میثاق جمہوریت کی باتیں کرپشن چھپانے کیلیے ہیں،سراج الحق

155
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب کررہے ہیں
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ میثاق جمہوریت ہو یا کوئی نیا معاہدہ ، اس سے کوئی خیر کی امید نہیں ، جن جماعتوں کے اپنے اندر جمہوریت نہیں ، وہ ملک و قوم کو کیا جمہوریت دیں گی، جمہوریت کی باتیں محض عوام کو دھوکا دینے، ایک دوسرے کی کرپشن پر پردہ ڈالنے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہیں ، جماعت اسلامی 23 مارچ کو کراچی سے چترال تک ملک بھر میں پاکستان زندہ باد ریلیاں اور دفاع پاکستان مارچ کرے گی، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ہو یا مشرف حکومت عوام کے مسائل کم نہیں کر سکے ۔ موجودہ حکومت انہی ناکام لوگوں کا مجموعہ ہے یہی وجہ ہے کہ مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت میں کمی آنے کے بجائے مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ سابق حکومتوں کے مسافروں کے اکٹھاہونے سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ عوام بار بار آزمائے ہوؤں کو مزید آزمانے کی غلطی نہ کریں ۔ قوم کے پاس آخری آپشن صرف جماعت اسلامی ہے ۔ جماعت اسلامی حقیقی جمہور ی جماعت ہے جس کے کسی کارکن پر کرپشن کا کوئی دھبہ نہیں ۔ ان خیالات کاا ظہار انہوں نے منصورہ میں ہونے والی مرکزی تربیت گاہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ناصرف نوازشریف بلکہ جیلوں میں بند ہر مریض کو علاج کی سہولت دینا حکومت کا فرض ہے ۔ صحت اور بیماری کو سیاست کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اپنا کوئی وعدہ بھی پورا نہیں کر سکی ۔ 7ماہ سے قومی اسمبلی میں شور شرابہ اور غل غپاڑہ ہورہاہے کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ۔ حکومت لوگوں کو روز گار دینے کے بجائے الٹا انہیں بے روزگار کر رہی ہے ۔ سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے اربوں ڈالر امداد اور آئی ایم ایف اور ورلڈبینک سے قرضوں کے باوجود مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو مرغی انڈے کا پروجیکٹ بھی روکنا پڑا ۔ انہوں نے کہاکہ زندگی کے ہر شعبے میں ناکامی کا اصل سبب یہ ہے کہ حکمران خود کو عقل کل سمجھتے اور کسی کے ساتھ مشاورت کرنا ضروری نہیں سمجھتے ۔ کابینہ کے اجلاس ہوتے ہیں مگر پتا چلتاہے کہ ہر وزیر اپنی مرضی کو ترجیح دیتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے بھارتی حملے میں بھارت کے 2 طیارے گرانے کے بعد عوام پر مگ 21 سے مہنگائی کا حملہ کردیا۔ شورو غل میں حکومت کا خیال تھاکہ چپکے سے کیے گئے حملے کا عوام کو پتا نہیں چلے گا لیکن مہنگائی کے مارے عوام کی چیخوں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی ۔انہوں نے کہاکہ حکومت قوم کو بتائے کہ ایسی کیا مصیبت آ پڑی ہے کہ آپ نے عوام کا خون نچوڑنے کی ٹھان لی ہے اور بجلی گیس اور تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیاہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ بھارتی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی قومی یکجہتی کی فضا کو برقرار رکھنے اور مزید بڑھانے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کی ضرورت تھی مگر حکومت اس میں ناکام رہی ہے حکومت بار بار امریکا کی طر ف دیکھ رہی ہے حالانکہ امریکا نے آج تک پاکستان کا ساتھ نہیں دیا ۔ 65 ء اور 71 ء کی جنگوں میں امریکا نے ہمیں دھوکا دیا اور ایف 16 طیارے خریدنے کے باوجود امریکا نے پابندی لگادی کہ پاکستان ازلی دشمن بھارت کے خلاف یہ طیارے استعمال نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت قومی قیادت کو اعتماد میں لے اور اللہ کی طرف رجوع کرے بھارت سے ڈرنے یا امریکا سے توقعات رکھنے کی ضرورت نہیں ۔ حکومت کا کام ہے کہ وہ قومی اتحاد کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے ۔ اگر اس اتحاد میں کوئی رخنہ پڑتاہے تو یہ حکومت کی ناکامی ہوگی ۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر بھارت نے پابندی لگا کر ہمارے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بند کردیاہے اور سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں کو پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیاگیاہے مگر ہماری وزارت خارجہ خاموش ہے اور وزیراعظم نے چپ کا روزہ رکھا ہواہے ۔ حکومت کو جماعت اسلامی پر پابندیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے تھی ۔