کامیابی کا راستہ

70

 

تحریر
**
اسد
بخاری

ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی حاصل کرے۔ وہ کامیاب ہوتا بھی ہے لیکن اکثر ناکام بھی ہوتا ہے۔ جب کبھی ناکامی ہوتی ہے تو بے شمار لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ناکامی کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ تو اتنے دلبرداشتہ ہوتے ہیں کہ خودکشی کی نوبت آجاتی ہے۔ انہیں لوگوں میں سے چند لوگ وہ ہوتے ہیں جو پریشان ہونے کے بجائے ہمت سے کام لیتے ہیں، بار بار کوشش کرتے چلے جاتے ہیں اور بالآخر کامیاب و کامران ہوجاتے ہیں۔ ’’ناکامی گرنے کا نام نہیں بلکہ گرنے کے بعد دوبارہ اُٹھنے کی ہمت نہ کرنے کا نام ہے‘‘۔ ناکامی کو کبھی اپنا دشمن مت سمجھو بلکہ اسے اپنا استاد سمجھو جو آپ کو بتاتی ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کمی رہ گئی ہے۔ اُسے بہتر کرلو تو کامیابی مل جائے گی۔ یعنی یہ تو مواقع ہوتے ہیں جو قدرت آپ کو بار بار دیتی ہے جس میں ناکامی بھی ہوتی ہے اور انہیں مواقع میں کامیابی بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ دیکھا جائے تو کامیاب انسان بننے کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف کامیابی کی وجوہات کو سمجھا جائے بلکہ ناکامی کے اسباب کا بھی بغور جائزہ لیا جائے اور انہیں ختم کرکے آگے بڑھا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قدرت کو جب کسی سے کوئی بڑا کام لینا ہوتا ہے یا کوئی بڑا مقام دینا ہوتا ہے تو اُسے مشکلات اور ناکامیوں کی بھٹی میں جلا کر کندن بناتی ہے۔ کیونکہ حوصلہ مند اور مضبوط لوگ ہی بڑے کام کرپاتے ہیں۔
تندئی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لیے
درج ذیل چند ایسے نکات کا جائزہ لیتے ہیں جن سے کامیابی اور ناکامی کے اسباب کو سمجھا جاسکے اور بہتر کیا جاسکے۔
-1 مقصد: کوئی بھی کام شروع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی اچھا مقصد ہو۔ آپ کا مقصد کسی کو نقصان پہچانا، کسی کی تذلیل یا اُسے دوسروں کی نظروں میں گرانا نہ ہو کیونکہ ایسے مقصد کی کامیابی عارضی ہوتی ہے اور ناکامی بڑی عبرت ناک ہوتی ہے۔ اگر آپ کا مقصد اپنے اور دوسروں کی بہتری کے لیے ہوگا تو قدرت بھی آپ کے مقصد کی کامیابی کے لیے آپ کا ساتھ ضرور دے گی۔ یعنی ’’نیت صاف تو منزل آسان‘‘۔ آپ کا مقصد لوگوں اور چیزوں پر منحصر نہ ہو وہ آپ کے شوق اور جنون کا عکاس ہو تو اس کا حصول آپ کے اندر ولولہ اور اُمنگ پیدا کرے گا۔ یہی جذبات کامیابی کے لیے ضروری عنصر ہیں۔
-2 لاپرواہی: جب بھی آپ کسی مقصد کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو اکثر مشکلات، پریشانیاں اور ناکامیاں آپ کا راستہ روکتی ہیں، کمزور لوگ ان مشکلات سے بچنے کے لیے پیچھے ہٹ جاتے ہیں یعنی Pain سے بھاگ کر Pleasure کی طرف لوٹتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے اندر مقصد کے حصول کا جذبہ ماند پڑجاتا ہے اور وہ اُس کی طرف بڑھنے سے لاپرواہی برتنے لگتے ہیں اور ناکام ہوجاتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ اسکواش کے کھلاڑی بننا چاہتے ہیں اور آپ کو روزانہ کئی کئی گھنٹے دوڑنا پڑتا ہے اگر دوڑنا آپ کو مشکل لگے گا تو آپ آرام کرنے کو ترجیح دیں گے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ بغیر جسمانی طاقت کو بڑھائے آپ ایک کامیاب اسکواش کے کھلاڑی بن سکتے ہیں۔ یعنی کچھ حاصل کرنے کے لیے Pain تو ضروری ہے۔
