حضرت سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ

نبی اکرم ﷺ کی احادیث میں حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیشین گوئی پر مبنی روایات ملتی ہیں ،جن میں سے چند ذیل میں درج کی جارہی ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :بارش کے فرشتے نے اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں حاضر ی کی...

اندر سے باہر کا سفر

سرگودھا سے چلا سوشل میڈیا کا ایک مضمون، جسے ہمارے  لکھنو کے دوست اصغر مہدی نے ہمیں اپنے اس نوٹ کے ساتھ  بھیجا ہے کہ یہ ’’اُن کے فیس...

نیلامی کی کامیاب ناکامی

            خواب دیکھنے کی عادت ہماری گھٹی میں ایسی پڑی ہے کہ جاکر ہی نہیں دیتی۔ ہم جب بھی کوئی منصوبہ سازی کر تے ہیں مستقبل کے ہرے ہرے خواب...

نو مور مسٹر پومیو

گذشتہ دنوں امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مختصر دورہ پر پاکستان تشریف لائے ہوئے تھے۔ان کا آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی کیونکہ جب کبھی بھی نئی حکومت کا...

تبدیلی ملاحظہ فرمائیں 

تبدیلی کسی نعرہ بازی کا نام نہیں ہے  بلکہ یہ عمل  سے ممکن  ہوتی ہے  مگر یہاں تو لوگوں پر آج کل  تبدیلی کا کچھ ایسا نشہ چڑھا ہو...

قیادت کے اوصاف سیرت طیبہ کی روشنی میں

چندخصوصیات ایسی ہیں جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز ونمایاں کرتی ہیں جن میں لیڈرشب (قیادت ) بھی شامل ہے۔قیادت کا بنیادی مقصد انسانوں کی درست رہنمائی اور...

عمران حکومت ۔ اسمبلی میں پہلا بل

عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف نے ملک کے چاروں صوبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ 1971ء کے بعد یہ پہلا...

“بڑے لوگوں کے بڑے دکھ”‎

لفظ "دکھ" بولتے ہی عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔دکھ ہر انسان کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے۔دکھ ہر انسان کو پہنچتا ہے،دکھ کاا سٹیشن امیر اور غریب دونوں...

طلبہ یونین کی بحالی۔۔۔۔ اب نا گزیر

طلبہ یونین کی بحالی طلبہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے طلبہ یونین کی بحالی نہ ہونے کی وجہ سے طالب علم کئی مسائل سے دو چارہیں اور آئے دن...

عوام اور با اثر افراد

عوام اور بااثر افراد ایسا موضوع ہے کہ ایک فلم بنائی جا سکتی ہے ، سماجی میڈیا کے توسط سے تو ایسے بے تحاشہ کارناموں تک رسائی دستیاب ہے...

جینے کا ہنر

جب زندگی کی ڈور الجھ جائے،تب کیاکریں

مجھے ایک واقعہ یاد ہے جب ہم کراچی ایک علاقے میں رہایش پذیر تھے۔ہمارے علاقے کے گرلز اسکول کا واقعہ ہے۔ایک روز ایک طالبہ اسکول گئی لیکن اسکول کی...

دو خدا

وہ مسکرائے اور کہنے لگے "اگر تم تحقیق کروگے تو پتہ چلے گا کہ دنیا میں چار ہزار سے زیادہ خدا ہیں جن کی عبادت اور پوجا کی جاتی...

“سوال کی قوت “

’’سوال ہی جواب ہیں،جو سوال کرتا ہے، وہ جواب سے گریز نہیں کر سکتا۔‘‘ تم جانتے ہو ہمارے اندر موجود یقین کی قوت کس طرح ہمارے فیصلوں،اعمال،قسمت اور ہماری زندگیوں...

خرد کو غلامی سے آزاد کر

خلیفہ ہارون الرلشید کے دو بیٹے امام اصمعیؒ کے پاس زیر تعلیم تھے ۔ امام صاحب دونوں شہزادوں کو تعلیم دینے کے لئیے شاہی محل تشریف لایا کرتے تھے...

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

انسانی دماغ میں ایک سو ملین سے بھی زیادہ اعصابی خلیے (نیوران) پا ئے جا تے ہیں اور ہر ایک خلیہ ایک سوپر کمپیوٹر سے بھی زیادہ طاقت ور...

آپ خود کو صرف59 سیکنڈز میں بدل سکتے ہیں

آپ صرف 59 سیکنڈز میں اپنی شخصیت میں نمایاں تبدیلی لاکر ایک خوشگوار زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں جی ہاں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں۔ یہ دعویٰ...

میڈیا واچ

رشتوں کی ٹوٹتی ہوئی ڈور

وہ شدت سے رو رہی تھی۔اُس کی کانپتی آواز اور سسکیاں میری روح کو چھلنی کر رہی تھی۔میں باوجود اپنی پوری کوشش کہ اُسے مطمئن کرنے میں ناکام تھی۔بات...

زن مرید۔۔۔ ایک ڈرامہ یا سوشل انجینئرنگ؟

 "زن مرید"، ڈرامے کا نام سنتے ہی ذہن میں جو پہلا خیال آیا وہ ایک معصوم سے کاٹھ کے الو قسم کے شوہر کا تھا جو اپنی بیوی کے...

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر...

ترکی ڈرامے۔۔ پاکستان میں

عشق ممنوع، میں عائشہ گل، میرا سلطان، کوسم سلطان، پیار لفظوں میں کہاں، الیف، ایک حسینہ ایک دیوانہ، فاطمہ گل، مناہل اور خلیل، آشیانہ میری محبت کا... 2012 سے پاکستان...

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

کوئی بھی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے اسباب و عوامل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کی وجہ سے کوئی بھی انسان اس درندگی پر آمادہ...

اشتہارات: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

          ہماری زندگی میں اشتہارات کی بہت زیادہ اہمیت ہے، ہر کمپنی اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے اشتہارات کا سہارا لیتی ہے۔ بل بورڈز، ریڈیو، اخبارات ، انٹرنیٹ...

مباحث

دین مائینس سیاست برابر چنگیزی

جب بھی اسلام  میں سیاست کے حوالے سے بات چھڑتی ہے یا بحث و مباحثہ ہوتا ہے تو عام طور پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اس مصرع کا...

سرسید اور ان کی پیدا کردہ ذہنیت

ایک مسلمان کے لیے سب کچھ اس کا دین ہے، اس کا خدا ہے، قرآن مجید ہے، رسول اکرمؐ کی ذات مبارکہ ہے، آپؐ کی سیرت ہے، آپؐ کی...

لبرل ازم کیا ہے ؟

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے افکارو نظریات میں بہت زبردست انقلاب رونما ہوا۔ یہ انقلاب اس قدر...

قدیم و جدید فتنے کہاں سے پھوٹے ؟

  کلامِ الہی قرآنِ مجید کیا کہتا ہے ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا ہمیں کوئ نہیں بتائے گا ، قرآنِ مجید (کلامِ الہی) کے  ''شارح'' ...

کیا قادیانیوں کو جبرا غیر مسلم بنایاگیا؟؟

جیسے ہر ملک کا شہری بننے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے کو فالو کئے بغیر آپ اسکے شہری نہیں بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ...

الفاظ کی توہین کا زمانہ

       ہمارا زمانہ الفاظ کی توہین کا زمانہ ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا کہ اگر مجھے زندگی میں صرف ایک کام کرنے کا موقع ملے تو وہ کام ہوگا الفاظ...

قدامت،لبرلزم اور فطرت

اگرچہ اب مذہبی لوگوں میں بھی ’’مزاحیہ فنکاروں‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ مگر مذہبی لوگ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ...

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے...

جدیدیت کیا ہے،کیانہیں؟

دنیا کی ٢٣ روایتی، الہامی دینی تہذیبوں میں انسان عبد تھا۔ وہ جو اس نیلی کائنات میں خدا کے آگے سر بسجود ایک ہستی تھا جو اپنی آخرت کی...

