گلالئی اسماعیل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

105
گلالئی اسماعیل۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسانی حقوق کی سرگرم کارکن گلالئی اسماعیل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم جاری کردیا ہے البتہ ساتھ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ آئی ایس آئی کی تجاویز کی روشنی میں وزارت داخلہ گلالئی کا پاسپورٹ ضبط کرنے کے ساتھ دیگر مناسب اقدامات کرے۔

جسٹس عمر فاروق نے تفصیلی فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس میمورنڈم کے تحت گلالئی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا اسے خارج کیا جاتا ہے اور متعلقہ فریقین کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ گلالئی اسماعیل کا پاسپورٹ انہیں واپس کردیں البتہ آئی ایس آئی کی جانب سے درخواست گزار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجاویز کی روشنی میں وزارت داخلہ کے حکام اس معاملے پر ایکشن لینے کے لیے آزاد ہیں اور قانونی تقاضوں کے مطابق ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کر سکتے ہیں۔

گلالئی اسماعیل کا نام گذشتہ سال نومبر میں ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔

گلالئی اسماعیل نے کہا تھا کہ حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جبکہ ایف آئی اے نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور انہیں دفاع میں کچھ کہنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی تھی کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا جائے اور ایف آئی اے کو پاسپورٹ واپس کرنے کی ہدایات دی جائیں۔

گلالئی اسماعیل نے اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر دس جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔

حرا زرین شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کی فارغ التحصیل طالبہ ہیں اور عملی صحافت میں قدم رکھ رہی ہیں۔ شاعری اور ادب سے لگاؤ رکھتی ہیں۔