امریکا کا شام اور عراق سے فوج نہ نکلانے کا اعلان 

256
واشنگٹن: امریکی صدر کے مشیرقومی سلامتی جان بولٹن اے بی سی نیوز کو انٹرویو دے رہے ہیں
واشنگٹن: امریکی صدر کے مشیرقومی سلامتی جان بولٹن اے بی سی نیوز کو انٹرویو دے رہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ داعش عالمی سلامتی اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے خطرہ ہے۔ اس لیے امریکا شام اور عراق سے فوج مکمل طورپر واپس نہیں بلائے گا۔ جان بولٹن نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ شام میں امریکی فوج کے ساتھ فرانسیسی فوج کا اشتراک خوش آیند ہے۔ انہوں نے فرانس اور برطانیہ کے اپنے ہم منصبوں سے بھی بات کی اور کہا کہ شام میں داعش کے خلاف اتحاد میں تینوں ملکوں کی شراکت مثبت پیش رفت ہے۔ شام میں کتنی امریکی فوج موجود رہے گی؟ اس حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ شام میں امریکی فوج کی موجودگی اور تعداد کے حوالے سے مسلح افواج کی قیادت صلاح مشورہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں داعش کے خطرے کے خاتمے کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف فوٹیل کے بیانات میں کوئی اختلاف نہیں۔ صدر ٹرمپ نے درست کہا کہ شام میں داعش 100 فیصدختم کردی گئی ہے، مگر جنرل فوٹیل کا بیان بھی درست ہے کہ داعش کا مکمل طورپر خطرہ ختم نہیں ہوا ہے۔ جان بولٹن کا مزید کہنا تھا کہ زمین پر داعش کی خلافت کے خاتمے کو تنظیم کے خاتمے کے معنی میں نہیں لیاجاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام اور عراق میں داعش کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کے ساتھ شام میں بھی امریکی فوجی مبصرین موجود رہیں گے، تاکہ داعش کو دوبارہ منظم ہونے سے روکا جاسکے۔خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے امریکی فوج واپس بلانے کا اچانک اعلان کیا تھا۔ شام میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد 2ہزار ہے۔