں ہوتا۔ دونوں کی بتیسی(مصنوعی دانت) اور عینک کا نمبر ایک جیسا ہو جاتا ہے۔جس کو جو چاہئیے مستعار لے اور اپنا گزارہ کر لے۔مثلاًبابا جی کو بھوک لگی ہو تو کھانے کے لئے بتیسی ادھار پکڑی کھانا کھایا بتیسی گرم پانی میں سٹرلائز کی اور ’’بابی‘‘ کے منہ میں۔اماں کو تلاوت فرمانی ہوئی تو بابے کی عینک پکڑی ،دھاگے والے فریم کو ناک کی سلوٹوں پہ ایڈجسٹ کیا ،بعد از تلاوت عینک بڑے پیار سے بابے کی ناک پہ چسپاں۔گویا انسان اگر بوڑھا نہ ہوتا تو چشموں اور دانتوں کے کام کا مکمل مندا ہوتا۔اکثر میری کلاس کے بچے شرارتاً سوال کرتے ہیں کہ سر بڑھاپے کی آمد کا پتہ کیسے چلتا ہے۔تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ جب منہ میں دانت گرنے لگیں اور عینک کا نمبر بڑھنے لگے تو سمجھ جاؤ کہ بڑھاپے کی آمد آمد ہے۔یا پھر اولاد اور اعضائے جسمانی ایک ساتھ جواب دینے لگ جائیں ،بیوی اور یاد داشت کا ساتھ کم ہونے لگے،کھانے کا ذائقہ اور بدصورت عورتوں کا ساتھ حسین لگنے لگے ،حد یہ کہ جب بچے آپ کو نانا ،دادا جبکہ حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنا شروع کر دیں تو کسی قسم کے تردًد سے کام نہ لیتے ہوئے چپ چاپ اپنے بڑھاپے کو ایسے ہی تسلیم کر لیں جیسے بوقتِ نکاح دلہن سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ فلاں بن فلاں قبول ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوا اس کے کہ ہاں’’ سب چلے گا‘‘۔ ویسے بڑھاپا مغرب میں اتنا برا خیال نہیں کیا جاتا جتنا کہ مشرقی لوگوں نے بنا دیا ہے۔مغربی بڈھے جتنا بڑھاپے کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں اتنا ہم مشرقی جوانی میں بھی شائد نہ کرتے ہوں،مغرب میں بوڑھوں کو عمر کے ڈھلتے ہی اولڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ان کی کیئر ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں بوڑھوں کو گھر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ جوانوں کے ’’طعنے معنوں‘‘ کی زد میں رہ کر ان کے کتھارسس کا باعث بن سکیں۔طعنے ذرا ملاحظہ فرمائیں ٌ* بابے کی چارپائی جانوروں والے کمرے میں لگا دیں * بابا ہر بات میں ٹانگ نہ اڑایا کر،حالانکہ بابا اپنی ٹانگوں پہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ * بڑھاپے میں کوئی فعلِ جوانی سر زد ہو جائے تو’’چٹے چاٹے(سفید بالوں) کا خیال کر،چاٹا سفید ہو گیا عقل نہ آئی،بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مشرق میں تو بڑھاپے کو توبہ و استغفار کی عمر خیال کیا جاتا ہے کہ بابا جی تسبیح مصلحہ لے لو اور اللہ اللہ کرو،حالانکہ مغرب میں جو بوڑھے ایامِ جوانی میں جس عورت سے عیاشی کرتے رہے بڑھاپے میں اسی عورت سے شادی کو آئیڈیل عمر اور جوڑی سمجھتے ہیں،اسی لئے بڑھاپا مشرق میں مرض اور بوجھ جبکہ...

