مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر اسرائیلی فوجی تشدد کے بعد سخت کشیدگی

97
العربیہ  اخبار کے مطابق مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر اسرائیلی فوجی تشدد کے بعد القدس میں سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق منگل کے روز نماز ظہر کے بعد اسرائیلی فوجی بھاری تعداد میں مسجد اقصیٰ کے باب رحمت میں داخل ہوئے اور وہاں پر نماز ادا کرنے والے فلسطینیوں پر تشدد کیا ۔
صہیونی فوجیوں نے فلسطینیوں کو مصلیٰ باب رحمت’ میں نماز کی ادائیگی پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور کہا کہ وہ باب رحمت کو بند کردیں گے۔
اخبار کے مطابق القدس میں محکمہ اوقاف کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ فراس الدبس نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر نمازیوں پر تشدد کیا ۔جس کے نتیجے میں فلسطینیوں میں سخت غم وغصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہودی آبادکاروں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کا قبلہ اول پر دھاوا مسجداقصیٰ بالخصوص باب رحمت کو فلسطینیوں کے داخلے اور وہاں پر عبادت کی  ادائیگی  سے محروم کرنے کی سازشوں کا حصہ ہے ۔
فراس الدبس کا کہنا تھا کہ منگل کو اسرائیلی فوج ،ایلیٹ فورس  اور پولیس کی بھاری نفری نے وحشیانہ انداز میں قبلہ اول میں گھس کر نمازیوں کو مارا پیٹا جس کے نتیجے میں کافی نمازی زخمی ہوگئے اور سات کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ۔ان کا کہنا تھا اسرائیلی فورسز کا یہ دھاوہ ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا ۔
اسرائیلی فوج کے دھاوے کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیل کی ایک عدالت نے باب رحمت میں فلسطینیوں کی نماز کی ادائیگی  پر پابندی عائد کردی ۔
القدس کی فلسطینی اوقاف  کونسل نے صہیونی عدالت کے فیصلے کو اشتعال انگیز اور مسلمانوں کے مذہبی امور میں مداخلت کے مترادف قرار دیا ۔اوقاف کونسل کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ اردنی محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے اور اسرائیل کے کسی عدالت کو اس پر کوئی فیصلہ مسلط کرنے کا حق نہیں ہے ۔
اخبار  کے مطابق القدس اوقاف کونسل کے رکن حاتم عبدالقادر نے کہا ہے کہ سنہ 1967ء کو مشرقی بیت المقدس پر اسرائیلی فوج کے غاصبانہ تسلط کے بعد فلسطینی اور عرب قیادت  کی طرف سے ایک واضح فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہم مسجد اقصی پر صہیونی ریاست کا غاصبانہ قبضہ  قبول نہیں کریں گے ۔
یاد رہے باب رحمت مسلسل 16سال بند رہا ہے جسے حال ہی میں فلسطینیوں نے اپنے زور بازو پر کھول دیا تھا مگر صہیونی فوج اسے دوبارہ بند کرنا اور وہاں پر نماز کی ادائیگی پر پابندی لگانا چاہتی ہے ۔