ٹیکس محتسب کا مقصد محصولات دہندگان کو ریلیف فراہم کروانا ہے،شاہد احمد

63
وفاقی ٹیکس محتسب اور مشیر کسٹم و سیلز ٹیکس شاہد احمد کو جاوید بلوانی شیلڈ پیش کر رہے ہیں
وفاقی ٹیکس محتسب اور مشیر کسٹم و سیلز ٹیکس شاہد احمد کو جاوید بلوانی شیلڈ پیش کر رہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کا بنیادی مقصد ٹیکس دہندگان بشمول برآمد کنندگان کو ٹیکس حکام کی طرف سے ہونے والی نا انصافی اور کوتاہی پر ریلیف فراہم کروانا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتو اس ادارے کا وجود کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ یہ بات وفاقی ٹیکس محتسب کے مشیربرائے کسٹمز اور سیلز ٹیکس شاہداحمد نے جمعرات کو پاکستان اپیرل فورم کے زیر اہتمام پی ایچ ایم اے ہاؤس میں ایف ٹی او سے متعلق آگاہی نشست میں برآکنندگان سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2018میں ایف ٹی او کوکسٹمز اور سیلز ٹیکس سے متعلق 2400 شکایات موصول ہوئیں، جس میں سے 25فیصد یعنی 470 کیسز کو ابتدائی مرحلے میں ہی نمٹادیا گیا ، ایف ٹی او فیصلوں کے بدولت سال 2018کے دوران برآمد کنندگان کو سیلز اور کسٹمز ریبیٹ کی مد میں مجموعی طور پر 6 ارب 99کروڑ60لاکھ روپے وصول ہوئے تھے اور 73فیصد کیسز کا فیصلہ ٹیکس دہندگان کے حق میں آیا تھا ، انہوں نے بتایا کہ وفاقی ٹیکس محتسب دفتر میں پہلے شکایات کو نمٹانے کی مدت60روز مقرر تھی مگر اب شکایات کو 45دنوں کے اندرنمٹادیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وفاقی ٹیکس دفتر کی توجہ ٹیکس دہندگان کے حق میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کی ہے۔ انہوں نے برآمدکنندگان سے کہا کہ وہ کسٹمز ریبیٹ اور سیلز ٹیکس سے متعلق پرانے پھنسے ہوئے ریفنڈ کے کیسزبھی بھیج سکتے ہیں جنہیں حل کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ٹیکس دہندگان اپنے خلاف ہونے والے ظلم و زیادتی کے خلاف ایف ٹی او سے یا رجوع نہیں کرتے یا تاخیر سے رجوع کرتے ہیں جس کے باعث ان کی مشکلات میں اضافہ ہوجا تا ہے۔