نیوزی لینڈ کی مساجد میں فائرنگ ، درجنوں نمازی شہید

117

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دومساجد میں نماز جمعہ میں مسلح شخص نے فائرنگ کر کے 40  نمازی شہید اور متعدد کو زخمی کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے واقعات کرائسٹ چرچ میں واقع مسجدِ نور اور مسجد لنٹن میں پیش آئے جہاں مسلح افراد نے مساجد میں داخل ہو کر مشین گن سے نمازیوں پر فائرنگ کی۔ مسلح شخص نے گن کو کئی بار ری لوڈ کیا اور مختلف کمروں میں جا کر فائرنگ کی۔

مسلح شخص نے 3 منٹ تک مسجد میں فائرنگ کرنے کے بعد مرکزی دروازے سے باہر نکلاجہاں اس نے گاڑیوں پر بھی فائرنگ شروع کر دی۔

مقامی میڈیا نے بتایا ہے کہ ملزم کی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے ہوئی ہے۔ جس کی عمر 30سے 40سال ہے۔

نیوزی لینڈ پولیس کے کمشنر مائیک بش نے کہا ہے کہ 4افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن میں تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ مائیک بش نے کہا کہ حملہ آوروں کی گاڑیوں کے ساتھ آئی ای ڈی بھی لگا ہوا تھا جسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملہ آوروں نے ایک اسپتال کو بھی نشانہ بنایا جہاں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔

نیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق کرائسٹ چرچ کی مسجد نور اور مسجد لنٹن میں فائرنگ کے واقعے میں کسی پاکستانی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے تاہم نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہوئی بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی۔ جس کے کھلاڑی فائرنگ کے وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد آئے ہوئے تھے۔

بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے کپتان تمیم اقبال نے کہا کہ بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی اس واقعے میں محفوظ رہے۔بنگلا دیشی کرکٹر مشفق الرحیم نے اس موقع پر کہا کہ مسجد میں بنگلا دیشی ٹیم بھی موجود تھی جو اس واقعے میں محفوظ رہی۔انہوں نے کہا کہ ہم بہت خوش قسمت رہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں اللہ تعالی نے ہمیں محفوظ رکھا، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایسا دوبارہ ہو۔

نیوزی لینڈ پولیس کے کمشنر مائیک بش نے کہا ہے کہ 4افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن میں تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔مائیک بش نے کہا کہ حملہ آوروں کی گاڑیوں کے ساتھ آئی ای ڈی بھی لگا ہوا تھا جسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد پر دہشت گرد حملہ نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں متاثرین اور انکے اہل خانہ کیساتھ ہیں۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا “اسلاموفوبیا” کارفرما ہے جس کے تحت دہشت گردی کی ہرواردات کی ذمہ داری مجموعی طور پر اسلام اور سوا ارب مسلمانوں کے سر تھوپنے کا سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کیلئے بھی یہ حربہ آزمایا گیا۔