اہم بلاگز

سالارِ کارواں ہے میرِ حجاز اپنا

تحریر:ام محمد عبداللہ، جہانگیرہ جارج کا دفتر شہر کے مضافات میں واقع ایک خوبصورت عمارت کے دفتر میں تھا۔ چاروں جانب لگے بڑے بڑے شیشوں سے باہر کا خوش نما منظر بہت صاف نظر آتا تھا۔ سال بھر کام کے دوران بدلتے موسم کھڑکی سے دیکھنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ خاص طور پر جب خزاں کا موسم شروع ہوتا تو تمام درخت بڑی تیزی سے زرد پتوں کی چادر اوڑھ لیتے، یہ منظر بہت دل نشیں ہوتا۔ مگر جلد ہی یہ پتے سوکھ کر درختوں سے جھڑ جاتے،بادل گہرے ہو جاتے،روشنی غائب ہو جاتی اور سرد ہوائیں چلنا شروع ہو جاتیں۔ پرمژدگی اور افسردگی کا ماحول بن جاتا۔ اس ماحول میں دہری کمر والی پچھتر سالہ بڑھیا ایک چھوٹے سے کتے کو ٹہلاتی ہوئی گزرتی تو ماحول سے نظریں ہٹا کر وہ ایک گہری نگاہ اس بڑھیا پر ڈالتا۔ برسوں پہلے کا منظر اس کی نگاہوں میں گھوم جاتا۔ جب یہ بڑھیا ایک جوان اور پرکشش عورت تھی۔ اسی عمارت کے اسی آفس میں ایک پیسہ بنانے والی مشین کی مانند سارا دن مصروف رہنے والی یہ عورت جب نگاہ اٹھا کر کھڑکی سے باہر دیکھتی تو ہاں عین اسی جگہ جہاں وہ آج خود کھڑی تھی، جارج کھڑا ہوتا۔ چھوٹے سے کتے کی رسی ایک ہاتھ میں پکڑے وہ ماں کی فطری محبت سے تہی دامن تھا اور ماں اپنی فطری ممتا دبائے پیسے کی محبت میں بے کل تھی۔کچھ روز پہلے کی بات ہوتی تو جارج بڑھیاماں پر ایک گہری نگاہ ڈال کر ہٹا چکا ہوتامگر اب نگاہ ہی نہیں زوایہ نگاہ تبدیل ہو چکا تھا۔ وہ ٹکٹکی باندھے بڑھیا کے ناتواں وجود کو سڑک پر گھسٹتا دیکھ رہا تھا۔ ایک آنسو آنکھ سے بہہ نکلا تھا۔ ہاں چند روز پہلے جب اسلامک سنٹر جا کر ایک مسلم اسکالر کے سامنے اس نے اسلام قبول کیا تھا تو ان اسکالر نے اس کو بتایا تھا۔ ’’بیٹے! حضرت محمد مصطفی ﷺکی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ اللہ رب العالمین کے بعد ہم پر سب سے بڑھ کر حق ہماری ماں کا ہے‘‘۔ سامنے میز پر حدیث کی کتاب کھلی پڑی تھی، جارج پڑھ رہا تھا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما فرماتی ہیں کہ’’ جس زمانے میں قریش اور مسلمانوں میں معاہدہ تھا، میری مشرک ماں میرے پاس آئی۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری ماں آئی ہے اور وہ اسلام سے رغبت نہیں رکھتی۔ کیا میں اس سے سلوک کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اس سے سلوک کرو‘‘۔ (متفق علیہ) دل کی دنیا زیر و زبر ہو رہی تھی۔ وہ دفتر کی سیڑھیاں پھلانگتا نیچے اتر آیا تھا۔ ’’مام! اس کے اپنے ہی کانوں کو یہ آواز بڑی نامانوس لگی تھی۔ اجنبی آواز پر بڑھیاکیا لبیک کہتی وہ تو حسرت و یاس کی تصویر بنی اولڈ ہاوس کی جانب گھسٹ رہی تھی۔ جارج کو لمحہ بھر کے لیے بڑھیا سے کراہت سی محسوس ہوئی۔ اسی لمحے سرد ہوا کا ایک جھونکا اس کے کانوں میں سرگوشی کر گیا۔ جنت ماں کے...

عقیدۂ ختم نبوت کی ضرورت واہمیت

آئیے!آج کے دن یہ عہد کریں ،کہ ہم کسی بھی قیمت پر عقیدہ ختم نبوت کے دفاع وتحفظ اور اس کی ترویج واشاعت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس عقیدے کے خلاف کی جانے والی بڑی سے بڑی کوشش کو ناکام بنانے میں اپناایمانی کردار ادا کریں گے،ان شاء اللہ! یوم دفاع ختم نبوت(7ستمبر2018) عقیدۂ ختم نبوت اسلام کے اہم ترین عقائد میں سے ہے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ رب العزت نے سلسلۂ نبوت کی ابتدا سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائی اور اس کی انتہا محمدﷺکی ذاتِ اقدس پر فرمائی۔ آنحضرت ﷺپر نبوت ختم ہوگئی،آپ ﷺکے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا۔البتہ حضرت عیسٰی علیہ السلام قریبِ قیامت میں ضرور نازل ہوں گے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شریعت پر ہوں گے، اس لیے نزول عیسی ؑ سے رسول اللہ ﷺکے خاتم النبیین ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا،کیوں کہ ایک توحضرت عیسٰی علیہ السلام شریعتِ محمدیہ ﷺپر ہوں گے،دوسرے اس کے علاوہ حضرت عیسٰیؑ کو تو رسول اللہﷺسے پہلے پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آپﷺکی ختم نبوت کا اعلان فرمایا۔(سورہ توبہ:33)اسی طرح قرآنِ کریم میں حقِ جل شانہ نے تمام پیغمبروں سے اس بات کا عہد لیا کہ اگر محمدﷺ کا زمانہ پا لو تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لانا اور ان کی نصرت اور پاسداری کرنا۔ (سورہ آلِ عمران:81)یہی وجہ ہے کہ آنحضرتﷺسے پہلے تمام انبیائے سابقین آپﷺ کی آمد کی بشارت دیتے رہے، آپ ﷺکا خاتم الانبیا ہونا تورات اورانجیل اور تمام انبیائے سابقین کے صحیفوں میں مذکور تھا، جو علما اہلِ کتاب دینِ اسلام میں داخل ہوئے، انھوں نے بیک زبان ہوکر اس امر کا اقرار اور اعتراف کیا کہ ہم نے آنحضرتﷺکو اسی صفت پر پایا جیسا کہ ہم نے تورات اور انجیل میں دیکھا اورپڑھا تھا،اس کے علاوہ آپ ﷺ کی مہرنبوت بھی آپ کے خاتم النبیین ہونے کی حسی دلیل تھی، جس کو دیکھ کر علمائے یہود اور نصاریٰ آپﷺکی نبوت اور ختمِ نبوت کی شہادت دیتے تھے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیھم السلام کی مجموعی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے،جن میں سے رسولوں کی تعداد تین سو تیرہ ہے اورآپﷺ خاتم الانبیاء اور آخرالانبیاء ہیں آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہ ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے:’’نبوت میں سے کچھ باقی نہیں رہا بجز مبشرات(سچے خوابوں )کے ‘‘۔(صحیح بخاری و مسلم ) حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں: میری مثال نبیوں میں ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ،جہاں کچھ نہ رکھا، لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے ہیں ، لیکن کہتے ہیں : کیاہی اچھا ہوتا کہ اس اینٹ کی جگہ بھی پر کرلی جاتی ،پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں۔(مسندِاحمد ) حضوﷺ ایک حدیث میں فرماتے ہیں :میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبیوں کا ختم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام پورے طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے...

