گورنرسندھ عمران اسماعیل کا جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کا دورہ ،

66

کراچی ( اسٹا ف رپورٹر)گورنرسندھ عمران اسماعیل نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کا دورہ کیا ۔ گورنر سندھ کو اسپتال میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ اسپتال میں 125 سرویلینس کیمرے نصب کئے گئے ہیں جس سے 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ کنٹرول سینٹر میں ماہر اسٹاف تعینات ہیں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کی بروقت اطلاع مشکلات کے ازالے میں مدد فراہم کررہی ہے ۔ 

ڈاکٹر سیمی جمالی نے گورنر سندھ کو اسپتال کی کارکردگی کے بارے میں بتایا کہ 2000 بیڈ پر مشتمل اسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد ملک کے مختلف علاقوں سے علاج کے لئے یہاں آتے ہیں، اسپتال کے لئے 3.5 بلین روپے سالانہ کا بجٹ مختص جبکہ سالانہ تقریباً 5 لاکھ افراد سے زائد افراد کو ایمرجینسی ٹریٹمنٹ دیا جاتا ہے اس کے علاوہ سالانہ 33 ہزار سے زائد آپریشن کئے جارہے ہیں جبکہ 125 افراد کو روزانہ کی بنیادوں پر کتے کے کاٹے کا علاج بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ 

جنرل، سرجیکل، ریڈیو لوجی سمیت دیگر سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے تحت فوڈ کمپلیکس قائم کیا گیا جہاں تیمارداروں کو بلا معاوضہ کھا نا فراہم کیا جارہا ہے۔ سیمی جمالی نے مزید بتایا کہ کینسر ، سائبر نائف، پٹ اسکین، موموگرافی، ریڈیو لوجی، ایم آر آئی، سمیت دیگر سہولیات بھی بلامعاوضہ فراہم کی جارہی ہیں، اس کے علاوہ 6 جدید ایمبولینس مریضوں کو اسپتال کے اندرونی حصوں میں ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں شفٹ کرنے کے لئے خریدی گئی ہیں۔ 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ ان کے دورہ کا مقصد اسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا اور جناح اسپتال میں ضرورت مند مریضوں کے تیمارداروں کے لئے شیلٹر ہوم قائم کرنے کے لئے اقدامات کو حتمی شکل دینا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول اسپتال کی طرز پر جناح اسپتال میں بھی ضرورت مند مریضوں کے ساتھ آنے والے تیمارداروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا شامل ہے۔

ان شیلٹر ہومز میں اسپتال کی جانب سے نشاندہی کردہ ضرورت مندوں کو رکھا جائے گا جب تک ان کے مریض جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ وفاقی حکومت جناح اسپتال کو مزید جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتی ہے تاکہ دوردراز علاقوں سمیت کراچی کے رہائشیوں کو سرکاری سطح پر صحت کی بہترین سہولیات ایک چھت کے نیچے میسر آسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جب جناح اسپتال سمیت دیگر ملحقہ انسٹی ٹیوٹز وفاق کے زیر انتظام آجائے گا تو ایک اعلیٰ سطحی ماہرین پر مشتمل بورڈ تشکیل دیا جائے گا تاکہ اسپتال کا فرانزک اور انٹرنل آڈٹ کروایا جائے اور غیر قانونی طور پر مراعات یافتہ افراد کی نشاندہی ممکن کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈاکٹرز ، اسٹاف، نرسنگ، پیرا میڈیکل سمیت دیگر اسٹاف کو یقین دلایا کہ محنتی ، ایماندار اور مخلص ملازمین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان کا ویژن ہے کہ ہر شخض کو صحت کی مکمل سہولیات فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ NICVD کے بجٹ خسارے کے بارے میں کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق NICVD کا خسارہ 10 ارب روپے ہے جس میں دوائیوں، ڈاکٹروں اور دیگر مد میں ادائیگی بھی التوا کا شکار ہے۔