اُف یہ بیویاں

عورت ٹیڑھی پسلی کی وہ تخلیق ہے کہ ایک بار بیوی بن جائے تو پھر ٹیڑھے سے ٹیڑھے مرد کو بھی یک جنبش انگلی ایک ہی پاؤں پہ وہ ناچ نچواتی ہے کہ شوہر نامدارکے تمام کس بل نکال دیتی ہے۔اور مرد بے چارہ جو قبل از شادی کسی کو پلے نہیں باندھتا تھا اب بیوی کے پلو سے ایسے بندھا رہتا ہے جیسے اونٹ کے گلے میں بلی اور بلی بھی وہ کی جو بہت سے بلوں میں اکیلی گھری ہوئی ہو جیسے رضیہ غندوں میں اور دور کھڑا ایک خاوند لاچارگی و نحیف آوازمیں کہہ رہا ہو کہ :شیر بن شیر؛ بیوی آ پکا وہ قانونی حق ہے جسے آپ سو(۱۰۰)دو سو(۲۰۰) افراد کی موجودگی میں قبولیت ثلاثہ کے ساتھ بخوشی حق قبولی میں لیتے ہیں۔بعد از شادی بعدین دو سو دن شادی مرگ ہو بھی جائے تو یقین مانیں آپ دنیا کے خوش قسمت ترین خاوند خیال کئے جائیں گے ہو سکتا ہے آپ کو :عائلی شہید: کے اعلی رتبے پر خیال کیا جائے۔ بیوی میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہوایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ یہ جب چاہے کوئی سا بھی روپ دھار سکتی ہے۔جب چاہے گرگٹ بن کے کوئی سا بھی رنگ بدل لے۔رنگ بدلنے کے لئے خاوند،سسرال،یا میکہ کہیں سے بھی بیوی کو اجازت نامہ درکار نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے سے ہی :بیوی نامہ:میں ڈیٹا اسٹور میں پڑا ہوتا ہے۔بس یہ بیوی پر منحصر ہے کہ ذاتی منشا و مدعا کے مطابق کب ،کونسا روپ دھار کر خاوند،ساس،نند،اوردیورانی کو بیوقوف بنانا ہے۔یعنی گھر میں دھونے والے برتنوں کی کثرت ہو تو کثرت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے لئے بھی بیوی کے سر میں درد نکل سکتاہے،سسرالی مہمانوں کی آمد آمد ہو تو :خاتون خانہُ:گندے دوپٹے سے سر باندھ کر بوڑھی :دائیہ ؛کی وضع اپنا سکتی ہے۔اور اگرمیکہ والوں سے کوئی دور پار کے رشتہ دار بھی آ جائیں تو :کپتی بیوی: کے غلاف سے دھارمک ،بی بی اور موٗدب بیوی کہاں سے عود کر آ جائے گی کہ پورا سسرال انگشت بدنداں،حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ :ہیں: ایسا روپ تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔البتہ تنخواہ کا دن وا حد دن ہوتا ہے جس میں ایک دم کپتی بیوی گل اندام محبوبہ کی وضع قطع اپنا لے گی کہ :سکے خاوند: کو یقین نہیں آتا کہ وہ ذاتی بیوی سے مخاطب ہے یا کسی اور کی بیوی کے سامنے کھڑا ہے۔بیوی کے یہ ناز و نخرے اس وقت تک چلتے ہیں تا وقتیکہ شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی نہ ہو جائے۔ ایام ماہ آ خرجب شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی ہو جاتے ہیں تو فوری طور پہ :گجی ماں:جیسے ٹکا کے بے عزتی کرتی ہے جیسے بچپن میں رات تاخیر سے وآنے پہ اماں کرتی تھیں۔بعض اوقات تو اماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہی رہتی ہے۔ بیوی کا پاور ھاؤس اسکا میکہ ہوتا ہے جبکہ خاوند کے لیے یہ جگہ بارگاہ ادب سے کم نہیں۔ ہر اس شخص کو کسھیانی مسکراہٹ اور عزت و مقام بخشتے ہوئے جھک کر سلام اور گلے لگانا پڑتا ہے جو آر...