حجاب : قیمتی ہونے کا احساس دلاتا ہے‎

یہ ۱۹۹۴ کی بات ہے جب خوشبوؤں کے شہر فرانس میں باحجاب لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ اس سلسلے میں فرانسیسی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ "حجاب عورت کو کم تری کا احساس دلاتا ہے اور اس نے فرانسیسی معاشرے میں مشکلات پیدا کی ہیں" ۔ اس سے قبل سیکولر ترکی میں حجاب پرجبراً کنٹرول کے احکامات آ چکے تھے۔ بعد ازاں ،یہ معاملات صرف فرانس اور ترکی تک محدود نہ رہے بلکہ مغرب و یورپ کے بیشتر ممالک خصوصاً امریکا برطانیہ جرمنی ڈنمارک اور سری لنکا وغیرہ میں پھیل گئے ۔ ان حالات میں عالمی تحاریک اسلامی کے رہنما یوسف القرضاوی کی سربراہی میں لندن میں ایک بین المذاھب کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں 4ستمبر کو یوم حجاب کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا اس میں امیر جماعت قاضی حسین احمد بھی شریک تھے۔ نائن الیون کے بعد جوں جوں حجاب کی مخالفت میِں تیزی آتی گئی یوم حجاب کی اہمیت بھی بڑھتی گئی۔ آخر وہ دن بھی آ گیا جب جرمنی کی بھری عدالت میں مصری نزاد خاتون کو حجاب لینے کے جرم میں خنجر کے وار کر کے شہید کر دیا گیا۔ مروۃالشربینی کے پاکیزہ لہو نے یوم حجاب کی تحریک میں گویا جان ڈال دی اور اب یہ مہم لاکھوں، کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔      پردہ و حجاب اسلامی معاشرے کے متنازعہ امور نہیں بلکہ ان کے لئے الہامی احکامات بہت واضح ہیں جو سورۃ النور کی آیت   31 اور سورۃالاحزاب کی آیت 59 میں بیان ہوئے ہیں ۔ ان احکامات میں واضح کر دیا گیا ہے کہ" پردے کا حکم اس لئے ہےکہ تاکہ یہ خواتین بحیثیت حیا دار پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جا سکیں" ۔ یہاں رب کائنات خود حجاب کو مسلم عورت کی پہچان قرار دیتا ہے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ حجاب جو عورت کی پہچان ہے اسے چھیننے کی کیوں کوششیں ہورہی ہیں ؟ صرف اس لئے کہ حجاب و پردہ محض شعار ہی نہیں بلکہ ایک نظام اخلاق ہے جومعاشرے میں حیا کی آبیاری کرتا ہے اور عفت کے چلن کو عام کرتا ہے ۔ کون نہں جانتا کہ اسلامی تہذیب کا آغاز ہی شرم و حیا سےہوا ،جب آدم اور حواعلیہاالسلام نے خود کو درختوں کے پتوں سے چھپا کر بے لباسی سے بچنا چاہا ۔ یہی معراج آدمیت اور عروج انسانیت ہے اور بے حیائی شیطان کے واروں میں سے ایک وار ہے ۔ گویایہ مقرس و عفیف حجاب فحش و عریاں تہذیب وثقافت کو ملیامیٹ کرنے کا نام ہے۔       فطرت کا تقاضا ہے ہر قیمتی چیز ملفوف ہوتی ہے ۔ اسے لوگوں کی نظروں سے بچایا جاتا ہے،تاکہ اس کی قدروقیمت میں کمی نہ ہو۔ ہر مبارک چیز غلاف میں لپیٹی جاتی ہے۔جیسے قرآن پاک ، خانہ کعبہ اور دوسری متبرک اشیاء ۔ عورت بھی خدا کی ایسی تخلیق ہے جسے غلاف یا پردے سے ڈھانکنے کی تلقین آئی ہے ۔ شاعر مشرق ، علامہ اقبال اپنی ایک رباعی میں فرماتے ہیں ۔" اللہ خالق ہے اور...

نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ۔۔اسباب و تجاویز

کسی بھی معاشرے کی کامیابی و کامرانی میں نوجوان نسل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی ، مذہبی، لسانی ،قومی و دیگر تحریکیں نوجوان نسل کی حمایت سے ہی کامیاب و مقبول ہوتی ہیں۔ اسلام کی ترویج و تبلیغ میں بھی نوجوانوں کی خدمات سے سرموئے انحراف نہیں کیا جاسکتا ۔نبی اکرم ﷺ کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا کہ نوجوانان اسلام نے اپنے وقت کی عظیم طاقتوں کو سرنگوں کیا ۔یہ نبوی تعلیم و تربیت کی برکت کا نتیجہ ہی تھا کہ ایک غیرمنظم ٹولی ایک منظم اور باشعور جماعت کی شکل اختیار کرگئی اور زمانے میں خیر کوقائم کرنے اور شرکے سد باب کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔حضرت اسامہ بن زید،حضرت خالد بن ولید ، حضرت عمروابن العاص، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ،صلاح الدین ایوبی، محمد الفاتح اور محمد بن قاسم نے اپنے زور بازو سے باطل قوتوں کو مسمار کرڈالا۔ان نوجوانوں میں جذبہ حریت ،اعتماد ،استقلال ،بلند نگاہی،درست قوت فیصلہ ،شعور و بالیدگی جیسے قائدانہ اوصاف صرف اور صرف نبوی تعلیم وتربیت کا ہی نتیجہ تھے۔ دنیا میں جتنے بھی انقلابات بپاہوئے ہیں ان کی کامیابی ا ور کامرانی میں نوجوانوں کا اہم کردار رہا ہے۔ تحریک خلافت ا ور جد وجہد آزادی میں بھی نوجوان کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ نوجوانوں کی قوت کے دھار وں کو صحیح سمت ، شعورا ور قائدانہ کردار تعلیم و تربیت ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ تعلیم صرف غوغائے علم کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا واضح راستہ ہے جس پر گامزن ہو کر آدمی کامیابی اور خوشحالی کو گلے لگاتا ہے۔تعلیم کسی بھی ملک و قوم کے لئے موت و حیات کا مسئلہ ہوتی ہے۔دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے بھی مختلف معیار ہوتے ہیں جن سے گزر کر نئی نسل یا تو ایک متوازن،سماج سے ہم آہنگ فکری سانچے میں ڈھلتی ہے یا پھر ایک غیر متوازن اور سماج سے غیر آہنگ غیر پسندیدہ شخصیت کا وجود ظہور میںآتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر تعلیم کے معیار پرہی انسانی زندگی کے دیگر معیار استوار ہوتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی معیار ہماری زندگی ،حالات اور رویوں کے معیار کاغماز ہوتا ہے۔ تعلیم اور قیادت جہاں معاشرے کو فکر ی آزادی عطا کر تی ہے وہیں یہ آدمی کو ذہنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کا کام بھی انجام دیتی ہے۔جو تعلیم اور قیادت آدمی کو ترقی ،تمدن اور تہذیب کی راہوں پر گامزن نہ کرسکیں وہ ملک و قوم کی سربلندی کا باعث نہیں ہوسکتی۔آج قیادت کا بحران صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بحران زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دیتاہے۔ زندگی کے مختلف شعبہ جاتمیں اچھے ماہرین پیداکرنے میں ہماری ناکامی کی وجہ بھی نئی نسل کی قائدانہ صلاحیتوں کی شناخت ،اعتراف و فروغ میں ہمارا معاندانہ رویہ ہے۔ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے مطابق لیڈر شپ اور لرننگ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم کا درجہ رکھتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ ایکٹیو ازم پر وہ زور دے کر کہتا ہے کہ تعلیمی اداروں کو نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغکے لئیاستعمال کیاجائے۔ماضی قریب میں امریکہ میں طلبہ...

