پہلی بار کسی وفاقی حکومت نے کراچی کے 70 فیصد ریونیو کو تسلیم کیا ہے ،جنید ماکڈا

110
کے سی سی آئی کے صدر ملائیشیا کے قونصل جنرل خیرالنظام ابد رحمان کو کراچی چیمبر آمد پر شیلڈ پیش کررہے ہیں 
کے سی سی آئی کے صدر ملائیشیا کے قونصل جنرل خیرالنظام ابد رحمان کو کراچی چیمبر آمد پر شیلڈ پیش کررہے ہیں 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ملائیشیا کے قونصل جنرل خیرالنظام ابد رحمان نے وزارت تجارت پاکستان کی جانب سے ائر کنڈیشنرزکی درآمد پر ٹیرف کی شرح میں اضافے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ائرکنڈیشنرز و دیگر مصنوعات کی درآمد پر ٹیرف بڑھانے کے فیصلے کو ایس آر او کے ذریعے آگاہ کیا گیا جو پاکستان ملائیشیا آزاد تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے لہٰذا اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری ڈیوٹیز کے نفاذ کے ذریعے ٹیرف میں اضافے کے بجائے حکومت پاکستان کسی ایسے نظام کو متعارف کرائے جس سے سب کے لیے جیت ہی جیت کی صورتحال پیدا ہو اور ملائیشین برآمدکنندگان متاثر نہ ہوں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب میں کیا۔کے سی سی آئی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا، سینئر نائب صدر خرم شہزاد، نائب صدر آصف شیخ جاوید،چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز و ایمبیسیز لائژن سب کمیٹی شمعون ذکی اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی اجلاس میں شریک تھے۔خیرالنظام ابد رحمان نے کہاکہ اگرچہ پاکستان اور ملائیشیا نے ایف ٹی اے پر دستخط کیے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود کاروبار میں بہت زیادہ تیزی دیکھنے میں نہیں آئی جس پر خصوصی توجہ دینے اور دونوں جانب سے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ دو طرفہ تجارت میں بہتری تو آرہی ہے تاہم اس کی رفتار سست ہے اور گزشتہ سال بھی تجارتی حجم صرف 2.5فیصد ہی بڑھ پایا۔انہوں نے کہا کہ یہی مناسب وقت ہے کہ رابطے قائم کیے جائیں اور مشترکہ طور پر کام کیا جائے کیونکہ پاکستان اور ملائیشیا میں نئی حکومتوں نے حال ہی میں ملک کے امور سنبھالے ہیں۔