انگریزی،انگریزنی اور ہم پاکستانی

انگریز برصغیر سے جاتے ہوئے اپنی اپنی انگریزنیوں کو تو ساتھ لے گئے۔تاہم انگریزی ہمارے واسطے بطور عذاب اور امتحان کے چھوڑ گئے۔ہم ٹھہرے باوقار پاکستانی،اپنی چائے میں مکھی بھی پڑ جائے تو اسے مکمل نچوڑ کر اور کبھی کبھار چوس کر چائے بدر کرتے ہوئے کہیں دور پھینک کر بقیہ چائے یہ کہتے ہوئے پی لیتے ہیں کہ حلال کمائی کی ہے، مگر کسی کی جھوٹی چائے کو تو ہاتھ لگانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔بھلا تصور کریں کہ انگریز کی چھوڑی ہوئی انگریزی کو ہم کیسے ہاتھ لگائیں گے۔ہاں اگر انگریزی کی جگہ انگریزنی ہو تو ہاتھ اور منہ لگانے کو ہم قومی فریضہ خیال کریں گے۔پھر بھی ہم یارانِ مہر و محبت ،انگریزی کو بھی صیغہ مونث خیال کرتے ہوئے اس امید سے برداشت کر رہے ہیں کہ اک روز تو آئیگی آتے آتے’’پر کتھوں‘‘نہ انگریزی اور نہ ہی انگریزنی آتی ہے،مایوسی کہیں کفر تک نہ لے جائے اور مذکور ان دو صنف اور صنفِ نازک سے بدلہ لینا مقصود ہو تو رختِ سفر باندھیے گوروں کے دیس کا اور ایک عدد گوری سے شادی کر وا کے خوب اپنی تشنگی بجھائیے۔جیسے 90 کی دہائی میں میرا ایک دوست اس عزمِ صمیم سے ولایت پڑھنے گیا تھا کہ وہاں جا کر انگریزی اور انگریزنیوں سے گن گن کر بدلے لوں گا۔اور وہ اپنی زبان کا پکا نکلا کہ گن گن کر اس نے سات آٹھ انگریزنیوں سے شادیاں کی ،گن گن کر پندرہ بیس مکس کراپ( mix crop ) قسم کے بچے پیدا کئے جنہوں نے بڑھاپے میں ایک ایک کر کے چھوڑ دیا اور اب محترم سوچ رہے ہیں کہ ’’اپنے اور اپنا پاکستان زندہ باد‘‘۔مگر یہ سب ہر بندے کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ انگریزی اور انگریزنی کو ایک ساتھ ہاتھ ڈال لے۔اور اگر یہ دونوں ایک ساتھ کہیں ہمارے ہتھے چڑھ جائیں تو پھر ہم ان دونوں کی وہ ’’ماں بہن‘‘ ایک کرتے ہیں کہ خدا پناہ۔میرا ایک دوست انگریزی کے ساتھ وہ ’’کتے خوانی‘‘ کرتا ہے کہ گورے ان کی انگریزی اگر پڑھ لیں تو انگریزنیوں کو بچوں سمیت موصوف سے ایسے چھپاتے پھریں جیسے بلی اپنے بچوں کو منہ میں دبائے سات گھروں میں لئے پھرتی ہو۔میری نظر سے ان کا لکھا ہوا ایک پیرا گراف گزرا ۔اس پیراگراف پڑھنے کے بعد جو میرے احساسات تھے میں چاہتا ہوں کی قارئین کی نذر کروں،پیرا پڑھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے preposition کو دھوبی پلڑا مار کر اور مجھے کرنٹ لگا کر زمیں پر دے مارا ہو،preposition کے بے ہنگم استعمال سے میں سمجھا ،کہ ہو سکتا ہے کہ میں ہی ذہنی طور پہ تیا ر نہ تھا ،ایسا ہرگز نہیں تھا کیونکہ use of tense کو بھی انہوں نے اتنی tention میں رکھا ہوا تھا کہ میں خود tense ہو گیا کہ الہی ماجرا کیا ہے،بندہ ماسٹر ڈگری کر کے ماسٹر لگا ہوا ہے تو پھر انگریزی میں اتنا ماسٹر کیوں نہیں کہ ایک جملہ ہی ٹھیک سے لکھ سکتا ہو۔اب دیکھئے ذرا کہ ’’میں کہتا ہوں‘‘ کی انگریزی me told اور ’’تم آجانا‘‘ کی they come کی...

ہمارے بلاگرز