خبردار! ووٹ مانگ کر شرمندہ نہ کریں

خبردار! ”ووٹ مانگ کر شرمندہ نہ کریں“۔ یہ چند حرفی اعلان ان سب سیاسی پنڈتوں، سیاسی مداریوں کے لیے ہے جو دہائیوں سے کرسی اقتدار پر رہ چکے ہیں، لیکن علاقے کی پس ماندگی ختم کر سکے، نہ ہی کوئی اعلی پائے کا ترقیاتی کام کروا پائے۔ اگر کہیں کنواں نکلوایا، گلی پختہ کروائی، روڈ پر کنکریٹ ڈال دی یا ٹرانسفارمر لگوا دیا تو حضور! اپنی ذمہ داری یا قوم کی بھلائی کے لیے تو نہیں کیا ناں! ووٹ کے لیے کیا اور ووٹ لیا۔ کام کروایا بھی تو صرف وہاں جہاں سے خبر تھی ووٹ ملے گا، یا ووٹ لیا۔ رہی بات علاقائی سطح پر کام کی تو جو کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ میرا ووٹ عرصہ دراز سے آپ کی جھولی میں گرتا رہا لیکن میرے علاقے کے لیے کیا کیا؟ پانی اب بھی تیسرے محلے کے گھر سے لاتے ہیں کہ اپنا کنواں بھی جواب دے چکا۔ ٹیوب ویل منظور شدہ ہے لیکن اس کے حصے کا ووٹ گزشتہ برسوں لے گئے تھے آپ اور یہ میری ساتویں نسل کے لیے بنے گا۔ مرکزی سڑک، میرے گھر کی طرف والی ایسی صحیح سلامت و کشادہ ہے کہ کھا پی کر سوار ہوں گاڑی میں، تو دس منٹ کے اندر اندر ہضم ہو جائے۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار روڈ آپ اور آپ جیسی دیگر ہستیوں کی نظر کرم کا منتظر اور ووٹروں کا منہ چڑاتے ہوئے کہتا ہے: ”اور دو ووٹ انہیں“۔ بجلی کی صورت احوال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یاد رہے میں خیبر پختون خوا کے دور دراز کے قصبے مانسہرہ سے زرا دور ہوں۔ جہاں کے باسیوں کو صرف نعرے لگانے ہی کی سہولت میسر ہے۔ پانی شہری اپنی بنائی بورنگ یا کنویں سے حاصل کرتے ہیں؛ جب کہ دیہی آبادی کی عورتیں اب بھی سر پر مٹکے اٹھا کر بھر بھر لاتی ہیں۔ پہاڑی علاقوں پر رہنے والی آبادی کا سارا ووٹ کھا کر بھی انہیں سہولیات سے دور رکھا ہوا ہے۔ سڑک! جی جی وہ بھی میسر ہے۔ گھنٹا دو دو گھنٹا بے چارے پیدل سفر کرتے ہیں کہ روڈ کی سہولت صرف شہری آبادی کو میسر ہے۔ روڈ اتنے کشادہ کہ دو گاڑیاں ہی مشکل سے گزرتی ہیں۔ چھوٹے سے شہر میں گھنٹا بھر ٹریفک جام رہتا ہے کہ لنک روڈ تو کوئی ہے نہیں اور ٹریفک کی بہتری روڈ کی کشادگی کے لیے کچھ کیا ہی نہیں۔ کسی دور کے علاقے میں احسان کرتے ہوئے سیاسی نمایندے نے روڈ نکلوایا بھی تو ایسا کہ گدھے اور خچر بھی منہ بنا کر مشکل سے چڑھیں، چہ جائیکہ انسان! اور نمایندے بے شرمی کی سرخی آنکھوں میں لائے وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں اقتدار کی چڑیا پکڑنے۔ اسپتال وہی سالوں پرانے جن میں عملہ، ادوایات اور سہولیات اب بھی مشکل سے پوری ہوتی ہیں۔ علاج معالجے کے لیے ایبٹ آباد جانا پڑتا ہے کہ یہاں معیاری علاج تو درکنار معیاری اسپتال بھی نہیں۔ تعلیم کے لیے بھی لوگ بڑے شہروں کو جاتے ہیں کہ یہاں ایسا کوئی بندوبست نہیں۔ لڑکوں کا ایک کالج تو ہے جہاں بارہویں کے بعد کی کلاسیں ہیں جب کہ...

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بلاگ

خان صاحب ایماندار ہیں

آپ یقین کرلیں کہ خان صاحب ایماندار آدمی ہیں ۔ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہیں جو 62 ، 63 پر پورا اترتے ہیں ۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ان کے امیدواروں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائیگا ۔ ان امیدواروں میں 62 ایسے ہیں جنکا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور 63 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ میاں صاحب والے ہی کیس میں نااہل ہونے والے جہانگیر ترین ، 2005 میں مشرف ، 2008 میں ق لیگ ، 2013 میں پیپلز پارٹی اور اب 2018 میں تحریک انصاف کے " حق گو " ترجمان فواد چوہدری صاحب کی موجودگی ، بطور پاکستانی سب سے زیادہ آف شور کمپنیز رکھنے والے علیم خان ، ای – او – بی – آئی جیسے ادارے کو کھا کر ڈکار تک نہ لینے والے اور 400 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث نذر محمد گوندل ، ندیم افضل چن جیسے " ایماندار ترین " لوگوں  کی تحریک انصاف میں شمولیت اور بطور امیدوار اپنے حلقوں میں موجودگی کے باوجود مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خان صاحب ایماندار ہیں ۔ فردوس عاشق اعوان جیسی  " پوتر " اور " مادر ملت " خاتون کا خان صاحب کے ساتھ کرسی لگا کر بیٹھنا ، " محافظ ختم نبوت " اور اس ملک کے "سنجیدہ ترین" انسان عامر لیاقت حسین کا 245 کراچی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ پر کھڑا ہونا اور اشرف جبار جیسے " لینڈ گریبر " کے ساتھ ہونے کے باوجود میرا ماننا ہے کہ لیڈر دیانتدار ہونا چاہیئے ۔ غلام مصطفی کھر جیسے 82 سالہ " لڑکے " پرویز خٹک جیسے یوتھ کے " نمائندے " اور دوست محمد کھوسہ جیسے " ہینڈ سم اسمارٹ بوائے " کو ٹکٹ دینے ۔ محض 180 دنوں میں 20 کروڑ  سے  زیادہ کی چائے انڈیل لینے والی خیبر پختونخواہ کی حکومت ۔ لیڈر ایماندار ہو تو ٹیم میں کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوتی جیسے " ایمان افروز ملفوظات " کے ساتھ 5 سال بعد 21 صوبائی اسمبلی کے ارکان  کا صرف ڈھائی اور تین کروڑ روپے میں  بک جانے کے باوجود میرا مان ہے کہ خان صاحب کرپٹ نہیں ہیں ۔ 5 سال تک اپنے حلقے میں شکل تک نہ دکھانے اور اب رکشہ چلا چلا کر غریبوں کا مسیحا بننے والے دندان ساز عارف علوی صاحب کی صداقت اور دیانت کے باوجود کہ 57 تولے سونے کی قیمت محض ساڑھے تین لاکھ روپے ، انکے ڈینٹل ہاسپٹل کی مالیت صرف ڈیڑھ کروڑ روپے۔ دھوراجی سوسائٹی میں زوجہ محترمہ کے نام ایک سادہ سا بنگلہ صرف 30 لاکھ اور اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے میں اپارٹمنٹ گیارہ کروڑ کا ہے ۔ بہرحال میرا عارف علوی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیڈر ایماندار ہونا چاہئیے۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ۔ اسلام آباد کے پہاڑی علاقے میں 15 ہزار گز پر مشتمل " سادگی کا نمونہ " خان صاحب کے ننھے سے بنی گالہ کی قیمت ایک...

