کراچی کے بلدیاتی ادارے تنخواہوں سے محروم

107

عباسی شہید اسپتال میں تنخواہوں کی تین ماہ سے عدم ادائیگی پر گھیراؤ ہونے پر میئر کراچی وسیم اختر اسپتال کے سربراہ پر آگ بگولا ہوگئے اور تنخواہوں کی فوری ادائیگی کے احکامات جاری کیے ۔ منگل کو جب وسیم اختر عباسی اسپتال کے دورے پر پہنچے تو جونیئر ڈاکٹروں سمیت دیگر عملے نے ان کا گھیراؤ کرلیا اور نعرے بازی کی ۔ اس موقع پر انکشاف ہوا کہ تنخواہوں کے لیے رقم تو موجود ہے مگر اس کی ادائیگی نہیں کی جارہی جس پر میئر کراچی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ۔کچھ ایسی ہی صورتحال محکمہ فائر بریگیڈ کی ہے جس کا عملہ تنخواہ اور اوور ٹائم کے لیے روز مظاہرے کرتا ہے ۔ کراچی کے کئی اہم ادارے بلدیہ کراچی کے زیر انتظام ہیں جن میں محکمہ فائر بریگیڈ ، کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور اس سے ملحق عباسی شہید اسپتال بھی شامل ہیں ۔ جب بلدیہ کا سالانہ بجٹ بنتا ہے تو سارے اداروں سمیت ان اداروں کے عملے کی تنخواہوں کے لیے بھی رقم مختص کی جاتی ہے ۔ اگر ان اداروں کے ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں تو اس کی ذمہ دار بلدیہ عظمیٰ کے سربراہ وسیم اختر خود ہیں ۔ وسیم اختر نے خود اعتراف کیا ہے کہ تنخواہوں کی رقم اکاؤنٹ میں موجود ہے مگر عباسی شہید اسپتال اور کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے عملے کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جارہی ۔ اگر ایسا ہی ہے تو وسیم اختر کو آگ بگولا ہونے کے بجائے ان افسران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو اس کے ذمہ دار ہیں ۔ یہ سراسر میئر کراچی وسیم اختر کی نااہلی ہے کہ ان کا ماتحت عملہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہا اور وہ خود صرف اور صرف برہمی کااظہار کرکے بری الزمہ ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت کراچی کا حلیہ بگڑا ہوا ہے ۔ پورا کراچی کچرے میں دبا ہوا اور جگہ جگہ ابلتے گٹر کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے ۔ جو سڑکیں کسی طرح سے بن گئی ہیں وہ سیوریج کے پانی سے دوبارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ کراچی کا کوئی بھی حصہ ہو ، اب خاکروب کہیں پر نظر نہیں آتے اور سڑکوں کے کنارے موجود مٹی سڑکوں کو مٹی میں تبدیل کررہی ہے ۔ سڑک پار کرنے کے لیے کروڑوں روپے مالیت سے ایک آہنی پل نصب کیا جاتا ہے مگر اس پر سے کچرا اور مٹی صاف کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے جس کی بناء پر یہ پل بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ بلدیہ کے زیر انتظام کسی بھی اسکول اوراسپتال چلے جائیں ، بنیادی سہولیات کہیں پر بھی موجود نہیں ہیں۔ ا س سب کا ایک ہی مطلب ہے کہ بلدیاتی قیادت بدعنوان اور نااہل ہے جس کی بناء پر اس کے زیر انتظام سارے ہی ادارے تباہی اور بربادی کا شکار ہیں ۔ قیادت کا یہی خلا ہے جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو موقع ملا ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی بلدیہ کو کئی حصوں میں تقسیم کرکے اس کی اہمیت اور حیثیت کو ختم کرنے کی تجویز لے کر سامنے آئی ہے ۔ گو کہ یہ تجویز ابھی تک کابینہ میں پیش نہیں کی گئی ہے مگر اس پر خاصی حد تک کام ہوچکا ہے اور کسی بھی روز خبر آئے گی کہ اسمبلی نے اس تجویز کی منظوری دے دی ہے اور اب کراچی میں ایک میئر کے بجائے دو یا تین میئر ہوں گے ۔ اصولی طور پر تو ہونا یہ چاہیے کہ شہری انتظامیہ سب سے زیادہ موثر ہوتی اور کراچی کو ایک ماڈل شہر کے طور پر پیش کیا جاتا ۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ شہری انتظامیہ ہی سب سے زیادہ نااہل ہے ۔ اختیارات کا رونا رونے والے بتائیں کہ خاکروب اور کنڈی مین کہاں پر ہیں جو کراچی کی صفائی نہیں ہوتی ۔ فنڈز کا واویلا کرنے والے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ تنخواہیں بجٹ میں منظور ہونے کے باوجود بلدیہ کے زیر انتظام اداروں کے ملازمین کو کیوں کئی کئی ماہ نہیں مل پاتیں ۔ تنخواہوں کا یہ بجٹ آخر کہا ں پر خرچ کرلیا جاتا ہے اور کیوں ۔ متحدہ قومی موومنٹ بلدیہ پر مسلسل مسلط ہے اور اسے سونے کی چڑیا سمجھ کر صرف اور صرف لوٹا جارہا ہے ۔ متحدہ کے دہشت گردوں کو باقاعدہ تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے سٹی وارڈن کا محکمہ تشکیل دیا گیا تھا ۔اس محکمے کے قیام کی غرض و غایت یہ بتائی گئی تھی کہ کراچی کی سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کیا جائے گا ۔ کاغذات میں یہ محکمہ اب بھی موجود ہے مگر زمین پر یہ سٹی وارڈن کہیں نظر نہیں آتے ۔ اس کے باوجود اس محکمے کے ملازمین کو گھر بیٹھے بھاری تنخواہوں کی ادائیگی بھی کی جارہی ہے ۔ انہیں گاڑیاں بھی دی گئی ہیں اور ایندھن کے بل بھی ادا کیے جارہے ہیں ۔ وسیم اختر بتائیں کہ آخر یہ سٹی وارڈن ہیں کہاں ۔ اسی طرح دیگر کئی محکوں کا وجود ہے ۔ ضلعی بلدیات بھی متحدہ قومی موومنٹ ہی کے قبضے میں ہیں اور وہاں پر بھی ایسی ہی صورتحال ہے ۔ جب مسائل کی بات کی جائے تو میئر وسیم اختر یہ کہہ کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں کہ یہ ذمہ داری ضلعی بلدیات کی ہے ۔ جب ضلعی بلدیات کی طرف رجوع کیا جائے تو وہاں پر گنگا ہی الٹی بہتی نظر آتی ہے ۔ بہتر یہ ہے کہ وسیم اختر اپنی ذمہ داری کو نہ صرف محسوس کریں بلکہ اسے ادا کرنے کی کوشش بھی کریں ۔ برہمی کا اظہار کرنے سے کام نہیں چلے گا ، کم سے کم یہ تو کریں کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ کسی اور کو ایسا کرنے کی ہمت نہ ہو ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے وسیم اختر کے ایما ء پر ہورہا ہے اور برہمی کا اظہار محض اوپری سطح پرہے اورمتاثرہ ملازمین کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہے ۔