-3 طریقہ کار: مقصد کے حصول کے لیے چھوٹے چھوٹے اقدام اپنائے جائیں اور ان کا طریقہ کار مرتب کیا جائے۔ اس طریقہ کار کے لیے اکثر لوگ غیر متعلقہ لوگوں سے اس بنا پر مشورہ لے لیتے ہیں کہ وہ زیادہ تجربہ کار ہیں۔ اگر تجربہ مقصد سے متعلق ہو تو بہتر ہے ورنہ وہ مشورہ آپ کی ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا یہ بہتر ہے کہ مشورہ ضرور لیا جائے مگر فیصلہ اپنی صلاحیتوں کے حساب سے لیا جائے۔ کاموں کو ترتیب دینا بھی ضروری ہے کہ کون سا کام پہلے ہونا چاہیے اور کونسا کام بعد میں ہونا چاہیے۔ یہ ایک عام سمجھ والی بات ہے مگر اس کے باوجود لوگ اکثر بعد والے کام پہلے کرلیتے ہیں اور پہلے والے کام کا وقت اور اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ یعنی اگر ہم پہلے مشکلات اور پریشانیوں کے بارے میں سوچتے رہیں اور بعد میں مقصد کا تعین کریں تو یہ بالکل الٹا عمل ہوگا کیوں کہ گھر بنانے کے بارے میں پہلے سوچا جائے گا پھر اپنے وسائل دیکھیں گے اور بغیر نقشہ بنوایا جائے گا اور کام شروع کروایا جائے گا اگر آپ نقشہ پہلے بنوالیں اور گھر کے بارے میں فیصلہ بعد میں کریں تو ممکن ہے گھر بنوانے والی جگہ کا حصول آپ کے لیے ممکن نہ رہے۔
-4 نظم و ضبط: جب آپ نے مقصد متعین کرلیا اور اس کے لیے طریقہ کار بھی وضع کرلیا تو ضروری ہے کہ اُس پر باقاعدگی سے اس پر عمل پیرا ہوجائے، ہر کام اور ہر عمل کے لیے باقاعدہ وقت اور ترتیب وضع ہونی چاہیے، کیونکہ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے ورنہ اس کی اہمیت اور مقصدیت ختم ہوجاتی ہے جو کہ آپ کے اندر مقصد کے حصول کے جذبے کو کم کرسکتی ہے۔ لہٰذا باقاعدگی سے اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف بڑھنے سے ہی کامیابی ممکن ہے کیونکہ نظم و ضبط مقصد اور کامیابی کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
-5 سمجھ بوجھ کر شروع کرنا: کام کو شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے کام سے متعلق تمام معلومات جمع کی جائیں۔ خواہ آپ کو انٹرویو دینا ہے تو اس کمپنی کے متعلق تمام ضروری معلومات حاصل کی جائیں تا کہ آپ کو پتا ہو کہ جہاں آپ کام کرنا چاہتے ہیں اس کمپنی کا کاروبار اور اُس کے وسائل اور ضروریات کیا ہیں تو آپ اپنے آپ کو اس کمپنی میں موضوع بناسکیں۔ یا پھر ایک دکاندار ہو تو اُسے اپنے گاہک کی ضرورت کو پہلے سننا اور سمجھنا چاہیے پھر اسے اس کی ضرورت کی چیز مہیا کی جائے۔ مثلاً اگر گاہک کپڑے کی دکان پر گیا اور اس نے کپڑا مانگا اور دکاندار اسے ہر قسم اور ہر رنگ کے کپڑے دکھانے لگ جائے تو وقت بھی ضائع ہوگا اور گاہک فیصلہ بھی نہیں کرپائے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دکاندار پہلے گاہک سے اس کی ضرورت کو سمجھے یعنی اس سے پوچھے کہ کونسا کپڑا چاہیے، کس رنگ کا چاہیے تو اسے اس کی ضرورت کی چیز مہیا کرنا آسان ہوگا۔ ’’ناکامی ایک موقع ہوتا ہے کہ کام کو زیادہ سمجھداری سے دوبارہ شروع کیا جائے‘‘۔
