سپریم کورٹ، بحریہ ٹاؤن کی اراضی کی مد میں 485 ارب روپے کی نئی پیشکش

117

بحریہ ٹاؤن نے اپنے کراچی، راولپنڈی، مری کے منصوبوں کی زمین کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے 4 سو 85 ارب روپے کی نئی پیشکش سپریم کورٹ میں جمع کروادی۔

عدالت عظمیٰ میں جمع کروائی گئی اس نئی پیشکش میں بحریہ ٹاؤن نے تینوں منصوبوں کی الگ الگ پیش کش کی ہے، جس میں سب سے زیادہ کراچی کے منصوبے کے لیے 440 ارب روپے دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل کی جانب سے جمع کروائی گئی پیش کش میں کہا گیا کہ کراچی کے بحریہ ٹاؤن کے لیے 440 ارب روپے، تخت پڑی اراضی کے لیے 22 ارب روپے اور مری کے منصوبے کے لیے 23 ارب روپے دینے کو تیار ہیں۔

عدالت میں جمع اس نئی پیش کش میں بحریہ ٹاؤن نے رقوم کی ادائیگی کی مدت میں بھی ایک سال کمی کردی ہے اور اب 485 ارب روپے کو 8 سال کی مدت میں ادا کرنے کی پیش کش کی گئی ہے۔

وکیل کی جانب سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ 4 ارب 70 کروڑ روپے سندھ حکومت کو ادا کرچکے ہیں جبکہ 10 ارب 75 کروڑ روپے سپریم کورٹ کے پاس پہلے ہی جمع ہیں۔

پیشکش میں ادائیگی کو واضح کرتے ہوئے وکیل نے بتایا ہے کہ پہلے 5 سال میں 2 ارب روپے ماہانہ کی قسط دی جائے گی جبکہ باقی 3 برسوں میں 8 ارب 33 کروڑ روپے ماہانہ ادائیگی ہوگی۔

وکیل کے مطابق اس پیشکش کی منظوری پر 20 ارب روپے کی پہلی قسط ادا کی جائے گی، لہٰذا عدالت عظمیٰ سے استدعا ہے کہ وہ زیر قبضہ زمین کو فوری طور پر بحریہ ٹاؤن کے نام پر منتقل کرے۔

خیال رہے کہ بحریہ ٹاؤن کی جانب عدالت میں جمع کروائی گئی اس پیش کش پر کل (13 مارچ) کو سماعت ہوگی۔

اس سے قبل گزشتہ سماعت میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اپنے تینوں منصوبوں کی زمین کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے 4 سو 79 ارب روپے سے زائد کی پیشکش کی تھی۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے گزشتہ پیش کش میں کہا تھا کہ صرف بحریہ ٹاؤن کراچی کی 16 ہزار 896 ایکڑز زمین کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے 9 سال میں 4سو 35 ارب روپے ادائیگی کی پیش کش کی۔

اسی طرح راولپنڈی کی 5 ہزار 4سو 72 کینال کی زمین کے لیے 21 ارب 88 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ سلختر اور مانگا مری کے منصوبے کی 4 ہزار 5سو 42 کینال زمین کے عوض 22 ارب 71 کروڑ روپے کی پیش کش کی گئی تھی۔

تاہم عدالت نے بحریہ ٹاؤن کی اس پیش کش پر دوبارہ غور کرنے کا کہا تھا، جس کے بعد آج دوبارہ نئی پیشکش جمع کروائی گئی۔

4 مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 1۔2 کی اکثریت سے بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے اور 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کو اراضی کا تبادلہ خلاف قانون تھا، لہٰذا حکومت کی اراضی حکومت کو واپس کی جائے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی بحریہ ٹاؤن کو واپس دی جائے۔

عدالت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی گئی کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں۔

دوسری جانب عدالت نے اپنے ایک اور فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیا اور کہا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2210 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں دیے گئے فیصلے پر عمدرآمد کیلیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

اس کیس میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اپنی زمین کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے پہلے 250 ارب روپے کی پیش کش کی تھی جسے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد 16 ہزار ایکڑ زمین کے عوض 358 ارب روپے دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔

تاہم اسے بھی عدالت نے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد بحریہ ٹاؤن نے کراچی کے منصوبے کے لیے 405 ارب روپے کی پیش کش کی تھی لیکن عدالت نے اس پیش کش کو بھی مسترد کردیا تھا۔