ڈراموں کے ذریعے اخلاقی قدروں کی پامالی کیوں؟

کئی دنوں کے بعد موقع ملا کہ نسبتاً تسلی سے ریموٹ ہاتھ میں تھام کے چینل گردانی کی جائے، ایسے میں  ڈرامہ پکار میں اداکارہ یمنٰی زیدی اے آر وائی پہ نظر آئیں ، سفید لباس میں روتی بین کرتی بیوہ کے روپ میں ،شوہر کا التفات  اور اس کی محبت یکے بعد دیگرے مناظر کی صورت میں ثمرہ کے ذہن کے ساتھ ساتھ پردہِ سیمیں پر بھی ابھرتے چلے گئے، اور ہمیں اپنے صاحبزادے کے احساس دلانے پہ معلوم ہوا کہ یمنیٰ نے ثمرہ کے روپ میں بھلے ہی مصنوعی آنسو بہائے ہوں لیکن ہمارے چہرے کو حقیقی آنسو بھگو رہے تھے، یہ خبر سکھر کے دورے پہ نکلے ہوئے شوہرِ نامدار تک بھی تیزی سے پہنچا دی گئی ، اور فوراٍ ہی وہاں سے فون بھی آ گیا، حد کرتی ہو یار، یہ کوئی رونے والی بات ہے،مرد کی سرزنش میں چھپی محبت کو ڈھونڈ کو محسوس کر لینے کا گر عورت سیکھ لے تو زندگی گلزار ہو جائے ، بہر حال اس منظر نے ہمیں کچھ ایسا جکڑا کہ اس کہانی کو شروع سے جاننے کی خواہش پیدا ہوئی ، اس ڈرامے کے مصنف  عدیل رزاق ہیں ،جو اس سے پہلے  ہم ٹی وی پہ چلنے والی  ایک  ڈرامہ سیریز میں انتہائی متنازعہ موضوع پہ ڈرامہ بھی لکھ چکے ہیں۔  ہدایتکار فاروق رند ہیں، جن کے مشہور ڈراموں میں ،محبت تم سے نفرت، بے شرم، گلِ رعنا، لا ،رشتے کچھ ادھورے سے اور جگنو شامل ہیں ۔ جن لوگوں نے ان ڈراموں کو ذرا گہری نظر سے دیکھا ہے انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ   ان میں سے اکثر کہانیاں ہمارے معاشرے  میں عورت سے سلوک اور اسکی حیثیت کو قابلِ رحم انداز میں پیش کرتی ہیں، یقیناً اس میں کسی حد تک حقیقت بھی شامل ہوتی ہے ،لیکن اس حقیقت کو اس اندز میں بیان کرنا کہ اسکے منفی پہلو ساری مثبت باتوں کو کمال مہارت سے نگل لیں یہ بہر حال انصاف  کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بنیادی طور پہ یہ کہانی ثمرہ  کے گرد گھومتی ہے جو اپنے "روشن خیال" ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے، اور اسی روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے  والدین ثمرہ کی شادی اس کی پسند سے کر دیتے ہیں، شوہر کا تعلق ایک خالص جاگیردار گھرانے سے ہوتا ہے جو اپنے گاؤں میں سیاست میں بھی سرگرم ہوتے ہیں،اور پیر بھی مانے جاتے ہیں ،لڑکے کا باپ اس خیال سے پہلی بار خاندان سے باہر کی بہو لانے پہ تیار ہوتا ہے کہ بیٹا جو  تعلیم حاصل کرنے کے نتیجے میں ،جاگیرداری نظام کے نقائص ،پیری فقیری کی مذموم روایات  اور سیاست کے غلط استعمال سے خائف ہو کر اس سب سے دور رہنا چاہتا ہے، وقت پڑنے پر وہ اس احسان کا حوالہ دیتے ہوئےاسے اپنی ڈگر پہ چلایا جا سکے۔ثمرہ کو شادی کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا سسرال حقیقتاً کس پس منظر سے تعلق رکھتا ہے، رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی عورت ،کا کن کن مراحل پہ کس کس طریقے سے استحصال ہوتا ہے،اس ڈرامے میں  بلا شبہ اس کی عکاسی کرنے...

بچوں کے بدتمیز ہونے کی وجوہات

آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سننے میں آتا ہے کہ ہماری اولاد بہت بدتمیز ہوگئی ہے بڑوں کی عزت نہیں کرتی عجیب پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین بچوں کو سب کچھ دیتے ہیں مگر انہیں یہی بات ہی نہیں سیکھاتے۔ والدین اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، ہر خواہش پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کو ذرا بھی تکلیف ہو تو خود تکلیف میں آجاتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بے حد خیال رکھتے ان کے پیچھے خود کو فراموش کردیتے ہیں مگرانہیں عزت کرنا اور عزت سے پیش آنا سیکھاتے ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ والدین اپنے بچوں کو سمجھاتے نہیں ، سمجھاتے بہت کچھ ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فعل سے انجانے میں بچوں کو عزت و احترام نہ کرنا سیکھا رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کو محبت دی جائے، انہیں خلوص دیا سب کچھ دیا جائے مگر انہیں عزت نہ دی جائے تو پھر بچے بدتمیز ہی بنتے ہیں۔ بچوں کو محبت سے زیادہ عزت کی ضرورت ہوتی۔ جبکہ انہیں اکثر بہن بھائیوں یا پھر پڑوسیوں کے بچوں سے موازنہ کرکے ڈی گریڈ کیا جاتا ہے۔ سب کے سامنے یا تو ڈانٹا جاتا ہے یا پھر انہیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کیا عجیب بات ہے کہ جب بچوں کو اپنے گھر والے، والدین ، بہن بھائی ہی عزت و احترام نہیں دیں گے تو بچے کیسے سیکھیں گے کہ یہ سب۔ پھر یوں کہا جائے کہ یہ سب بچوں کے لیے گویا ایک اجنبی سی چیز ہے۔ بعض اوقات بچوں میں چڑچڑاپن اور بدتمیزی کی ایک بڑی وجہ والدین کا آپسی لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ والدین کی آپس میں کشیدگی کا نشانہ بچے بنتے ہیں۔ کسی اور کا غصہ کسی اور پر نکال دیا جاتا ہے۔ بیوی شوہر کا یا پھر شوہر بیوی کا غصہ بچوں پر نکالتا ہے۔ بچے کچھ چاہ رہے ہوتے ہیں مگر والدین کا بچوں سے بات کرنے کا انداز غیر ضروری حدتک تلخ ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر بچے کے کمزور دماغ پر پڑتا ہے۔ بچوں کے سامنے غیر ضروری اور غیر شائستہ گفتگو کرنے سے گریز نہ کرنا بھی بچوں کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بچوں کے سامنے ہر طرح کی باتیں کرتے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بچوں پر ان کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ بچے جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہی کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ والد بچے کو کہتا ہے کہ ’’بیٹا! اگر کوئی تھپڑ مارے تو تم بھی دو لگا دینا‘‘۔ یہ بات بچہ سیکھتا ہے اور پھر جب اس کا چھوٹا بھائی اسے مارتا ہے تو وہ سب کے سامنے اپنے بھائی کو دو جڑ دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر سب اسے ڈانٹتے ہیں اور والد صاحب اٹھ کراپنے بیٹے کو تھپڑ لگا دیتے ہیں۔ ’’یہ سب کس نے تمہیں سیکھایا، بدتمیز بن گئے ہو‘‘، وغیرہ وغیر۔۔ اب اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے۔ اس میں کس کا قصور ہے۔ خود ہی سیکھایا اور پھر خود ہی کہا کہ یہ سب کس نے سیکھایا۔ یہ...

