اقبال کے خواب کو اسلام سے الگ نہیں کیا جاسکتا،پروفیسر ہارون رشید

89
جمعیت الفلاح میں خوابِ اقبال اور آج کا پاکستان کے موضوع پر مذاکرہ سے پروفیسر ہارون رشید، پروفیسر خیال آفاقی، ڈاکٹر مظہر حامد، قیصر خان اور سعید احمد صدیقی خطاب کر رہے ہیں
جمعیت الفلاح میں خوابِ اقبال اور آج کا پاکستان کے موضوع پر مذاکرہ سے پروفیسر ہارون رشید، پروفیسر خیال آفاقی، ڈاکٹر مظہر حامد، قیصر خان اور سعید احمد صدیقی خطاب کر رہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)برما، کشمیر،فلسطین اور شام میں مسلمانوں کے قتل عام پر پاکستان کا کردار خواب اقبال کی نفی ہے۔اقبال پاکستان کو مسلم اُمہ کا پشتیبان اور مضبوط قلعہ بنانا چاہتے تھے۔آج کا پاکستان خود امداد کی تلاش میں سرگرداں ہے۔لسانی ،مسلکی اور نہ جانے کتنی عصبیتوں میں تقسیم ہے۔اقبال ،ماضی ،حال اور مستقبل کے شاعر ہیں ۔فکر اقبال کو ہمارے نصاب میں شامل ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے جمعیت الفلاح اسلامی تہذیبی مرکز میں خواب اقبال اور آج کا پاکستان کے موضوع پرخطاب میں کیا۔مقررین میں ممتاز ماہر تعلیم و دانشور پروفیسر ہارون رشید،پروفیسر خیال آفاقی، ڈاکٹر مظہر حامد، قیصر خان،سعید احمد صدیقی، جہانگیر خان،قمر محمد خان ،نظرفاطمی اور دیگر شامل تھے۔ پروفیسر ہاورن رشید نے کہا کہ اقبال کا فلسفۂ خودی ہماری زندگیوں سے خارج ہے اور اس کا ذمے دار ہمارا نظام تعلیم ہے۔ہمارے نظام تعلیم کی مرکزیت ختم ہو گئی ہے ہر صوبہ اپنی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے میں کوشاں ہے اور اسلامی تہذیب اور تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ۔اقبال اُمت مسلمہ کو نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر ایک ہونے کا پیغام دے رہے ہیں اور ہم قومیتوں میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ایک قوم بنانے کے لیے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم ایک ہو نا چاہیے۔افسوس کہ ہماری حکومتوں کی ترجیحات میں نظام تعلیم شامل ہی نہیں ہے۔پروفیسر خیال آفاقی نے کہا کہ اقبال مسلمانوں کے ماضی کی روشنی میں حال اور مستقبل کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔وہ قرآن فہم ،مفکر،مدبر، شاعر اور فلسفی تھے۔ وہ مسلم نوجوانوں کو شاہین صفت بنانا چاہتے تھے۔اقبال کی فکر اسلامی اقدار کی آئینہ دار ہے۔ ڈاکٹر مظہر حامد نے کہا کہ علامہ اقبال نے مشرق اور مغرب کے علوم حاصل کیے اور اسلامی تعلیم اور اقدار کو اپنے ذہن میں رکھا۔وہ مسلمانوں کے حالات پر فکر مند تھے اور اپنے خیالات سے خطوط کے ذریعے قائد اعظم محمد علی جناح کوآگاہ کرتے رہے اورانہیں مسلمانوں کی قیادت پر آمادہ کیا۔اقبال مسلمانوں کے لیے ایک خط�ۂ زمین چاہتے تھے جہاں وہ اسلامی اقدار اور تعلیمات کے مطابق زندگی گذاریں اور جودنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مضبوط قلعہ اور اُن کے حق میں توانا ہو۔ہم اقبال کے خواب کو اسلام سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔مسلمانوں کا عروج اقبال کے نزدیک فلسفۂ خودی اور اسلامی اقدار میں ہے۔قیصر خان نے کہا کہ آج کی نو جوان نسل اقبال کے پیغام سے ناآشنا ہے۔کیونکہ ہمارے تعلیمی اداروں میں نہ اُردو صحیح سے پڑھائی جاتی ہے اور نہ ہی فارسی۔فکر اقبال پر مذاکروں سیمینارز،مباحثوں کا اہتمام ہونا چاہیے اور تعلیمی نصاب میں اقبالیات کوشامل کیا جانا چاہیے۔