وزیر اعظم اور آرمی چیف مدارس کودرپیش مسئلے کا نوٹس لیں‘ وفاق المدارس

120
وزیر اعظم اور آرمی چیف مدارس کودرپیش مسئلے کا نوٹس لیں‘ وفاق المدارس
وزیر اعظم اور آرمی چیف مدارس کودرپیش مسئلے کا نوٹس لیں‘ وفاق المدارس

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری نے دینی اداروں کے خلاف حالیہ کارروائیوں پر وزیر اعظم اور آرمی چیف سے فوری طور پہ مداخلت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کی آڑ میں مدارس کے خلاف کوئی کارروائی یا سازش کی گئی تو ہم قانون کے مطابق احتجاج کا ہر راستہ اختیار کریں گے ، اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان اور وفا ق المدارس کے اہم اجلاس چند روز میں ہوں گے اور حتمی حکمت عملی طے کی جائے گی ۔حکومتوں نے ماضی میں جن مدارس کو تحویل میں لیا آج وہ کھنڈر بن چکے ہیں ، مدارس اہل ایمان کی ضرورت اور دینی و ملی خدمت کر رہے ہیں ،مدارس کے خلاف موجودہ کارروائیاں بیرونی دباؤ کے تحت ہورہی ہیں جو ملک کی خود مختاری کو کمزور کرنے کی سازش ہے ۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف فوری ملاقات کا وقت دیں اور تشویشناک مسائل کو فوری حل کر یں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر قاری محمد عثمان ، ترجمان مولانا طلحہ رحمانی اور دیگر بھی موجود تھے ۔ مولانا حنیف جالندھری نے کہا کہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں اہم اجلاس ہوا ،جس میں مولانا امداداللہ یوسف زئی، مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان، مولانا سید سلیمان بنوری، مولانا راحت علی ہاشمی، مولانا حکیم محمد مظہر، مولانا مفتی محمد زرولی خان اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں دینی مدارس کو اوقاف کی جانب سے تحویل میں لینے کے لیے نوٹس بھیجے جانے کے حوالے سے تمام پہلوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی سطح پہ وفاق المدارس صوبہ سندھ مولانا امداداللہ یوسف زئی کی سربراہی میں 5 رکنی ایکشن کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا گیا۔ مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، مدارس پہ آئے دن نئے قوانین کے نفاذ کی باتیں کر کے علمااساتذہ اور طلبہ کو ہراساں کرنے کو وتیرہ بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مدارس دینیہ کو اوقاف کی جانب سے دیے گئے نوٹس فوری واپس لیے جائیں۔اجلاس میں طے پایا کہ پاکستان میں مدارس دینیہ کے پانچوں بورڈز کے اتحاد تنظیمات مدارس کا اجلاس بھی چند روز میں بلایا جائے گا، اس مشترکہ فورم پر متفقہ حکمت عملی طے کی جائے گی اگر اس اجلاس سے قبل ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا تو ہم ہر قسم کے روایتی احتجاج پہ مجبور ہوں گے ۔اجلاس نے مطالبہ کیا کہ پنجاب اورخیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے نافذ کیے گئے چیئریٹی ایکٹ کو فی الفور ختم کر کے رجسٹریشن سمیت دیگر اہم قانونی امور طے کیے جائیں۔حکومت اتحاد تنظیمات مدارس کے ساتھ مشترکہ فورم تشکیل دے تاکہ دینی طبقوں میں بے چینی کا سبب بننے والے اقدامات کا عملی تدارک کیا جائے ۔
کراچی: مولانا حنیف جالندھری پریس کانفرنس کررہے ہیں