بچوں کو اپنا بنائیے

آپ سروے کرلیں آپ کو ننانوے فیصد مائیں اپنے بچوں سے ناخوش اور پریشان دکھائی دیں گی۔ ان کے بچے ان کی بات نہیں سنتے ہیں ، شرارتیں کرتے ہیں ، ہر وقت موبائل ، لیپ ٹاپ یا ٹیب پر کارٹون دیکھتے یا گیم کھیلتے رہتے ہیں ، بے انتہا بدتمیز اور نالائق بھی ہو گئے ہیں۔ بات بات پر چڑ چڑا پن اور غصہ بھی دکھاتے ہیں۔ پڑھائی میں بھی انکا دل بالکل نہیں لگتا ہے۔ آپ کسی بھی ماں سے پوچھ لیں آپ کو سوائے ان شکایتوں کے اور کوئی شکایت نہیں ملے گی۔ اور آخر میں ایک ٹھنڈی آہ کے ساتھ یہ جملہ بھی’’ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں ؟‘‘۔ آپ ماؤں سے صبح سے رات تک چوبیس گھنٹوں کے دوران ان کے کیے گئے کاموں کی فہرست بنوالیں۔ آپ یقین کریں سوائے سونے ، کھانے ،ڈرامے دیکھنے اور موبائل کے علاوہ حد سے حد کھانا پکانے اور صفائی کے کوئی اور قابل ذکر کام انھوں نے نہیں کیا ہوگا۔ ہم صبح سے شام تک اور شام سے رات تک مارننگ شوز ، ڈرامے اور سوشل میڈیا کے سوا کوئی اور کام نہ کریں اور چاہیں کہ بچے ڈاکٹر عبد القدیر خان بن جائیں تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ بچے کو موبائل میں کارٹون لگا کر دے دیں اور خود ڈراموں میں لگ جائیں۔ بچہ کچھ پوچھنا چاہے تو دھتکار دیں۔ اپنی سوانح عمری سنانے لگ جائیں اور چاہیں کہ بچہ باادب نکلے تو مان لیں کہ آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں ، میں نے خود دیکھا ہے مائیں بچوں کو چیخ کر بولتی ہیں کہ چھوٹے بھائی سے چیخ کر بات نہیں کرتے ہیں ، باپ ایک زور کا ہاتھ لگا کر کہتا ہے ’’منع کیا ہے نا کہ ہاتھ مت چلایا کرو۔‘‘ موبائل پر بچے سے کہلواتے ہیں کہ بول دو بابا سو رہے ہیں یا ممی گھر پر نہیں ہیں۔ اور بچے کو نصیحت بھی کرتے ہیں کہ’’ جھوٹ بولنا بری بات ہوتی ہے‘‘۔ بچوں کے سامنے جھوم جھوم کر اور ہنس ہنس کر لوگوں کو بیوقوف بنانے کے قصے سناتے ہیں اور اولاد کے ایماندار ہونے کی تمنا کرتے ہیں۔ ہم بھی بڑے معصوم لوگ ہیں۔ کانٹے بوتے ہیں اور پھول لگنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ بچے نے کبھی گھر میں کوئی کتاب نہیں دیکھی اور اگر دیکھی بھی تو اماں یا ابا کے ہاتھ میں نہیں دیکھی اور ہم چاہتے ہیں کہ بچہ پڑھنے کا شوقین نکلے۔ کبھی اس نے اپنے ماں اور باپ کو قرآن کی تلاوت کرتے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے نہیں دیکھا ، کبھی کسی کتاب پر ڈسکشن کرتے نہیں دیکھا اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ قرآن کا عاشق بن جائے۔ آپ یقین کریں میں نے جتنی بھی نبیؐ کی سیرت پڑھی ہے مجھے ان کی دعوت کی کامیابی میں سوائے عمل کے اور کوئی دوسری چیز نظر نہیں آئی۔ پہلے آپ نے دو پتھر اپنے پیٹ پر باندھے پھر اپنے ساتھی کو صبر کی تلقین کی۔ اللہ کے نبیؐ نے کبھی اپنی سوانح عمری...

زن مرید۔۔۔ ایک ڈرامہ یا سوشل انجینئرنگ؟

 "زن مرید"، ڈرامے کا نام سنتے ہی ذہن میں جو پہلا خیال آیا وہ ایک معصوم سے کاٹھ کے الو قسم کے شوہر کا تھا جو اپنی بیوی کے اشاروں پہ ناچتا ہو گا، لیکن یہاں تو کہانی ہی کچھ اور نکلی،جی ہاں ہم ٹی وی سے نشر ہونے والا ڈرامہ زن مرید، جس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو پہلا تبصرہ ہوگا ،کمزور کہانی اور دوسرا تبصرہ ہوگا کمزور ہدایتکاری، سچ تو یہ ہے کہ اس کھیل کو دیکھ کے مشہور زمانہ مصرعہ یاد آجاتا ہے ''آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا''،قصہ کچھ یوں ہے کہ تبسم ایک ورکنگ وومن ہے، جو اپنے شوہر سجاد دو عدد بچوں اور ایک عدد گونگی  اور کسی حد تک معذور ساس کے ساتھ خوش باش زندگی گزار رہی ہے، سیریل کی ابتدا ء میں میاں بیوی کے خوبصورت تعلقات دکھائے جاتے ہیں، سجاد تبسم پر جان چھڑکتا ہے، اس کے ساتھ برتن دھوتا بھی دکھایا جاتا ہے اور اس کی دفتر آنے جانے کی تکلیف کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے لیئے ایک عدد علیحدہ گاڑی بھی خریدتا ہے، کسی ایک منظر سے بھی یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک غصے کا تیز شخص ہے جس کی فطرت میں ہی جذبات کا بے قابو ہو جانا شامل ہے۔ کہانی  بالآخر کہانی میں ڈھلتی ہے اور ایک گھریلو تقریب میں جب سجاد اپنے سالے کی بیوی کی باتوں پہ کچھ چڑا ہوا ہوتا ہے ،مذاق مذاق میں سب کے سامنے کہتا ہے '' میری بیوی اتنی اچھی ہے کہ دل چاہتا ہے اس جیسی دو ہوں'' اب یہ جملہ جس کو مشرقی بیویاں اپنی تعریف سمجھ کر خوش ہوتی ہیں ، یا کم سے کم مسکرا کر ٹال ہی دیتی ہیں ۔تبسم کو اتنا زیادہ چبھتا ہے کہ وہ جوابا اسی بھری محفل میں اپنے شوہر کو جس جملے سے نوازتی ہے وہ کچھ یوں ہے''سجاد بھی اتنے اچھے شوہر ہیں کہ جی چاہتا ہے ایسے ایک اور ہوں '' اس بے باکانہ اور بے ہودہ جواب پر سجاد سمیت ساری محفل کو سانپ سونگھ جاتا ہے، جس کو مصنف اور ہدایتکار نے تبسم کے حق میں ناظر کی ہمدردیاں اکھٹی کرنے کے لیئے استعمال کیا ہے ۔ بس جناب یہ ہے بنیاد اس سارے ڈرامے کی، مہمانوں کے جانے کے بعد اس جملے کی تلخی اپنا اثر دکھاتی ہے اور سجاد کی تلخ کلامی ایک زبردست دھکے میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے تبسم کی پیشانی پہ چوٹ آجاتی ہےاور خون بہنے لگتا ہے، اس لمحے تبسم کو  خواتین کے تحفظ کے سلسلے میں بنائے جانے والے اس ''نئے قانون'' کا خیال آتا ہے جس کا چرچا ان دنوں میڈیا پہ ہوتا ہے۔ (ویسے یہ سطور رقم کرتے ہوئے راقم کو یہ خیال آ رہا ہے کہ اس ڈرامے کا نام تو ''نیا قانون'' ہی بنتا تھا  ( اب تبسم صاحبہ اپنی ازدواجی زندگی کے تمام خوبصورت ایام کو بھلاتے ہوئے تھانے فون کرتی ہیں اور ہماری مستعد پولیس فوراً ان کے گھر پہنچ کر سجاد کو گرفتار کر لیتی ہے۔یہ علیحدہ بات کہ اس وقت...