-6 جائزہ لینا: یہ ایک ضروری عمل ہے کہ جو کام ہوچکے ہیں ان کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، ان کے اندر موجود خامیوں کو تلاش کیا جائے اور انہیں بہتر کرنے کی کوشش کی جائے اور جو کام ابھی باقی رہ گئے ہیں ان کا بھی جائزہ لیا جائے تا کہ ان سے متعلق ضروری وسائل اور اقدامات کیے جاسکیں۔
-7 بے صبری: ہر کام کے لیے وقت متعین کیا جاتا ہے جو کہ اس کام کی ضرورت ہے۔ اگر اسے کرنے میں جلد بازی اور بے صبری کی جائے تو کام کے بگڑنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ یہ ایک عام فہم بات ہے مگر اس کے باوجود اکثر لوگ کام شروع کرنے سے پہلے وقت کا ضیاع کرتے رہتے ہیں اور آخری لمحات میں کام شروع کرتے ہیں اور پھر جلدی مچادی جاتی ہے اس کی تکمیل کے لیے جس کی وجہ سے کام میں Perfection نہیں آپاتی اور اکثر وہ مزید دیر سے ہوجاتے ہیں۔ اکثر طلبہ بھی یہی کرتے ہیں کہ سارا سال وہ وقت کا ضیاع کرتے رہتے ہیں اور امتحانات میں پڑھائی شروع کرتے ہیں اس لیے کامیابی حاصل نہیں کرپاتے۔ کیونکہ ہر کام وقت طلب ہوتا ہے اسے اس کے مطابق وقت دینا ضروری اور اہم ہے ورنہ کام میں ناکامی کی وجہ سے اکثر لوگ اسے ترک ہی کردیتے ہیں۔ ’’اکثر لوگ منزل کے قریب پہنچ کر کام کو ترک کرتے ہیں اور اس کام کی کامیابی کا مزہ حاصل کرتے کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہی لوگ کمزور اور بے صبرے ہوتے ہیں اور اپنے مقصد میں ناکام رہنے والے کہلاتے ہیں‘‘۔
-8 صبرسے محبت: ’’صبر ہر مشکل کا بہترین علاج ہے‘‘۔ صبر کرنا مشکل ضرور لگتا ہے مگر اس کا پھل کامیابی کی صورت میں بہت اچھا اور میٹھا ہوتا ہے۔
-8 عمل سے محبت: اگر آپ کو کام سے محبت نہیں ہوگی تو آپ کو کام سے جلد بوریت ہوجائے گی اور آپ کی لگن اور جستجو کم ہوتی جائے گی اور بالآخر آپ کام کو ترک کردیں گے اور ناکام ہوجائیں گے۔ لوگوں کی منفی باتیں بھی کام کی لگن میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کی دلچسپی کام میں برقرار رہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ آپ کا مقصد آپ کا جنون ہونا چاہیے اگر آپ کا مقصد آپ کے لیے ہر چیز سے بڑھ کر ہوگا۔ مثلاً ’’خواب وہ نہیں ہوتے جو ہم سوتے میں دیکھتے ہیں بلکہ خواب وہ ہوتے ہیں جو ہمیں سونے نہیں دیتے‘‘۔ اگر ایسا ہوگا تو یقیناًآپ کا اُس مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد اور کام میں لگن اور دلچسپی ہمیشہ قائم رہے گی اور اس مقصد کے حصول کے لیے آپ کسی کی کیا خود کی منفی سوچ پر بھی توجہ نہیں دیں گے اور کامیابی یقیناًآپ کے قدم چومے گی۔