تیل بردار جہاز روکنے پر ایران کی اسرائیل کو سخت دھمکی

57

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی وزارت دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی بحریہ نے اس کے تیل کے جہازوں کے خلاف کوئی کارروائی کی، تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی وزارت دفاع کی جانب سے یہ ردعمل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی بحریہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے نفاذ کے لیے ایرانی تیل کی ترسیل روکنے کے لیے جہازوں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ایرانی خبررساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وزیردفاع نے کہا کہ تہران کے پاس عسکری صلاحیت موجود ہے کہ وہ اسرائیلی مداخلت کا جواب دے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایسے کسی اقدام کی صورت میں بین الاقوامی برادری کو بھی اس کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔حاتمی نے کہا کہ ایسی کوئی کارروائی قزاقی سمجھی جائے گی اور اسے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج کے پاس صلاحیت موجود ہے کہ وہ ملکی شپنگ لائن کا دفاع کر سکیں اور سپلائی لائن کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے بہترین انداز سے ردعمل ظاہر کریں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے خلاف دوبارہ سخت ترین پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانا چاہتے ہیں، تاکہ ایران کو جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ میزائل پروگرام سے بھی باز رکھا جائے۔ اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر ختم کرنے کوشش میں ہے۔ پومپیو نے دعویٰ کیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ایرانی تیل کی عالمی تجارت میں حصے داری کافی کم ہو چکی ہے اور وہ اس کی برآمدات میں ناکام ہو چکا ہے۔