خبر لیجیے زباں بگڑی - اطہر ہاشمی

طنز و مزاح

“دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ”

محکمہ آثارِ قدیمہ نے پاکستان میں ایک ایسی عجیب و غریب سیاسی جماعت کا ڈھانچہ دریافت کیا ہے جسے دنیا کا آٹھواں سیاسی عجوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس سیاسی جماعت کے معدہ میں پائے گئے خوراک کے حنوط شدہ ذرات کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جماعت اپنے وقت کے فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھایا کرتی تھی اور اسی خوراک سے پل کر جوان ہوئی تھی۔ سیاسی جماعت کے ڈی این اے میں مکاری، عیاری، لوٹ مار، تکبر، انسانوں کی خرید و فروخت اور ذاتی خاندان تک محدود اقربا پروری کے جینز کثیر مقدار میں پائے گئے ہیں۔ سیاسی جماعت کی کھوپڑی کا لیبارٹری میں تفصیلی جائزہ لینے پر انتہا درجے کی منافقت کے واضح ثبوت دکھائی دیے جن سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت ماضی میں ایک طرف تو فوجی بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے اپنا وزن بڑھاتی رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ فوجی بوٹوں کا وزن کم کرنے کے لیے خوب زور لگاتی رہی جس اسے چنداں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ جب یورپ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے اس حوالے سے رائے لی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے کے لے اُس دور کی سیاسی جماعتیں کچھ لوگوں کو بوٹ چاٹنے پر مامور کر دیتی تھیں اور اسی جماعت کے کچھ لوگوں پر دور کھڑے ہو کے بوٹوں والوں پر بھونکنے کی زمہ داری لگا دیتی تھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بھاگا جا سکے۔ محکمہ سیاسی حیاتیات کے ماہرین نے بھی ڈھانچے کا معائنہ کیا اور اپنی مشترکہ رائے دیتے ہوئے رپورٹ میں لکھا کہ اقتدار میں آنے کے امکانات اس جماعت کی روح کا کام کرتے رہے ہیں اور جیسے ہی یہ روح غائب ہوئی، اس جماعت کا نام و نشان سیاسی روئے زمین سے مٹ گیا تھا۔ تقریباً دس سال تک یہ جماعت مینڈک کی طرح زیر زمین رہی لیکن پھر یہاں کی سیاسی وائلڈ لائف کی از سر نو حیات کاری کے لیے یورپ کے ایک مشہور ملک میں میثاق جمہوریت نامی معاہدہ طے پایا جس کے لیے بدبودار فوجی جرابیں خاص طور پر وہاں پہنچائی گئیں تاکہ میثاق جمہوریت کو توثیقِ بْوٹیت مل سکے اور سیاسی وائلڈ لائف کو پنپنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی کے ڈین نے ہمارے پوچھنے پر بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے ہم دیکھتے رہتے ہیں لیکن جس درجے کی انا پرستی اور بیوقوفی ہمیں اس ڈھانچے سے ملی ہے، وہ آج تک کسی اور سیاسی ڈھانچے سے نہیں ملی۔ ہم نے دلچسپی سے پوچھا کہ یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے :’’انا پرستی کے آثار ہمیں اس سے نظر آئے ہیں کہ یہ جن بوٹوں کا چمڑا نرم کر کے کھاتے رہے ہیں، اسی چمڑے کے بوٹ خود پہننے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو کسی بھی بوٹوں والوں کو کبھی گوارا نہیں ہو سکتا‘‘۔ ایک طالب علم جو اس پراجیکٹ میں خصوصی دلچسپی لے رہاہے، یوں گویا ہوا کہ سیاسی آرکیالوجی ایک نیا فیلڈ ہے جس میں تحقیق کی کافی گنجائش موجود ہے،اس لیے ایسے ڈھانچوں کا دریافت ہونا ہمارے لیے علمی...

مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ،لال مرچ، کالی مرچ ،مرچی پودوں کی جنس شملہ مرچ سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کی ابتدا امریکہ سے ہوئی۔ مرچ کم از کم 7500 قبل مسیح سے لے کر امریکہ میں انسانی غذا کا ایک حصہ رہا ہے۔ دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے۔ جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ باریک مرچیں اور جنگلی مرچیں روز مرہ کے کھانوں میں عمومًا استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا اور باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ ان کو لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے ہرہیز کرنا چاہے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کریں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو وہ دور جانے کے بجاۓ قریب ہوجائیں۔ جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو بیلنس رکھنا ایک فن ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جاۓ تو سننے والے کو لطف آتا ہے۔ اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔یہ نصیحت خصوصاً خواتین کے لیے ہے۔ جو اکثر اپنی باتوں سے مرچ لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔ بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کے شوہر کے سامنے جاۓ ، شوہر موبائل میں مصروف ہوں اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکاۓ اگر شوہر اس میں کوئی خامی نکالے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ لہذا تمام شوہروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں۔ کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے سردی گرمی دنوں میں با آسانی لگائی جا سکتی ہیں۔ غنیمت جانے کے آپکی شادی ہوچکی ہے۔ ورنہ تو کہیں ایسا نہ ہو مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ نہ پڑجاۓ۔  

دبی شخصیت کے ساتھ ایک صبح

تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر ادبی شخصیات کے ساتھ آپ نے سنا ہوگا کہ اکثر شام یا رات منائی جاتی ہے۔کیونکہ سارا دن وہ ادبی کاموں،رسائل،میگزین و دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے شام سے رات گئے تک وہ فارغ ہوتے ہیں۔مشاعرہ ہو یا ادبی نششت محفل رات کو ہی جمتی ہے۔یقین مانئے اکثر شعرا کرام کے گھر اُتنی دہی نہیں جمتی جتنی محفلیں جمتی ہیں۔رات تاخیر سے بسترِ استراحت پر جانے کی وجہ سے صبح صادق آنکھ کا نہ کھلنا قدرتی اور محفل کا ’’خمار‘‘ بھی ہو تا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کوئل و بلبل کو اپنی شاعری میں استعمال کرنے والے شعرا نے کبھی ان پرندوں کی شکل علی الصبح باہر نکل کردیکھی ہو یا ان کی آواز سے لطف اندوز بھی ہوئے ہوں۔دوحہ سے واپسی اسلام آباد کوئی پانچ گھنٹے کا قیام تھا علی الصبح اسلام آباد ائر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا اپنے ایک دیرینہ ادبی دوست کے گھر کا راستہ لیا۔ملاقات چونکہ دوحہ سے روانگی پر ہی فون پہ طے ہو چکی تھی اس لئے صبح سویرے انہیں فون بھی نہ کیا سوچا ہمدم دیرینہ ہے میرے پہنچتے ہی بیڈ روم سے گیٹ تک دیر نہیں لگائے گا۔مقررہ وقت پر اس کے ہاں پہنچے،ڈور بیل دی۔اور ذرا گیٹ کی سائیڈ پہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے،جواب و شکل دونوں ہی ندارد پا کر ایک بار دو بار،سہ بار مسلسل بیل پہ ہاتھ دھرے رکھا،تھوڑا توقف کیا اور سوچ میں پڑ گئے خدایا کسی اور کے گھر تو دھاوا نہیں بول دیا۔چند قدم پیچھے ہٹے،گھر کے باہری حصہ کو غور سے دیکھا،ماسوا اس کے کوئی فرق نہ پایا کہ جب پچھلی بار تشریف آوری ہوئی تھی تو منڈیر پر کالا کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا تھا،جس کی کہانی بھی الگ سے ہے۔کہ پچھلی بار میں نے یونہی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی کوّے کی کائیں کائیں شروع ہو گئی تو موصوف اپنا پسٹل لے کر نمودار ہوئے کہ آج یا کوا نہیں یا مہمان نہیں۔کیونکہ مجھ سے قبل کوئی چار بار کوّے نے کائیں کائیں کی اور چاروں مرتبہ مہمان آ وارد ہوئے اور میں پانچواں مہمان تھا۔صد شکر کہ اس بار کوّے کی جگہ ایک فاختہ تشریف فرما تھی ۔ایک بار پھر ہمت مجتمع کی اور ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ آنکھیں ملتے ہوئے چوکیدار کی شکل دکھائی دی،بھاری بھر کم آواز میں اس استقبالیہ کے ساتھ خوش آمدید کیا کہ اتنی صبح آن دھمکا ہے ،چین سے سونے بھی نہیں دیتے۔لو جی موصوف کیا یہاں تو چوکیدار تک سویا ہوا ہے۔نیم بند آنکھوں سے ہی ہمیں پہچانتے ہوئے دور سے ہی سلام کیا اور اسی ہاتھ سے اندر آنے کا بھی اشارہ فرما دیا۔ڈرائنگ روم کھول کے بٹھا دیا گیا اور اس کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی،نہ چوکیدار،نہ دوست اور نہ کوئی چائے پانی،سب ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ،حالانکہ گدھے کے سر پر سینگ ہوتے نہیں ۔کوئی گھنٹہ بعد کام والی ماسی ڈرائنگ روم کی صفائی کرنے آئی تو ایسے ہی اسے پوچھ لیا کہ یہ چوکیدار کدھر...

