اسرائیلی فوج پھر جوتوں سمیت مصلیٰ باب رحمت میں داخل

85
مقبوضہ بیت المقدس: مسجد اقصیٰ کے پہرے دار دن بھر جاری رہنے والی بندش کے بعد حرم قدسی کے دروازے کھلنے کا انتظار کررہے اور اجازت ملنے کے بعد احاطے میں گھوم رہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) مسجداقصیٰ میں منگل کے روز شروع ہونے والی کشیدگی کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کے روز قابض صہیونی فوج ایک بار پھر مصلیٰ باب رحمت میں جوتوں سمیت داخل ہوگئی۔ اس سے قبل منگل کے روز بھی اسرائیلی فوج کی بھاری نفری مسجد اقصیٰ کے باب رحمت میں داخل ہوئی تھی اور وہاں موجود نمازی پر تشدد کیا تھا۔صہیونی فوجیوں نے فلسطینیوں کو مصلیٰ باب رحمت میں نماز کی ادا کرنے پرسنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور کہا کہ وہ باب رحمت کو بند کردیں گے۔ خیال رہے کہ باب رحمت مسلسل 16 سال بند رہا ہے، جسے حال ہی میں فلسطینیوں نے اپنے زور بازو سے کھول لیا تھا، مگر صہیونی فوج اسے دوبارہ بندکرنا اور وہاں پر نماز کی ادائیگی پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔ اس صورت حال میں مسجد اقصیٰ کے محافظ ساری رات احاطے کے باہر موجود رہے۔ قابض فوج نے فجر کے وقت انہیں حرم قدسی میں داخلے کی اجازت دی، تاہم بعد میں باب رحمت سے سائد سلایمہ نامی پہرے دار کو گرفتار اور اس کے دوست عیسیٰ برکات کو تفتیش کے لیے طلب کرلیا۔ ساتھ ہی مسجد اقصیٰ میں فائربریگیڈ کے اہل کار عماد عابدین کو 15روز کے لیے قبلہ اول سے دور کردیا گیا۔ کشیدہ صورت حال کے تناظر میں بیت المقدس کی نوجوانوں کی تنظیموں نے آج جمعرات کے روز پوری قوم سے مسجداقصیٰ کے احاطے خاص طور پر مصلیٰ باب رحمت میں جمع ہونے کی اپیل کی ہے۔ القدس میں محکمہ اوقاف کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ فراس الدبس نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ میں گھس کرنمازیوں پر جو تشدد کیا، اس کے نتیجے میں فلسطینیوں میں سخت وغصے کی فضا پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی سیکورٹی فورسز کا قبلہ اول پر دھاوا مسجد اقصیٰ بالخصوص باب رحمت کو فلسطینیوں کے داخلے اور وہاں پر عبادت سے محروم کرنے کی سازشوں کا حصہ ہے۔فراس الدبس کا کہنا تھا کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر تشدد کا مرتکب ہو کرفلسطینیوں کی مذہبی آزادی پرحملہ آور ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے، بیت المقدس اور 1948ء کے فلسطینی علاقوں میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران 27 فلسطینیوں کو گرفتار کر دیا۔ گرفتارشدگان میں ایک فلسطینی رکن پارلیمان اور کئی سابق اسیران شامل ہیں۔اسرائیلی فوج نے مشرقی طولکرم، جنین، اریحا، رام اللہ، نابلس، الخلیل اور دیگر شہروں میں کارروائیاں کیں۔