حکمران اور ریاست مدینہ

74

 

تحریر
**
کامران
کیف

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پاکستان کو ریاست مدینہ کے طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانے کا تصور پیش کرکے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ اگر ہمارا ملک ریاست مدینہ سے طرز پر ایک فلاحی ریاست بنتا ہے تو اس میں قوانین اور مساوات کو کیا درجہ حاصل ہو گا، غرباء و مسکین کو کیا سہولیات ملیں گی، سائیکل چور اور ملک و نسلوں کا مال کھانے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ حکومت نے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا کر ایک فلاحی ریاست کی بنیاد رکھ دی اور رنگے ہاتھوں سعد رفیق کو ممبر بھی بنادیا تا کہ بھرپور احتساب عمل میں آسکے، خان صاحب کاؤنٹر ہونے کے ناتے مجھے ان کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر افسوس کے ساتھ یہ لکھنے کی جسارت کروں گا کہ ایک اسلامی ملک کے حاکم کی جو ذمہ داری ہے جو وہ دو ردور تک پوری ہوتی نظر نہیں آرہیں اسلامی ریاست کے حاکم کی پہلی ذمہ داری نماز کا حکم ہے تا کہ کوئی اس فریضہ میں کوئی کوتاہی نہ کرے اور حاکم وقت کی دوسری ذمہ داری زکوٰۃ کا منصفانہ سسٹم ہے۔ زکوٰۃ کے سسٹم کا
مطلب ملک سے غربت کا خاتمہ ہے تا کہ کوئی غریب بھوکا نہ سو سکے، کوئی سائل گڑگڑاتا نہ ہو۔ ہمارے نبیؐ کا فرمان ہے کہ بھوک پر قابو رکھنا صرف لوگ بھوک کی وجہ سے کفر میں چلے جائیں گے۔ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں معذور و مساکین اور بیواؤں کی لسٹیں ہوتی تھیں جس سے ان کو ماہانہ وظیفہ ملتا تھا تا کہ وہ عزت کی زندگی گزار سکیں۔ ایک بار مدینہ میں قحط سالی ہوگئی تھی جب جمعتہ المبارک کا خطبہ پڑھانے حضرت عمرؓ مسجد میں آئے تو ان کا رنگ زرد ہوگیا تھا جسم کمزور اور نڈھال ہونے کی وجہ سے اُٹھا نہیں جارہا تھا اور ہاتھ مار کر فرمایا کہ (اے پیٹ میں جانتا ہوں کہ مدینہ میں قحط سالی ہے اس لیے کافی دنوں سے تو بھوکا ہے)۔ مگر حضرت عمرؓ نے قسم کھائی ہے کہ جب تک مدینے کے مساکین پیٹ بھر کر نہ کھالیں تب تک عمرؓ کھانا نہیں کھائے گا۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ ان کا وصال ہوا تو ہم نے پہاڑوں سے جنات کو دھاڑیں مارکر رونے کی آوازیں سنیں، مساکین و بیوائیں ؟؟؟ تھیں کہ اے عمرؓ آپ تو جارہے ہو مگر ہمیں کس کے سہارے چھوڑ کر جارہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اب ایسا دور خلافت نہیں آئے گا اور نہ ہی ایسا عدل بھی نہیں ہوگا۔ اب کوئی حاکم روز قیامت تک حضرت عمرؓ کی پیروی نہ کرسکے گا۔
ہم بات ریاست مدینہ کی کرسکتے ہیں مگر حقیقت تلخ ہے کہ ایسا ہونا تقریباً ناممکن ہے۔
پتھر کے صنم پتھر کے خدا، پتھر کے ہی انساں پائے ہیں
تم شہر محبت کہتے ہو، ہم جان بچا کہ آئے ہیں
جس ملک میں چور، ڈاکو، اشتہاری و خائین سابقہ حاکم چوری پکڑے جانے پر ہر روز جلسے کرتے پھیریں اور بھٹو زندہ ہے یا میاں تیرے
جانثار کے نعرے لگائے، چور اپنی چوری کا خود احتساب کرے یا بے گناہوں کو کھلی سڑکوں پر اندھی گولیاں ماری جارہی ہوں، غریب ہر روز خودکشیاں کریں وہاں ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست کا تصور بھی مذاق لگتا ہے۔ یہ گلی سڑی جمہوریت جس کو آج کل شدید خطرات لاحق ہیں اس سے تو پچھلی آمریت اچھی تھی جس نے آٹھ ڈیم تو بنا کر دیے اور جتنی ترقیاں آمرانہ دور میں ہوئیں اتنی گرے فیئر میٹل اور العزیزیہ یا سرے محل و جعلی اکاؤنٹ کے موجب چوروں کے دور میں بھی ہوتی تو آج غریب آدمی بھی عزت سے دو وقت کی روٹی کھا سکتا۔ خان صاحب سے دستِ بستہ التماس ہے کہ احتساب بلاتفریق کریں ، ڈاکو، لٹیروں کو پھانسی دیں، لوٹا ہوا مال واپس کروائیں اور اگر اس کے بدلے یہ بدبودار سسٹم جسے نام نہادجمہوریت کا نام دیتے ہیں ختم ہوجائے تو کل آپ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں سرخرو ہوں گے اور اگر یہ سب آپ نہ کرپاتے ہیں تو برائے مہربانی جیلیں خالی کرکے ملک میں جنگل کا قانون نافذ کریں تا کہ ہر آدمی اپنا دفاع خود کرسکے۔