اسلامی نظام کی جدوجہد و مشکات اور آزمائشوں کا راستہ ہے،حافظ نعیم الرحمٰن

93
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن جمعیت طلبہ عربیہ کے تحت مدارس کے فارغ التحصیل علما کے اعزاز میں استقبالیے سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن جمعیت طلبہ عربیہ کے تحت مدارس کے فارغ التحصیل علما کے اعزاز میں استقبالیے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد مشکلات اور آزمائشوں کا راستہ ہے ،موجودہ حالات میں دین اسلام کی حفاظت اور اقامت کے لیے علما کرام پر بھاری ذمے داریا ں عایدہیں،دعوت کے جو راستے اور رابطے ہموارہوئے ہیں انہیں مستقل بنیادوں پر قائم رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ہمارے لیے کامیابی کی نوید بن سکیں،علما کرام اپنے علم واخلاق کے ذریعے دل ودماغ کو فتح کرسکتے ہیں جو تحریک اسلامی کی کامیابی ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں جمعیت طلبہ عربیہ کے تحت رواں سال مدارس سے فارغ التحصیل علما کرام کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ استقبالیے سے نائب امیر کراچی برجیس احمد ، منتظم جمعیت طلبہ عربیہ صوبہ سندھ حافظ نعیم اللہ منگریو، منتظم کرا چی حافظ کاشف شبیر و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں علما کرام نے مختلف نوعیت کے سوالات کیے ۔ استقبالیہ میں سیکرٹری کراچی عبد الوہاب ،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ رواں سال مدارس سے فارغ التحصیل علما کرام قابل مبارکباد ہیں اور ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ علما کرام کو معاشرے کے لیے مرجع خلائق بنائے اور ان سے دین کا کام لے۔ مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والوں کی اولین ذمے داری ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں جاکر دین کا کام کریں۔ جماعت اسلامی ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک منظم تحریک ہے ،مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے جماعت اسلامی کو مذہبی طبقے تک محدود نہیں رکھا ، مولانا کے لٹریچر کا کمال ہے کہ انگریزوں کے بنائے ہوئے نصاب تعلیم سے علم حاصل کرنے والوں نے بھی دین کا کام کیا اور ان تعلیمی اداروں سے بھی اسلام کا نام لینے والے پیدا ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب کی جدوجہد اقامت دین کے لیے ہے ، ہم اسلامی تحریک کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے جمع ہوئے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے برکت عطا فرمائی ہے اور آج جماعت اسلامی کو عوام میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی ہے ۔برجیس احمد نے کہاکہ ماضی میں انقلابات اور تبدیلیاں ہمیشہ منبرومحراب کی صداؤں سے ہی آئی ہیں،آپ جہاں کہیں بھی ہیں اپنی آواز کو اقامت دین کی آواز سے ہم آہنگ کریں۔اپنے آپ کو مرجع خلائق بنائیں تا کہ اسلام کی طرف لوگوں کا رجوع رہے اور انہیں دین کی صحیح رہنمائی ملے۔دینی مسائل کی محافل منعقد کریں دروس قرآن وحدیث کا روز کی بنیاد پر اہتمام کریں یہ وہ ضرورت ہے جو عوام کی دینی تشنگی دور کرتی ہے۔حافظ کاشف شبیر نے کہاکہ ہماری اصل منزل تحریک اسلامی ہے ۔ہم نے دینی ادارے میں رہتے ہوئے جو کچھ سیکھا ہے معاشرے میں جاکر تحریک کی دعوت کو گھر گھر پہنچاکر عام کرنا ہے ۔ جمعیت طلبہ عربیہ جیسی محسن اورشجر سایہ دار تنظیم ہمیں اسی مقصد کے لیے تیار کرتی ہے کہ ہم معاشرے میں جاکر تحریک اسلامی کا ہر او ل دستہ اورایک رول ماڈل بن سکیں ۔