بڑھاپے کی بڑھکیں،عینک اور بتیسی

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے حالانکہ اس عمر میں انسان کسی رخ سے بھی سیدھا نہیں ہوتا۔ دونوں کی بتیسی(مصنوعی دانت) اور عینک کا نمبر ایک جیسا ہو جاتا ہے۔جس کو جو چاہئیے مستعار لے اور اپنا گزارہ کر لے۔مثلاًبابا جی کو بھوک لگی ہو تو کھانے کے لئے بتیسی ادھار پکڑی کھانا کھایا بتیسی گرم پانی میں سٹرلائز کی اور ’’بابی‘‘ کے منہ میں۔اماں کو تلاوت فرمانی ہوئی تو بابے کی عینک پکڑی ،دھاگے والے فریم کو ناک کی سلوٹوں پہ ایڈجسٹ کیا ،بعد از تلاوت عینک بڑے پیار سے بابے کی ناک پہ چسپاں۔گویا انسان اگر بوڑھا نہ ہوتا تو چشموں اور دانتوں کے کام کا مکمل مندا ہوتا۔اکثر میری کلاس کے بچے شرارتاً سوال کرتے ہیں کہ سر بڑھاپے کی آمد کا پتہ کیسے چلتا ہے۔تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ جب منہ میں دانت گرنے لگیں اور عینک کا نمبر بڑھنے لگے تو سمجھ جاؤ کہ بڑھاپے کی آمد آمد ہے۔یا پھر اولاد اور اعضائے جسمانی ایک ساتھ جواب دینے لگ جائیں ،بیوی اور یاد داشت کا ساتھ کم ہونے لگے،کھانے کا ذائقہ اور بدصورت عورتوں کا ساتھ حسین لگنے لگے ،حد یہ کہ جب بچے آپ کو نانا ،دادا جبکہ حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنا شروع کر دیں تو کسی قسم کے تردًد سے کام نہ لیتے ہوئے چپ چاپ اپنے بڑھاپے کو ایسے ہی تسلیم کر لیں جیسے بوقتِ نکاح دلہن سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ فلاں بن فلاں قبول ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوا اس کے کہ ہاں’’ سب چلے گا‘‘۔ ویسے بڑھاپا مغرب میں اتنا برا خیال نہیں کیا جاتا جتنا کہ مشرقی لوگوں نے بنا دیا ہے۔مغربی بڈھے جتنا بڑھاپے کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں اتنا ہم مشرقی جوانی میں بھی شائد نہ کرتے ہوں،مغرب میں بوڑھوں کو عمر کے ڈھلتے ہی اولڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ان کی کیئر ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں بوڑھوں کو گھر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ جوانوں کے ’’طعنے معنوں‘‘ کی زد میں رہ کر ان کے کتھارسس کا باعث بن سکیں۔طعنے ذرا ملاحظہ فرمائیں ٌ* بابے کی چارپائی جانوروں والے کمرے میں لگا دیں * بابا ہر بات میں ٹانگ نہ اڑایا کر،حالانکہ بابا اپنی ٹانگوں پہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ * بڑھاپے میں کوئی فعلِ جوانی سر زد ہو جائے تو’’چٹے چاٹے(سفید بالوں) کا خیال کر،چاٹا سفید ہو گیا عقل نہ آئی،بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مشرق میں تو بڑھاپے کو توبہ و استغفار کی عمر خیال کیا جاتا ہے کہ بابا جی تسبیح مصلحہ لے لو اور اللہ اللہ کرو،حالانکہ مغرب میں جو بوڑھے ایامِ جوانی میں جس عورت سے عیاشی کرتے رہے بڑھاپے میں اسی عورت سے شادی کو آئیڈیل عمر اور جوڑی سمجھتے ہیں،اسی لئے بڑھاپا مشرق میں مرض اور بوجھ جبکہ...

اُف یہ بیویاں

عورت ٹیڑھی پسلی کی وہ تخلیق ہے کہ ایک بار بیوی بن جائے تو پھر ٹیڑھے سے ٹیڑھے مرد کو بھی یک جنبش انگلی ایک ہی پاؤں پہ وہ ناچ نچواتی ہے کہ شوہر نامدارکے تمام کس بل نکال دیتی ہے۔اور مرد بے چارہ جو قبل از شادی کسی کو پلے نہیں باندھتا تھا اب بیوی کے پلو سے ایسے بندھا رہتا ہے جیسے اونٹ کے گلے میں بلی اور بلی بھی وہ کی جو بہت سے بلوں میں اکیلی گھری ہوئی ہو جیسے رضیہ غندوں میں اور دور کھڑا ایک خاوند لاچارگی و نحیف آوازمیں کہہ رہا ہو کہ :شیر بن شیر؛ بیوی آ پکا وہ قانونی حق ہے جسے آپ سو(۱۰۰)دو سو(۲۰۰) افراد کی موجودگی میں قبولیت ثلاثہ کے ساتھ بخوشی حق قبولی میں لیتے ہیں۔بعد از شادی بعدین دو سو دن شادی مرگ ہو بھی جائے تو یقین مانیں آپ دنیا کے خوش قسمت ترین خاوند خیال کئے جائیں گے ہو سکتا ہے آپ کو :عائلی شہید: کے اعلی رتبے پر خیال کیا جائے۔ بیوی میں کوئی اور خوبی ہو نہ ہوایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ یہ جب چاہے کوئی سا بھی روپ دھار سکتی ہے۔جب چاہے گرگٹ بن کے کوئی سا بھی رنگ بدل لے۔رنگ بدلنے کے لئے خاوند،سسرال،یا میکہ کہیں سے بھی بیوی کو اجازت نامہ درکار نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے سے ہی :بیوی نامہ:میں ڈیٹا اسٹور میں پڑا ہوتا ہے۔بس یہ بیوی پر منحصر ہے کہ ذاتی منشا و مدعا کے مطابق کب ،کونسا روپ دھار کر خاوند،ساس،نند،اوردیورانی کو بیوقوف بنانا ہے۔یعنی گھر میں دھونے والے برتنوں کی کثرت ہو تو کثرت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے لئے بھی بیوی کے سر میں درد نکل سکتاہے،سسرالی مہمانوں کی آمد آمد ہو تو :خاتون خانہُ:گندے دوپٹے سے سر باندھ کر بوڑھی :دائیہ ؛کی وضع اپنا سکتی ہے۔اور اگرمیکہ والوں سے کوئی دور پار کے رشتہ دار بھی آ جائیں تو :کپتی بیوی: کے غلاف سے دھارمک ،بی بی اور موٗدب بیوی کہاں سے عود کر آ جائے گی کہ پورا سسرال انگشت بدنداں،حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ :ہیں: ایسا روپ تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔البتہ تنخواہ کا دن وا حد دن ہوتا ہے جس میں ایک دم کپتی بیوی گل اندام محبوبہ کی وضع قطع اپنا لے گی کہ :سکے خاوند: کو یقین نہیں آتا کہ وہ ذاتی بیوی سے مخاطب ہے یا کسی اور کی بیوی کے سامنے کھڑا ہے۔بیوی کے یہ ناز و نخرے اس وقت تک چلتے ہیں تا وقتیکہ شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی نہ ہو جائے۔ ایام ماہ آ خرجب شوہر کا والٹ اور پاکٹ خالی ہو جاتے ہیں تو فوری طور پہ :گجی ماں:جیسے ٹکا کے بے عزتی کرتی ہے جیسے بچپن میں رات تاخیر سے وآنے پہ اماں کرتی تھیں۔بعض اوقات تو اماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہی رہتی ہے۔ بیوی کا پاور ھاؤس اسکا میکہ ہوتا ہے جبکہ خاوند کے لیے یہ جگہ بارگاہ ادب سے کم نہیں۔ ہر اس شخص کو کسھیانی مسکراہٹ اور عزت و مقام بخشتے ہوئے جھک کر سلام اور گلے لگانا پڑتا ہے جو آر...

ہمارے بلاگرز